Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 191–200 of 286

191

وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَٰتِلُوهُمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَٰتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَٰتَلُوكُمْ فَٱقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ خلاصہ تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ آیت واقعہ حدیبیہ کے بعد اس وقت نازل ہوئی ہے جب صلح حدیبیہ کی شرط کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کے ساتھ اس عمرہ کی قضاء کے لئے سفر کا ارادہ کیا جس سے اس سے پہلے سال میں کفار مکہ نے روک دیا تھا صحابہ کرام (رض) اجمعین کو اس سفر کے وقت یہ خیال ہو رہا تھا کہ کفار کی صلح اور معاہدہ کا کچھ بھروسہ نہیں اگر وہ لوگ اس سال بھی آمادہ پیکار ہوگئے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے اس پر آیت مذکورہ کے الفاظ نے ان کو اجازت دے دی کہ اگر وہ قتال کرنے لگیں تو تمہیں بھی اجازت ہے کہ جہاں پاؤ ان کو قتل کرو اور اگر قدرت میں ہو تو جس طرح انہوں نے مسلمانوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا تم بھی ان کو مکہ سے نکال دو ۔ - اور پوری مکی زندگی میں جو مسلمانوں کو کفار کے ساتھ مقاتلہ سے روکا ہوا تھا اور ہمیشہ عفو و درگذر کی تلقین ہوتی رہی تھی اس لئے صحابہ کرام کو اس آیت کے نازل ہونے سے یہی خیال تھا کہ کسی کافر کو قتل کرنا برا اور ممنوع ہے اس خیال کے ازالہ کے لئے فرمایا والْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ یعنی یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ کسی کو قتل کرنا سخت برا کام ہے مگر کفار مکہ کا اپنے کفر و شرک پر جما رہنا اور مسلمانوں کو ادائے عبادت حج وعمرہ سے روکنا اس سے زیادہ سخت وشدید ہے اس سے بچنے کے لئے ان کو قتل کرنے کی اجازت دے دیگئی ہے آیت میں لفظ فتنہ سے کفر و شرک اور مسلمانوں کو ادائے عبادت سے روکنا ہی مراد ہے (جصاص، قرطبی وغیرہ) - البتہ اس آیت کے عموم سے جو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ کفار جہاں کہیں ہوں ان کا قتل کرنا جائز ہے اس عموم کی ایک تخصیص آیت کے اگلے جملے میں اس طرح کردی گئی وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ یعنی مسجد حرام کے آس پاس جس سے مراد پورا حرم مکہ ہے اس میں تم ان لوگوں سے اس وقت تک قتال نہ کرو جب تک وہ خود قتال کی ابتداء نہ کریں۔- مسئلہ : حرم مکہ میں انسان کیا کسی شکاری جانور کو بھی قتل کرنا جائز نہیں لیکن اسی آیت سے معلوم ہوا کہ اگر حرم محترم میں کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے لگے تو اس کو بھی مدافعت میں قتال کرنا جائز ہے اس پر جمہور فقہاء کا اتفاق ہے۔- مسئلہ : اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابتداء جہاد و قتال کی ممانعت صرف مسجدِحرام کی آس پاس حرم مکہ کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے مقامات میں جیسے دفاعی جہاد ضروری ہے اسی طرح ابتدائی جہاد و قتال بھی درست ہے۔

