Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 181–190 of 286

181

فَمَنۢ بَدَّلَهُۥ بَعْدَمَا سَمِعَهُۥ فَإِنَّمَآ إِثْمُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے

Explained together with ayah 180

Al-Baqara 2:181Listen in Qur'an →
182

فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍۢ جَنَفًا أَوْ إِثْمًۭا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

Explained together with ayah 180

Al-Baqara 2:182Listen in Qur'an →
183

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو

خلاصہ تفسیر :- حکم سوم صوم :- اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے (امتوں کے) لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اس توقع پر کہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاؤ (کیونکہ روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کو اس کے متعدد تقاضوں سے روکنے کی اور اسی عادت کی پختگی بنیاد ہے تقویٰ کی سو) تھوڑے دنوں روزہ رکھ لیا کرو (ان تھوڑے دنوں سے مراد رمضان ہے جیسا اگلی آیت میں آتا ہے) پھر (اس میں بھی اتنی آسانی ہے کہ) جو شخص تم میں (ایسا) بیمار ہو (جس کو روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں تو (اس کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور بجائے رمضان کے) دوسرے ایام کا (اتنا ہی) شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب ہے) اور (دوسری آسانی جو بعد میں منسوخ ہوگئی یہ ہے کہ) جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں (اور پھر روزہ رکھنے کو دل نہ چاہے تو) ان کے ذمہ (صرف روزے کا) فدیہ (یعنی بدلہ) ہے کہ وہ ایک غریب کا کھانا (کھلا دینا یا دیدینا) ہے اور جو شخص خوشی سے (زیادہ) خیر (خیرات) کرے (کہ زیادہ فدیہ دیدے) تو یہ اس شخص کے لئے اور بہت رہے اور (گو ہم نے آسانی کے لئے ان حالتوں میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے لیکن) تمہارا روزہ رکھنا (اس حالت میں بھی) زیادہ بہتر ہے اگر تم (کچھ روزے کی فضیلت کی) خبر رکھتے ہو،- معارف و مسائل :- صوم کے لفظی معنی امساک یعنی رکنے اور بچنے کے ہیں اور اصطلاح شرع میں کھانے پینے اور عورت سے مباشرت کرنے سے رکنے اور باز رہنے کا نام صوم ہے بشرطیہ وہ طلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل رکا رہے اور نیت روزہ کی بھی ہو اس لئے اگر غروب آفتاب سے ایک منٹ پہلے بھی کچھ کھا پی لیا تو روزہ نہیں ہوا اسی طرح اگر ان تمام چیزوں سے پرہیز تو پورے دن پوری احتیاط سے کیا مگر نیت روزہ کی نہیں کی تو بھی روزہ نہیں ہوا،- صوم یعنی روزہ ان عبادات میں سے ہے جن کو اسلام کے عمود اور شعائر قرار دیا گیا ہے اس کے فضائل بیشمار ہیں جن کے تفصیلی بیان کا یہ موقع نہیں۔- پچھلی امتوں میں روزہ کا حکم :- روزے کی فرضیت کا حکم مسلمانوں کو ایک خاص مثال سے دیا گیا ہے حکم کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہ روزے کی فرضیت کچھ تمہارے ساتھ خاص نہیں پچھلی امتوں پر بھی روزے فرض کئے گئے تھے اس سے روزے کی خاص اہمیت بھی معلوم ہوئی اور مسلمانوں کی دلجوئی کا بھی انتظام کیا گیا کہ روزہ اگرچہ مشقت کی چیز ہے مگر یہ مشقت تم سے پہلے بھی سب لوگ اٹھاتے آئے ہیں طبعی بات ہے کہ مشقت میں بہت سے لوگ مبتلا ہوں تو وہ ہلکی معلوم ہونے لگتی ہے (روح المعانی) - قرآن کریم کے الفاظ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ عام ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام شریعتوں اور امتوں کو شامل ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح نماز کی عبادت سے کوئی شریعت اور کوئی امت خالی نہیں رہی اسی طرح روزہ بھی ہر شریعت میں فرض رہا ہے،- جن حضرات نے فرمایا ہے کہ مِنْ قَبْلِكُمْ سے اس جگہ نصاریٰ مراد ہیں وہ بطور ایک مثال کے ہے اس سے دوسری امتوں کی نفی نہیں ہوتی (روح) - آیت میں صرف اتنا بتلایا گیا ہے کہ روزے جس طرح مسلمانوں پر فرض کئے گئے پچھلی امتوں میں بھی فرض کئے گئے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پچھلی امتوں کے روزے تمام حالات وصفات میں مسلمانوں ہی کے روزوں کے برابر ہوں مثلاً روزوں کی تعداد، روزوں کے اوقات کی تحدید اور یہ کہ کن ایام میں رکھے جائیں ان امور میں اختلاف ہوسکتا ہے چناچہ واقعہ بھی ایسا ہی ہوا کہ تعداد میں بھی کمی بیشی ہوتی رہی اور روزے کے ایام اور اوقات میں فرق ہوتا رہا ہے (ورح) - لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ میں اشارہ ہے کہ تقویٰ کی قوت حاصل کرنے میں روزہ کو بڑا دخل ہے کیونکہ روزہ سے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ایک ملکہ پیدا ہوتا ہے وہی تقوے کی بنیاد ہے،

