Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 171–180 of 286

171

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ كَمَثَلِ ٱلَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَآءًۭ وَنِدَآءًۭ ۚ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌۭ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے

اور مثال ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا مانند مثال اس شخص کی ہے جو پکارتا ہے اس کو جو نہیں سنتا سوائے پکار اور آواز کے، (وہ) بہرے، گونگے، اندھے ہیں، پس وہ نہیں عقل رکھتے(171)

[171] جب اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو کچھ انبیاء کرام لے کر آئے، کفار نے ان کی اطاعت نہیں کی اور آباؤ اجداد کی تقلید کے باعث ان رسولوں کو رد کر دیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حق کو قبول کر کے اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کو ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اپنے عناد سے ہرگز باز نہیں آئیں گے، تو اللہ تعالٰی نے آگاہ فرما دیا کہ ان کی مثال ایمان کے داعی کی پکار کے وقت ان مویشیوں کی سی ہے جنھیں ان کا چرواہا پکارتا ہے لیکن ان جانوروں کو یہ علم نہیں کہ ان کا چرواہا اور منادی کیا کہہ رہا ہے؟ وہ صرف آواز سنتے ہیں جس کے ذریعہ سے ان پر حجت قائم ہو گی مگر وہ اسے اس طرح سمجھتے نہیں کہ انھیں کوئی فائدہ پہنچے، پس وہ بہرے ہیں، حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے سننے سے قاصر ہیں۔ وہ اندھے ہیں عبرت کی نظر سے دیکھ نہیں سکتے اور گونگے ہیں اس لیے حق کے اندر ان کے لیے جو خیر ہے اس کے بارے میں بولتے نہیں۔ اور وہ سبب جو اس تمام فساد کا موجب ہے یہ ہے کہ وہ عقل سلیم سے محروم ہیں بلکہ وہ سب سے بڑے احمق اور سب سے بڑے جاہل ہیں۔ کیا عقل مند شخص اس بارے میں کوئی شک کر سکتا ہے کہ جس شخص کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا جائے، فساد سے روکا جائے، عذاب میں گھسنے سے منع کیا جائے اور اسے اس چیز کا حکم دیا جائے جس میں اس کی بھلائی، فوز و فلاح اور نعمت ہے اور وہ اپنے خیر خواہ کا حکم ماننے سے انکار کر دے، اپنے رب کے حکم سے پیٹھ پھیر لے، دیکھتے بوجھتے آگ میں جا گھسے اور حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی کرے۔ یقیناً یہ شخص ایسا ہے کہ اس میں ذرہ بھر عقل نہیں۔ اگر وہ عیاری، دھوکہ اور فریب کو اپنی صفت بنا لے تو یہ شخص سب سے بڑا احمق ہے۔

Al-Baqara 2:171Listen in Qur'an →
172

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائیں ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور شکر کرو اللہ کا، اگر ہو تم اسی کی عبادت کرتے(172) بس صرف اس نے تو حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت سور کا اور وہ چیز کہ پکاری گئی وہ غیر اللہ کے لیے، پھر جو شخص ناچار کر دیا گیا (بشرطیکہ) نہ ہو وہ سرکشی کرنے والا اور نہ حد سے گزرنے والا تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر، یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(173)

[172] عام حکم دینے کے بعد یہ اہل ایمان کے لیے خاص حکم ہے۔ اور یہ اس لیے کہ وہی درحقیقت اپنے ایمان کے سبب سے اوامر و نواہی سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رزق کھانے کا اور اللہ کے اس انعام پر اس کا شکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس رزق کو اس کی اطاعت میں ان امور میں مدد لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں جو انھیں اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا﴾(المومنون : 23؍51) ’’اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔‘‘ پس اس آیت کریمہ میں شکر سے مراد عمل صالح ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ (حلال) استعمال نہیں فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ضرر رساں چیزوں کو چھوڑ کر خالص پاکیزہ رزق کو اہل ایمان کے لیے مباح کیا ہے، نیز ایمان مومن کو وہ چیز تناول کرنے سے روک دیتا ہے جو اس کے لیے نہیں ہے۔ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو‘‘ تو اس کا شکر کرو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی۔ جیسے جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور وہ اس کا حکم بجا لایا۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پاکیزہ رزق کھانا اعمال صالحہ اور ان کی قبولیت کا سبب ہے۔ نعمتوں کے ذکر کے بعد شکر بجا لانے کا حکم دیا ہے کیونکہ شکر موجود نعمتوں کی حفاظت کرتا ہے اور غیر موجود نعمتوں کے حصول کا باعث بنتا ہے جیسے کفر غیر موجود نعمتوں کو مزید دور کرتا ہے اور موجود نعمتوں کو زائل کرتا ہے۔

