Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 151–160 of 286

151

كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًۭا مِّنكُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ

جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

خلاصہ تفسیر :- (یعنی ہم نے کعبہ کو قبلہ مقرر کرکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک دعا جو درباب مقبولیت بناء کعبہ تھی اس طرح قبول کی) جس طرح (ان کی دوسری دعا جو درباب بعثت محمدیہ کے تھی قبول کی کہ) تم لوگوں میں ہم نے ایک (عظیم الشان) رسول کو بھیجا (جو کہ) تم ہی میں سے (ہیں اور وہ) ہماری آیات (و احکام) پڑھ پڑھ کر تم کو سناتے ہیں اور (خیالات و رسوم جہالت سے) تمہاری صفائی کرتے رہتے ہیں اور تم کو کتاب (الہی) اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور تم کو ایسی (مفید) باتیں تعلیم کرتے ہیں جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی (اور نہ کتب سابقہ یا عقل ان کے لئے کافی تھی اور اس شان کے رسول کے مبعوث ہونے کی ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء تھی سو اس کا ظہور ہوگیا) ان (مذکورہ) نعمتوں پر مجھ کو (منعم ہونے کی حیثیت سے) یاد کرو میں تم کو (عنایت سے) یاد رکھوں گا اور میری (نعمت کی) شکر گذاری کرو اور (انکار نعمت یا ترک اطاعت سے) میری ناسپاسی مت کرو،- معارف و مسائل :- یہاں تک قبلہ کی بحث چلی آرہی تھی اب اس بحث کو ایسے مضمون پر ختم فرمایا گیا ہے جو اس بحث کی تمہید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بانی کعبہ کی دعا میں ضمناً آیا تھا یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اولاد ابراہیم (علیہ السلام) میں ایک خاص شان کے ساتھ مبعوث ہونا اس میں اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت میں بانی کعبہ کی دعا کو بھی دخل ہے اس لئے اگر ان کا قبلہ کعبہ کو بنادیا گیا تو اس میں کوئی تعجب یا انکار کی بات نہیں ہے،- كَمَآ اَرْسَلْنَا میں حرف کاف جو تشبیہ کے لئے آتا ہے اس کی ایک توجیہ تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر سے معلوم ہوچکی ہے دوسری ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے جس کو قرطبی نے اختیار کیا ہے کہ اس حرف کاف کا تعلق بعد کی آیت فاذْكُرُوْنِيْٓ سے ہے اور معنی یہ ہیں کہ جیسا ہم نے تم پر ایک نعمت قبلہ کی پھر دوسری نعمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی مبذول فرمائی ہے ایسی ہی نعمت ذکر اللہ بھی ہے ان سب نعمتوں کا شکر ادا کرو تاکہ یہ نعمتیں اور زیادہ ہوجائیں قرطبی نے فرمایا کہ كَمَآ اَرْسَلْنَا کا کاف یہاں ایسا ہی ہے جیسے انفال میں كَمَآ اَخرَجَکَ اور سورة حجر میں كَمَآ اَنزلنا علی المقتَسمین آیا ہے،- فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ ذکر کے اصلی معنی یاد کرنے کے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے زبان سے ذکر کرنے کو بھی ذکر اس لئے کہا جاتا ہے کہ زبان ترجمان قلب ہے اس سے معلوم ہوا کہ ذکر زبانی وہی معتبر ہے جس کے ساتھ دل میں بھی اللہ کی یاد ہو مولانا رومی نے اسی کے متعلق فرمایا،- بر زبان تسبیح در دل گاؤ خر - ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر - لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص زبان سے ذکر و تسبیح میں مشغول ہو مگر اس کا دل حاضر نہ ہو اور ذکر میں نہ لگے تو وہ بھی فائدہ سے خالی نہیں۔ حضرت ابوعثمان سے کسی نے ایسی ہی حالت کی شکایت کی کہ ہم زبان سے ذکر کرتے ہیں مگر قلوب میں اس کی کوئی حلاوت محسوس نہیں کرتے آپ نے فرمایا اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر کرو کہ اس نے تمہارے ایک عضو یعنی زبان کو تو اپنی اطاعت میں لگا لیا (قرطبی)

