Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 151–160 of 286

151

كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًۭا مِّنكُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ

جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

اس آیت کے مضمون پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے ، جن کی دعوت اس صورت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دی تھی ۔ اس وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے ۔ جناب خلیل اللہ نے دعا فرمائی تھی کہ :” اے اللہ ، میری اولاد میں سے جو اس گھر کے جوار میں رہتی ہے ، ایک نبی مبعوث فرما ۔ جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے ۔ انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کردے۔ “ یوں مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ان میں رسول اللہ ﷺ کا مبعوث کیا جانا ، اور خود ان کا بطور مسلمان پایاجانا ، یہ دراصل ان کے اباجان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی براہ راست قبولیت ہے ۔ اس میں یہ اشارہ بھی مضمر ہے کہ ان کی تحریک کوئی نئی تحریک نہیں ہے ۔ ایک قدیم تحریک ہے ۔ ان کا قبلہ کوئی نیا قبلہ نہیں ہے ، بلکہ ان کے ابا ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے ۔ اور ان پر اسلام نے جو جودوکرم کیا ہے وہ وہی جودوکرم ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست سے کیا تھا ۔

اس نے تمہیں تمہارا پرانا قبلہ دے دیا ، تمہیں ایک مستقل شخصیت عطاکردی ۔ یہ تو اس کے انعامات کا ایک نمونہ ہے جو وہ تم پر مسلسل کرتا چالا آرہا ہے ۔ اور سب سے پہلی نعمت یہ ہے کہ اس نے تم میں اپنا رسول ﷺ تم ہی میں سے مبعوث فرمایا : كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولا مِنْكُمْ ” جس طرح میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا “

اس نے تمہارے اندر رسالت قائم کردی ۔ کیا یہ تمہارے لئے کوئی کم عزت افزائی ہے ؟ یہودی ایک عرصہ سے آخری رسول کا انتظار کررہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ انہیں میں سے ہوگا اور اس کی قیادت میں وہ قریش پر فتح پائیں گے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ خاتم الرسل تم میں سے چن لیا : يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا ” تمہیں میری آیات سناتا ہے۔ “

وہ جو کچھ پڑھ کر تمہیں سناتا ہے وہ حق ہے ۔ اس فقرے میں ایک شاہانہ حوصلہ افزائی ہے ۔ اللہ کا کلام ، رسول اللہ ﷺ پر نازل ہورہا ہے ، لیکن خطاب اپنے بندوں سے ہورہا ہے ۔ اس انداز کلام پر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم عزت افزائی معلوم ہوتی ہے ۔ دل مارے خوشی کے جھوم جاتا ہے ۔ کیا شان ہے ان لوگوں کی ! وہ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ خداوند قدوس ان سے خطاب کررہا ہے ۔ خود اپنے الفاظ میں ان سے بات ہورہی ہے ۔ کیا عظیم قدردانی ہے یہ ؟ اگر اللہ تعالیٰ ان پر اپنا فضل وکرم نہ کرتا تو یہ وہ شان کہاں سے حاصل کرتے ۔ یہ محض اللہ کی جانب سے باران رحمت کا نتیجہ ہے ۔ ابتدائے آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے انسان کا ڈھانچہ تیار کیا اور اس میں روح پھونکی ۔ اس کی نسل چلائی تاکہ ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کے انعامات کے مستحق ہوں۔ وہ ایسے ہوں ، جو انعامات کو خوش آمدید کہیں۔

وَيُزَكِّيكُمْ ” وہ تمہیں پاک کردے گا۔ “ اگر اللہ نہ ہوتا تو مشرکین اہل عرب اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی پاک نہ ہوتا ۔ نہ پاک ہوتا اور نہ ہی مرتبہ بلند پاتا ۔ اللہ نے ان میں سے رسول بھیجا تاکہ وہ انہیں پاک کردے ۔ ان کے دل کو شرک کی آلائش اور جاہلیت کی آلودگی سے پاک کردے ۔ ان کی روح کو ایسے تمام تصورات سے پاک کردے جن کے بوجھ تلے انسانی روح صدیوں سے دفن ہوکر رہ گئی تھی۔