[173] جب اللہ تعالیٰ نے طیبات کی اباحت کا ذکر فرمایا تو خبائث کی تحریم کا ذکر بھی فرما دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’اللہ نے تم پر صرف مردار حرام کیا‘‘ مردار سے مراد وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے اور اس کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ مردار ناپاک اور خراب ہونے کی بنا پر ضرر رساں ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر مردار کسی بیماری سے مرتا ہے۔ پس وہ مرض میں اضافے ہی کا باعث ہوتا ہے۔ مردار کی حرمت کی عمومیت سے ٹڈی اور مچھلی مستثنی ہیں۔ یہ دونوں مردہ ہونے کی صورت میں بھی حلال اور طیب ہیں۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ اور یہ قید ایک اور آیت سے ثابت ہے (ملاحظہ کیجیے سورۃ الانعام؍145:مترجم)﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو۔‘‘ مثلاً وہ جانور جو بتوں، استھانوں، پتھروں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ مذکورہ انواع محرمات کے لیے خاص نہیں، بلکہ ان کو ان خبائث کی اجناس کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے جن کی حرمت پر ’’طیبات‘‘ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے۔ پس محرمات کی عمومیت گزشتہ آیت میں لفظ حَلَالًا طَیِّبًا سے مستفید ہوتی ہے، جیسا کہ پہلے گزرا۔اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور ان کے ضرر سے بچانے کے لیے یہ چیزیں ہم پر حرام ٹھہرائی ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی فرما دیا :﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ﴾ ’’جو کوئی ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جو کوئی بھوک، موت کے خوف یا جبر و اکراہ کے باعث ان مذکورہ محرمات کو کھانے پر …

Al-Baqara 2:172Listen in Qur'an →
173

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيْرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور شکر کرو اللہ کا، اگر ہو تم اسی کی عبادت کرتے(172) بس صرف اس نے تو حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت سور کا اور وہ چیز کہ پکاری گئی وہ غیر اللہ کے لیے، پھر جو شخص ناچار کر دیا گیا (بشرطیکہ) نہ ہو وہ سرکشی کرنے والا اور نہ حد سے گزرنے والا تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر، یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(173)

[172] عام حکم دینے کے بعد یہ اہل ایمان کے لیے خاص حکم ہے۔ اور یہ اس لیے کہ وہی درحقیقت اپنے ایمان کے سبب سے اوامر و نواہی سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رزق کھانے کا اور اللہ کے اس انعام پر اس کا شکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس رزق کو اس کی اطاعت میں ان امور میں مدد لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں جو انھیں اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا﴾(المومنون : 23؍51) ’’اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔‘‘ پس اس آیت کریمہ میں شکر سے مراد عمل صالح ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ (حلال) استعمال نہیں فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ضرر رساں چیزوں کو چھوڑ کر خالص پاکیزہ رزق کو اہل ایمان کے لیے مباح کیا ہے، نیز ایمان مومن کو وہ چیز تناول کرنے سے روک دیتا ہے جو اس کے لیے نہیں ہے۔ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو‘‘ تو اس کا شکر کرو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی۔ جیسے جس نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور وہ اس کا حکم بجا لایا۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پاکیزہ رزق کھانا اعمال صالحہ اور ان کی قبولیت کا سبب ہے۔ نعمتوں کے ذکر کے بعد شکر بجا لانے کا حکم دیا ہے کیونکہ شکر موجود نعمتوں کی حفاظت کرتا ہے اور غیر موجود نعمتوں کے حصول کا باعث بنتا ہے جیسے کفر غیر موجود نعمتوں کو مزید دور کرتا ہے اور موجود نعمتوں کو زائل کرتا ہے۔

[173] جب اللہ تعالیٰ نے طیبات کی اباحت کا ذکر فرمایا تو خبائث کی تحریم کا ذکر بھی فرما دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’اللہ نے تم پر صرف مردار حرام کیا‘‘ مردار سے مراد وہ جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے اور اس کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ مردار ناپاک اور خراب ہونے کی بنا پر ضرر رساں ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر مردار کسی بیماری سے مرتا ہے۔ پس وہ مرض میں اضافے ہی کا باعث ہوتا ہے۔ مردار کی حرمت کی عمومیت سے ٹڈی اور مچھلی مستثنی ہیں۔ یہ دونوں مردہ ہونے کی صورت میں بھی حلال اور طیب ہیں۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ اور یہ قید ایک اور آیت سے ثابت ہے (ملاحظہ کیجیے سورۃ الانعام؍145:مترجم)﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا ہو۔‘‘ مثلاً وہ جانور جو بتوں، استھانوں، پتھروں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ مذکورہ انواع محرمات کے لیے خاص نہیں، بلکہ ان کو ان خبائث کی اجناس کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے جن کی حرمت پر ’’طیبات‘‘ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے۔ پس محرمات کی عمومیت گزشتہ آیت میں لفظ حَلَالًا طَیِّبًا سے مستفید ہوتی ہے، جیسا کہ پہلے گزرا۔اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور ان کے ضرر سے بچانے کے لیے یہ چیزیں ہم پر حرام ٹھہرائی ہیں۔ اس کے باوجود یہ بھی فرما دیا :﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ﴾ ’’جو کوئی ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جو کوئی بھوک، موت کے خوف یا جبر و اکراہ کے باعث ان مذکورہ محرمات کو کھانے پر …

