Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 151–160 of 286

151

كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًۭا مِّنكُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ

جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

آیت 151 کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلاً مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ یہاں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی دعا یاد کر لیجیے جو آیت 129 میں مذکور ہوئی۔ اس دعا کا ظہور تین ہزار برس بعد بعثت محمدی ﷺ ‘ کی شکل میں ہو رہا ہے۔ یہاں ایک نکتہ بڑا اہم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں جو ترتیب تھی ‘ یہاں اللہ نے اس کو بدل دیا ہے۔ دعا میں ترتیب یہ تھی : تلاوت آیات ‘ تعلیم کتاب و حکمت ‘ پھر تزکیہ۔ یہاں پہلے تلاوت آیات ‘ پھر تزکیہ اور پھر تعلیم کتاب و حکمت آیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو بات کہی وہ بھی غلط تو نہیں ہوسکتی ‘ لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی تنفیذ شدہ imposed صورت یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی۔ اس لیے کہ تزکیہّ مقدم ہے ‘ اگر نیت صحیح نہیں ہے تو تعلیم کتاب و حکمت مفید نہیں ہوگی ‘ بلکہ گمراہی میں اضافہ ہوگا۔ نیت کج ہے تو گمراہی بڑھتی چلی جائے گی۔ تزکیہ کا حاصل اخلاص ہے ‘ یعنی نیت درست ہوجائے۔ اگر یہ نہیں ہے تو کوئی جتنا بڑا عالم ہوگا وہ اتنا بڑا شیطان بھی بن سکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بڑے بڑے فتنے عالموں نے ہی اٹھائے ہیں۔ دین اکبری یا دین الٰہی کی تدوین کا خیال تو اکبر کے باپ دادا کو بھی نہیں آسکتا تھا ‘ یہ تو ابوالفضل اور فیضی جیسے علماء تھے جنہوں نے اسے یہ پٹیّ پڑھائی۔ اسی طرح غلام احمد قادیانی کو بھی الٹی پٹیاں پڑھانے والا حکیم نور الدین تھا ‘ جو بہت بڑا اہل حدیث عالم تھا۔ تو درحقیقت کوئی جتنا بڑا عالم ہوگا اگر اس کی نیت کج ہوگئی تو وہ اتنا ہی بڑا فتنہ اٹھا دے گا۔ اس پہلو سے تزکیہ مقدمّ ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہی مضمون سورة آل عمران میں اور پھر سورة الجمعہ میں بھی آیا ہے ‘ وہاں بھی ترتیب یہی ہے : 1 تلاوت آیات 2 تزکیہ 3 تعلیم کتاب و حکمت۔

Al-Baqara 2:151Listen in Qur'an →
152

فَٱذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِى وَلَا تَكْفُرُونِ

سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

آیت 152 فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ یہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان ایک بہت بڑا میثاق اور معاہدہ ہے۔ اس کی شرح ایک حدیث قدسی میں بایں الفاظ آئی ہے : اَنَا مَعَہٗ اِذَا ذَکَرَنِیْ ‘ فَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہٗ فِیْ نَفْسِیْ ‘ وَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَاءٍ ذَکَرْتُہٗ فِیْ مَلَاءٍ خَیْرٍ مِنْھُمْ 16 میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے پاس ہوتا ہوں ‘ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں ‘ اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہت بہتر محفل میں یاد کرتا ہوں۔ اس کی محفل تو بہت بلند وبالا ہے ‘ وہ ملأاعلیٰ کی محفل ہے ‘ ملائکہ مقربین کی محفل ہے۔ امیر خسروؔ معلوم نہیں کس عالم میں یہ شعر کہہ گئے تھے : ؂خدا خود میر محفل بود اندر لامکاں خسروؔ محمد ﷺ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم !وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلاَ تَکْفُرُوْنِ میری نعمتوں کا ادراک کرو ‘ ان کا شعور حاصل کرو۔ زبان سے بھی میری نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اپنے عمل سے بھی ‘ اپنے اعضاء وجوارح سے بھی ان نعمتوں کا حق ادا کرو۔ یہاں اس سورة مبارکہ کا نصف اوّل مکمل ہوگیا ہے جو اٹھارہ رکوعوں پر مشتمل ہے۔