Al-Baqara 2:183Listen in Qur'an →
184

أَيَّامًۭا مَّعْدُودَٰتٍۢ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌۭ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدْيَةٌۭ طَعَامُ مِسْكِينٍۢ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّهُۥ ۚ وَأَن تَصُومُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے

مریض کا روزہ :- (آیت) فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا مریض سے مراد وہ مریض ہے جس کو روزہ رکھنے سے ناقابل برداشت تکلیف پہنچے یا مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو بعد کی آیت وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ میں اس طرف اشارہ موجود ہے جمہور فقہاء امت کا یہی مسلک ہے،- مسافر کا روزہ :- اَوْ عَلٰي سَفَرٍ یہاں لفظ مسافر کے بجائے علیٰ سفر کا لفظ اختیار فرما کر کئی مسائل کی طرف اشارہ فرمادیا۔- اول یہ کہ مطلقا لغوی سفر یعنی اپنے گھر اور وطن سے باہر نکل جانا روزہ میں رخصت سفر کے لئے کافی نہیں بلکہ سفر کچھ طویل ہونا چاہئے کیونکہ لفظ عَلٰي سَفَرٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سفر پر سوار ہو جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ گھر سے دس پانچ میل چلے جانا مراد نہیں مگر یہ تحدید کہ سفر کتنا طویل ہو قرآن کے الفاظ میں مذکور نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیان اور صحابہ کے تعامل سے امام اعظم ابوحنیفہ اور بہت سے فقہاء نے اس کی مقدار تین منزل یعنی وہ مسافت جس کو پیادہ سفر کرنے والا بآسانی تین روز میں طے کرسکے قرار دی ہے اور بعد کے فقہاء نے میلوں کے حساب سے اڑتالیس میل لکھے ہیں۔- دوسرا مسئلہ اسی لفظ عَلٰي سَفَرٍ سے یہ نکلا کہ وطن سے نکل جانے والا مسافر اسی وقت تک رخصت سفر کا مستحق ہے جب تک اس کے سفر کا سلسلہ جاری رہے اور یہ ظاہر ہے کہ آرام کرنے یا کچھ کام کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھہر جانا مطلقا اس کے سلسلہ سفر کو ختم نہیں کردیتا جب تک کوئی معتدبہ مقدار قیام نہ ہو اور اسی معتدبہ قیام کی مدت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیان سے ثابت ہوئی کہ پندرہ دن ہیں جو شخص کسی ایک مقام پر پندرہ دن ٹھرنے کی نیت کرے تو وہ عَلٰي سَفَرٍ نہیں کہلاتا اس لئے وہ رخصت سفر کا بھی مستحق نہیں، - مسئلہ : اسی سے یہ بھی نکل آیا کہ کوئی شخص پندرہ دن کے قیام کی نیت ایک جگہ نہیں بلکہ متفرق مقامات شہروں اور بستیوں میں کرے تو وہ بدستور مسافر کے حکم میں رہ کر رخصت سفر کا مستحق رہے گا،- کیونکہ وہ عَلٰي سَفَرٍ کی حالت میں ہے،- روزہ کی قضا :- (آیت) فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ یعنی مریض ومسافر کو اپنے فوت شدہ روزوں کی گنتی کے مطابق دوسرے دنوں میں روزے رکھنا واجب ہے اس میں بتلانا تو یہ منظور تھا کہ مرض یا سفر کی مجبوری سے جو روزے چھوڑے گئے ہیں ان کی قضاء ان لوگوں پر واجب ہے جس کے لئے فعلیہ القَضَاءُ کا مختصر جملہ بھی کافی تھا مگر اس کے بجائے فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ فرما کر اشارہ کردیا گیا کہ مریض ومسافر پر فوت شدہ روزوں کی قضاء صرف اس صورت میں واجب ہوگی جب کہ مریض صحت کے بعد اور مسافر مقیم ہونے کے بعد اتنے دنوں کی مہلت پائے جنھیں قضاء کرسکے تو اگر کوئی شخص اتنے دن سے پہلے ہی مرگیا تو اس پر قضاء یا وصیت فدیہ لازم نہیں ہوگی، - مسئلہ : عِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ میں چونکہ اس کی کوئی قید نہیں کہ ترتیب وار رکھے یا غیر مسلسل رکھے بلکہ عام اختیار ہے اس لئے اگر کوئی شخص جس کے رمضان کے ابتدائی دس روزے قضا ہوگئے ہوں وہ دسویں یا نویں روزے کی قضا پہلے کرے اور ابتدائی روزوں کی قضا بعد میں تو اس میں بھی مضائقہ نہیں اسی طرح متفرق کرکے قضا روزے رکھے تو یہ بھی جائز ہے کیوں کہ عِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ میں اس کی گنجائش ہے،- روزہ کا فدیہ :- وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ اس آیت کے بےتکلف معنی وہی ہیں جو خلاصہ تفسیر میں بتلائے گئے ہیں کہ جو لوگ مریض یا مسافر کی طرح روزہ رکھنے سے مجبور نہیں بلکہ روزے کی طاقت تو رکھتے ہیں مگر کسی وجہ سے دل نہیں چاہتا تو ان کے لئے بھی یہ گنجائش ہے کہ وہ روزے کے بجائے روزے کا فدیہ بصورت صدقہ ادا کردیں اس کے ساتھ اتنا فرما دیا وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ یعنی تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ ہی رکھو،- یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب لوگوں کو روزے کا خوگر کرنا مقصود …