Al-Baqara 2:173Listen in Qur'an →
174

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَشْتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ إِلَّا ٱلنَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو نازل کیا اللہ نے کتاب سے اور لیتے ہیں بدلے اس کے مول تھوڑا سا، یہی لوگ ہیں، نہیں بھر رہے وہ اپنے پیٹوں میں مگر آگ ہی، اور نہیں کلام کرے گا ان سے اللہ دن قیامت کے اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(174) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب کو بدلے مغفرت کے، پس کس قدر صبر کرنے والے ہیں یہ اوپر آگ کے؟(175) یہ اس لیے کہ بے شک اللہ نے نازل فرمائی کتاب ساتھ حق کے،اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اختلاف کیا کتاب میں، یقینا ًوہ بہت دور والی مخالفت میں ہیں(176)

[175-174] اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انھی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ ﴾ ’’یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں‘‘ کیونکہ یہ قیمت جو انھوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انھیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو گا اور ان سے منہ پھیر لے گا۔ پس یہ چیز ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور نہ ان کو پاک کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرے گا اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوں گے جو مدح، رضائے الٰہی اور جزا کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس لیے پاک نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے عدم تزکیہ کے اسباب اختیار کیے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا سبب کتاب اللہ پر عمل کرنا، اس کو راہنما بنانا اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ پس انھوں نے کتاب اللہ کو دور پھینک دیا، اس سے روگردانی کی، ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اور مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کیا۔ پس یہ لوگ جہنم ہی کے قابل ہیں۔ یہ جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریں گے اور اس کی آگ کو کیسے برداشت کر سکیں گے؟

[176]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ اللہ کا عدل و انصاف پر مبنی بدلہ اور اس کا اسباب ہدایت سے انھیں محروم رکھنا، جنھوں نے انھیں اختیار کرنے سے انکار کیا اور ان کے سوا دوسرے اسباب اختیار کیے۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے ہے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ اتارا‘‘ اور حق میں سے ہی یہ بات بھی ہے کہ نیک کام کرنے والے کو اس کی نیکیوں کا اور برا کام کرنے والے کو اس کی برائیوں کا بدلہ دیا جائے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید مخلوق کی ہدایت، باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے،اس لیے جس نے اس کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس کی پاداش میں بڑی سے بڑی سزا دی جائے۔ فرمایا:﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِي الۡكِتٰبِ لَفِيۡ شِقَاقٍۭ بَعِيۡدٍ﴾ ’’جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کی دشمنی میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کیا اور اس کے کسی حصے پر ایمان لائے اور کسی حصے کا انکار کیا اور وہ لوگ جنھوں نے اپنی مراد اور اپنی خواہشات کے مطابق اس میں تحریف کی اور اس کے اصل معانی سے ہٹا دیا (لَ٘فِیْ شِقَاقٍۭ) یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں (بَعِیْدٍ) جو حق سے بہت دور ہے، اس لیے کہ انھوں نے کتاب اللہ کی مخالفت کی، جو حق …

Al-Baqara 2:174Listen in Qur'an →
175

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ وَٱلْعَذَابَ بِٱلْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَآ أَصْبَرَهُمْ عَلَى ٱلنَّارِ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں!

بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو نازل کیا اللہ نے کتاب سے اور لیتے ہیں بدلے اس کے مول تھوڑا سا، یہی لوگ ہیں، نہیں بھر رہے وہ اپنے پیٹوں میں مگر آگ ہی، اور نہیں کلام کرے گا ان سے اللہ دن قیامت کے اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(174) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب کو بدلے مغفرت کے، پس کس قدر صبر کرنے والے ہیں یہ اوپر آگ کے؟(175) یہ اس لیے کہ بے شک اللہ نے نازل فرمائی کتاب ساتھ حق کے،اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اختلاف کیا کتاب میں، یقینا ًوہ بہت دور والی مخالفت میں ہیں(176)

[175-174] اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انھی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ ﴾ ’’یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں‘‘ کیونکہ یہ قیمت جو انھوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انھیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو گا اور ان سے منہ پھیر لے گا۔ پس یہ چیز ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور نہ ان کو پاک کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرے گا اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوں گے جو مدح، رضائے الٰہی اور جزا کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس لیے پاک نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے عدم تزکیہ کے اسباب اختیار کیے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا سبب کتاب اللہ پر عمل کرنا، اس کو راہنما بنانا اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ پس انھوں نے کتاب اللہ کو دور پھینک دیا، اس سے روگردانی کی، ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اور مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کیا۔ پس یہ لوگ جہنم ہی کے قابل ہیں۔ یہ جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریں گے اور اس کی آگ کو کیسے برداشت کر سکیں گے؟