Al-Baqara 2:191Listen in Qur'an →
192

فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

خلاصہ تفسیر :- پھر اگر (بعد شروع قتال کے بھی) وہ لوگ (یعنی مشرکین مکہ اپنے کفر سے) باز آجاویں (اور اسلام قبول کرلیں) تو ان کا اسلام بےقدر نہ سمجھا جاوے گا بلکہ) اللہ تعالیٰ (ان کے گذشتہ کفر کو) بخش دے گا اور (مغفرت کے علاوہ بیشمار نعمتیں دے کر ان پر) مہربانی (بھی) فرمادیں گے اور (اگر وہ لوگ اسلام نہ لاویں تو اگرچہ دوسرے کفار کے لئے اسلامی قانون یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی اگر اسلامی حکومت کی اطاعت اور جزیہ دینے کا اقرار کرلیں تو ان کا قتل جائز نہیں رہتا بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت اسلامی حکومت پر لازم ہوجاتی ہے مگر یہ خاص کفار چونکہ اہل عرب ہیں ان کے لئے قانون جزیہ نہیں بلکہ ان کے لئے صرف دو راستے ہیں اسلام یا قتل اس واسطے) ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ (ان میں) فساد عقیدہ (یعنی شرک) نہ رہے اور انکا دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجائے (اور کسی کا دین و مذہب کا خالصا اللہ کے لئے ہوجانا موقوف ہے قبول اسلام پر تو حاصل یہ ہوا کہ شرک چھوڑ کر اسلام اختیار کرلیں) اور اگر وہ لوگ (کفر سے) باز آجاویں (جس کا ذکر ابھی ہوا ہے) تو (آخرت میں مغفرت و رحمت کے مستحق ہونے کے ساتھ دنیا میں ان کے لئے تم کو یہ قانون بتلایا جاتا ہے کہ سزا کی) سختی کسی پر نہیں ہوا کرتی بجز بےانصافی کرنے والوں کے (جو براہ بےانصافی خدائی احسانات کو بھول کر کفر و شرک کرنے لگیں اور جب یہ لوگ اسلام لے آئے تو بےانصاف نہ رہے لہذا ان پر سزائے قتل کی سختی نہ رہی اور مسلمانو تم کو جو یہ خیال ہے کہ کفار مکہ اگر اپنے عہد پر قائم نہ رہے تو شہر حرام یعنی ذی قعدہ میں ان سے لڑنا پڑے گا سو اس سے بھی بےفکر رہو کیونکہ) حرمت والا مہینہ (تم کو قتال کفار سے مانع ہو سکتا) ہے بعوض (اس کے کہ اس) حرمت والے مہینہ کے (سبب وہ بھی تم سے قتال نہ کریں) اور وجہ یہ ہے کہ یہ حرمتیں تو عوض معاوضہ کی چیزیں ہیں (سو جو تمہارے ساتھ ان حرمتوں کی رعایت کرے تو تم بھی رعایت رکھو اور) جو تم پر (ایسی حرمتوں کی رعایت نہ کرکے) زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور (ان سب احکام مذکورہ کے برتاؤ میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (کہ کسی امر میں حد قانونی سے تجاوز نہ ہونے پاوے) اور یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ (اپنی عنایت و رحمت سے) ان ڈرنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔- حکم دہم انفاق فی الجہاد :- اور تم لوگ (جان کے ساتھ مال بھی) خرچ کیا کرو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو (کہ ایسے مواقع میں جان ومال خرچ کرنے سے جبن یا بخل کرنے لگو جس کا نتیجہ تمہارا ضعیف اور مخالف کا قوی ہوجانا ہے جو کہ عین تباہی ہے) اور جو کام (کرو) اچھی طرح کیا کرو (مثلا اس موقع پر خرچ کرنا ہی دل کھول کر خوشی سے اچھی نیت کیساتھ خرچ کرو) بلاشبہ اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔

Al-Baqara 2:192Listen in Qur'an →
193

وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَلَا عُدْوَٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)

Explained together with ayah 192

Al-Baqara 2:193Listen in Qur'an →
194

ٱلشَّهْرُ ٱلْحَرَامُ بِٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ وَٱلْحُرُمَٰتُ قِصَاصٌۭ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱعْتَدُوا۟ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں۔ پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

معارف و مسائل : - ٧ ہجری میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح حدیبیہ کے قانون کے مطابق فوت شدہ عمرہ ادا کرنے کے لئے بہ معیت صحابہ کرام (رض) اجمعین مکہ کے سفر کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام جانتے تھے کہ ان کفار کے معاہدوں اور صلح کا کچھ اعتبار نہیں ممکن ہے کہ وہ جنگ کرنے لگیں تو اس جنگ میں صحابہ کرام (رض) اجمعین کے لئے ایک اشکال تو یہ تھا کہ حرم مکہ میں جنگ کی نوبت آئے گی جو اسلام میں ناجائز ہے اس کا جواب پچھلی آیت میں دے دیا گیا کہ حرم مکہ کی حرمت مسلمانوں پر ضرور لازم ہے لیکن اگر کفار حدود حرم میں ہی مسلمانوں سے جنگ کرنے لگیں تو ان کو بھی مدافعت میں جنگ کرنا جائز ہے۔- دوسرا اشکال یہ تھا کہ یہ مہینہ ذیقعدہ کا ہے جو ان چار مہینوں میں سے ہے جن کو اشہر حرم کہا جاتا ہے اور ان میں کسی سے کسی جگہ جنگ کرنا جائز نہیں تو اگر مشرکین مکہ نے ہمارے خلاف جنگ شروع کردی تو ہم اس مہینے میں دفاعی جنگ کیسے کرسکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ جیسے حرم مکہ کی حرمت سے حالت دفاع مستثنی ہے اسی طرح اگر اشہر حرم میں کافر ہم سے قتال کرنے لگیں تو ہم کو بھی ان سے دفاعی جنگ لڑناجائز ہے۔- مسئلہ : اشہر حرم چار مہینے ہیں، ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم یہ تین ماہ تو مسلسل ہیں چوتھا مہینہ رجب کا ہے اسلام سے پہلے بھی ان چار مہینوں میں جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے ابتداء اسلام میں بھی ٧ ہجری تک یہی قانون نافذ تھا اسی لئے صحابہ کرام کو اشکال پیش آیا اس کے بعد یہ حرمت قتال منسوخ کرکے عام قتال کی اجازت باجماع امت دے دیگئی مگر افضل اب بھی یہی ہے کہ ان چار مہینوں میں ابتداء بالقتال نہ کی جائے صرف مدافعت کی ضرورت سے قتال کیا جائے اس لحاظ سے یہ کہنا بھی فی الجملہ درست ہے کہ اشہر حرم کی حرمت منسوخ نہیں باقی ہے جیسے حرم مکہ میں قتال کی اجازت بضرورت مدافعت دینے سے حرم مکہ کی حرمت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ صرف ایک استثنائی صورت پر عمل ہوا،