Al-Baqara 2:184Listen in Qur'an →
185

شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًۭى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٍۢ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌۭ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا۟ ٱلْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو

خلاصہ تفسیر اور ربط آیات :- تعیین ایام صیام :- اوپر ارشاد ہوا تھا کہ تھوڑے روزہ رکھ لیا کرو آگے ان تھوڑے دنوں کا بیان ہے،- (وہ تھوڑے ایام جن میں روزے کا حکم ہوا ہے) ماہ رمضان ہے جس میں (ایسی برکت ہے کہ اس کے ایک خاص حصہ یعنی شب قدر میں) قرآن مجید (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) بھیجا گیا ہے جس کا (ایک) وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے (ذریعہ) ہدایت ہے اور (دوسرا وصف یہ ہے کہ ہدایت کے طریقے بتلانے میں اس کا جزو جزو) واضح الدلالۃ ہے (اور ان دونوں وصفوں میں) منجملہ ان کتب (سماویہ) کے ہے جو کہ (انہی دو وصفوں سے موصوف ہیں یعنی ذریعہ) ہدایت (بھی) ہیں اور (وضوح دلالت کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان) فیصلہ کرنے والی (بھی) ہیں سو جو شخص اس ماہ میں موجود ہو اس کو ضرور اس میں روزہ رکھنا چاہئے (اور وہ فدیہ کی اجازت جو اوپر مذکور تھی منسوخ و موقوف ہوئی) اور (مریض اور مسافر کے لئے جو اوپر قانون تھا وہ البتہ اب بھی اسی طرح باقی ہے کہ) جو شخص (ایسا) بیمار ہو (جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں ہو تو (اس کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور بجائے ایام رمضان کے) دوسرے ایام کا (اتنا ہی) شمار (کر کے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب ہے) اللہ تعالیٰ کو تمہارے ساتھ (احکام میں) آسانی (کی رعایت کرنا منظور ہے (اس لئے ایسے احکام مقرر کئے جن کو تم آسانی سے بجا لاسکو چناچہ سفر اور مرض میں کیسا آسان قانون مقرر کردیا) اور تمہارے ساتھ (احکام و قوانین مقرر کرنے میں) دشواری منظور نہیں (کہ سخت احکام تجویز کردیتے) اور (یہ احکام مذکورہ ہم نے خاص خاص مصلحتوں سے مقرر کئے چناچہ اولا روزہ ادا رکھنے کا اور کسی شرعی عذر سے رہ جاوے تو دوسرے ایام میں قضا کرنے کا حکم تو اسی لئے کیا) تاکہ تم لوگ (ایام ادا یا قضاء کی) شمار کی تکمیل کرلیا کرو تاکہ ثواب میں کمی نہ رہے اور خود قضا رکھنے کا حکم اس لئے کیا تاکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور ثناء بیان کیا کرو اس پر کہ تم کو (ایک ایسا) طریقہ بتلا دیا (جس سے تم برکات وثمرات صیام سے محروم نہ رہو ورنہ اگر قضا واجب نہ ہوتی تو کون اتنے روزے رکھ کر ثواب حاصل کرتا) اور (عذر سے خاص رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اس لئے دے دی) تاکہ تم لوگ (اس نعمت آسمانی پر اللہ تعالیٰ کا) شکر ادا کیا کرو (ورنہ اگر یہ اجازت نہ ہوتی تو سخت مشقت ہوجاتی) - معارف و مسائل :- اس آیت میں پچھلی مجمل آیت کا بیان بھی ہے اور ماہ رمضان کی اعلیٰ فضیلت کا ذکر بھی، بیان اس لئے کہ پچھلی آیات میں اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ کا لفظ مجمل ہے جس کی شرح اس آیت نے کردی کہ وہ پورے ماہ رمضان کے ایام ہیں اور فضیلت یہ بیان کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو اپنی وحی اور آسمانی کتابیں نازل کرنے کے لئے منتخب کر رکھا ہے چناچہ قرآن بھی اسی ماہ میں نازل ہوا مسند احمد میں حضرت واثلہ بن اسقع سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے رمضان کی پہلی تاریخ میں نازل ہوئے اور تورات چھ رمضان میں، انجیل تیرہ رمضان اور قرآن چوبیس رمضان میں نازل ہوا، اور حضرت جابر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ زبور بارہ رمضان میں انجیل اٹھارہ رمضان میں نازل ہوئی (ابن کثیر) - حدیث مذکور میں پچھلی کتابوں کا نزول جس تاریخ میں ذکر کیا گیا ہے اسی تاریخ میں وہ کتابیں پوری کی پوری انبیاء پر نازل کردی گئی ہیں قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ رمضان کی ایک رات میں پورا کا پورا لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا گیا مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کا نزول تیئیس سال میں رفتہ رفتہ ہوا،- رمضان کی وہ رات جس میں قرآن نازل ہوا قرآن ہی کی تصریح کے مطابق شب قدر تھی اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مذکور الصدر حدیث میں اس کو ٢٤ رمضان کی شب بتلایا ہے اور …