وہ انہیں شہوانی قوت کی آلودگیوں سے بھی پاک کرتا ہے ، لہٰذا ان کی روح جنسی بےراہ روی کے گڑھے میں نہیں گرتی ۔ وہ لوگ جنہیں اسلام پاک نہیں کرتا ، چاہے زمانہ قدیم کے باشندے ہوں یا زمانہ جدید کے ، وہ گویا گندے پانی کے چشمے سے جنسی پیاس بجھاتے ہیں ۔ جس سے طبیعت نفرت کرتی ہے اور جس سے انسان کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ اور ایک حیوان جو صرف حیوانی فطرت کا پابند ہوتا ہے ۔ اس انسان سے ارفع و برتر ہوجاتا ہے ۔ وہ لوگ جو ایمان سے محروم ہیں ان سے یہ حیوان بدرجہا پاک ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ ان کے معاشرے …

Al-Baqara 2:151Listen in Qur'an →
152

فَٱذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِى وَلَا تَكْفُرُونِ

سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ ” تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ “ یہ وہ کرم ہے جس کا صدور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے ہوسکتا ہے جس کے خزانوں میں کمی نہیں ، جس کے خزانوں پر کوئی چوکیدار نہیں اور جس کی دادوہش کا نہ حساب ہے ، نہ محاسب ۔ اس کے خزانوں سے طلب اور بلاسبب دادوہش ہوتی رہتی ہے ، اس لئے نہیں کہ ضرورت مند ہے ، بلکہ اس کے وہ معطی ہے ، وہ فیاض ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے :” جس نے مجھے دل میں یاد کیا میں بھی اسے دل میں یاد کروں گا ، جس نے مجھے بھری مجلس میں یاد کیا میں بھی اسے ایسے لوگوں میں یاد کروں گا ، جو اس کے لوگوں سے افضل واخیر ہوں گے۔ “ (حدیث صحیح)

ایسی ہی ایک دوسری حدیث شریف کا مضمون ہے !” رسول اللہ فرماتے ہیں ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اے بنی آدم ! اگر تو نے مجھے دل میں یاد کیا میں بھی تجھے دل میں یاد کروں گا اور اگر تونے مجھے لوگوں میں یاد کیا تو میں بھی تجھے ملائکہ میں یاد کروں گا۔ “

بعض روایات میں آتا ہے ” ایسے لوگوں میں جو ان سے بہتر ہوں گے ۔ اگر تو ایک بالشت میرے قریب آئے گا میں ایک ہاتھ تیرے قریب آؤں گا ۔ اگر تم ایک ہاتھ میرے قریب آؤگے تو میں دوہاتھ تیرے قریب آؤں گا ۔ اگر تو میری طرف چل کر آئے گا تو میں تیری طرف دوڑ کر آؤں گا۔ “

یہ ہے وہ فضل وکرم جس کا بیان الفاظ میں نہیں ہوسکتا ۔ اس کا شکر ، سوائے اس کے کہ دل اپنی گہرائیوں کے ساتھ سجدہ ریز ہوجائے ، ادا نہیں ہوسکتا۔

اللہ کی یاد کیسے ہو ، الفاظ ضروری نہیں ہیں ، یہ تو دل کی توجہ ہے ۔ دل کا اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہے ، چاہے الفاظ ساتھ ہوں یا نہ ہوں ۔ یاد تو ایک دلی شعور ہے اور انفعال ہے اور اس شعور وانفعال کے ادنیٰ اثرات یہ ہوں کہ انسان اللہ کی اطاعت پر آمادہ ہوجائے اور اعلیٰ اثرات یہ ہوں کہ انسان کو اللہ کا دیدار نصیب ہو ، جو لوگ وصول الی اللہ کی نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں اور جو ذوق دیدار چکھ لیتے ہیں ان کے پیش نظر اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ صرف دیداریار۔

وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ ” میرا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو۔ “ شکر کے بھی کئی درجے ہوتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کے انعامات کا اقرار کرے ۔ اور پھر اس کی نافرمانی سے حیا کرے ۔ اور آخری درجہ یہ ہے کہ انسان مجسمہ شکر بن جائے ۔ بدن کی ہر حرکت ، زبان کا ہر لفظ ، دل کی ہر دھڑکن اور دماغ کا ہر تصور نمونہ شکر ہو ۔ کفر سے روکا گیا ہے ۔ اشارہ اس آخری مقام کی طرف ہے ، جس تک آخرکار ایک ناشکر گزار انسان پہنچ جاتا ہے ۔ لاتکفرون سے وہ آخری نکتہ بتایا گیا ہے جہاں ناشکری کے خط کی انتہا ہوجاتی ہے ۔ العیاذ باللہ ۔