Al-Baqara 2:194Listen in Qur'an →
195

وَأَنفِقُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلْقُوا۟ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى ٱلتَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوٓا۟ ۛ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بےشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

دسواں حکم جہاد کے لئے مال خرچ کرنا :- وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اس میں مسلمانوں پر لازم کیا گیا کہ جہاد کے لئے بقدر ضرورت اپنے اموال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں اس سے فقہاء نے یہ حکم بھی نکالا ہے کہ مسلمانوں پر زکوٰۃ فرض کے علاوہ بھی دوسرے حقوق فرض ہیں مگر وہ نہ دائمی ہیں اور نہ ان کے لئے کوئی نصاب اور مقدار متعین ہے بلکہ جب وہ جتنی ضرورت ہو اس کا انتظام کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے اور ضرورت نہ ہو تو کچھ فرض نہیں جہاد کا خرچ بھی اسی میں داخل ہے،- وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ کے لفظی معنے تو ظاہر ہیں کہ اپنے اختیار سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت بیان فرمائی ہے اب یہ بات کہ ہلاکت میں ڈالنے سے اس جگہ کیا مراد ہے ؟ اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں اور امام جصاص رازی نے فرمایا کہ ان سب اقوال میں کوئی تضاد نہیں سب ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ حضرت ابو ایوب انصاری نے فرمایا کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے ہم اس کی تفسیر بخوبی جانتے ہیں، بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ اور قوت عطا فرما دیا تو ہم میں یہ گفتگو ہوئی کہ اب جہاد کی کیا ضرورت ہے ہم اپنے وطن میں ٹھہر کر اپنے مال وجائداد کی خبر گیری کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے یہ بتلا دیا کہ ہلاکت سے مراد اس جگہ ترک جہاد ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ ترک جہاد مسلمانوں کی ہلاکت و بربادی کا سبب ہے اسی لئے حضرت ابوایوب انصاری نے عمر بھر جہاد میں صرف کردی یہاں تک کہ آخر میں قسطنطنیہ میں وفات پاکر وہیں مدفون ہوئے،- حضرت ابن عباس، حذیفہ، قتادہ، مجاہد، ضحاک ائمہ تفسیر سے بھی یہی مضمون منقول ہے،- حضرت براء بن عازب نے فرمایا کہ گناہوں کی وجہ سے اللہ کی رحمت اور مغفرت سے مایوس ہوجانا اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالنا ہے اس لئے مغفرت سے مایوس ہونا حرام ہے،- بعض حضرات نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرنا کہ بیوی بچوں کے حقوق ضائع ہوجائیں یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ایسا اسراف جائز نہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ایسی صورت میں قتال کے لئے اقدام کرنا اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے جبکہ یہ اندازہ ظاہر ہے کہ دشمن کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے خود ہلاک ہوجائیں گے ایسی صورت میں اقدام قتال اس آیت کی بناء پر ناجائز ہے،- اور جصاص کے فرمانے کے مطابق یہ سب ہی احکام اس آیت سے مستفاد ہوتے ہیں۔- وَاَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ اس جملے میں ہر کام کو اچھی طرح کرنے کی ترغیب ہے اور کام کو اچھی طرح کرنا جس کو قرآن میں احسان کے لفظ سے تعبیر کیا ہے دو طرح کا ہے ایک عبادت میں دوسرے آپس کے معاملات ومعاشرت میں عبادت میں، احسان کی تفسیر حدیث جبرئیل میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمائی ہے کہ ایسی طرح عبادت کرو جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو تو کم ازکم یہ تو اعتقاد لازم ہی ہے کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔- اور معاملات ومعاشرت میں احسان کی تفسیر مسند احمد میں بروایت حضرت معاذ حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمائی ہے کہ تم سب لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور جس چیز کو تم اپنے لئے برا سمجھتے ہو وہ دوسروں کے لئے بھی برا سمجھو (مظہری)

Al-Baqara 2:195Listen in Qur'an →
196

وَأَتِمُّوا۟ ٱلْحَجَّ وَٱلْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا۟ رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْهَدْىُ مَحِلَّهُۥ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِۦٓ أَذًۭى مِّن رَّأْسِهِۦ فَفِدْيَةٌۭ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍۢ ۚ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍۢ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌۭ كَامِلَةٌۭ ۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُۥ حَاضِرِى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