Al-Baqara 2:185Listen in Qur'an →
186

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّى قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لِى وَلْيُؤْمِنُوا۟ بِى لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں

خلاصہ تفسیر مع ربط آیات :- پچھلی تین آیتوں میں روزہ اور رمضان کے احکام اور فضائل کا ذکر تھا اور اس کے بعد بھی ایک طویل آیت میں روزہ اور اعتکاف کے احکام کی تفصیل ہے درمیان کی اس مختصر آیت میں بندوں کے حال پر حق تعالیٰ کی خاص عنایت ان کی دعائیں سننے اور قبول کرنے کا ذکر فرما کر اطاعت احکام کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ روزہ کی عبادت میں رخصتوں سہولتوں کے باوجود کسی قدر مشقت ہے اس کو سہل کرنے کے لئے اپنی مخصوص عنایت کا ذکر فرمایا کہ میں اپنے بندوں سے قریب ہی ہوں جب بھی وہ دعاء مانگتے ہیں میں ان کی دعائیں قبول کرتا ہوں اور ان کی حاجات کو پورا کردیتا ہوں۔- ان حالات میں بندوں کو بھی چاہئے کہ میرے احکام کی تعمیل میں کچھ مشقت بھی ہو تو برداشت کریں اور امام ابن کثیر نے اس درمیانی جملہ ترغیب دعا کی یہ حکمت بتلائی ہے کہ اس آیت میں اشارہ کردیا کہ روزہ کے بعد دعا قبول ہوتی ہے اس لئے دعاء کا خاص اہتمام کرنا چاہئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔- للصائم عند فطرہٖ دعوۃ مستجابۃ (ابوداؤد طیالسی بروایۃ عبداللہ بن عمر) یعنی روزہ افطار کرنے کے وقت روزہ دار کی دعا مقبول ہے،- اسی لئے حضرت عبداللہ بن عمر افطار کے وقت سب گھر والوں کو جمع کرکے دعا کیا کرتے تھے تفسیر آیت کی یہ ہے،- اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں (کہ میں ان سے قریب ہوں یا دور) تو (میری طرف سے ان سے فرما دیجئے کہ) میں قریب ہی ہوں (اور باستثناء نامناسب درخواست کے) منظور کرلیتا ہوں (ہر) عرضی درخواست کرنے والے کی جب کہ وہ میرے حضور میں درخواست دے سو (جس طرح میں ان کی عرض معروض کو منظور کرلیتا ہوں) ان کو چاہئے کہ میرے احکام کو (بجاآوری کے ساتھ) قبول کیا کریں (اور چونکہ ان احکام میں کوئی نامناسب نہیں اس لئے اس میں استثناء ممکن نہیں) اور مجھ پر یقین رکھیں (یعنی میری ہستی پر بھی میرے حاکم ہونے پر بھی میرے حکیم ہونے پر اور رعایت ومصالح پر بھی اس طرح) امید ہے کہ وہ لوگ رشد (و فلاح) حاصل کرسکیں گے،- مسئلہ : اس آیت میں اِنِّىْ قَرِيْبٌ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ دعا آہستہ اور خفیہ کرنا چاہئے دعا میں آواز بلند کرنا پسند نہیں ابن کثیر نے آیت کا شان نزول یہی ذکر کیا ہے کہ کسی گاؤں والے نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ہمارے رب اگر ہم سے قریب ہے تو ہم آہستہ آواز سے مانگا کریں اور دور ہو تو بلند آواز سے پکارا کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Al-Baqara 2:186Listen in Qur'an →
187

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ ٱلصِّيَامِ ٱلرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَآئِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌۭ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌۭ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَٱلْـَٰٔنَ بَٰشِرُوهُنَّ وَٱبْتَغُوا۟ مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلْخَيْطُ ٱلْأَبْيَضُ مِنَ ٱلْخَيْطِ ٱلْأَسْوَدِ مِنَ ٱلْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا۟ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَٰكِفُونَ فِى ٱلْمَسَٰجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