Al-Baqara 2:152Listen in Qur'an →
153

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع سے اب امت مسلمہ سے براہ راست خطاب ہے۔ اس سے قبل اس امت کی غرض تأسیس بایں الفاظ بیان کی جا چکی ہے : لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا ط آیت 143 ”تاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول ﷺ تم پر گواہی دینے والا بنے“۔ گویا اب تم ہمیشہ ہمیش کے لیے ٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور نوع انسانی کے درمیان واسطہ ہو۔ ایک حدیث میں علماء حق کے بارے میں فرمایا گیا ہے : اِنَّ الْعُلَمَاءَ ھُمْ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءِ 17 ”یقیناً علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں“۔ اس لیے کہ اب نبوت تو ختم ہوگئی خاتم المرسلینٌ محمد رسول اللہ ﷺ ‘ پر ‘ لیکن یہ آخری کتاب قیامت تک رہے گی ‘ اس کو پہنچانا ہے ‘ اس کو عام کرنا ہے ‘ اور صرف تبلیغ سے نہیں عمل کر کے دکھانا ہے۔ وہ نظام عملاً قائم کر کے دکھانا ہے جو محمد عربی ﷺ نے قائم کیا تھا ‘ تب حجت قائم ہوگی۔ اس کے لیے تمہیں قربانیاں دینی ہوں گی ‘ مشکلات جھیلنی ہوں گی ‘ جان و مال کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ آرام سے گھر بیٹھے ‘ ٹھنڈے پیٹوں حق نہیں آجائے گا ‘ کفر اس طرح جگہ نہیں چھوڑے گا۔ کفر کو ہٹانے کے لیے ‘ باطل کو ختم کرنے کے لیے اور حق کو قائم کرنے کے لیے تمہیں تن من دھن لگانے ہوں گے۔ چناچہ اب پکار آرہی ہے :آیت 153 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط پانچویں رکوع کی سات آیات کو میں نے بنی اسرائیل سے خطاب کے ضمن میں بمنزلۂ فاتحہ قرار دیا تھا۔ وہاں پر یہ الفاظ آئے تھے : وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط وَاِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ الاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ”اور مدد چاہو صبر اور نماز سے ‘ اور یقیناً یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیں ‘ جو گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اب یہی بات اہل ایمان سے کہی جا رہی ہے۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ”اللہ تعالیٰ کی معیتّ سے کیا مراد ہے ! ایک بات تو متفق علیہ ہے کہ اللہ کی مدد ‘ اللہ کی تائید ‘ اللہ کی نصرت ان کے شامل حال ہے۔ باقی یہ کہ جہاں کہیں بھی ہم ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کی کیفیت ہم نہیں جانتے ‘ لیکن خود اس کا فرمان ہے کہ ”ہم تو انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ قٓ: 16

Al-Baqara 2:153Listen in Qur'an →
154

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

آیت 154 وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ اب پہلے ہی قدم پر اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی بات آگئی ع شرطِ اوّل قدم ایں است کہ مجنوں باشی ! ایمان کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ جانیں دینے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں ان کو جنت میں داخلہ کے لیے یوم آخرت تک انتظار نہیں کرنا ہوگا ‘ شہداء کو تو اسی وقت براہ راست جنت میں داخلہ ملتا ہے ‘ لہٰذا وہ تو زندہ ہیں۔ یہی مضمون سورة آل عمران میں اور زیادہ نکھر کر سامنے آئے گا۔