خلاصہ تفسیر :- گیارہواں حکم متعلق حج وعمرہ :- اور (جب حج یا عمرہ کرنا ہو تو اس) حج اور عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے (راضی کرنے کے) واسطے پورا پورا ادا کیا کرو (کہ اعمال وآداب بھی سب بجا لاؤ اور نیت بھی خالص ثواب ہی کی ہو) پھر اگر (کسی دشمن کی جانب سے یا کسی مرض کے سبب سے حج وعمرہ کے پورا کرنے سے) روک دیئے جاؤ تو (اس حالت میں یہ حکم ہے کہ) قربانی کا جانور جو کچھ میسر ہو (ذبح کرے اور حج وعمرہ کی جو وضع اختیار کر رکھی تھی موقوف کرے اس کو احرام کھولنا کہتے ہیں جس کا طریقہ شرع میں سر منڈانا ہے اور بال کٹا دینے کا بھی یہی اثر ہے) اور (یہ نہیں کہ فورا روک ٹوک کے ساتھ ہی تم کو احرام کھولنا درست ہوجاوے بلکہ) اپنے سروں کو (احرام کھولنے کی غرض سے) اس وقت تک مت منڈاؤ جب تک کہ (وہ) قربانی (کا جانور جس کے ذبح کا اس حالت میں حکم تھا) اپنے موقع پر نہ پہنچ جاوے (اور وہ موقع حرم ہے کہ اس قربانی کا جانور حدود حرم ہی میں ذبح کیا جاسکتا ہے وہاں اگر خود نہ جاسکے تو کسی کے ہاتھ بھیج کر ذبح کرایا جاوے جب جانور ذبح ہوجاوے اس وقت احرام کھولنا جائز ہوگا) البتہ اگر کوئی تم میں سے (کچھ) بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ (زخم یا درد یا جوؤں وغیرہ کی) تکلیف ہو ( اور اس بیماری یا تکلیف کی وجہ سے پہلے ہی سر منڈانے کی ضرورت پڑے) تو (اس کو اجازت ہے کہ وہ سر منڈا کر) فدیہ (یعنی شرعی بدلہ) دیدے (یعنی خواہ تین) روزے سے یا (چھ مسکینوں کو فی مسکین صدقہ فطر کے برابر یعنی نصف صاع گیہوں) خیرات (کے طور پر) دیدینے سے یا (ایک بکری) ذبح کردینے سے پھر جب تم امن کی حالت میں ہو (خواہ تو پہلے ہی سے کوئی خوف ومزاحمت پیش نہیں آیا یا ہو کرجاتا رہا) تو (اس صورت میں حج وعمرہ کے متعلق قربانی کرنا ہر ایک کے ذمہ نہیں بلکہ خاص) جو شخص عمرہ سے اس کو حج کے ساتھ ملا کر منتفع ہوا ہو (یعنی ایام حج میں عمرہ بھی کیا ہو) تو (فقط اس پر واجب ہے کہ) جو کچھ قربانی میسر ہو (ذبح کرے اور جس نے صرف عمرہ کیا ہو یا صرف حج کیا ہو اس پر حج یا عمرہ کے متعلق کوئی قربانی نہیں) پھر (ایام حج میں حج وعمرہ کو جمع کرنے والوں میں سے) جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو (مثلا غریب ہے) تو (اس کے ذمہ بجائے قربانی کے) تین دن کے روزے ہیں (ایام) حج میں (کہ آخر ان ایام کا نویں تاریخ ذی الحجہ ہے) اور سات (دن کے روزے) ہیں جبکہ حج سے تمہارے لوٹنے کا وقت آجاوے (یعنی حج کرچکو خواہ لوٹنا ہو یا کہ وہیں رہنا ہو) یہ پورے دس (دن کے روزے) ہوئے (اور یہ بھی یاد رکھو کہ ابھی جو حج وعمرہ کے ملانے کا حکم ہوا ہے یہ (ملانا ہر ایک کو درست نہیں بلکہ خاص) اس شخص کے لئے (درست) ہے جس کے اہل (و عیال) مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے قرب (نواح) میں نہ رہتے ہوں (یعنی حدود حرم مکہ میں ان کا وطن نہ ہو) ان سب احکام کی بجاآوری میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (کہ کسی امر میں خلاف نہ ہوجاوے) اور (خوب) جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ (بیباکی اور مخالفت کرنے والوں کو) سزائے سخت دیتے ہیں۔- (زمانہ افعال) حج (کا) چند مہینے ہیں جو (مشہور و) معلوم ہیں (ایک شوال دوسرا ذی قعدہ تیسرا دس تاریخیں ذی الحجہ کی) سو جو شخص ان (ایام) میں (اپنے ذمہ) حج مقرر کرلے (کہ حج کا احرام باندھ لے) تو پھر (اس شخص کو) نہ کوئی فحش بات (جائز) ہے اور نہ کوئی بےحکمی (درست) ہے اور نہ کسی قسم کا نزاع (و تکرار) زیبا ہے (بلکہ اس کو چاہئے کہ ہر وقت نیک ہی کاموں میں لگا رہے) اور جو نیک کام کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کی اطلاع ہوتی ہے (سو اس کا ثمرہ تم کو عنایت ہوگا) اور (جب حج کو جانے لگو تو) خرچ ضرور (ساتھ) لے لیا کرو سب سے بڑی بات (اور خوبی) خرچ میں (گداگری سے) بچا رہنا ہے اور اے ذی عقل لوگو (ان احکام کی تعمیل میں) مجھ سے ڈرتے رہو (اور کسی حکم کے خلاف مت کرو) - (اور اگر حج میں کچھ اسباب تجارت ہمراہ لیجانا مصلحت سمجھو تو) تم کو …