خلاصہ تفسیر :- حکم چہارم رمضان کی راتوں میں جماع :- اس آیت روزہ کے بقیہ احکام کی کچھ تفسیر مذکور ہے تم لوگوں کے واسطے روزہ کی شب میں اپنی بیبیوں سے مشغول ہونا حلال کردیا گیا (اور پہلے جو اس سے ممانعت تھی وہ موقوف کی گئی) کیونکہ (بوجہ قرب واتصال کے) وہ تمہارے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہیں اور تم ان کے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہو خدا تعالیٰ کو (اس کی خبر تھی کہ تم (اس حکم الٰہی میں) خیانت (کر) کے گناہ میں اپنے کو مبتلا کر رہے تھے (مگر) خیر (جب تم معذرت سے پیش آئے تو) اللہ تعالیٰ نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے گناہ کو دھو دیا سو (جب اجازت ہوگئی تو) اب ان سے ملو ملاؤ اور جو (قانون اجازت) تمہارے لئے تجویز کردیا ہے (بےتکلف) اس کا سامان کرو اور (جس طرح شب صیام میں بی بی سے ہم بستری کی اجازت ہے اسی طرح یہ بھی اجازت ہے کہ تمام رات میں جب چاہو) کھاؤ (بھی) اور پیو (بھی) اس وقت تک کہ تم کو سفیدخط صبح (صادق کی روشنی) کا متمیز ہوجاوے سیاہ خط سے (یعنی رات کی تاریکی سے) تو پھر (صبح صادق سے) رات (آنے) تک روزہ کو پورا کیا کرو،- صبح کی سفیدی کا سفید خط رات کی تاریکی کے سیاہ خط سے متمیز ہوجانے سے مراد یہ ہے کہ صبح صادق یقینی طور سے ثابت ہوجائے،- حکم پنجم اعتکاف :- اور ان بیبیوں (کے بدن) سے اپنا بدن بھی (شہوت کے ساتھ) مت ملنے دو جس زمانے میں کہ تم لوگ اعتکاف والے ہو (جو کہ) مسجدوں میں (ہوا کرتا ہے) یہ ( سب احکام مذکورہ) خداوندی ضابطے ہیں سو ان (ضابطوں) سے (نکلنا تو کیسا) نکلنے کے نزدیک بھی مت ہونا (اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ احکام بیان کئے ہیں) اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے (اور) احکام بھی لوگوں (کی اصلاح) کے واسطے بیان فرمایا کرتے ہیں اس امید پر کہ وہ لوگ (احکام پر مطلع ہو کر ان احکام کے خلاف کرنے سے) پرہیز رکھیں۔- معارف و مسائل : - اُحِلَّ لَكُمْ کے لفظ سے معلوم ہوا کہ جو چیز اس آیت کے ذریعہ حلال کی گئی ہے وہ اس سے پہلے حرام تھی صحیح بخاری وغیرہ میں بروایت براء بن عازب مذکور ہے کہ ابتداء میں جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو افطار کے بعد کھانے پینے اور بیبیوں کے ساتھ اختلاط کی صرف اس وقت تک اجازت تھی جب تک سو نہ جائے سو جانے کے بعد یہ سب چیزیں حرام ہوجاتی تھیں بعض صحابہ کرام کو اس میں مشکلات پیش آئیں۔ قیس بن صرمہ انصاریٰ دن بھر مزدوری کرکے افطار کے وقت گھر پہنچنے تو گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ تھا، بیوی نے کہا کہ میں کہیں سے کچھ انتظام کرکے لاتی ہوں جب وہ واپس آئی تو دن بھر کے تکان کی وجی سے ان کی آنکھ لگ گئی اب بیدار ہوئے تو کھانا حرام ہوچکا تھا اگلے دن اسی طرح روزہ رکھا، دوپہر کو ضعف سے بیہوش ہوگئے (ابن کثیر) اسی طرح بعض صحابہ سونے کے بعد اپنی بیبیوں کے ساتھ اختلاط میں مبتلا ہو کر پریشان ہوئے ان واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس میں پہلا حکم منسوخ کرکے غروب آفتاب کے بعد سے طلوع صبح صادق تک پوری رات میں کھانے پینے اور مباشرت کی اجازت دے دیگئی اگرچہ سو کر اٹھنے کے بعد ہو بلکہ سو کر اٹھنے کے بعد آخر شب میں سحری کھانا سنت قرار دیا گیا جس کا ذکر روایات حدیث میں واضح ہے اس آیت میں اسی حکم کا بیان کیا گیا ہے،- رَّفَثُ کے لفظی معنی اگرچہ عام ہیں ایک مرد بی بی سے اپنی خواہش پورا کرنے کے لئے جو کچھ کرتا یا کہتا ہے وہ سب اس میں شامل ہے لیکن باتفاق امت اس جگہ اس سے مراد جماع ہے۔- ثبوت احکام شرعیہ کے لئے قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بحکم قرآن ہے :- اس آیت نے جس حکم کو منسوخ کیا ہے یعنی سوجانے کے بعد کھانے پینے وغیرہ کی حرمت کو، یہ حکم قرآن میں کہیں مذکور نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم سے صحابہ کرام اس حکم پر عمل کرتے تھے (کما راوہ احمد فی مسندہ) اسی کو اس آیت نے حکم الہی قرار دے کر منسوخ کیا گیا اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سنت …