Al-Baqara 2:151Listen in Qur'an →
152

فَٱذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِى وَلَا تَكْفُرُونِ

سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

ذکر اللہ کے فضائل :- بے شمار ہیں اور یہی ایک فضیلت کچھ کم نہیں ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد فرماتے ہیں ابو عثمان نہدی نے کہا کہ میں اس وقت کو جانتا ہوں جس وقت اللہ تعالیٰ ہمیں یاد فرماتے ہیں لوگوں نے کہا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے فرمایا اس لئے کہ قرآن کریم کے وعدے کے مطابق جب کوئی بندہ مومن اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتے ہیں اس لئے سب کو یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ جس وقت ہم اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں گے تو اللہ تعالیٰ بھی یاد فرمائیں گے،- اور معنی آیت کے یہ بھی ہیں کہ تم مجھے اطاعت احکام کے ساتھ یاد کرو تو میں تمہیں ثواب اور مغفرت کے ساتھ یاد کروں گا حضرت سعید بن جبیر نے ذکر اللہ کی تفسیر ہی اطاعت و فرمانبرداری سے کی ہے وہ فرماتے ہیں، - فمن لم یطعہ لم یذکرہ وان کثر صلوتہ و تسبیحہ۔ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی نہ کی اس نے اللہ کو یاد نہیں کیا اگرچہ ظاہر میں اس کی نماز اور تسبیح کتنی بھی ہو،- ذکر اللہ کی اصل حقیقت :- قرطبی نے بحوالہ احکام القرآن ابن خویز منذاذ ایک حدیث بھی اس مضمون کی نقل کہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی یعنی اس کے احکام حلال و حرام کا اتباع کیا اس نے اللہ کو یاد کیا اگرچہ اس کی (نفل) نماز روزہ وغیرہ کم ہوں اور جس نے احکام خداوندی کی خلاف ورزی کی اس نے اللہ کو بھلا دیا اگرچہ (بظاہر) اس کی نماز روزہ تسبیحات وغیرہ زیادہ ہوں، - حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا کہ جو شخص حقیقی طور پر اللہ کو یاد کرتا ہے وہ اس کے مقابلے میں ساری چیزوں کو بھول جاتا ہے اور اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ خود اس کے لئے ساری چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں اور تمام چیزوں کا عوض اس کو عطا کردیتے ہیں، - اور حضرت معاذ نے فرمایا کہ انسان کا کوئی عمل اس کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے میں ذکر اللہ کے برابر نہیں اور ایک حدیث قدسی بروایت ابوہریرہ میں ہے کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرتا ہے اور میرے ذکر میں اس کے ہونٹ ہلتے رہیں ذکر اللہ کے فضائل بیشمار ہیں ان کا مختصر خلاصہ احقر نے اپنے رسالہ ذکر اللہ میں جمع کردیا ہے،