Al-Baqara 2:196Listen in Qur'an →
197

ٱلْحَجُّ أَشْهُرٌۭ مَّعْلُومَٰتٌۭ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِى ٱلْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ يَعْلَمْهُ ٱللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا۟ فَإِنَّ خَيْرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقْوَىٰ ۚ وَٱتَّقُونِ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ

حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو

احکام حج کی آٹھ آیتوں میں سے دوسری آیت اور اس کے مسائل :- اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ اشہر اَشْهُرٌ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں مہینہ۔ پچھلی آیت میں یہ بتلایا گیا تھا کہ جو کوئی حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے تو اس پر لازم آتا ہے کہ اس کے احکام پورے ادا کرے ان دونوں میں عمرہ کے لئے تو کوئی تاریخ اور مہینہ مقرر نہیں سال بھر میں جب چاہئیں کرسکتے ہیں لیکن حج کے لئے مہینے اور اس کے افعال و اعمال کے لئے خاص تاریخیں اور اوقات مقرر ہیں اس لئے اس آیت کے شروع میں یہ بتلا دیا کہ حج کا معاملہ عمرہ کی طرح نہیں ہے اس کے لئے کچھ مہینے مقرر ہیں جو معروف و مشہور ہیں جاہلیت عرب سے لے کر زمانہ اسلام تک یہی مہینے حج کے مقرر رہے ہیں وہ مہینے شوال ذی قعدہ اور دس روز ذی الحجہ کے ہیں جیسا کہ حدیث میں بروایت ابوامامہ وابن عمر منقول ہے (مظہری) شوال سے حج کے مہینے شروع ہونے کا حاصل یہ ہے کہ اس سے پہلے حج کا احرام باندہنا جائز نہیں بعض ائمہ کے نزدیک تو قبل شوال کے احرام سے حج کی ادائیگی ہی نہیں ہوسکتی، - امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس احرام سے حج تو ادا ہوجائے گا مگر مکروہ ہوگا (مظہری) - فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ اس میں حج کا احرام باندہنے والے کے لئے کچھ منفی آداب و احکام کا بیان ہے جن سے حالت احرام میں پرہیز کرنا لازم و واجب ہے وہ تین چیزیں ہیں رفث، فسوق، جدال۔- رفث ایک لفظ جامع ہے جس میں عورت سے مباشرت اور اس کے مقدمات یہاں تک کہ زبان سے عورت کے ساتھ اس کی کھلی گفتگو بھی داخل ہے محرم کو حالت احرام میں یہ سب چیزیں حرام ہیں تعریض وکنایہ کا مضائقہ نہیں۔- فسوق کے لفظی معنی خروج کے ہیں اصطلاح قرآن میں عدول حکمی اور نافرمانی کو فسوق کہا جاتا ہے جو اپنے عام معنی کے اعتبار سے سب گناہوں کو شامل ہے اسی لئے بعض حضرات نے اس جگہ عام معنی ہی مراد لئے ہیں مگر حضرت عبداللہ بن عمر نے اس جگہ فسوق کی تفسیر مخطورات احرام سے فرمائی ہے یعنی وہ کام جو حالت احرام میں ممنوع و ناجائز ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ اس مقام کے مناسب یہی تفسیر ہے کیونکہ عام گناہوں کی ممانعت احرام کے ساتھ خاص نہیں ہر حال میں حرام ہیں۔- وہ چیزیں جو اصل سے گناہ نہیں مگر احرام کی وجہ سے ناجائز ہوجاتی ہیں چھ چیزیں ہیں اول عورت کے ساتھ مباشرت اور اس کے تمام متعلقات یہاں تک کہ کھلی گفتگو بھی، دوسرے برّی جانوروں کا شکار، خود کرنا یا شکاری کو بتلانا، تیسرے بال یا ناخن کٹوانا، چوتھے خوشبو کا استعمال یہ چار چیزیں تو مرد و عورت دونوں کے لئے حالت احرام میں ناجائز ہیں باقی دو چیزیں مردوں کے ساتھ خاص ہیں یعنی سلے ہوئے کپڑے پہننا، اور سر اور چہرے کو ڈھانپنا، امام اعظم ابوحنیفہ ومالک کے نزدیک چہرہ کو ڈھانپنا حالت احرام میں عورت کے لئے بھی ناجائز ہے اس لئے یہ بھی مشترک محظورات احرام میں شامل ہے۔- ان چھ چیزوں میں پہلی یعنی عورت سے مباشرت وغیرہ اگرچہ فسوق میں داخل ہے لیکن اس کو فسوق سے پہلے الگ کرکے لفظ رفث سے اس لئے بتلا دیا کہ احرام میں اس سے اجتناب سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دوسرے محظورات احرام کا تو کوئی بدل اور کفارہ بھی ہوجاتا ہے اور مباشرت کی بعض صورتیں ایسی بھی ہیں کہ اگر ان میں کوئی مبتلا ہوجائے تو حج ہی فاسد ہوجاتا ہے اس کا کوئی کفارہ بھی نہیں ہوسکتا مثلاً وقوف عرفات سے پہلے بیوی سے صحبت کرلی تو حج فاسد ہوگیا اور اس کا جرمانہ بھی گائے یا اونٹ کی قربانی سے دینا پڑے گا اور اگلے سال پھر حج کرنا پڑے گا اس مزید اہمیت کی بنا پر اس کو فَلَا رَفَثَ کے لفظ سے مستقلا بیان فرمادیا۔- جدال کے معنی ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کے ہیں اس لئے سخت قسم کے جھگڑے کو جدال کہا جاتا ہے یہ لفظ بھی بہت عام ہے اور بعض حضرات مفسرین نے عام ہی معنی مراد لئے ہیں اور بعض حضرات نے مقام حج و …

