Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 151–160 of 286

151

كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًۭا مِّنكُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ

جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

جس طرح بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیتیں اور پاک کرتا ہے تمھیں اور تعلیم دیتا ہے تمھیں کتاب اور حکمت کی اور سکھاتا ہے تمھیں وہ (باتیں) جو نہیں تھے تم جانتے(151) پس یاد کرو تم مجھے، میں یاد کروں گا تمھیں اور تم شکر کرو میرے لیے اور نہ ناشکری کرو میری(152)

[151] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کعبہ شریف کی طرف تحویل قبلہ کے ذریعے سے ہم نے تمھیں جو نعمت عطا کی اور اس کے اتمام کے لیے شرعی احکام اور دیگر نعمتیں عطا کیں، یہ ہماری طرف سے کوئی انوکھا اور پہلا احسان نہیں بلکہ ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتیں عطا کیں اور پھر دیگر نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تکمیل کی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے تمھاری طرف اس رسول کریم کو مبعوث کیا جو تم ہی میں سے ہے، جس کے حسب و نسب، اس کی صداقت و امانت اور اس کی خیرخواہی کو تم خوب جانتے ہو۔ ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے‘‘ اس کے عموم میں آیات قرآنی اور دیگر تمام آیات داخل ہیں۔ (ہمارا) رسول تم پر آیات کی تلاوت کرتا ہے جو باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ آیات الٰہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے کمال کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ،پھر اس کے رسولﷺکی صداقت، اس پر ایمان کے وجوب اور ان تمام غیبی اور مابعد الموت امور پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں جن کے بارے میں اس نے خبر دی ہے، تاکہ تمھیں ہدایت کامل اور علم یقینی حاصل ہو جائے۔ ﴿وَيُزَؔكِّيۡكُمۡ﴾ ’’اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی تربیت کے ذریعے سے اخلاق جمیلہ کو اجاگر اور اخلاق رذیلہ کو زائل کر کے تمھارے نفوس اور تمھارے اخلاق کو پاک کرتا ہے، مثلاً شرک سے توحید کی طرف، ریا سے اخلاص کی طرف، جھوٹ سے صدق کی طرف، خیانت سے امانت کی طرف، تکبر سے تواضع کی طرف، بدخلقی سے حسن اخلاق کی طرف، باہم بغض، قطع تعلقی اور قطع رحمی سے ایک دوسرے سے محبت، مودت اور صلہ رحمی کی طرف تمھارا تزکیہ کرتا ہے، اس کے علاوہ تزکیہ کی دیگر انواع کے ذریعے سے تمھیں پاک کرتا ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور تمھیں کتاب (قرآن) سکھاتا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کے الفاظ ومعانی کی تعلیم دیتا ہے ﴿وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور حکمت‘‘ ایک قول کے مطابق حکمت سے مراد سنت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ حکمت سے مراد اسرار شریعت کی معرفت اور اس کی سمجھ ہے، نیز تمام امور کو ان کے مقام پر رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے سنت کی تعلیم کتاب اللہ کی تعلیم میں داخل ہے، کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر و توضیح اور اس کی تعبیر کرتی ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے‘‘ کیونکہ بعثت محمدی سے قبل اہل عرب کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کے پاس علم تھا نہ عمل۔ پس ہر علم اور عمل جو اس امت کو حاصل ہوا ہے وہ رسول اللہﷺکے توسط اور آپ ہی کے سبب سے حاصل ہوا ہے۔ یہ نعمتیں علی الاطلاق حقیقی نعمتیں ہیں۔ یہ نعمتیں سب سے بڑی نعمتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ لہٰذا ان کا وظیفہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی ہونا چاہیے۔

[152] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاذۡكُرُوۡنِيۡۤ۠ اَذۡكُرۡؔكُمۡ﴾ ’’پس تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور اس پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان مبارک سے فرمایا ’’جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، جو کسی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح البخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ:﴿وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ …

Al-Baqara 2:151Listen in Qur'an →
152

فَٱذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِى وَلَا تَكْفُرُونِ

سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

جس طرح بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیتیں اور پاک کرتا ہے تمھیں اور تعلیم دیتا ہے تمھیں کتاب اور حکمت کی اور سکھاتا ہے تمھیں وہ (باتیں) جو نہیں تھے تم جانتے(151) پس یاد کرو تم مجھے، میں یاد کروں گا تمھیں اور تم شکر کرو میرے لیے اور نہ ناشکری کرو میری(152)

[151] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کعبہ شریف کی طرف تحویل قبلہ کے ذریعے سے ہم نے تمھیں جو نعمت عطا کی اور اس کے اتمام کے لیے شرعی احکام اور دیگر نعمتیں عطا کیں، یہ ہماری طرف سے کوئی انوکھا اور پہلا احسان نہیں بلکہ ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتیں عطا کیں اور پھر دیگر نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تکمیل کی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے تمھاری طرف اس رسول کریم کو مبعوث کیا جو تم ہی میں سے ہے، جس کے حسب و نسب، اس کی صداقت و امانت اور اس کی خیرخواہی کو تم خوب جانتے ہو۔ ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے‘‘ اس کے عموم میں آیات قرآنی اور دیگر تمام آیات داخل ہیں۔ (ہمارا) رسول تم پر آیات کی تلاوت کرتا ہے جو باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ آیات الٰہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے کمال کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ،پھر اس کے رسولﷺکی صداقت، اس پر ایمان کے وجوب اور ان تمام غیبی اور مابعد الموت امور پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں جن کے بارے میں اس نے خبر دی ہے، تاکہ تمھیں ہدایت کامل اور علم یقینی حاصل ہو جائے۔ ﴿وَيُزَؔكِّيۡكُمۡ﴾ ’’اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی تربیت کے ذریعے سے اخلاق جمیلہ کو اجاگر اور اخلاق رذیلہ کو زائل کر کے تمھارے نفوس اور تمھارے اخلاق کو پاک کرتا ہے، مثلاً شرک سے توحید کی طرف، ریا سے اخلاص کی طرف، جھوٹ سے صدق کی طرف، خیانت سے امانت کی طرف، تکبر سے تواضع کی طرف، بدخلقی سے حسن اخلاق کی طرف، باہم بغض، قطع تعلقی اور قطع رحمی سے ایک دوسرے سے محبت، مودت اور صلہ رحمی کی طرف تمھارا تزکیہ کرتا ہے، اس کے علاوہ تزکیہ کی دیگر انواع کے ذریعے سے تمھیں پاک کرتا ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور تمھیں کتاب (قرآن) سکھاتا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کے الفاظ ومعانی کی تعلیم دیتا ہے ﴿وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور حکمت‘‘ ایک قول کے مطابق حکمت سے مراد سنت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ حکمت سے مراد اسرار شریعت کی معرفت اور اس کی سمجھ ہے، نیز تمام امور کو ان کے مقام پر رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے سنت کی تعلیم کتاب اللہ کی تعلیم میں داخل ہے، کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر و توضیح اور اس کی تعبیر کرتی ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے‘‘ کیونکہ بعثت محمدی سے قبل اہل عرب کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کے پاس علم تھا نہ عمل۔ پس ہر علم اور عمل جو اس امت کو حاصل ہوا ہے وہ رسول اللہﷺکے توسط اور آپ ہی کے سبب سے حاصل ہوا ہے۔ یہ نعمتیں علی الاطلاق حقیقی نعمتیں ہیں۔ یہ نعمتیں سب سے بڑی نعمتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ لہٰذا ان کا وظیفہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی ہونا چاہیے۔

[152] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاذۡكُرُوۡنِيۡۤ۠ اَذۡكُرۡؔكُمۡ﴾ ’’پس تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور اس پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان مبارک سے فرمایا ’’جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، جو کسی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح البخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ:﴿وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ …

Al-Baqara 2:152Listen in Qur'an →
153

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! مدد طلب کرو تم ساتھ صبر اور نماز کے، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(153)

[153] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ دنیاوی امور میں صبر اور نماز سے مدد لیں۔ پس صبر، نفس کو روکنے اور ان امور سے باز رکھنے کا نام ہے جن کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ صبر کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنا حتیٰ کہ اسے بجا لائے۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکنے پر صبر کرنا۔ یہاں تک کہ وہ اس نافرمانی کو ترک کر دے۔ (۳) تکلیف پہنچانے والی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر پر صبر کرنا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔ صبر سے ہر کام میں زبردست معونت حاصل ہوتی ہے لہٰذا بے صبر آدمی کے لیے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے، خاص طور پر دائمی مشقت سے بھرپور نیکیاں۔ کیونکہ اس قسم کی نیکیاں انتہائی صبر و تحمل اور مشقت کی تلخی برداشت کرنے کی محتاج ہوتی ہیں۔ ان نیکیوں کا مشتاق جب صبر کو لازم پکڑ لیتا ہے تو کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے اور اگر ناپسندیدہ کام اور مشقت اسے صبر پر قائم نہ رکھ سکے تو اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا، صرف محرومی اس کا نصیب ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ گناہ جس کی طرف نفس انسانی کا داعیہ کشش رکھتا ہے اور اس گناہ کا ارتکاب اس کی قدرت میں بھی ہوتا ہے تو اس گناہ کا ترک کرنا صرف صبر عظیم، اللہ تعالیٰ کی خاطر قلب کے دواعی کے ترک کرنے اور اس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ گناہ بھی ایک بہت بڑا فتنہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سخت مصائب اور آزمائشوں میں، خاص طور پر جبکہ یہ مصائب دائمی ہوں تب ان پے در پے مصائب سے جسمانی اورنفسانی قویٰ کمزور پڑ جاتے ہیں، اگر یہ شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر، توکل، اللہ تعالیٰ کی پناہ کے ذریعے سے اور اپنے آپ کو اللہ کا دائمی محتاج سمجھتے ہوئے ان کا مقابلہ نہیں کرے گا تو ناراضی اور غصہ اس پر غلبہ پا لیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ صبر ایک ایسی چیز ہے جس کا بندہ محتاج بلکہ ہر حالت میں اس کی طرف مجبور ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اور آگاہ کیا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یعنی ان لوگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق سے صبر کو اپنی عادت، وصف اور ملکہ بنا لیا ہے۔ تب ان لوگوں پر بڑی بڑی مشقتیں اور مصائب آسان ہو جاتے ہیں، ان پر ہر بڑا کام آسان اور ان سے ہر مشکل دور ہو جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص معیت ہے جو اس کی محبت، اس کی مدد، اس کی نصرت اور اس کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ صبر کرنے والوں کی بہت بڑی مدح و منقبت ہے۔ اگر اہل صبر کی صرف یہی فضیلت ہوتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں کامیابی کی منزل پر پہنچ گئے تو شرف و فضیلت کے لیے یہی کافی ہے۔ رہی معیت عامہ تو یہ اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت کی معیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾(الحدید: 57؍4) ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمھارے ساتھ ہے‘‘ میں مذکور ہے اور یہ معیت تمام مخلوق کے لیے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز سے مدد لینے کا حکم دیا ہے کیونکہ نماز دین کا ستون اور اہل ایمان کا نور ہے۔ نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب بندۂ مومن کی نماز کامل ہو ، اس میں تمام لازمی امور اور سنن جمع ہوں، اس میں حضور قلب، جو نماز کا لب لباب ہے، حاصل ہو تو بندۂ مومن جب نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوا ہے اور اپنے رب کے سامنے اس طرح کھڑا ہے جس طرح ایک مؤدب خادم غلام اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ کہے اور جو کچھ کرے اس کا معنی اور مفہوم اس کے شعور میں حاضر ہو، وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات اور اس سے دعا مانگنے میں مستغرق ہو، تو یقیناً یہ نماز تمام امور میں سب سے بڑی مددگار ہے کیونکہ نماز فواحش اور برے …