Al-Baqara 2:152Listen in Qur'an →
153

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

ربط :- تحویل قبلہ میں جو مخالفین کی طرف سے اعتراض تھا اس کے دو اثر تھے ایک مذہب اسلام پر کہ اعتراض سے مذہب کی حقانیت میں شبہ پیدا کیا جایا کرتا ہے، اوپر کی آیتوں میں اس اعتراض کا جواب دے کر اس کا اثر کا دفع کرنا مقصود تھا دوسرا اثر طبائع اہل اسلام پر کہ اعتراض سے بالخصوص جواب دینے کے بعد بھی اس پر بےجا اصرار کرنے سے قلب میں رنج اور صدمہ پیدا ہوتا ہے آیت آئندہ میں تخفیف حزن کا طریقہ کہ صبر وصلوۃ ہے بتلا کر اس دوسرے اثر کو زائل فرماتے ہیں، - خلاصہ تفسیر :- اے ایمان والو (طبیعتوں میں غم ہلکا کرنے کے بارے میں) صبر اور نماز سے سہارا (اور مدد) حاصل کرو بلاشبہ حق تعالیٰ (ہر طرح سے) صبر کرنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں (اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ تو بدرجہ اولیٰ وجہ یہ کہ نماز سب سے بڑی عبادت ہے جب صبر میں یہ وعدہ ہے تو نماز جو اس سے بڑھ کر ہے اس میں تو بدرجہ اولیٰ یہ بشارت ہوگی) - معارف و مسائل :- اِسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ اس آیت میں یہ ہدایت ہے کہ انسان کی تمام حوائج و ضروریات کے پورا کرنے اور تمام آفات و مصائب اور تکالیف کو دور کرنے کا نسخہ اکسیر دو جزء سے مرکب ہے ایک صبر دوسرے نماز اور اس نسخہ کے تمام حوائج اور تمام مصائب کے لئے عام ہونے کی طرف قرآن عظیم نے اس طرح سے اشارہ کردیا ہے کہ اِسْتَعِيْنُوْا کو عام چھوڑا ہے کوئی خاص چیز ذکر نہیں فرمائی کہ فلاں کام میں ان دونوں چیزوں سے مدد حاصل کرو،- اس سے معلوم ہوا کہ یہ دو چیزیں ایسی ہیں کہ ان سے انسان کی ہر ضرورت میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے تفسیر مظہری میں اس عموم کو واضح کردیا ہے اب اس دو جزئی نسخے کے دونوں اجزاء کو سمجھ لیجئے،- صبر کی اصل حقیقت :- صبر کے اصلی معنی اپنے نفس کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے ہیں قرآن وسنت کی اصطلاح میں صبر کے تین شعبے ہیں ایک اپنے نفس کو حرام و ناجائز چیزوں سے روکنا۔ دوسرے طاعات و عبادات کی پابندی پر مجبور کرنا تیسرے مصائب وآفات پر صبر کرنا یعنی جو مصیبت آگئی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھنا اور اس کے ثواب کا امیدوار ہونا اس کے ساتھ اگر تکلیف و پریشانی کے اظہار کا کوئی کلمہ بھی منہ سے نکل جائے تو وہ صبر کے منافی نہیں (ذکرہ ابن کثیر عن سعید بن جبیر) - یہ تینوں شعبے صبر کے فرائض میں داخل ہیں ہر مسلمان پر یہ پابندی عائد ہے کہ تینوں طرح کے صبر کا پابند ہو عوام کے نزدیک صرف تیسرے شعبے کو تو صبر کہا جاتا ہے دو شعبے جو صبر کی اصل اور بنیاد ہیں عام طور پر ان کو صبر میں داخل ہی نہیں سمجھا جاتا،- قرآن و حدیث کی اصطلاح میں صابرین انھیں لوگوں کا لقب ہے جو تینوں طرح کے صبر میں ثابت قدم ہوں بعض روایات میں ہے کہ محشر میں نداء کی جائے گی کہ صابرین کہاں ہیں ؟ تو وہ لوگ جو تینوں طرح کے صبر پر قائم رہ کر زندگی سے گذرے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں گے اور ان کو بلاحساب جنت میں داخلہ کی اجازت دے دیجائے گی ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا کہ آیت قرآن اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (١٠: ٣٩) سے بھی اس طرف اشارہ ہوتا ہے ،- نماز، دوسرا جزء اس نسخہ کا جو تمام انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور تمام پریشانیوں اور آفتوں سے نجات دلانے میں اکسیر ہے نماز ہے صبر کی جو تفسیر ابھی لکھی گئی ہے اس سے معلوم ہوگیا ہے کہ درحقیقت نماز اور تمام عبادات صبر ہی کے جزئیات ہیں مگر نماز کو جداگانہ بیان اس لئے کردیا کہ تمام عبادات میں سے نماز ایک ایسی عبادت ہے جو صبر کا مکمل نمونہ ہے کیونکہ نماز کی حالت میں نفس کو عبادت وطاعت پر محبوس بھی کیا جاتا ہے اور تمام معاصی ومکروہات سے بلکہ بہت سے مباحات سے بھی نفس کو بحالت نماز روکا جاتا ہے اس لئے صبر جس کے معنی نفس کو اپنے قابو میں رکھ کر تمام طاعات کا پیرو اور تمام معاصی سے مجتنب و بیزار بنانا ہے نماز اس کی ایک عملی تمثیل ہے،- …