Al-Baqara 2:187Listen in Qur'an →
188

وَلَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ وَتُدْلُوا۟ بِهَآ إِلَى ٱلْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا۟ فَرِيقًۭا مِّنْ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

ربط آیات و خلاصہ تفسیر :- پچھلی آیتوں میں روزے کے احکام مذکور تھے جس میں حلال چیزوں کے استعمال کو ایک معین زمانے میں اور معین وقت میں حرام کردیا گیا ہے اس کے بعد مال حرام حاصل کرنے اور اس کے استعمال کرنے کی ممانعت اسی مناسبت سے ذکر کی گئی کہ عبادت صوم کا اصل منشاء یہی ہے کہ انسان کچھ عرصے حلال چیزوں سے بھی صبر کا خوگر ہوجائے گا تو حرام چیزوں سے بچنا آسان ہوجائے گا نیز یہ مناسبت بھی ہے کہ جب روزہ ختم ہو افطار کے لئے مال حلال مہیا کرنا چاہئے جس نے دن بھر روزہ رکھا شام کو مال حرام سے افطار کیا اس کا روزہ اللہ کے نزدیک قبول نہیں، - حکم ششم، مال حرام سے بچنا :- اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق مت کھاؤ اور ان (کے جھوٹے مقدمہ) کو حکام کے یہاں اس غرض سے رجوع مت کرو کہ (اس کے ذریعہ سے) لوگوں کے مالوں کا ایک حصہ بطریق گناہ (یعنی ظلم) کے کھا جاؤ جبکہ تم کو (اپنے جھوٹ اور ظلم کا) علم بھی ہو،- معارف و مسائل : - اس آیت میں حرام طریقوں سے مال حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی ممانعت ہے جس طرح اس سے پہلے اسی سورة بقرہ کی آیت نمبر ١٦٨ میں حلال طریقہ پر حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت کا بیان گذر چکا ہے جس میں ارشاد ہے :- يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔ یعنی اے لوگوں کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے جو چیزیں حلال اور ستھری ہیں اور شیطان کے قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔- اور سورة نحل آیت ١١٤ میں ارشاد فرمایا۔- فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ۔ یعنی کھاؤ جو روزی دی تم کو اللہ تعالیٰ نے حلال اور پاک اور شکر کرو اللہ کے احسان کا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو،- کسب مال کے اچھے برے ذرائع اور اچھائی برائی کا معیار :- جس طرح مال کی ضرورت اور مدار زندگی ہونے پر ساری دنیا اور اس کی ہر قوم وملت کا اتفاق ہے اس طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس کی تحصیل کے کچھ ذرائع پسندیدہ اور جائز ہیں کچھ ناپسند اور ممنوع ہیں چوری، ڈاکہ، دھوکہ، فریب کو ساری ہی دنیا برا سمجھتی ہے لیکن ان ذرائع کے جائز یا ناجائز ہونے کا کوئی صحیح معیار عام طور پر لوگوں کے ہاتھ میں نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ اس کا تعلق پوری دنیا کے انسانوں کی صلاح و فلاح سے ہے اور پورا عالم انسانیت اس سے متاثر ہوتا ہے اس کا صحیح اور معقول معیار صرف وہی ہوسکتا ہے جو رب العالمین کی طرف سے بذریعہ وحی بھیجا گیا ہو ورنہ اگر خود انسان اس کا معیار بنانے کا مختار ہو تو جو لوگ اس کا قانون بنائیں گے وہ اپنی قوم یا اپنے وطن یا اپنی ملت کے بارے میں جو کچھ سوچیں گے وہ عام عادت کے مطابق اس سے مختلف ہوگا جو دوسری قومیں اور وطنوں کے متعلق سوچا جائے گا اور بین الاقوامی کانفرنسوں کی صورت میں پوری دنیا کی نمائندگی کی جائے تو تجربہ شاہد ہے کہ وہ بھی ساری مخلوق کو مطمئن کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ قانون ناانصافی انجام کار جنگ وجدل اور فساد کی صورت اختیار کرے گی، - اسلامی نظام معاش ہی دنیا میں امن عام قائم کرسکتا ہے،- شریعت اسلام نے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا جو قانون بنایا ہے وہ صراحۃ وحی الہیٰ سے ہے یا اس سے مستفاد اور وہی ایک ایسا معقول فطری اور جامع قانون ہے جو ہر قوم وملت اور ہر ملک وطن میں چل سکتا ہے اور امن عامہ کا ضامن ہوسکتا ہے کیونکہ اس قانون الہیٰ میں قابل اشتراک چیزوں کو مشترک اور وقف عام رکھا گیا ہے جسمیں تمام انسان مساوی حق رکھتے ہیں جیسے ہوا، پانی، خود رو گھاس، آگ کی حرارت اور غیر مملوک جنگلات اور غیر آباد پہاڑی جنگلات کی پیداوار وغیرہ کہ ان میں سب انسانوں کا مشترک حق ہے کسی کو ان …