تحویل قبلہ کے موقع پر اشتباہ اور ہدایات بالکل واضح اور مناسب ہیں ۔ ذکر الٰہی وہ نقطہ ہے جہاں آکر مومن کا دل اللہ کی عبادت کے لئے تیار ہوتا ہے ۔ پھر وہ ایک خالصتاً اللہ کا ہوجاتا ہے اور اسی نسبت سے منسوب ہوتا ہے ، یعنی بندگی کی وجہ سے بندہ ہوجاتا ہے۔

یہودی سازشوں سے خبردار کرنے کے موقع پر بھی فکر وشکر کی ہدایت دینا مناسب ہے ۔ ہم کہہ آئے ہیں کہ یہودیوں کا آخری مقصد یہ تھا کہ مومنین کو دوبارہ کفر میں داخل کردیں ۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں سے یہ نعمت چھن جائے ، جو بطور خاص اللہ نے انہیں دی تھی ۔ کیا نعمت ؟ نعمت ایمان ۔ وہ بلند ترین نعمت جو کسی فرد یا کسی جماعت کو دی جاسکتی ہے ۔ خصوصاً عربوں کے لئے تو یہ ایک عظیم نعمت سے بھی عظیم تر تھی ۔ اسی سے تو عربوں کا وجود قائم ہوا۔ تاریخ آدمیت میں عربوں نے ایک عظیم رول ادا کیا ، ان کا نام اس نظریہ حیات سے منسلک ہوگیا جس کے وہ حامل تھے اور جسے انہوں نے بنی نوع آدم تک پہنچانا تھا۔

اسی نعمت کے بغیر عرب کچھ نہ تھے ۔ گمنام تھے ، اب بھی گمنام ہیں اور اگر وہ نہ ہو۔ آئندہ بھی گمنام ہوں گے اگر اسے نہ اپنائیں گے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے سوا ان کے پاس تھا ہی کیا ؟ جس کے ذریعے وہ دنیا میں کوئی …

Al-Baqara 2:152Listen in Qur'an →
153

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

قرآن کریم میں صبر کا تذکرہ بتکرار ہوا ہے ۔ اس لئے کہ تحریک اسلامی کو سخت ترین مخالفتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ اس راہ میں صبر و استقامت کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ تحریک اسلامی کو مسلسل مشکلات اور لگاتار کشمکشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا لہٰذا اس بات کی ضرورت تھی کہ اہل ایمان صبر سے کام لیں اور ان کے نفوس داخلی اور خارجی معاملات میں بیدار رہیں ۔ اہل ایمان کی قوتیں منظم رہیں اور ان کے اعصاب پختہ رہیں ۔ ایسے حالات میں صبر و استقامت کے سوا چارہ کار ہی کیا ہے ؟ اس طرح عبادت میں بھی صبر کی ضرورت ، گناہوں سے بچنے میں صبر کی ضرورت ، غرض ان مختلف النوع سازشوں کے خلاف صبر ، نصرت خداوندی میں تاخیر پر صبر ، طویل ترجدوجہد پر صبر ، باطل کی قوت پر صبر ، دین کے حامیوں کی قلت پر صبر ، بغض وعداوت کے بوجھ پر اور غرض پرستی کی تلخی پر صبر۔

جب صبر طویل ہوجاتا ہے اور مشکلات بڑھ جاتی ہے تو قوت صبر کمزور پڑجاتی ہے ۔ اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ اگر بیرونی امداد میسر نہ ہو تو پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے ، اس لئے نماز کے ساتھ ساتھ صبر کی تلقین بھی کی جارہی ہے ۔ نماز وہ سرچشمہ ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا ۔ یہ وہ زاد راہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ یہ طبع تجدید قوت ہے ، یہ قوت دل کا سامان ہے ۔ اس سے صبر کی بھرپور قوت حاصل ہوجاتی ہے اور صبر کے ساتھ رضامندی وخندہ پیشانی اور یقین محکم پیدا ہوتا ہے۔

انسان فانی ہے ، ضعیف ہے اور محدود قوت کا مالک ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ قوت کبریٰ سے لو لگائے ۔ جب اس کا مقابلہ شر کی ظاہری اور باطنی قوتوں سے ہو اور معاملہ اس کی محدود قوت و برداشت سے بڑھ جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس ” عظیم قوت “ سے مددلے ۔ اس راہ میں ایسے مقامات آتے ہیں کہ خواہش نفس کا زور ہوجاتا ہے ، طمع و لالچ کی شدیدکشش ہوتی ہے ۔ اور راہ حق پر استقامت کی جدوجہد بھاری ہوجاتی ہے ، فسق وفجور اور ظلم وعدوان کی قوتیں زور پکڑلیتی ہیں اور مقابلہ دشوار ہوجاتا ہے ، راستہ طویل ہوجاتا ہے ، مشقت بڑھ جاتی ہے اور زندگی کے شب وروز تاریک نظر آتے ہیں۔