Al-Baqara 2:197Listen in Qur'an →
198

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا۟ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَآ أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَٰتٍۢ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ عِندَ ٱلْمَشْعَرِ ٱلْحَرَامِ ۖ وَٱذْكُرُوهُ كَمَا هَدَىٰكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلضَّآلِّينَ

اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے

سفر حج میں تجارت یا مزدوری کرنا کیسا ہے :- لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سفر حج میں تجارت یا مزدوری کے ذریعے کچھ روزی کمالو اور اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق حاصل کرو، واقعہ نزول اس آیت کا یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب نے جس طرح تمام عبادات و معاملات کو مسخ کرکے طرح طرح کی بیہودہ رسمیں ان میں شامل کردی تھیں اور عبادات کو بھی کھیل تماشہ بنادیا تھا اسی طرح افعال حج میں بھی طرح طرح کی بیہودگیاں کرتے تھے منیٰ کے عظیم اجتماع میں ان کے خاص خاص بازار لگتے تھے نمائش ہوتی تھی تجارتوں کے فرورغ کے ذرائع لگائے جاتے تھے اسلام آیا اور حج مسلمانوں پر فرض کیا گیا تو ان تمام بہیودہ رسموں کا قلع قمع کیا گیا صحابہ کرام جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات پر مٹ جانے والے تھے اب ان کو یہ خیال ہوا کہ ایام حج میں تجارت کرنا یا مزدوری کرکے کچھ کما لینا یہ بھی جاہلیت کی پیداوار ہے شاید اسلام میں اس کی مطلقاً حرمت و ممانعت ہوجائے یہاں تک کہ ایک صاحب حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے اور یہ سوال کیا کہ ہمارا پیشہ پہلے سے یہ ہے کہ ہم اونٹ کرایہ پر چلاتے ہیں کچھ لوگ ہمارے اونٹ حج کے لئے کرایہ پر لیجاتے ہیں ہم ان کے ساتھ جاتے ہیں اور حج کرتے ہیں کیا ہمارا حج نہیں ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ سے وہی سوال کیا تھا جو تم مجھ سے کر رہے ہو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اس وقت کوئی جواب نہ دیا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ اس وقت آپ نے اس شخص کو بلوایا اور فرمایا کہ ہاں تمہارا حج صحیح ہے۔- الغرض اس آیت نے یہ واضح کردیا کہ اگر کوئی شخص دوران حج میں کوئی بیع وشراء یا مزدوری کرے جس سے کچھ نفع ہوجائے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہاں کفار عرب نے جو حج کو تجارت کی منڈی اور نمائش گاہ بنالیا تھا اس کی اصلاح قرآن کے دو لفظوں سے کردی گئی ایک تو یہ کہ جو کچھ کمائیں اس کو اللہ تعالیٰ کا فضل اور عطا سمجھ کر حاصل کریں شکر گذار ہوں۔- محض سرمایہ سمیٹنا مقصد نہ ہو فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ میں اسی کی طرف اشارہ ہے، دوسرے لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ کے لفظ نے یہ بتلا دیا کہ اس میں کمائی میں تم پر کوئی گناہ نہیں جس میں ایک اشارہ اس طرف ہے کہ اگر اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو بہتر ہے کیونکہ اخلاص کامل میں فرق آتا ہے اور حقیقت مسٔلہ کی یہ ہے کہ اس کا مدار اصل نیت پر ہے اگر کسی شخص کی نیت اصل میں دنیوی نفع تجارت یا مزدوری ہے اور ضمنی طور پر حج کا بھی قصد کرلیا یا نفع تجارت اور قصد حج دونوں مساوی صورت میں ہیں تب تو یہ اخلاص کے خلاف ہے حج کا ثواب اس سے کم ہوجائیگا اور برکات حج جیسی حاصل ہونی چاہئے وہ حاصل نہ ہوں گی اور اگر اصل میں نیت حج کی ہے اسی کے شوق میں نکلا ہے لیکن مصارفِ حج میں یا گھر کی ضرورت میں تنگی ہے اس کو پورا کرنے کے لئے کوئی معمولی تجارت یا مزدوری کرلی یہ اخلاص کے بالکل منافی نہیں ہاں اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ خاص ان پانچ ایام میں جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں ان میں کوئی مشغلہ تجارت و مزدوری کا نہ رکھے بلکہ ان ایام کو خالص عبادت وذکر میں گذارے اسی وجہ سے بعض علماء نے خاص ان ایام میں تجارت و مزدوری کو ممنوع بھی فرمایا ہے۔- عرفات میں وقوف اور اس کے بعد مزدلفہ کا وقوف :- اس کے بعد اسی آیت میں ارشاد ہے فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ یعنی پھر جب تم عرفات سے واپس آنے لگو گو مشعر …