Al-Baqara 2:188Listen in Qur'an →
189

۞ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَٰقِيتُ لِلنَّاسِ وَٱلْحَجِّ ۗ وَلَيْسَ ٱلْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا۟ ٱلْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَٰكِنَّ ٱلْبِرَّ مَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَأْتُوا۟ ٱلْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَٰبِهَا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

ربط آیات :- آیت لَيْسَ الْبِرُّ کے تحت بیان ہوچکا ہے کہ اس کے بعد آخر سورة بقرہ تک ابواب البر کا بیان ہوگا جو اہم احکام شرعیہ پر مشتمل ہیں، ان میں پہلا حکم قصاص کا دوسرا وصیت کا، تیسرا اور چوتھا صوم اور اس کے متعلقہ مسائل کا، پانچواں اعتکاف کا، چھٹا مال حرام سے بچنے کا تھا، مذکور الصدر دو آیتوں میں حج اور جہاد کے احکام و مسائل کا بیان ہے اور حج کے حکم سے پہلے یہ بتلایا گیا کہ روزہ اور حج وغیرہ میں قمری مہینوں اور دنوں کا اعتبار ہوگا،- لغات : اَهِلَّةِ ہلال کی جمع ہے، قمری مہینہ کی ابتدائی چند راتوں کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے مواقیت، میقات کی جمع ہے جس کے معنی مطلق وقت یا منتہائے وقت کے آتے ہیں (قرطبی) - خلاصہ تفسیر :- حکم ہفتم، اعتبار حساب قمری درحج وغیرہ :- (بعضے آدمی) آپ سے (ان) چاندوں کے (ہر مہینہ گھٹنے بڑہنے کی) حالت ( اور اس میں جو فائدہ ہے اس فائدہ) کی تحقیقات کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ (فائدہ اس کا یہ ہے کہ) وہ چاند (اپنے اس گھٹنے اور بڑہنے کے اعتبار سے لزوما یا سہولۃ) آلہ شناخت اوقات ہیں لوگوں کے (اختیاری معاملات مثل عدت و مطالبہ حقوق کے) لئے اور (غیر اختیاری عبادات مثل) حج (وزکوۃ و روزہ وغیرہ) کے لئے، - حکم ہشتم، اصلاح رسم جاہلیت :- (بعض لوگ قبل اسلام کے اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد کسی ضرورت سے گھر جانا چاہتے تھے تو دروازہ سے جانا ممنوع جانتے تھے اس لئے پشت کی دیوار میں نقب دے کر اس میں سے اندر جاتے تھے اور اس عمل کو فضیلت سمجھتے تھے حق تعالیٰ اس کے متعلق بعد ذکر حج کے ارشاد فرماتے ہیں) اور اس میں کوئی فضیلت نہیں کہ گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آیا کرو، ہاں لیکن فضیلت یہ ہے کہ کوئی شخص حرام (چیزوں) سے بچے اور (چونکہ گھروں میں دروازہ کی طرف سے آنا حرام نہیں ہے اس لئے اس سے بچنا بھی ضروری نہیں سو اگر آنا چاہو تو) گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور (اصل الاصول تو یہ ہے کہ) خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو (اس سے البتہ) امید ہے کہ تم (دارین میں) کامیاب ہو،- حکم نہم، قتال کفار :- (ذی قعدہ ٦ ہجری میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ادائے عمرہ کے قصد سے مکہ معظمہ تشریف لے چلے اس وقت تک مکہ معظمہ مشرکین کے قبضہ اور حکومت میں تھا ان لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ہمراہیوں کو مکہ کے اندر نہ جانے دیا اور عمرہ رہ گیا آخر بڑی گفتگو کے بعد یہ معاہدہ قرار پایا کہ سال آئندہ تشریف لاکر عمرہ ادا فرماویں۔ چناچہ ذی قعدہ ٧ ھ میں پھر آپ اسی قصد سے تشریف لے چلے لیکن آپ کے ساتھ مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید مشرکین اپنا معاہدہ پورا نہ کریں اور آمادہ مقابلہ ومقاتلہ نہ ہوجاویں تو ایسی حالت میں نہ سکوت مصلحت ہے اور اگر مقابلہ کیا جاوے تو ذی قعدہ میں قتال لازم آتا ہے اور یہ مہینہ منجملہ ان چار مہینوں کے ہے جن کو اشہر حرم کہا جاتا ہے ان چاروں مہینوں میں اس وقت تک قتل و قتال حرام و ممنوع تھا یہ چار مہینے ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب تھے غرض مسلمان اس تردد سے پریشان تھے حق تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ ان خاص معاہدہ کرنے والوں کے ساتھ بوجہ باہمی معاہدہ کے تم کو اپنی جانب سے ابتداءً قتال کرنے کی اجازت نہیں لیکن اگر وہ لوگ خود عہد شکنی کریں اور تم سے لڑنے کو آمادہ ہوجاویں تو اس وقت تم کسی طرح کا اندیشہ دل میں مت لاؤ) اور (بےتکلف) تم (بھی) لڑو اللہ کی راہ میں (یعنی اس نیت سے کہ یہ لوگ دین کی مخالفت کرتے ہیں) ان لوگوں کے ساتھ جو (نقص عہد کرکے) تمہارے ساتھ لڑنے لگیں اور (ازخود) حد (معاہدہ) سے مت نکلو (کہ عہد شکنی کرکے لڑنے لگو) واقعی اللہ تعالیٰ حد (قانون شرعی) سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور (جس حالت میں وہ خود عہد شکنی کریں تو اس وقت دل کھول کر خواہ) ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ اور (خواہ) ان کو (مکہ سے) نکال باہر کرو جہاں سے …