انسان غور کرتا ہے دیکھتا ہے کہ ابھی وہ کسی مقام تک نہیں پہنچ سکا ، لیکن موت قریب ہے ۔ اس نے کچھ پایا نہیں اور زندگی کا سورج قریب الی الغروب ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ شر دھنی ہوئی روئی کی طرح پھولا ہوا ہے اور حق سکڑا ہوا ہے۔ منزل دور ہے ، افق پر سے آخری شعاع امید غائب بھی ہے اور راستے پر کوئی نشان راہ نہیں ۔ ایسے حالات میں صبر وصلوٰۃ ہی سرچشمہ قوت ہوتے ہیں۔

ایسے مقامات اور ایسی منازل ہی پر نماز کی قدر و قیمت معلوم ہوتی ہے ۔ انسان فانی اور خدائے باقی کے درمیان واحد براہ راست رابطہ نماز سے قائم ہوتا ہے ۔ یہ وہ مقام التقا ہے جس پر ایک تنہا قطرہ ابدی سرچشمہ سے آملتا ہے ۔ یہ اللہ کے ان خزانوں کی کنجی ہے جو مستغنی کردیتے ہیں ، جھولی بھردیتے ہیں اور رحمتوں کی بارش کردیتے ہیں ۔ یہ ایک جست ہے اس کے ذریعے انسان اس چھوٹی اور محدود دنیا کی حدود کو پھاڑ کر عظیم تر کائنات کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے ۔ وہ سخت گرمی اور تپتی ہوئی دھوپ میں ۔ ٹھنڈی چھاؤں ہے ، نسیم سحر اور خوشگوار شبنم ہے ۔ وہ تھکے مارے دل کے لئے ایک خوشگوار احساس ہے ۔

حدیث میں آتا ہے کہ رسول ﷺ جب پریشان ہوتے ، سخت حالات سے دوچار ہوتے تو فرماتے تھے !” بلال ! ذرا ہمیں اس کے ذریعے تسکین دو ۔ “ جب بھی آپ ﷺ پریشانیوں کے ہجوم میں ہوتے ، نماز کثرت سے پڑھنا شروع کردیتے ۔

اسلامی نظام دراصل عبادت اور بندگی کا نظام ہے ۔ اس کی عبادت بھی حکیمانہ ہے اس کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ وہ زاد راہ ہے ۔ روحانی امداد کا سرچشمہ ہے ۔ اور دل کی صفائی ہے ۔ جب بھی انسان مصیبت میں مبتلاہو ، دل تنگ ہو ، یہ عبادت کشادگی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور انسان آرام ، خندہ پیشانی اور خوشگواری سے اس مصیبت کو انگیز …

Al-Baqara 2:153Listen in Qur'an →
154

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

معرکہ حق و باطل میں کچھ لوگ کام آئیں گے ، راہ حق میں جان دیں گے ۔ کچھ عزیز ومحبوب مارے جائیں گے ، کچھ شرفاء اور دین دار بھی شہید ہوں گے ، تو جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں اور جو لوگ معرکہ خیر وشر میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ، وہ بالعموم پاک نیت اور صاف دل اور صیقل شدہ روح کے مالک ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ اگر اللہ کی راہ میں مارے جائیں تو وہ مردہ نہیں ہیں ۔ درحقیقت وہ زندہ ہیں ۔ یہ جائز نہیں کہ انہیں مردہ کہو ، نہ تو اپنے احساس اور شعور میں انہیں مردہ سمجھو اور نہ ہی زبان سے انہیں مردہ پکارو ۔ وہ تو زندہ ہیں اور اللہ اس پر گواہ ہے ۔ وہ زندہ ہیں یقیناً وہ زندہ !

