فَمَنۢ بَدَّلَهُۥ بَعْدَمَا سَمِعَهُۥ فَإِنَّمَآ إِثْمُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے
آیت 181 فَمَنْم بَدَّلَہٗ بَعْدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَآ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَہٗ ط وصیت کرنے والا ان کے اس گناہ سے َ بری ہے ‘ اس نے تو صحیح وصیت کی تھی۔ اگر گواہوں نے بعد میں وصیت میں تحریف اور تبدیلی کی تو اس کا وبال اور اس کا بوجھ ان ہی پر آئے گا۔اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