[176]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ اللہ کا عدل و انصاف پر مبنی بدلہ اور اس کا اسباب ہدایت سے انھیں محروم رکھنا، جنھوں نے انھیں اختیار کرنے سے انکار کیا اور ان کے سوا دوسرے اسباب اختیار کیے۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے ہے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ اتارا‘‘ اور حق میں سے ہی یہ بات بھی ہے کہ نیک کام کرنے والے کو اس کی نیکیوں کا اور برا کام کرنے والے کو اس کی برائیوں کا بدلہ دیا جائے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید مخلوق کی ہدایت، باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے،اس لیے جس نے اس کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس کی پاداش میں بڑی سے بڑی سزا دی جائے۔ فرمایا:﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِي الۡكِتٰبِ لَفِيۡ شِقَاقٍۭ بَعِيۡدٍ﴾ ’’جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کی دشمنی میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کیا اور اس کے کسی حصے پر ایمان لائے اور کسی حصے کا انکار کیا اور وہ لوگ جنھوں نے اپنی مراد اور اپنی خواہشات کے مطابق اس میں تحریف کی اور اس کے اصل معانی سے ہٹا دیا (لَ٘فِیْ شِقَاقٍۭ) یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں (بَعِیْدٍ) جو حق سے بہت دور ہے، اس لیے کہ انھوں نے کتاب اللہ کی مخالفت کی، جو حق …

Al-Baqara 2:175Listen in Qur'an →
176

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِى ٱلْكِتَٰبِ لَفِى شِقَاقٍۭ بَعِيدٍۢ

یہ اس لئے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی۔ اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو نازل کیا اللہ نے کتاب سے اور لیتے ہیں بدلے اس کے مول تھوڑا سا، یہی لوگ ہیں، نہیں بھر رہے وہ اپنے پیٹوں میں مگر آگ ہی، اور نہیں کلام کرے گا ان سے اللہ دن قیامت کے اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(174) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب کو بدلے مغفرت کے، پس کس قدر صبر کرنے والے ہیں یہ اوپر آگ کے؟(175) یہ اس لیے کہ بے شک اللہ نے نازل فرمائی کتاب ساتھ حق کے،اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اختلاف کیا کتاب میں، یقینا ًوہ بہت دور والی مخالفت میں ہیں(176)

[175-174] اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انھی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ ﴾ ’’یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں‘‘ کیونکہ یہ قیمت جو انھوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انھیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو گا اور ان سے منہ پھیر لے گا۔ پس یہ چیز ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور نہ ان کو پاک کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرے گا اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوں گے جو مدح، رضائے الٰہی اور جزا کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس لیے پاک نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے عدم تزکیہ کے اسباب اختیار کیے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا سبب کتاب اللہ پر عمل کرنا، اس کو راہنما بنانا اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ پس انھوں نے کتاب اللہ کو دور پھینک دیا، اس سے روگردانی کی، ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اور مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کیا۔ پس یہ لوگ جہنم ہی کے قابل ہیں۔ یہ جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریں گے اور اس کی آگ کو کیسے برداشت کر سکیں گے؟

[176]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ اللہ کا عدل و انصاف پر مبنی بدلہ اور اس کا اسباب ہدایت سے انھیں محروم رکھنا، جنھوں نے انھیں اختیار کرنے سے انکار کیا اور ان کے سوا دوسرے اسباب اختیار کیے۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے ہے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ اتارا‘‘ اور حق میں سے ہی یہ بات بھی ہے کہ نیک کام کرنے والے کو اس کی نیکیوں کا اور برا کام کرنے والے کو اس کی برائیوں کا بدلہ دیا جائے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید مخلوق کی ہدایت، باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے،اس لیے جس نے اس کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس کی پاداش میں بڑی سے بڑی سزا دی جائے۔ فرمایا:﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِي الۡكِتٰبِ لَفِيۡ شِقَاقٍۭ بَعِيۡدٍ﴾ ’’جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کی دشمنی میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کیا اور اس کے کسی حصے پر ایمان لائے اور کسی حصے کا انکار کیا اور وہ لوگ جنھوں نے اپنی مراد اور اپنی خواہشات کے مطابق اس میں تحریف کی اور اس کے اصل معانی سے ہٹا دیا (لَ٘فِیْ شِقَاقٍۭ) یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں (بَعِیْدٍ) جو حق سے بہت دور ہے، اس لیے کہ انھوں نے کتاب اللہ کی مخالفت کی، جو حق …

Al-Baqara 2:176Listen in Qur'an →
177

۞ لَّيْسَ ٱلْبِرَّ أَن تُوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلْبِرَّ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلْكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّۦنَ وَءَاتَى ٱلْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآئِلِينَ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَٰهَدُوا۟ ۖ وَٱلصَّٰبِرِينَ فِى ٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلْبَأْسِ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُتَّقُونَ

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

نہیں ہے نیکی یہ کہ پھیر لو تم اپنے چہرے طرف مشرق اور مغرب کی لیکن نیکی (والا) تو وہ ہے جو ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور دن آخرت کے اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں کے،اور دے مال اپنا باوجود اس کی محبت کے، قرابت داروں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور (چھڑانے) میں گردنوں کے اور قائم کرے نماز اور دے زکاۃ اور وہ جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب وہ عہد کریں اور وہ جو صبر کرنے والے ہیں تنگ دستی میں اور تکلیف میں اور وقت لڑائی کے، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی متقی ہیں(177)

[177]﴿ لَيۡسَ الۡـبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ﴾ ’’نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلو‘‘ یعنی یہ وہ نیکی نہیں ہے جو بندوں سے مطلوب ہے جس کے بارے میں اس کثرت سے بحث و مباحثہ کی مشقت برداشت کی جائے جس سے سوائے دشمنی اور مخالفت کے کچھ اور جنم نہیں لیتا۔ یہ آیت رسول اللہﷺکی اس حدیث کی نظیر ہے جس میں آپ نے فرمایا: ’لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَۃِ اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِی یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَالْغَضَبِ‘(صحیح البخاري، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، حديث:6114) ’’طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں طاقت ور ہے بلکہ حقیقی طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے۔‘‘ ﴿ وَلٰكِنَّ الۡـبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ﴾ ’’لیکن نیکی تو یہ ہے جو ایمان لایا اللہ پر‘‘ یعنی وہ اس بات پر ایمان لایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے، وہ صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے۔ ﴿ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾ ’’اور آخرت کے دن پر‘‘ یعنی وہ ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو انسان کو موت کے بعد پیش آئیں گی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یا اس کے رسولﷺنے خبر دی ہے۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ﴾ ’’اور فرشتوں پر۔‘‘ فرشتے وہ ہستیاں ہیں جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے، نیز رسول اللہﷺنے بیان فرمایا ہے۔ ﴿ وَالۡكِتٰبِ﴾ ’’اور کتاب پر‘‘ اس سے مراد جنس ہے، یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان لاتا ہے جو اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائی ہیں۔ ان میں سب سے عظیم کتاب قرآن مجید ہے۔ پس وہ ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لاتا ہے جن پر یہ کتابیں مشتمل ہیں۔ ﴿ وَالنَّبِيّٖنَ﴾ ’’اور پیغمبروں پر‘‘ یعنی وہ تمام انبیاء علیہ السلام پر عام طور پر اور ان میں سب سے افضل اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺپر خاص طور پر ایمان لاتا ہے۔ ﴿ وَاٰتَى الۡمَالَ﴾ ’’اور دیتا ہے وہ مال‘‘ مال کے زمرے میں ہر وہ چیز آتی ہے جو مال کے طور پر انسان اپنے لیے جمع کرتا ہے۔ خواہ یہ کم ہو یا زیادہ۔ ﴿ عَلٰى حُبِّهٖ﴾ ’’اس کی محبت کے باوجود‘‘ (حُبِّهٖ) میں ضمیر کا مرجع مال ہے۔ یعنی وہ مال کی محبت رکھنے کے باوجود مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ بھی واضح فرمایا کہ مال نفوس انسانی کو بہت محبوب ہوتا ہے۔ بندہ اسے مشکل ہی سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اس لیے جو کوئی اس مال سے محبت کے باوجود اس کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی بہت بڑی دلیل ہے۔ مال سے محبت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بندہ اس حال میں مال خرچ کرے کہ وہ صحت مند ہو، مال کا حریص ہو، فراخی کی امید رکھتا ہو اور محتاجی سے ڈرتا ہو۔ اسی طرح اگر قلیل مال میں سے صدقہ نکالا جائے تو یہ افضل ہے۔ کیونکہ بندے کی یہی وہ حالت ہے جب وہ مال کو اس وہم سے روکے رکھنا پسند کرتا ہے کہ کہیں وہ محتاج نہ ہو جائے۔اسی طرح جب مال نفیس ہو اور وہ اس مال سے محبت کرتا ہو اور پھر بھی وہ اس مال کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿لَنۡ تَنَالُوا الۡـبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا …

Al-Baqara 2:177Listen in Qur'an →
178

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِصَاصُ فِى ٱلْقَتْلَى ۖ ٱلْحُرُّ بِٱلْحُرِّ وَٱلْعَبْدُ بِٱلْعَبْدِ وَٱلْأُنثَىٰ بِٱلْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِىَ لَهُۥ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌۭ فَٱتِّبَاعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ وَأَدَآءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَٰنٍۢ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌۭ ۗ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