چشم ظاہر بیں ، دیکھتی ہے کہ بظاہر وہ مرچکے ہیں ۔ کیا یہ سطحی نظر موت وحیات کی حقیقت کا فیصلہ کرسکتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ زندگی عمل ، ارتقاء اور تسلسل کا نام ہے ۔ موت بےکاری ، جمود اور انقطاع سے عبارت ہے ۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کا عمل جاری رہتا ہے ، ان کی شہادت معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہتی ہے ۔ ان کا خون اس نظریہ حیات کو پہنچتا ہے اور اس سے نظریہ حیات نشوونما پاتا ہے ۔ دوسرے افراد اس شہادت سے متاثر ہوتے رہتے ہیں اور یہ تاثر لگاتار قائم رہتا ہے ۔ شہادت کے بعد بھی شہداء فعال اور موثر ہوتے ہیں ۔ ان کا خون پورے معاشرے کی زندگی میں ایک رنگ پیدا کرتا رہتا ہے ۔ اور یہ تسلسل تاقیامت رہتا ہے ۔ یہ ہے زندگی ، بلکہ حیات جاوداں ۔ اس اعتبار سے تو لوگوں کی اس دنیا میں بھی وہ زندہ ہیں ۔

لیکن وہ اپنے رب کے ہاں بھی زندہ ہیں اور وہاں بھی اس طرح زندہ ہیں جیسے یہاں زندہ ہیں۔ رب کے ہاں ان کی زندگی کی کیا کیفیت ہے ؟ اسی طرح ہے جیسے یہاں ہے یا یہ کہ ہمیں اس کیفیت کا پورا شعور نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَدراصل وہ زندہ ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ۔ “ ہمارے علم کا دائرہ محدود ہے ۔ اور یہ ایسی زندگی ہے جسے ہم نہیں سمجھ سکتے ۔ لیکن بہرحال وہ ہیں زندہ !

وہ زندہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عام مردوں کی طرح انہیں غسل نہیں دیا جاتا ۔ انہیں ان کے انہی کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے جن میں وہ شہادت پاتے ہیں ۔ غسل سے غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ مردے کا جسم پاک ہوجائے لیکن شہداء پہلے سے پاک ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کے بدن میں روح ہوتی ہے ۔ دنیا میں جو کپڑے انہوں نے پہنے ہوئے تھے قبر میں بھی وہی پہنیں گے کیونکہ بہرحال وہ زندہ ہیں ۔

وہ زندہ ہیں ۔ ان کے خاندان میں اس قتل پر ماتم نہیں ہے۔ ان کے یاروں دوستوں پر یہ جدائی گراں نہیں ہے۔ وہ اس طرح زندہ ہیں کہ اپنے خاندان اور عزیز و اقارب کے امور حیات میں شریک ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ۔ اسی لئے تو پیچھے رہنے والوں پر ان کی جدائی گراں نہیں ہوتی ۔ یہ عظیم واقعہ ، یہ عظیم قربانی نہ انہیں خائف کرتی ہے ، نہ ان کے لئے بوجھ بنتی ہے ۔ وہ زندہ ہیں تو پھر ؟ وہ اپنے رب کے ہاں باعزت طور پر رہ رہے ہیں ۔ ان کو بلند ترین اعزاز دیا جاتا ہے اور ان کی اس قربانی کا پورا پورا بدلہ چکا دیا جاتا ہے ، بلکہ فضل عظیم اس پر مزید ہوتا ہے۔

صحیح مسلم میں روایت ہے ” شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں ، جنت میں جہاں چاہیں اڑتی پھرتی ہیں ، پھر وہ عرش کے نیچے معلق قندیلوں میں آکر بسیرا کرتی ہیں ۔ “ اس کی اطلاع تو رب ذوالجلال کو ہوتی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” تم کیا چاہتے ہو ؟ “ وہ کہتے ہیں ! ہمارے رب ہمیں اور کیا چاہئے ۔ آپ نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا ؟ اللہ تعالیٰ پھر وہی سوال فرماتے ہیں ۔ جب انہیں علم ہوجاتا ہے کہ جب تک وہ کچھ مانگیں گے نہیں جان نہ چھوٹے گی ۔ تب وہ کہتے ہیں ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں دوبارہ دنیا میں لوٹادیں ، ہم آپ کی راہ میں لڑیں ، ایک بار پھر مارے جائیں ۔ اس لئے کہ شہادت کا اجر تو وہ خود دیکھ …

Al-Baqara 2:154Listen in Qur'an →
155

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو

اب اس سبق میں تحریک اسلامی کو نئے واقعات اور نئی صورتحال کے مقابلے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ آنے والے واقعات کے سلسلے میں اسے ایک صحیح نقطہ نظر دیا جاتا ہے :