Al-Baqara 2:153Listen in Qur'an →
154

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

ربط : - اوپر ایک خاص ناگوار واقعہ میں صبر کی تعلیم اور صابرین کی فضیلت بیان فرمائی تھی آیات آئندہ میں اور بھی بعض واقعات خلاف طبع کی تفصیل اور اس میں صبر کی ترغیب اور فضیلت بیان فرماتے ہیں جن میں قتل و قتال مع الکفار کا مضمون مقدم فرماتے ہیں دو وجہ سے اول بوجہ اعظم ہونے کے کہ اعظم پر صبر کرنے والا اصغر پر بدرجہ اولی صبر کرے گا دوسرے خاص طور پر مناسب مقام ہونے کی وجہ سے کیونکہ معترضین مذکورین کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تھا،- خلاصہ تفسیر :- اور جو لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی دین کے واسطے) قتل کئے جاتے ہیں ان (کی ایسی فضیلت ہی کہ ان) کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں بلکہ وہ لوگ (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں لیکن تم (اپنے موجودہ) حواس سے (اس حیات کا) ادراک نہیں سکتے اور (دیکھو) ہم صفت رضا و تسلیم میں جو کہ مقتضا ایمان کا ہے) تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے (جو کہ ہجوم مخالفین یا نزول حوادث وشدائد سے پیش آوے) اور (کسی قدر فقرو) فاقہ سے اور (کسی قدر) مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے (مثلا مواشی مرگئے یا کوئی آدمی مرگیا یا بیمار ہوگیا یا پھل اور کھیتی کی پیداوار تلف ہوگئی پس تم صبر کرنا) اور (جو لوگ ان امتحانوں میں پورے اتر آویں اور مستقل رہیں تو) آپ ایسے صابرین کو بشارت سنا دیجئے (جن کی یہ عادت ہے) کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ (دل سے سمجھ کر یوں) کہتے ہیں کہ ہم تو (مع مال واولاد حقیقۃً اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں (اور مالک حقیقی کو اپنی ملک میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار حاصل ہے اس سے مملوک کا تنگ ہونا کیا معنی) اور ہم سب (دنیا سے) اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانے والے ہیں (سو یہاں کے نقصانوں کا بدلہ وہاں جاکر رہے گا اور جو مضمون بشارت کا ان کو سنایا جاوے گا وہ یہ ہے کہ) ان لوگوں پر (جدا جدا) خاص خاص رحمتیں بھی ان کے پروردگار کی طرف سے (مبذول) ہوں گی اور (سب پر بالاشتراک) عام رحمت بھی ہوگی اور یہی لوگ ہیں جن کی (حقیقت حال تک) رسائی ہوگئی (کہ حق تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک اور نقصان کا تدارک کردینے والا سمجھ گئے) - معارف و مسائل :- شہدا اور انبیاء کی حیات برزخی اور اس کے درجات میں تفاضل :- یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اسلامی روایات کی رو سے ہر مرنے والے کو برزخ میں ایک خاص قسم کی حیات ملتی ہے جس سے وہ قبر کے عذاب یا ثواب کو محسوس کرتا ہے اس میں مومن و کافر یا صالح وفاسق میں کوئی تفریق نہیں لیکن اس حیات برزخی کے مختلف درجات ہیں ایک درجہ تو سب کو عام اور شامل ہے کچھ مخصوص درجے انبیاء و صالحین کے لئے مخصوص ہیں اور ان میں بھی باہمی تفاضل ہے اس مسئلہ کی تحقیق پر علماء کے مقالات وتحقیقات بیشمار ہیں لیکن ان میں سے جو بات اقرب الی الکتاب والسنت ہے اور شبہات سے پاک ہے اس کو سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی نے بیان القرآن میں واضح فرمایا ہے اس جگہ اسی کو نقل کرنا کافی معلوم ہوا،- ف : ایسے مقتول کو جو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے شہید کہتے ہیں اور اس کی نسبت گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ بعد مرنے کے گو برزخی حیات میں اور مردوں سے ایک گونہ امتیاز ہے اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اس کی یہ حیات آثار میں اوروں سے قوی ہے جیسے انگلیوں کے اگلے پوروے اور ایڑی اگرچہ دونوں میں حیات ہے اور حیات کے آثار بھی دونوں میں موجود ہیں لیکن انگلیوں کے پوروں میں حیات کے آثار احساس وغیرہ بہ نسبت ایڑی کے زیادہ ہیں اسی طرح شہداء میں آثار حیات عام مردوں سے بہت زیادہ ہیں حتیٰ کے شہید کی اس حیات کی قوت کا ایک اثر برخلاف معمولی مردوں کے اس کے جسد ظاہری تک بھی پہنچا ہے کہ اس کا جسم باوجود مجموعہ گوشت و پوست ہونے کے خاک سے متاثر نہیں ہوتا اور مثل جسم زندہ کے صحیح سالم رہتا ہے …

Al-Baqara 2:154Listen in Qur'an →
155

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو

Explained together with ayah 154

Al-Baqara 2:155Listen in Qur'an →
156

ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۭ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