مومنو! تم کو مقتولوں کے بارےمیں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت اور قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول) کو پسندیدہ طریق سے (قرار داد کی) پیروی (یعنی مطالبہٴ خون بہا) کرنا اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! لکھ دیا گیا ہے تم پر برابر کا بدلہ لینا مقتولوں میں، آزاد، بدلے آزاد کےاور غلام، بدلے غلام کےاور عورت، بدلے عورت کے، پھر جو شخص کہ معاف کر دیا گیا اسے، اس کے بھائی( ولی) کی طرف سے کچھ تو پیروی کرنی ہے موافق دستور کے اور ادا کرنا ہے اس کی طرف ساتھ اچھائی کے، یہ تخفیف ہے تمھارے رب کی طرف سے اور رحمت، پھر جس شخص نے زیادتی کی بعد اس کے تو اس کے لیے عذاب ہے دردناک(178) اور تمھارے لیے برابر کا بدلہ لینے میں بڑی زندگی ہے اے عقل مندو! شاید کہ تم بچو (قتل و غارت سے)(179)

[178] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے مقتولین کے بارے میں قصاص، یعنی اس میں مساوات کو فرض کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل کو مقتول کے بدلے میں اسی طریقے سے قتل کیا جائے جس طریقے سے اس نے مقتول کو قتل کیا تھا، یہ بندوں کے درمیان عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ اس خطاب کا رخ عام مومنوں کی طرف ہے، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان پر یہ فرض ہے حتی کہ قاتل کے اولیاء اور خود قاتل پر بھی کہ جب مقتول کا ولی قصاص کا مطالبہ کرے اور قاتل سے قصاص لینا ممکن ہو تو مقتول کے ولی کی مدد کی جائے اور یہ کہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس حد کے درمیان حائل ہوں اور مقتول کے وارث کو بدلہ لینے سے روکیں، جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا ان جیسے دیگر لوگ جو مجرموں کو پناہ دیتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس قصاص کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلۡحُرُّ بِالۡحُرِّ ﴾ ’’آزاد، بدلے آزاد کے‘‘ الفاظ کے اعتبار سے اس میں مرد، بدلے مرد کے، کا مفہوم بھی شامل ہے۔ ﴿ وَالۡاُنۡثٰى بِالۡاُنۡثٰى ﴾ ’’عورت، بدلے عورت کے۔‘‘ اس کا مطلب ہے مرد کے بدلے عورت اور عورت کے بدلے مرد۔ پس منطوق کلام، وَالْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى کے مفہوم پر مقدم ہو گا، اس لیے کہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ مرد کو عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا (اگر مرد عورت کا قاتل ہو گا) اس عموم سے والدین (اوپر تک) مستثنیٰ ہیں۔ لہٰذا بیٹے کے قتل کے قصاص میں والدین کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ استثناء سنت میں وارد ہوا ہے۔ نیز قصاص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد دلالت کرتا ہے کہ بیٹے کے قتل کی پاداش میں باپ کو قتل کرنا انصاف نہیں۔ نیز اس لیے کہ باپ کا دل اپنے بیٹے کے لیے رحم اور شفقت سے لبریز ہوتا ہے جو اسے بیٹے کو قتل کرنے سے روکتا ہے۔ سوائے اس صورت کے کہ باپ کے دماغ میں کوئی خلل ہو یا بیٹے کی طرف سے اسے نہایت سخت اذیت پہنچی ہو۔ سنت نبوی ہی کی رو سے اس عموم سے کافر بھی خارج ہے۔ نیز اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ خطاب خاص طور پر اہل ایمان کے لیے ہے۔ نیز یہ قرین انصاف بھی نہیں کہ اللہ کے دشمن کے بدلے اللہ تعالیٰ کے دوست کو قتل کیا جائے۔ اور غلام کے بدلے غلام کو قتل کیا جائے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور خواہ ان کی قیمت مختلف ہو یا برابر، مفہوم کلام یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ آزاد کو غلام کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ غلام آزاد کے مساوی نہیں ہوتا۔ بعض اہل علم نے (وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی) کے مفہوم سے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کے قصاص میں مرد کو قتل کرنا جائز نہیں۔ اور اس کی وجہ گزشتہ سطور میں گزر چکی ہے۔ (کہ یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ مفہوم حدیث کے خلاف ہے) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اصل، قتل میں قصاص کا واجب ہونا ہے (یعنی قتل کے بدلے میں قتل ضروری ہے) اور دیت تو قصاص کا بدل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ عُفِيَ لَهٗ مِنۡ اَخِيۡهِ شَيۡءٌ ﴾ ’’اگر اس (قاتل) کو اس کے (مقتول) بھائی سے کچھ معاف کردیا جائے۔‘‘ یعنی اگر مقتول کا ولی قاتل کو معاف کر کے دیت قبول کر لے یا مقتول کے اولیاء میں سے کوئی شخص مقتول کو معاف کر دے تو اس صورت میں قصاص ساقط ہو جائے گا اور دیت واجب ہو جائے گی۔ قصاص …