Al-Baqara 2:198Listen in Qur'an →
199

ثُمَّ أَفِيضُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ ٱلنَّاسُ وَٱسْتَغْفِرُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

اس کے بعد والی آیت میں ارشاد ہے ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی پھر تم سب کو ضروری ہے کہ اس جگہ ہو کر واپس آؤ جہاں اور لوگ جاکر واپس آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے اور مہربانی فرمادیں گے۔- اس جملے کا شان نزول یہ ہے کہ قریش عرب جو بیت اللہ کے محافظ ومجاور تھے اور سارے عرب میں ان کا اقتدار مسلم تھا اور ان کی ایک ممتاز حیثیت تھی زمانہ جاہلیت میں وہ اپنی امتیازی شان بنانے کے لئے یہ حرکت کرتے تھے اور سب لوگ تو عرفات کو جاتے اور وہاں وقوف کرکے واپس آتے تھے یہ لوگ راستہ میں مزدلفہ کے اندر ہی ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم چونکہ بیت اللہ اور حرم کے مجاور ہیں اس لئے حدودِحرم سے باہر جانا ہمارے لئے مناسب نہیں مزدلفہ حدود حرم کے اندر ہے اور عرفات اس سے خارج یہ بہانہ کرکے مزدلفہ ہی میں قیام کرلیتے اور وہیں سے واپس آجایا کرتے تھے اور درحقیقت وجہ اس حیلہ بہانہ کی اپنا فخر و غرور اور عام لوگوں سے ممتاز ہو کر رہنا تھا حق تعالیٰ کے اس فرمان نے ان کی غلط کاری واضح فرمادی اور ان کو حکم دیا کہ تم بھی وہیں جاؤ جہاں سب لوگ جاتے ہیں یعنی عرفات میں اور پھر وہیں سے سب کے ساتھ واپس آؤ۔- اول تو عام انسانوں سے اپنے آپ کو ممتاز کرکے رکھنا خود ایک متکبرانہ فعل ہے جس سے ہمیشہ ہی پرہیز لازم ہے خصوصاً حج کے ایام میں جہاں لباس احرام اور پھر قیام ومقام کی یکسانیت کے ذریعہ اسی کا سبق دینا ہے کہ انسان سب برابر ہیں امیر و غریب یا عالم و جاہل یا بڑے چھوٹے کا یہاں کوئی امتیاز نہیں حالت احرام میں یہ امتیازی شان بنانا اور بھی زیادہ جرم ہے۔- انسانی مساوات کا زریں سبق اور اس کی بہترین عملی صورت :- اس ارشاد قرآنی سے اصول معاشرت کی ایک اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ رہن سہن قیام ومقام میں بڑوں کو چاہئے کہ چھوٹوں سے الگ ممتاز ہو کر نہ رہیں بلکہ مل جل کر رہیں کہ اس میں باہمی اخوت و ہمدردی اور محبت وتعلق پیدا ہوتا ہے اور امیر و غریب کی تفریق مٹتی ہے، مزدور وسرمایہ دار کی جنگ ختم ہوجاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آخری حج کے خطبہ میں اس کو خوب واضح کرکے ارشاد فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں فضیلت کا مدار تقویٰ اور اطاعت خداوندی پر ہے اسی لئے جو لوگ ان کے خلاف مزدلفہ میں قیام کرکے اپنی ممتاز حیثیت بنانا چاہتے تھے ان کے اس فعل کو گناہ قرار دے کر ان پر لازم کیا کہ اپنے اس گناہ سے توبہ استغفار کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطائیں معاف فرماویں اور اپنی رحمت فرماویں۔

Al-Baqara 2:199Listen in Qur'an →
200

فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَٰسِكَكُمْ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَذِكْرِكُمْ ءَابَآءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًۭا ۗ فَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنْ خَلَٰقٍۢ

پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں

رسوم جاہلیت کی اصلاح منیٰ میں فضول اجتماعات کی ممانعت :- چوتھی پانچویں اور چھٹی آیات میں چند رسوم جاہلیت کی اصلاح کی گئی ہے، ایک تو یہ کہ عرب زمانہ جاہلیت میں عرفات ومزدلفہ اور طواف و قربانی سے فارغ ہو کر جب منیٰ میں قیام کرتے تھے تو ان کی مجلسیں صرف اس کام کے لئے ہوتی تھیں کہ مشاعرے منعقد کریں اور ان میں اپنے مفاخر اور اپنے آباء و اجداد کے مفاخر اور کارناموں کا بیان کریں ان کی مجلسیں ذکر اللہ سے یکسر خالی ہوتی تھیں ان مبارک ایام کو ایسی لغو اور فضول چیزوں میں ضائع کرتے تھے اس لئے ارشاد ہوا کہ جب تم اپنے افعال احرام کو پورا کرچکو اور منیٰ میں قیام کرو تو وہاں رہ کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اپنے آباء و اجداد کو یاد کرنا اور خصوصاً ان کے جھوٹے سچے مفاخر اور کارناموں کو بیان کرنا چھوڑو جتنا تم ان کو یاد کرتے ہو اس کی جگہ بلکہ اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کو یاد کرو اور ذکر اللہ میں مشغول رہو قرآن کی اس آیت نے عرب کی ایک جاہلانہ رسم کو مٹا کر مسلمانوں کو یہ ہدایت کی کہ یہ ایام اور یہ مقام عبادت اور ذکر اللہ کے لئے مخصوص ہیں ان میں ذکر اللہ و عبادت کے جو فضائل و برکات ہیں وہ پھر ہاتھ نہ آئیں گے ان کو غنیمت جاننا چاہئے۔- علاوہ ازیں حج ایک ایسی عبادت ہے جو عموماً سفر طویل کی مشقت اہل و عیال کی مفارقت کاروبار کو ترک کرنے اور ہزاروں روپے اور بہت سا وقت خرچ کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اس میں حوادث کا پیش آجانا کچھ بعید نہیں کہ آدمی باوجود کوشش کے اپنے مقصد حج میں کامیاب نہ ہوسکے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام موانع ہٹا کر آپ کے مقصد میں کامیاب فرمایا اور فرائض حج پورے ہوگئے تو یہ مقام شکر ہے جس کا اقتضاء یہ ہے کہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہو ان اوقات کو فضول اجتماعات اور فضول کام یا کلام میں ضائع نہ کرو اہل جاہلیت ان اوقات میں اپنے آباء و اجداد کے تذکرے کرتے تھے جن کا کوئی نفع دین و دنیا میں نہ تھا، تم اس کی جگہ اللہ کا ذکر کرو جو نور ہی نور اور نفع ہی نفع ہے دنیا کے لئے بھی آخرت کے لئے بھی، آجکل اگرچہ مسلمانوں میں وہ رسم جاہلیت تو نہیں رہی کہ مشاعرے قائم کریں اور آباء و اجداد کے تذکرے کریں لیکن آج بھی ہزاروں مسلمان ہیں جو ان ایام کو فضول اجتماعات میں فضول دعوتوں اور تفریحات میں صرف کرتے ہیں یہ آیت ان کی تنبیہ کے لئے کافی ہے۔- بعض حضرات مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو جیسے بچپن میں اپنے باپ کو یاد کرتے ہیں کہ ان کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کلام یَا اَب یَا اَب ہوتا ہے تم اب بالغ ہو جوان ہو عاقل ہو یَا اَب یَا اَب کی جگہ یَا رَب یَارَب کو اختیار کرو اور اس پر نظر ڈالو کہ بچہ اپنے باپ کو اس لئے پکارتا ہے کہ وہ اپنے تمام کاموں میں اپنے آپ کو باپ کا محتاج سمجھتا ہے انسان اگر ذرا غور کرے تو وہ ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج اس سے زیادہ ہے جیسا بچہ اپنے باپ کا محتاج ہے نیز بعض اوقات کچھ لوگ اپنے باپ کا ذکر فخراً بھی کیا کرتے ہیں جیسے اہل جاہلیت کرتے تھے تو اس آیت نے یہ بھی ہدایت کردی کہ فخر وعزت کے لئے بھی ذکر اللہ سے زیادہ کوئی چیز مؤ ثر نہیں (روح البیان) - ایک اور رسم جاہلیت کی اصلاح دین و دنیا کی طلب میں اسلامی اعتدال :- جس طرح جاہلیت کی یہ رسم بیہودہ تھی کہ ان مبارک ایام کو اپنے باپ دادوں کے تذکروں اور مشاعروں میں گذاریں اسی طرح کچھ لوگوں کی یہ عادت تھی کہ اگرچہ ایام حج میں شغل تو ذکر اللہ اور دعاؤں ہی کا رکھتے تھے مگر ان کی تمام تر دعائیں صرف دنیوں حاجات اور دنیا کی راحت وعزت یا دولت کے لئے ہوتی تھیں آخرت کی طرف کوئی دھیان نہ ہوتا تھا ان کی اصلاح کے لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ بعض لوگ وہ ہیں جو حج میں دعاء بھی مانگتے ہیں تو صرف دنیا کی بھلائی مانگتے ہیں آخرت کی فکر نہیں کرتے ایسے لوگوں کا …

Al-Baqara 2:200Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.