تربیت کے لئے انسان کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے ۔ خوف وخطر میں مبتلا کرکے ، جان ومال کا نقصان دے کر ، مصائب اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے ، اللہ طالب صادق کے عزم صمیم کا امتحان کرتے ہیں ۔ یہ آزمائشیں اس لئے ضروری ہیں کہ مؤمنین اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرنے کے قابل ہوسکیں اور اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں ، جتنا مصائب سے دوچار ہوں ، اسی قدر نظریہ حیات انہیں عزیز ہوتا چلاجائے۔

وہ نظریات جن کے لئے ان مجاہدین نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو نہ کوئی مصیبت برداشت کی ہو ، پائیدار نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگ مصیبت کے پہلے مرحلے ہی میں انہیں الوداع کہہ دیتے ہیں ۔ آزمائشیں دراصل ایک نفسیاتی امتحان ہوتی ہیں ، جو ایک کارکن اپنے نظریہ حیات کے لئے پاس کرتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے پہلے یہ نظریہ اس کارکن کے لئے عزیز ترازجان ہوجاتا ہے ۔ کارکن نظریہ کی خاطر جب دکھ پائیں گے اور مال خرچ کریں گے تو پھر وہ اس کی قدر کریں گے اور اس کی حفاظت بھی کریں گے ۔

دوسرے لوگ بھی اس نظریے کی قدر تب ہی کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ اس نظریے کو ماننے والے ان پر جان دیتے ہیں اور اس کی وجہ سے آنے والی تمام مصیبتوں کو بخوشی برداشت کرتے ہیں ۔ اپنے نظریات کے لئے مصیبت اٹھانے والوں کو دیکھ کر عام تماشائی بھی یہ کہیں گے ” وہ نظریہ حیات جس کے لئے یہ لوگ لڑتے ہیں ، کوئی بڑی ہی قیمتی چیز ہے ، اگر وہ قیمتی نہ ہوتی تو یہ لوگ اس قدر عظیم قربانیاں ہرگز نہ دیتے اور ان عظیم مصائب وشدائد پر صبر نہ کرتے۔ “

ایسے حالات میں اس نظریہ حیات کے مخالفین بھی لاجواب ہوجاتے ہیں اور اس کے بارے میں تحقیق شروع کردیتے ، قدر کرنے لگتے ہیں اور خود بخود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جس تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کی امداد اور نصرت آپہنچتی ہے اور لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔

آزمائش بہت ضروری ہے اس سے نظریاتی لوگوں کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ان کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ مصائب وشداد سے ان کی خفیہ قوتیں جاگ اٹھتی ہیں ۔ ذخیرہ شدہ طاقتوں کے لئے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں جن کے بارے میں ، ان مصائب وشدائد سے پہلے مومن کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

اسلامی اقدار اور اسلامی تصورات اس وقت پختہ اور سیدھے نہیں ہوسکتے جب تک انہیں شدائد ومصائب کی بھٹی سے نہ گزاراجائے ۔ یہ مصائب کا نتیجہ ہی ہوتا ہے کہ کارکنوں کی آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دلوں سے میل دورہوجاتا ہے ۔

اب سے اہم ، سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ مصائب وشدائد کی حالت میں تمام دنیاوی رابطے کٹ جاتے ہیں ۔ مختلف الاقسام اوہام اور تمنائیں غائب ہوجاتی ہیں ، دل اللہ کے لئے خالی ہوجاتا ہے بلکہ صرف اللہ کا سہارا باقی رہ جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے ، جہاں تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ، بصیرت کے دروازے کھل جاتے ہیں ، مطلع دور تک صاف و شفاف ہوتا ہے ، اللہ کے سوا کوئی شئے نظر نہیں آتی ، اللہ کی قوت کے سوا کوئی قوت نظروں میں نہیں جچتی ، اللہ کے سوا کسی کا کوئی اختیار نظر نہیں آتا ، اللہ ہی کی پناہ ہوتی ہے ، اس کے سوا کسی کی پناہ نہیں ہوتی ۔ اس مقام پر پہنچ کر انسانی روح اس حقیقت کے ساتھ یکجا ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کریم کی یہ آیت نفس انسانی کا ایک حصہ بن جاتی ہے ۔

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

” اور خوشخبری سنائیں ان صبر کرنے والوں کو ، جن پر کبھی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ! ہم تو اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ “ بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں سب کے سب اللہ کے لئے ہیں ۔ ہمارے جسم کے …

Al-Baqara 2:155Listen in Qur'an →
156

ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۭ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اب اس سبق میں تحریک اسلامی کو نئے واقعات اور نئی صورتحال کے مقابلے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ آنے والے واقعات کے سلسلے میں اسے ایک صحیح نقطہ نظر دیا جاتا ہے :