Al-Baqara 2:178Listen in Qur'an →
179

وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَوٰةٌۭ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور اے اہل عقل (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! لکھ دیا گیا ہے تم پر برابر کا بدلہ لینا مقتولوں میں، آزاد، بدلے آزاد کےاور غلام، بدلے غلام کےاور عورت، بدلے عورت کے، پھر جو شخص کہ معاف کر دیا گیا اسے، اس کے بھائی( ولی) کی طرف سے کچھ تو پیروی کرنی ہے موافق دستور کے اور ادا کرنا ہے اس کی طرف ساتھ اچھائی کے، یہ تخفیف ہے تمھارے رب کی طرف سے اور رحمت، پھر جس شخص نے زیادتی کی بعد اس کے تو اس کے لیے عذاب ہے دردناک(178) اور تمھارے لیے برابر کا بدلہ لینے میں بڑی زندگی ہے اے عقل مندو! شاید کہ تم بچو (قتل و غارت سے)(179)

[178] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے مقتولین کے بارے میں قصاص، یعنی اس میں مساوات کو فرض کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل کو مقتول کے بدلے میں اسی طریقے سے قتل کیا جائے جس طریقے سے اس نے مقتول کو قتل کیا تھا، یہ بندوں کے درمیان عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ اس خطاب کا رخ عام مومنوں کی طرف ہے، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان پر یہ فرض ہے حتی کہ قاتل کے اولیاء اور خود قاتل پر بھی کہ جب مقتول کا ولی قصاص کا مطالبہ کرے اور قاتل سے قصاص لینا ممکن ہو تو مقتول کے ولی کی مدد کی جائے اور یہ کہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس حد کے درمیان حائل ہوں اور مقتول کے وارث کو بدلہ لینے سے روکیں، جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی عادت تھی یا ان جیسے دیگر لوگ جو مجرموں کو پناہ دیتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس قصاص کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلۡحُرُّ بِالۡحُرِّ ﴾ ’’آزاد، بدلے آزاد کے‘‘ الفاظ کے اعتبار سے اس میں مرد، بدلے مرد کے، کا مفہوم بھی شامل ہے۔ ﴿ وَالۡاُنۡثٰى بِالۡاُنۡثٰى ﴾ ’’عورت، بدلے عورت کے۔‘‘ اس کا مطلب ہے مرد کے بدلے عورت اور عورت کے بدلے مرد۔ پس منطوق کلام، وَالْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى کے مفہوم پر مقدم ہو گا، اس لیے کہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ مرد کو عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا (اگر مرد عورت کا قاتل ہو گا) اس عموم سے والدین (اوپر تک) مستثنیٰ ہیں۔ لہٰذا بیٹے کے قتل کے قصاص میں والدین کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ استثناء سنت میں وارد ہوا ہے۔ نیز قصاص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد دلالت کرتا ہے کہ بیٹے کے قتل کی پاداش میں باپ کو قتل کرنا انصاف نہیں۔ نیز اس لیے کہ باپ کا دل اپنے بیٹے کے لیے رحم اور شفقت سے لبریز ہوتا ہے جو اسے بیٹے کو قتل کرنے سے روکتا ہے۔ سوائے اس صورت کے کہ باپ کے دماغ میں کوئی خلل ہو یا بیٹے کی طرف سے اسے نہایت سخت اذیت پہنچی ہو۔ سنت نبوی ہی کی رو سے اس عموم سے کافر بھی خارج ہے۔ نیز اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ خطاب خاص طور پر اہل ایمان کے لیے ہے۔ نیز یہ قرین انصاف بھی نہیں کہ اللہ کے دشمن کے بدلے اللہ تعالیٰ کے دوست کو قتل کیا جائے۔ اور غلام کے بدلے غلام کو قتل کیا جائے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور خواہ ان کی قیمت مختلف ہو یا برابر، مفہوم کلام یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ آزاد کو غلام کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ غلام آزاد کے مساوی نہیں ہوتا۔ بعض اہل علم نے (وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی) کے مفہوم سے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کے قصاص میں مرد کو قتل کرنا جائز نہیں۔ اور اس کی وجہ گزشتہ سطور میں گزر چکی ہے۔ (کہ یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ مفہوم حدیث کے خلاف ہے) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اصل، قتل میں قصاص کا واجب ہونا ہے (یعنی قتل کے بدلے میں قتل ضروری ہے) اور دیت تو قصاص کا بدل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ عُفِيَ لَهٗ مِنۡ اَخِيۡهِ شَيۡءٌ ﴾ ’’اگر اس (قاتل) کو اس کے (مقتول) بھائی سے کچھ معاف کردیا جائے۔‘‘ یعنی اگر مقتول کا ولی قاتل کو معاف کر کے دیت قبول کر لے یا مقتول کے اولیاء میں سے کوئی شخص مقتول کو معاف کر دے تو اس صورت میں قصاص ساقط ہو جائے گا اور دیت واجب ہو جائے گی۔ قصاص …

Al-Baqara 2:179Listen in Qur'an →
180

كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا ٱلْوَصِيَّةُ لِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے

لکھ دیا گیا ہے تم پر، جب آنے لگے ایک تمھارے کو موت، اگر چھوڑے جا رہا ہو وہ مال، وصیت کرنا واسطے والدین کے اور قرابت داروں کے موافق دستور کے، یہ حق ہے متقیوں پر(180) پھر جو شخص بدل دے اس (وصیت) کو بعد اس کے کہ وہ سن چکا اسے تو یقیناً اس کا گناہ انھی لوگوں پر ہے جو بدلیں گے اس کو، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(181) پس جو شخص خوف کرے وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا گناہ کا ، پھر وہ اصلاح کرا دے ان کے درمیان تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(182)

[180] یعنی اے مومنوں کے گروہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے، یعنی جب موت کے اسباب، مثلاً مہلک مرض اور دیگر ہلاکت خیز اسباب قریب آجائیں تو اللہ تعالیٰ نے تم پر (وصیت) فرض کی ہے۔ ﴿ اِنۡ تَرَكَ خَيۡرًا ﴾ ’’اگر اس نے مال چھوڑا ہو‘‘ ’’خیر‘‘ عرف میں مال کثیر کو کہا جاتا ہے، پس اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے والدین اور ان لوگوں کے لیے جو سب سے زیادہ اس کی نیکی کے مستحق ہیں اپنے حال اور طاقت کے مطابق بغیر کسی اسراف کے، وصیت کرے۔ علاوہ ازیں قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر صرف دور کے رشتہ داروں کے لیے ہی وصیت نہ کرے، بلکہ وصیت کو ضرورت اور قرابت مندی کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دے، اسی لیے اسم تفضیل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ (یعنی اقربین جس کا مطلب یہ ہے کہ جو جتنا زیادہ قریب ہے، وہ اتنا ہی زیادہ تمھارے مال میں استحقاق رکھتا ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ حَقًّا عَلَى الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یہ حکم لازم ہے پرہیز گاروں پر‘‘ وصیت کے واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ وہ حق ثابت ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے موجبات تقویٰ میں شمار کیا ہے۔ جان لیجیے کہ جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس آیت کو میراث کی آیت نے منسوخ کر دیا ہے اور بعض کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں وصیت کا حکم والدین اور غیر وارث رشتہ داروں کے لیے ہے حالانکہ ایسی کوئی دلیل نہیں جو اس تخصیص پر دلالت کرتی ہو۔ اس ضمن میں بہترین رائے یہ ہے کہ یہ وصیت مجمل طور پر والدین اور قریبی رشتے داروں کے لیے ہے، پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے عرف جاری کی طرف لوٹا دیا۔ پھر اس اجمالی حکم کے بعد اللہ تعالیٰ نے وارث والدین اور وارث رشتہ داروں کے لیے اس معروف کو آیات میراث میں مقدر فرما دیا (یعنی ان کے حصوں کا تعین فرما دیا) اور وصیت کا حکم ان والدین اور رشتہ داروں کے لیے باقی رہ گیا جو وراثت سے محروم ہو رہے ہوں تو وصیت کرنے والا ان کے حق میں وصیت کرنے پر مامور ہے۔ اور یہ لوگ اس کی نیکی کے سب سے زیادہ محتاج ہیں۔ اس قول پر تمام امت متفق ہو سکتی ہے اور اس سے سابقہ دونوں اقوال میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کیونکہ دونوں فریقین نے اس آیت کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھا اور اختلاف کا باعث بنے۔ اس تطبیق سے اتفاق اور دونوں آیات میں مطابقت حاصل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ دونوں آیتوں میں جمع و تطبیق ممکن ہے اور دو آیتوں کے درمیان تطبیق نسخ کے اس دعوے سے بہتر ہے جس کی تائید میں کوئی صحیح دلیل نہ ہو۔

بسااوقات وصیت کرنے والا اس وہم کی بنا پر وصیت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ کہیں پسماندگان وصیت کو تبدیل نہ کر دیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[182-181]﴿ فَمَنۢۡ بَدَّلَهٗ ﴾ ’’پس جو شخص اس (وصیت) کو بدل ڈالے۔‘‘ یعنی جو کوئی اس وصیت کو بدلتا ہے جو ان مذکور لوگوں یا دیگر لوگوں کے حق میں کی گئی ہے ﴿ بَعۡدَ مَا سَمِعَهٗ ﴾ ’’اس کو سننے کے بعد‘‘ یعنی اس وصیت کو سمجھ لینے اور اس کے طریقوں اور اس کے نفاذ کو اچھی طرح جان لینے کے بعد جو کوئی اس کو تبدیل کرتا ہے ﴿ فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يُبَدِّلُوۡنَهٗ ﴾ ’’تو اس کا گناہ صرف انھی لوگوں پر ہے جو انھیں تبدیل کرتے ہیں۔‘‘ ورنہ وصیت کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کے اجر کا مستحق ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک اللہ …

Al-Baqara 2:180Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.