Al-Baqara 2:189Listen in Qur'an →
190

وَقَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

حکم نہم جہاد و قتال :- اس پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے کفار کے ساتھ جہاد و قتال ممنوع تھا اس وقت کی تمام آیات قرآنی میں مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اور عفو و درگذر کی ہی تلقین تھی ہجرت مدینہ کے بعد سب سے پہلے اس آیت میں قتال کفار کا حکم آیا (قالہ الربیع بن انس وغیرہ) اور صدیق اکبر سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ قتال کفار کے متعلق پہلی آیت یہ ہے، اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا مگر اکثر حضرات صحابہ کرام (رض) اجمعین وتابعین کے نزدیک پہلی آیت سورة بقرہ کی آیت مذکورہ ہی ہے اور صدیق اکبر نے جس کو پہلی فرمایا ہے وہ بھی ابتدائی آیتوں میں ہونے کے سبب پہلی کہی جاسکتی ہے،- اس آیت میں حکم یہ ہے کہ مسلمان صرف ان کافروں سے قتال کریں جو ان کے مقابلہ پر قتال کے لئے آویں اس سے مراد یہ ہے کہ عورتیں، بچے، بہت بوڑھے اور اپنے مذہبی شغل میں دنیا سے یکسو ہو کر لگے ہوئے عبادت گذار راہب، پادری وغیرہ اور ایسے ہی اپاہج ومعذور لوگ یا وہ لوگ جو کافروں کے یہاں محنت مزدوری کا کام کرتے ہیں ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو جہاد میں قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حکم آیت کا صرف ان لوگوں سے قتال کرنے کا ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں قتال کریں اور مذکورہ قسم کے سب افراد قتال کرنے والے نہیں اسی لئے فقہاء رحمہم اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی عورت یا بوڑھا یا مذہبی آدمی وغیرہ کفار کی طرف سے قتال میں شریک ہوں یا مسلمانوں کے بالمقابل جنگ میں ان کی مدد کسی طرح سے کررہے ہوں ان کا قتل جائز ہے کیونکہ وہ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ میں داخل ہیں (مظہری قرطبی، جصاص) - رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایات جو مجاہدین اسلام کو بوقت جہاد دی جاتی تھیں ان میں اس حکم کی واضح تشریحات مذکور ہیں صحیح بخاری ومسلم میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر ایک حدیث میں ہے، نھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عن قتل النسآء والصبیان، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔- ابوداؤد میں بروایت انس جہاد پر جانے والے صحابہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ ہدایات منقول ہیں تم اللہ کے نام پر اور رسول اللہ کی ملت پر جہاد کے لئے جاؤ کسی بوڑھے ضعیف کو اور چھوٹے بچے کو یا کسی عورت کو قتل نہ کرو (مظہری) - حضرت صدیق اکبر نے جب یزید بن ابی سفیان کو ملک شام بھیجا تو ان کو یہی ہدایت دی اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ عبادت گذار اور راہبوں کو اور کافروں کی مزدوری کرنے والوں کو بھی قتل نہ کریں جبکہ وہ قتال میں حصہ نہ لیں (قرطبی) - آیت کے آخر میں وَلَا تَعْتَدُوْا کا بھی جمہور مفسرین کے نزدیک یہی مطلب ہے کہ قتال میں حد سے تجاوز نہ کرو کہ عورتوں بچوں وغیرہ کو قتل کرنے لگو۔

Al-Baqara 2:190Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.