تربیت کے لئے انسان کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے ۔ خوف وخطر میں مبتلا کرکے ، جان ومال کا نقصان دے کر ، مصائب اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے ، اللہ طالب صادق کے عزم صمیم کا امتحان کرتے ہیں ۔ یہ آزمائشیں اس لئے ضروری ہیں کہ مؤمنین اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرنے کے قابل ہوسکیں اور اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں ، جتنا مصائب سے دوچار ہوں ، اسی قدر نظریہ حیات انہیں عزیز ہوتا چلاجائے۔

وہ نظریات جن کے لئے ان مجاہدین نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو نہ کوئی مصیبت برداشت کی ہو ، پائیدار نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگ مصیبت کے پہلے مرحلے ہی میں انہیں الوداع کہہ دیتے ہیں ۔ آزمائشیں دراصل ایک نفسیاتی امتحان ہوتی ہیں ، جو ایک کارکن اپنے نظریہ حیات کے لئے پاس کرتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے پہلے یہ نظریہ اس کارکن کے لئے عزیز ترازجان ہوجاتا ہے ۔ کارکن نظریہ کی خاطر جب دکھ پائیں گے اور مال خرچ کریں گے تو پھر وہ اس کی قدر کریں گے اور اس کی حفاظت بھی کریں گے ۔

دوسرے لوگ بھی اس نظریے کی قدر تب ہی کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ اس نظریے کو ماننے والے ان پر جان دیتے ہیں اور اس کی وجہ سے آنے والی تمام مصیبتوں کو بخوشی برداشت کرتے ہیں ۔ اپنے نظریات کے لئے مصیبت اٹھانے والوں کو دیکھ کر عام تماشائی بھی یہ کہیں گے ” وہ نظریہ حیات جس کے لئے یہ لوگ لڑتے ہیں ، کوئی بڑی ہی قیمتی چیز ہے ، اگر وہ قیمتی نہ ہوتی تو یہ لوگ اس قدر عظیم قربانیاں ہرگز نہ دیتے اور ان عظیم مصائب وشدائد پر صبر نہ کرتے۔ “

ایسے حالات میں اس نظریہ حیات کے مخالفین بھی لاجواب ہوجاتے ہیں اور اس کے بارے میں تحقیق شروع کردیتے ، قدر کرنے لگتے ہیں اور خود بخود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جس تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کی امداد اور نصرت آپہنچتی ہے اور لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔

آزمائش بہت ضروری ہے اس سے نظریاتی لوگوں کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ان کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ مصائب وشداد سے ان کی خفیہ قوتیں جاگ اٹھتی ہیں ۔ ذخیرہ شدہ طاقتوں کے لئے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں جن کے بارے میں ، ان مصائب وشدائد سے پہلے مومن کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

اسلامی اقدار اور اسلامی تصورات اس وقت پختہ اور سیدھے نہیں ہوسکتے جب تک انہیں شدائد ومصائب کی بھٹی سے نہ گزاراجائے ۔ یہ مصائب کا نتیجہ ہی ہوتا ہے کہ کارکنوں کی آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دلوں سے میل دورہوجاتا ہے ۔

اب سے اہم ، سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ مصائب وشدائد کی حالت میں تمام دنیاوی رابطے کٹ جاتے ہیں ۔ مختلف الاقسام اوہام اور تمنائیں غائب ہوجاتی ہیں ، دل اللہ کے لئے خالی ہوجاتا ہے بلکہ صرف اللہ کا سہارا باقی رہ جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے ، جہاں تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ، بصیرت کے دروازے کھل جاتے ہیں ، مطلع دور تک صاف و شفاف ہوتا ہے ، اللہ کے سوا کوئی شئے نظر نہیں آتی ، اللہ کی قوت کے سوا کوئی قوت نظروں میں نہیں جچتی ، اللہ کے سوا کسی کا کوئی اختیار نظر نہیں آتا ، اللہ ہی کی پناہ ہوتی ہے ، اس کے سوا کسی کی پناہ نہیں ہوتی ۔ اس مقام پر پہنچ کر انسانی روح اس حقیقت کے ساتھ یکجا ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کریم کی یہ آیت نفس انسانی کا ایک حصہ بن جاتی ہے ۔

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

” اور خوشخبری سنائیں ان صبر کرنے والوں کو ، جن پر کبھی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ! ہم تو اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ “ بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں سب کے سب اللہ کے لئے ہیں ۔ ہمارے جسم کے …