Al-Baqara 2:154Listen in Qur'an →
155

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو

آیت 155 وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ دیکھ لو ‘ جس راہ میں تم نے قدم رکھا ہے یہاں اب آزمائشیں آئیں گی ‘ تکلیفیں آئیں گی۔ رشتہ دار ناراض ہوں گے ‘ شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق ہوگی ‘ اولاد والدین سے جدا ہوگی ‘ فساد ہوگا ‘ فتور ہوگا ‘ تصادم ہوگا ‘ جان و مال کا نقصان ہوگا۔ ہم خوف کی کیفیت سے بھی تمہاری آزمائش کریں گے اور بھوک سے بھی۔ چناچہ صحابہ کرام رض نے کیسی کیسی سختیاں جھیلیں اور کئی کئی روز کے فاقے برداشت کیے۔ غزوۂ احزاب میں کیا حالات پیش آئے ہیں ! اس کے بعد جیش العسرۃ غزوۂ تبوک میں کیا کچھ ہوا ہے ! وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ مالی اور جانی نقصان بھی ہوں گے اور ثمرات کا نقصان بھی ہوگا۔ ثمرات یہاں دو معنی دے رہا ہے۔ مدینہ والوں کی معیشت کا دار و مدار زراعت اور باغبانی پر تھا۔ خاص طور پر کھجور ان کی پیداوار تھی ‘ جسے آج کی اصطلاح میں cash crop کہا جائے گا۔ اب ایسا بھی ہوا کہ فصل پک کر تیار کھڑی ہے اور اگر اسے درختوں سے اتارا نہ گیا تو ضائع ہوجائے گی ‘ ادھر سے غزوۂ تبوک کا حکم آگیا کہ نکلو اللہ کی راہ میں ! تو یہ امتحان ہے ثمرات کے نقصان کا۔ اس کے علاوہ ثمرات کا ایک اور مفہوم ہے۔ انسان بہت محنت کرتا ہے ‘ جدوجہد کرتا ہے ‘ ایک کیریئر اپناتا ہے اور اس میں اپنا ایک مقام بنا لیتا ہے۔ لیکن جب وہ دین کے راستے پر آتا ہے تو کچھ اور ہی شکل اختیار کرنی پڑتی ہے۔ چناچہ اپنی تجارت کے جمانے میں یا کسی پروفیشن میں اپنا مقام بنانے میں اس نے جو محنت کی تھی وہ سب کی سب صفر ہو کر رہ جاتی ہے ‘ اور اپنی محنت کے ثمرات سے بالکل تہی دامن ہو کر اسے اس وادی میں آنا پڑتا ہے۔

Al-Baqara 2:155Listen in Qur'an →
156

ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۭ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

آیت 156 الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ لا قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ آخر کار تو یہاں سے جانا ہے ‘ اگر کل کی بجائے ہمیں آج ہی بلا لیا جائے تب بھی حاضر ہیں۔ بقول اقبال : ؂نشان مرد مؤمن با تو گویم چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست !یعنی مرد مؤمن کی تو نشانی ہی یہی ہے کہ جب موت آتی ہے تو مسرتّ کے ساتھ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ وہ دنیا سے مسکراتا ہوا رخصت ہوتا ہے۔ یہ ایمان کی علامت ہے اور بندۂ مؤمن اس دنیا میں زیادہ دیر تک رہنے کی خواہش نہیں کرسکتا۔ اسے معلوم ہے کہ وہ دنیا میں جو لمحہ بھی گزار رہا ہے اسے اس کا حساب دینا ہوگا۔ تو جتنی عمر بڑھ رہی ہے حساب بڑھ رہا ہے۔ چناچہ حدیث میں دنیا کو مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت قرار دیا گیا ہے : اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ 18

Al-Baqara 2:156Listen in Qur'an →
157

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌۭ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں

آیت 157 اُولٰٓءِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ قف ان پر ہر وقت اللہ کی عنایتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے اور رحمت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعتا ہدایت کو اختیار کیا ہے۔ اور جو ایسے مرحلے پر ٹھٹک کر کھڑے رہ جائیں ‘ پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائیں ‘ پیٹھ موڑ لیں تو گویا وہ ہدایت سے تہی دامن ہیں۔