مصائب پر صبر کے آسان کرنے کی خاص تدبیر :- ف : اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بندوں کا امتحان ہوتا ہے اس کی حقیقت آیت وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ کی تفسیر میں گذر چکی ہے اور حوادث کے واقع ہونے سے پہلے ان کی خبر دیدینے میں یہ فائدہ ہوا کہ صبر آسان ہوجاتا ہے ورنہ دفعۃ کوئی صدمہ پڑنے سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے اور یہ خطاب ساری امت کو ہے تو سب کو سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا دار المحن ہے (یعنی محنتوں اور تکلیفوں کی جگہ ہے) اس لئے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھا جاوے تو بےصبری نہ ہوگی اور چونکہ یہ لوگ نفس عمل صبر میں سب مشترک ہیں اس لئے اس کا صلہ مشترکہ تو عام رحمت ہے جو نفس صبر پر موعود ہے اور چونکہ مقدار اور شان اور خصوصیت پر صابر کے صبر کی جدا ہے اس لئے ان خصوصیات کا صلہ جدا جدا خاص عنایتوں سے ہوگا جو ان خاص خصوصیات پر موعود ہیں جیسے دنیا میں مواقع انعام پر دعوت طعام تو عام ہوتی پھر روپے اور جوڑے ہر ایک کو علی قدر الحیثیت والخدمت دئیے جاتے ہیں، - مصیبت میں انا للہ کو سمجھ کر پڑھا جائے تو تسکین قلب کا بہترین علاج ہے :- صابرین کی طرف نسبت کرکے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ مصیبت کے وقت انا للہ وانا الیہ راجعون کہا کرتے ہیں حقیقت میں مقصود اس کی تعلیم سے یہ ہے کہ مصیبت والوں کو ایسا کہنا چاہئے کیونکہ ایسا کہنے میں ثواب بھی بڑا ہے اور اگر دل سے سمجھ کر یہ الفاظ کہے جائیں تو غم ورنج کے دور کرنے اور قلب کو تسلی دینے کے معاملہ میں بھی اکسیر کا حکم رکھتے ہیں۔

Al-Baqara 2:156Listen in Qur'an →
157

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌۭ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں

Explained together with ayah 156

Al-Baqara 2:157Listen in Qur'an →
158

۞ إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ ٱلْبَيْتَ أَوِ ٱعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