Al-Baqara 2:153Listen in Qur'an →
154

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

اور نہ کہو تم ان کو، جو قتل کر دیے جائیں اللہ کی راہ میں، مردےبلکہ (وہ) زندہ ہیں لیکن نہیں شعور رکھتے تم(154)

[154] چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام احوال میں صبر سے مدد لینے کا حکم دیا ہے اس لیے اس نے ایک نمونہ ذکر فرمایا ہے جس میں صبر سے مدد لی جاتی ہے۔ اور وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے جو سب سے افضل بدنی عبادت ہے۔ اپنی مشقت کی وجہ سے یہ نفوس انسانی پر سب سے زیادہ گراں گزرتی ہے نیز یہ عبادت نفوس انسانی پر اس لیے بھی گراں ہے کہ اس کا نتیجہ موت اور عدم حیات ہے اور زندگی ایک ایسی چیز ہے کہ لوگ اس دنیا میں زندگی اور اس کے لوازم کے حصول میں رغبت رکھتے ہیں۔ پس ہر وہ چیز جس میں لوگ تصرف کرتے ہیں اس کے حصول کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ضد کو دور کیا جاتا ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ عقل مند شخص اپنی محبوب چیز کو اس وقت ہی چھوڑتا ہے جب اسے اس سے بڑی اور اس سے بہتر کوئی اور محبوب چیز حاصل ہونے کی امید ہو۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس وجہ سے قتل ہو جاتا ہے کہ اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ بلند اور اس کا دین غالب ہو اور اس کے سوا اس کی کوئی اور غرض نہ ہو۔ تو وہ اپنی محبوب زندگی کو کھو نہیں دیتا بلکہ اسے اس زندگی سے زیادہ عظیم اور کامل زندگی حاصل ہو جاتی ہے جس کا تم گمان اور تصور کر سکتے ہو۔ پس شہداء وہ ہیں جن کا ذکر یوں آیا ہے ﴿ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ۰۰فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ١ۙ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ١ۙ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَۘ۰۰ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ١ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(آل عمران : 3؍169۔171) ’’وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا کیا اس پر وہ خوش ہیں اور جو پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان کے ساتھ نہ مل سکے ان کے بارے میں خوش ہو رہے ہیں کہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔ وہ اللہ کی نعمتوں، اس کے فضل اور اس بات پر خوش ہو رہے ہوں گے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘ کیا اس سے بھی بڑی کوئی اور زندگی ہے جو قرب الٰہی، اس کے بدنی رزق، مثلاً لذیذ ماکولات و مشروبات سے تمتع اور روحانی رزق، مثلاً فرحت، خوشی اورعدم حزن و غم کو متضمن ہے؟ یہ برزخی زندگی ہے جو دنیاوی زندگی سے زیادہ کامل ہے۔ بلکہ رسول اللہﷺنے اس زندگی کے بارے میں ان الفاظ میں آگاہ فرمایا: ’’شہداء کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے جوف (پیٹ) میں جنت کی نہروں سے پانی پینے کے لیے وارد ہوتی ہیں جنت کے پھل کھاتی ہیں اور ان قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں۔‘‘(صحیح مسلم، الإمارہ ، باب بیان أن أرواح الشھداء في الجنۃ ….. الخ، حديث:1887 و مسند احمد:1؍166) اس آیت میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور اس میں صبر کا دامن پکڑے رکھنے کی بڑی ترغیب ہے۔ پس اگر بندوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہونے کا کتنا ثواب ہے تو کوئی شخص جہاد سے پیچھے نہ رہے مگر کامل علم یقینی کا فقدان، عزائم کو کمزور، نیند میں مدہوش شخص کی نیند میں اور اضافہ اور غنیمتیں اور بہت بڑا ثواب حاصل کرنے سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کا جان و مال خرید لیا ہے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَنَّةَ١ؕ يُقَاتِلُوۡنَؔ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيَقۡتُلُوۡنَؔ وَيُقۡتَلُوۡنَؔ﴾(التوبہ : 9؍111) ’’اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ …

Al-Baqara 2:154Listen in Qur'an →
155

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو

اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تم کو کچھ نہ کچھ خوف اور بھوک اور کمی کرنے سے مالوں اور جانوں اور پھلوں میں سےاور خوشخبری دے دیجیے صبر کرنے والوں کو(155) وہ لوگ کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں، بلاشبہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں(156) یہی لوگ، ان کے لیے بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور رحمت اور یہی ہیں ہدایت یافتہ(157)

[155] اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محن کے ذریعے سے آزماتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انھیں کبھی مصائب ومحن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انھیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انھیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا ﴿بِشَيۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ ﴾ ’’کسی قدر خوف سے‘‘ یعنی دشمنوں کے خوف سے ﴿وَالۡجُوۡعِ ﴾ ’’اور بھوک سے‘‘ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انھیں ضرور آزمائے گا۔ کیونکہ اگراللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیا تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اور آزمائش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ﴾ ’’اور کچھ مالوں کی کمی سے‘‘ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سماوی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، ظالم حکومتوں کے مال چھین لینے اور راہزن ڈاکوؤں کے ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پیش آتا ہے۔ ﴿وَالۡاَنۡفُسِ ﴾ ’’اور جانوں کی کمی سے‘‘ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندۂ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔ ﴿وَالثَّمَرٰتِ﴾ ’’اور پھلوں کی کمی سے‘‘ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سماوی اور ٹڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہو گئے۔ (۱) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (۲) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا۔ چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ناراضی حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب ومحن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہو گا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے۔ بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے کیونکہ یہ مصیبت اس کے لیے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَبَشِّرِ الصّٰؔبِرِيۡنَؔ﴾ ’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی …

Al-Baqara 2:155Listen in Qur'an →
156

ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۭ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تم کو کچھ نہ کچھ خوف اور بھوک اور کمی کرنے سے مالوں اور جانوں اور پھلوں میں سےاور خوشخبری دے دیجیے صبر کرنے والوں کو(155) وہ لوگ کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں، بلاشبہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں(156) یہی لوگ، ان کے لیے بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور رحمت اور یہی ہیں ہدایت یافتہ(157)

[155] اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محن کے ذریعے سے آزماتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انھیں کبھی مصائب ومحن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انھیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انھیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا ﴿بِشَيۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ ﴾ ’’کسی قدر خوف سے‘‘ یعنی دشمنوں کے خوف سے ﴿وَالۡجُوۡعِ ﴾ ’’اور بھوک سے‘‘ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انھیں ضرور آزمائے گا۔ کیونکہ اگراللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیا تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اور آزمائش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ﴾ ’’اور کچھ مالوں کی کمی سے‘‘ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سماوی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، ظالم حکومتوں کے مال چھین لینے اور راہزن ڈاکوؤں کے ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پیش آتا ہے۔ ﴿وَالۡاَنۡفُسِ ﴾ ’’اور جانوں کی کمی سے‘‘ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندۂ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔ ﴿وَالثَّمَرٰتِ﴾ ’’اور پھلوں کی کمی سے‘‘ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سماوی اور ٹڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہو گئے۔ (۱) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (۲) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا۔ چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ناراضی حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب ومحن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہو گا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے۔ بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے کیونکہ یہ مصیبت اس کے لیے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَبَشِّرِ الصّٰؔبِرِيۡنَؔ﴾ ’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی …

Al-Baqara 2:156Listen in Qur'an →
157

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌۭ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں

اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تم کو کچھ نہ کچھ خوف اور بھوک اور کمی کرنے سے مالوں اور جانوں اور پھلوں میں سےاور خوشخبری دے دیجیے صبر کرنے والوں کو(155) وہ لوگ کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں، بلاشبہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں(156) یہی لوگ، ان کے لیے بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور رحمت اور یہی ہیں ہدایت یافتہ(157)

[155] اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محن کے ذریعے سے آزماتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انھیں کبھی مصائب ومحن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انھیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انھیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا ﴿بِشَيۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ ﴾ ’’کسی قدر خوف سے‘‘ یعنی دشمنوں کے خوف سے ﴿وَالۡجُوۡعِ ﴾ ’’اور بھوک سے‘‘ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انھیں ضرور آزمائے گا۔ کیونکہ اگراللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیا تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اور آزمائش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ﴾ ’’اور کچھ مالوں کی کمی سے‘‘ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سماوی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، ظالم حکومتوں کے مال چھین لینے اور راہزن ڈاکوؤں کے ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پیش آتا ہے۔ ﴿وَالۡاَنۡفُسِ ﴾ ’’اور جانوں کی کمی سے‘‘ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندۂ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔ ﴿وَالثَّمَرٰتِ﴾ ’’اور پھلوں کی کمی سے‘‘ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سماوی اور ٹڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہو گئے۔ (۱) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (۲) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا۔ چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ناراضی حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب ومحن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہو گا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے۔ بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے کیونکہ یہ مصیبت اس کے لیے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَبَشِّرِ الصّٰؔبِرِيۡنَؔ﴾ ’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی …

Al-Baqara 2:157Listen in Qur'an →
158

۞ إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ ٱلْبَيْتَ أَوِ ٱعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

بے شک صفا اور مروہ، اللہ کی (عظمت کی) نشانیوں میں سے ہیں، پس جو شخص حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ کرے تو نہیں کوئی گناہ اس پر یہ کہ طو اف کرے وہ ان دونوں کااور جو شخص خوشی سے کوئی نیکی کرے تو بلاشبہ اللہ قدردان، جاننے والا ہے(158)

[158] اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ ﴾ ’’بے شک صفا اور مروہ‘‘ یعنی صفا اورمروہ دو معروف پہاڑیاں ﴿ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے دین کی ظاہری علامتیں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبدیت کو جانچتا ہے، اور جب صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کے شعائر میں شمار ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے شعائر کی تعظیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَى الۡقُلُوۡبِ ﴾(الحج : 22؍32) ’’اور جو کوئی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ فعل دلوں کا تقویٰ ہے۔‘‘ دونوں نصوص مجموعی طور پر اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرنا دلوں کا تقویٰ ہے اور تقویٰ ہر مکلف پر فرض ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صفا و مروہ کی سعی (دونوں پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا) فرض اور حج و عمرہ کا لازمی رکن ہے۔ جیسا کہ جمہور فقہاء کا مسلک ہے اور رسول اللہﷺکی احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ آپ نے خود بھی یہ کام کیا اور فرمایا :’خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ‘ ’’اپنے مناسک حج مجھ سے اخذ کرو۔‘‘(صحیح مسلم، الحج، باب استحباب رمي جمرۃ العقبۃ ……الخ، حديث:1297، و سنن البيھقی الکبری:5؍125)﴿ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَيۡتَ اَوِاعۡتَمَرَ فَلَاجُنَاحَ عَلَيۡهِ اَنۡ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ﴾ ’’پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے‘‘ چونکہ جاہلیت کے زمانے میں صفا اور مروہ پر بت نصب تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی اس لیے وہم دور کرنے اور مسلمانوں کے رفع حرج کے لیے فرمایا کہ ان کے طواف میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو رفع کرنے کے لیے گناہ کی نفی کی ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ان کے مابین سعی لازم نہیں۔ نیز حج اور عمرہ میں ان کی سعی میں بطور خاص گناہ کی نفی، اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ حج یا عمرہ کے بغیر صرف ان کی سعی کرنا جائز نہیں۔ بخلاف طواف بیت اللہ کے۔ کیونکہ وہ حج اور عمرہ کے ساتھ بھی مشروع ہے اور طواف ایک مستقل عبادت بھی ہے (یعنی حج اور عمرے کے بغیر بھی طواف جائز ہے) لیکن صفا اور مروہ کے مابین سعی، عرفہ اور مزدلفہ میں وقوف اور رمی جمار یہ تمام افعال دیگر مناسک حج کے ساتھ کیے جاتے ہیں اگر یہ افعال دیگر مناسک حج کے ساتھ نہ کیے جائیں بلکہ اکیلے کیے جائیں تو یہ بدعت ہوں گے، اس لیے کہ بدعت کی دو اقسام ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی کسی ایسے طریقے سے عبادت کرنا جو اصل میں اس نے مشروع نہیں کی۔ (۲) بدعت کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عبادت ایک خاص طریقے پر مشروع کی ہے اور اس کو کسی مختلف طریقے سے کیا جائے۔ مذکورہ بدعات اسی دوسری قسم سے ہوں گی۔ ﴿ وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا ﴾ ’’اور جو کوئی نیک کام کرے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ نیکی کا کام کرتا ہے، جیسے حج، عمرہ، طواف، نماز اور روزہ وغیرہ نیکی کے کام تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ بندۂ مومن جتنی زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے کمال، اس کی بھلائیوں اور اس کے درجات میں، اس کے ایمان میں اضافے کی وجہ سے اضافہ ہوتا ہے۔ اور نیکیوں میں بھلائی کی قید اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نیکی کے طور پر بدعات پر عمل کرتا ہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے مشروع نہیں کیا، اسے محض مشقت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ یہ …