Al-Baqara 2:157Listen in Qur'an →
158

۞ إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ ٱلْبَيْتَ أَوِ ٱعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

آیت 158 اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ ج۔ یہ آیت اصل سلسلۂ بحث یعنی قبلہ کی بحث سے متعلق ہے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ حج کے مناسک میں یہ جو صفا اور مروہ کی سعی ہے تو اس کی کیا حقیقت ہے ؟ فرمایا کہ یہ بھی اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ شعائر ‘ شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو شعور بخشے ‘ جو کسی حقیقت کا احساس دلانے والی اور اس کا مظہر اور نشان ہو۔ چناچہ وہ مظاہر جن کے ساتھ اولوالعزم پیغمبروں یا اولوالعزم اولیاء اللہ کے حالات و واقعات کا کوئی ذہنی سلسلہ قائم ہوتا ہو اور جو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے بطور ایک نشان اور علامت مقرر کیے گئے ہوں شعائر کہلاتے ہیں۔ وہ گویا بعض معنوی حقائق کا شعور دلانے والے اور ذہن کو اللہ کی طرف لے جانے والے ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے بیت اللہ ‘ حجر اسود ‘ جمرات اور صفا ومروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں۔ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ط۔ صفا ومروہ کے طواف سے مراد وہ سعی ہے جو ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات چکروں کی صورت میں کی جاتی ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ شاکر آیا ہے۔ لفظ شکر کی نسبت جب بندے کی طرف ہو تو اس کے معنی شکر گزاری اور احسان مندی کے ہوتے ہیں ‘ لیکن جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی قدر دانی اور قبول کرنے کے ہوجاتے ہیں۔ شاکر کے ساتھ دوسری صفت علیم آئی ہے کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ چاہے کسی اور کو پتا نہ لگے اسے تو خوب معلوم ہے۔ اگر تم نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے کسی کو کوئی مالی مدد دی ہے ‘ اس حال میں کہ داہنے ہاتھ نے جو کچھ دیا ہے اس کی بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہونے دی ‘ کجا یہ کہ کسی اور انسان کے سامنے اس کا تذکرہ ہو ‘ تو یہ اللہ کے تو علم میں ہے ‘ چناچہ اگر اللہ سے اجر وثواب چاہتے ہو تو اپنی نیکیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں ‘ لیکن اگر تم نے یہ سب کچھ لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا تو گویا وہ شرک ہوگیا۔

Al-Baqara 2:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَٰبِ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّٰعِنُونَ

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

آیت 159 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْہُدٰی مِنْم بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ للنَّاسِ فِی الْْکِتٰبِ لا اُولٰٓءِکَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوْنَ اس آیت میں یہود کی طرف اشارہ ہے ‘ جن کی معاندانہ روش کا ذکر پہلے گزر چکا۔ یہاں اب گویا آخری قطعی صفائی mopping up operation کے طور پر ان کے بارے میں چند باتوں کا مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں بیناتّ اور ہدیٰ سے خاص طور پر وہ نشانیاں مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تورات میں نبی آخر الزماں ﷺ کے بارے میں یہود کی راہنمائی کے لیے واضح فرمائی تھیں۔ لیکن یہود نے ان نشانیوں سے راہنمائی حاصل کرنے کے بجائے ان کو چھپانے کی کوشش کی۔ آیت 140 میں ہم پڑھ آئے ہیں : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَھَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا۔ یہاں اسی کی وضاحت ہو رہی ہے کہ تورات اور انجیل میں کیسی کیسی کھلی شہادتیں تھیں ‘ اور ان کو یہ چھپائے پھر رہے ہیں !

Al-Baqara 2:159Listen in Qur'an →
160

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَبَيَّنُوا۟ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

آیت 160 اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓءِکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ ج میں اپنی نگاہ التفات ان کی طرف متوجہ کر دوں گا۔

Al-Baqara 2:160Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.