ربط :- آیات متقدمہ میں وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ سے دور تک خانہ کعبہ کا مفصل ذکر ہوا ہے جس کے اول میں خانہ کعبہ کے جائے عبادت ہونے کا بیان تھا اور اس کے آگے دعائے ابراہیمی کی حکایت تھی کہ انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ ہمیں احکام مناسک سکھلا دئیے جاویں اور مناسک میں حج وعمرہ بھی داخل ہے پس بیت اللہ کا معبد ہونا جیسے اس کے قبلہ نماز بنانے سے ظاہر کیا گیا اسی طرح حج وعمرہ میں بیت اللہ کو مقصد بنا کر اس کی اہمیت کو واضح کیا گیا،- اب آیت آئندہ میں اس کے مقصد حج وعمرہ بننے کے متعلق ایک مضمون کا بیان ہے وہ یہ کہ صفا ومروہ دو پہاڑیاں مکہ میں ہیں حج وعمرہ میں کعبہ کا طواف کرکے ان کے درمیان میں دوڑتے چلتے ہیں جس کو سعی کہتے ہیں چونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی یہ سعی ہوتی تھی اور اس وقت صفا ومروہ پر کچھ مورتیاں رکھی تھیں اس لئے بعض مسلماں کو شبہ پڑگیا کہ شاید یہ رسوم جاہلیت سے ہو اور موجب گناہ ہو اور بعض جاہلیت میں بھی اس کو گناہ سمجھتے تھے ان کو یہ شبہ ہوا کہ شاید اسلام میں بھی گناہ ہو اللہ تعالیٰ کو یہ شبہ دفع فرمانا مقصود ہے پس مضمون سابق میں کعبہ کے قبلہ نماز ہونے پر اعتراض کفار کا دفع کرنا مقصود تھا اور مضمون لاحق میں کعبہ کے مقصد حج وعمرہ ہونے کے متعلق ایک امر یعنی صفا ومروہ کی سعی پر خود مسلمانوں کے شبہ کا ازالہ فرمانا مقصود ہے یہ وجہ دونوں مضمونوں میں ربط کی ہے،- خلاصہ تفسیر :- (صفا ومروہ کی سعی میں کوئی شبہ نہ کرو کیونکہ) تحقیقاً صفا اور مروہ اور ان کے درمیان میں سعی کرنا) منجملہ یادگار (دین) خداوندی ہیں سو جو شخص حج کرے بیت اللہ کا یا (اس کا) عمرہ کرے اس پر ذرا بھی گناہ نہیں (جیسا تم کو شبہ ہوگیا) ان دونوں کے درمیان (سعی کے معروف طریقہ کے مطابق) آمد ورفت کرنے میں (جس کا نام سعی ہے اور گناہ کیا بلکہ ثواب ہوتا ہے کیونکہ یہ سعی تو شرعاً امر خیر ہے) اور ہمارے یہاں کا ضابطہ ہے کہ جو شخص خوشی سے کوئی امر خیر کرے تو حق تعالیٰ (اس کی بڑی) قدردانی کرتے ہیں ( اور اس خیر کرنے والے کی نیت و خلوص) خوب جانتے ہیں، - پس اس ضابطہ کی رو سے سعی کرنے والے کو بمقدار اخلاص ثواب عنایت ہوگا) - معارف و مسائل :- بعض لغات کی تحقیق :- شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ شعائر جمع ہے شعیرہ کی جس کے معنی علامت کے ہیں، شعائر اللہ سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کی علامتیں قرار دیا ہے حج کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں اور اصطلاح قرآن وسنت میں خاص خانہ کعبہ کا قصد کرنے اور وہاں افعال مخصوصہ کے ادا کرنے کو حج کہا جاتا ہے عمرہ کے لفظی معنی زیارت کے ہیں اور اصطلاح شرع میں مسجد حرام کی حاضری اور طواف وسعی کو کہا جاتا ہے، - صفا ومروہ کے درمیان سعی واجب ہے :- حج اور عمرہ اور سعی کا طریقہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ سعی امام احمد کے نزدیک سنت مستحبہ ہے اور مالک اور شافعی کے نزدیک فرض ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے کہ ترک سے ایک بکری ذبح کرنا پڑتی ہے،- آیت مذکورہ کے الفاظ سے یہ شبہ نہ کرنا چاہئے کہ اس آیت میں تو صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے کے متعلق صرف اتنا فرمایا گیا ہے کہ وہ گناہ نہیں اس سے تو زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوا کہ سعی مباحات میں سے ایک مباح ہے وجہ یہ ہے کہ اس جگہ عنوان لَا جُنَاحَ کا سوال کی مناسبت سے رکھا گیا ہے سوال اسی کا تھا کہ صفا ومروہ پر بتوں کی مورتیں رکھی تھیں اور اہل جاہلیت انہی کی پوجا پاٹ کے لئے صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے تھے اس لئے یہ عمل حرام ہونا چاہئے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس میں کوئی گناہ نہیں چونکہ یہ دراصل سنت ابراہیمی ہے کسی کے جاہلانہ عمل سے کوئی گناہ نہیں ہوجانا یہ فرمانا اس کے واجب ہونے کے منافی نہیں۔

Al-Baqara 2:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَٰبِ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّٰعِنُونَ

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

ربط :- اوپر بحث قبلہ کے ضمن میں صاحب قبلہ کی نبوت کے متعلق اہل کتاب کی حق پوشی کا مضمون مذکور تھا اس آیت میں اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗا الی قولہ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ آگے اس مضمون کی تکمیل کے واسطے حق کو چھپانے والوں کی اور کتمانِ حق پر اصرار کرنے والوں کی وعید اور توبہ کرنے پر معافی کا وعدہ ارشاد فرماتے ہیں۔- خلاصہ تفسیر :- جو لوگ اخفاء کرتے ہیں ان مضامین کا جن کو ہم نے نازل کیا ہے جو کہ (اپنی ذات میں) واضح ہیں اور (دوسروں کے لئے) ہادی ہیں (اور اخفاء بھی) اس (حالت) کے بعد کہ ہم ان (مضامین) کو کتاب (الہیٰ توراۃ و انجیل) میں (نازل فرما کر) عام لوگوں پر ظاہر کرچکے ہوں ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتے ہیں (کہ اپنی رحمت خاصہ سے ان کو بعید کردیتے ہیں) اور (دوسرے بہتیرے) لعنت کرنے والے بھی (جن کو اس فعل سے نفرت ہے) ان پر لعنت بھیجتے ہیں (کہ ان پر بد دعا کرتے ہیں ہاں) مگر جو لوگ (ان اخفاء کرنے والوں میں اپنی اس حرکت سے) توبہ (یعنی حق تعالیٰ کے رو برو گذشتہ سے معذرت) کرلیں اور (جو کچھ ان کے اس فعل سے خرابی ہوگئی تھی آئندہ کے لئے اس کی) اصلاح کردیں ( اور اس اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ ان اخفاء کئے ہوئے مضامین کو عام طور پر) ظاہر کردیں (تاکہ سب کو اطلاع ہوجائے اور ان پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا بار نہ رہے اور اظہار معتبر عند الشرع یہ ہے کہ اسلام کو قبول کرلیں کیونکہ اسلام نہ لانے میں نبوت محمدیہ کے متعلق عوام پر بھی حق مخفی رہے گا وہ یہی سمجھیں گے کہ اگر نبوت حق ہوتی تو یہ کتاب جاننے والے لوگ کیوں نہ ایمان لاتے خلاصہ یہ کہ یہ لوگ مسلمان ہوجاویں) تو ایسے لوگوں (کے حال) پر میں (عنایت سے) متوجہ ہوجاتا ہوں (اور ان کی خطاء معاف کردیتا ہوں) اور میری تو بکثرت عادت ہے تو یہ قبول کرلینا اور مہربانی فرمانا (کوئی توبہ کرنے والا ہونا چاہئے) البتہ جو لوگ (ان میں سے) اسلام نہ لاویں اور اسی حالت غیر اسلام پر مرجاویں ایسے لوگوں پر (وہ) لعنت (مذکورہ) اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں اور آدمیوں کی بھی سب کی (ایسے طور پر برسا کرے گی کہ) وہ ہمیشہ ہمیشہ کو اسی (لعنت) میں رہیں گے (حاصل یہ کہ وہ جہنم میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوں گے اور ہمیشہ کا جہنم میں رہنے والا ہمیشہ ہی خدا کی خاص رحمت سے دور بھی رہے گا اور ہمیشہ ملعون رہنا یہی ہے اور ہمیشگی لعنت کے ساتھ یہ بھی ہے کہ داخل ہونے کے بعد کسی وقت) ان (پر) سے (جہنم کا) عذاب ہلکا (بھی) نہ ہونے پاوے گا اور نہ (داخل ہونے کے قبل) ان کو (کسی میعاد تک) مہلت دی جاوے گی (کیونکہ میعاد اس وقت دی جاتی ہے جب کہ مقدمہ میں گنجائش ہو اور گنجائش نہ ہونے پر اول ہی پیشی میں حکم سزا ہوجاتا ہے) - معارف و مسائل :- علم دین کا اظہار اور پھیلانا واجب اور اس کا چھپانا سخت حرام ہے :- آیت مذکورہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایات بینات نازل کی گئی ہیں ان کا لوگوں سے چھپانا اتنا بڑا جرم عظیم ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت کرتے ہیں اور تمام مخلوق لعنت بھیجتی ہے اس سے چند احکام حاصل ہوئے،- اول : یہ کہ جس علم کے اظہار اور پھیلانے کی ضرورت ہے اس کا چھپانا حرام ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ؛- من سئل عن علم یعلمہ فکتمہ الجمہ اللہ یوم القیامۃ بلجام من النار (رواہ ابوہریرۃ وعمروبن العاص اخرجہ ابن ماجۃ (ازقرطبی) - " یعنی جو شخص دین کے کسی حکم کا علم رکھتا ہے اور اس سے وہ حکم دریافت کیا جائے اگر وہ اس کو چھپائے گا تو قیامت کے روز اس کے منہ میں اللہ تعالیٰ آگ کا لگام ڈالیں گے،- حضرات فقہاء نے فرمایا کہ یہ وعید اس صورت میں ہے جب کہ اس کے سوا کوئی دوسرا آدمی مسئلہ کا بیان کرنے والا وہاں موجود نہ ہو اور اگر دوسرے علماء بھی موجود ہوں تو گنجائش ہے کہ یہ کہہ دے کہ دوسرے علماء سے دریافت کرلو …

Al-Baqara 2:159Listen in Qur'an →
160

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَبَيَّنُوا۟ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

Explained together with ayah 159

Al-Baqara 2:160Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.