Al-Baqara 2:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَٰبِ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّٰعِنُونَ

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان کو جو ہم نے نازل کیے واضح دلائل اور ہدایت کی باتیں، بعد اس کے کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں، یہی لوگ ہیں، لعنت کرتا ہے ان پر اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے(159) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور (اپنی) اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کیا تو یہی لوگ ہیں متوجہ ہوتا ہوں میں ان پر اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہوں(160) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے تو یہی لوگ ہیں ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(161) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (لعنت) میں نہ ہلکا کیاجائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(162)

[159] یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺکی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’دلائل‘‘ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿ وَالۡهُدٰؔى ﴾ ھُدٰی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دور پھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کر دیا۔ (اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انھیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَ﴾ ’’اور تمام لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی۔ کیونکہ انھوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انھیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔ جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کا مورد یہی شخص ہے۔

[160]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا﴾ ’’مگر جنھوں نے توبہ کی‘‘ یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور اپنی حالت درست کرلی۔‘‘ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کر لی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے کیونکہ اللہ …

Al-Baqara 2:159Listen in Qur'an →
160

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَبَيَّنُوا۟ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان کو جو ہم نے نازل کیے واضح دلائل اور ہدایت کی باتیں، بعد اس کے کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں، یہی لوگ ہیں، لعنت کرتا ہے ان پر اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے(159) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور (اپنی) اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کیا تو یہی لوگ ہیں متوجہ ہوتا ہوں میں ان پر اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہوں(160) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے تو یہی لوگ ہیں ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(161) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (لعنت) میں نہ ہلکا کیاجائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(162)

[159] یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺکی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’دلائل‘‘ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿ وَالۡهُدٰؔى ﴾ ھُدٰی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دور پھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کر دیا۔ (اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انھیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَ﴾ ’’اور تمام لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی۔ کیونکہ انھوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انھیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔ جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کا مورد یہی شخص ہے۔

[160]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا﴾ ’’مگر جنھوں نے توبہ کی‘‘ یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور اپنی حالت درست کرلی۔‘‘ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کر لی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے کیونکہ اللہ …

Al-Baqara 2:160Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.