Al-Baqara 2:156Listen in Qur'an →
157

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌۭ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں

اللہ کی طرف سے عنایات ہوں گی ۔ یہاں صابرین کے لئے لفظ صلوات استعمال کرکے گویا صابرین کو ان صلوات (عنایات) میں شریک کردیا گیا ، جو اللہ اور اس کے فرشتے نبیوں پر بھیجتے رہتے ہیں ۔ کیا ہی بلند مقام ہے ۔ کیا فیضان رحمت ہے کہ خود اللہ گواہ ہے کہ مصائب میں صبر کرنے والے ہی دراصل صحیح معرفت رکھتے ہیں اور صحیح راہ پر گامزن ہیں ۔ غرض ہر بات عظیم اور محیر العقول ہے ۔

تحریک اسلامی کی تیاری اور تربیت کے اس سبق کے آخر تک ہم پہنچ گئے ۔ ذرارک کر جائزہ لیجئے ! مصائب وشدائد ، قتل وشہادت ، جان ومال کا نقصان ، بھوک و افلاس اور خوف وخطر اور دوسری مشکلات کے لئے یہ عظیم تیاری اور تربیت ، پر آشوب اور پر خطر اور عظیم المشقت طویل ترین معرکہ حق و باطل کے لئے یہ عظیم تیاری ۔ یہ سب امور گہرے غور وفکر کے مستحق ہیں۔

ذرا دیکھئے ! اللہ ان تمام مصائب اور مشکلات کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف صرف ایک بات ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایات ، اس کی جانب سے رحمت کے مستحق ہیں اور یہ اعلان کہ دنیا میں یہی لوگ ہدایت پر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس موقع پر مؤمنین صابرین کے ساتھ کسی ظفرمندی اور کامرانی کا وعدہ نہیں فرماتے ، کسی خصوصی امداد کا بھی یہاں کوئی اعلان نہیں کیا جاتا ۔ نہ یہاں مال غنیمت کا لالچ دیا جاتا ہے ۔ کچھ بھی نہیں ! صرف اللہ کی رحمت و عنایت کا وعدہ ہوتا ہے اور یہ شہادت دی جاتی ہے کہ وہ یقیناً سچائی اور حق پر ہیں ۔۔۔ اللہ تعالیٰ صابرین کو ایک ایسے کام کے لئے تیار کررہا تھا جو ان کی ذات وحیات سے زیادہ قیمتی ہے ۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ہر اس خواہش ورغبت سے پاک کرنا چاہتا ہے ، جس کا تعلق دنیا سے ہو۔ یہاں تک کہ ان کو ہدایت کی گئی کہ جس نصب العین کے لئے وہ کام کررہے ہیں ، جس نظریہ حیات کے لئے وہ جدوجہد کررہے ہیں اور جان تک دینے کو تیار ہیں ، اس کے غلبہ کی خواہش تک دلوں سے نکال دیں ۔ اور صرف رضائے الٰہی اور اطاعت خداوندی کو اپنا منشور قرار دیں ۔ وہ صرف حکم الٰہی کے پابند ہوں۔ وہ آگے بڑھتے چلے جائیں اور ان کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ، اللہ کی رحمت کے حصول اور اس اطمینان کے سوا کچھ نہ ہو ، کہ وہ حق کے لئے نکلے ہیں اور صحیح رستے پر ہیں ۔ یہ ہے صحیح نصب العین ۔ یہ ہے صحیح غرض وغایت اور یہ اور صرف یہ ہے وہ ثمر شیریں جس کے لئے وہ والہانہ دوڑ رہے ہیں ۔ رہی یہ امید کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں انہیں فتح ونصرت حاصل ہوگی ۔ انہیں کرہ ارض پر غلبہ و اقتدار نصیب ہوگا تو یہ تصرف و غلبہ یہ اقتدار واختیار ان کے لئے تو نہیں ہے ، یہ تو اس دعوت اسلامی کا غلبہ ہوگا جس کے وہ حامل ہیں ۔

رہے اہل ایمان مجاہدین ، تو انہیں ایک عظیم اجر دے دیا گیا ، اللہ کی عنایات اور اللہ کی رحمت ہوگی اور انہیں یہ سرٹیفکیٹ دے دیا گیا کہ وہی حق پر ہیں ۔ اور انہیں یہ اجر کس کے بدلے دیا گیا ؟ جان ومال کی قربانی پر اور آمدنیوں پر دیا گیا۔ یہ اللہ کی راہ میں قتل و شہادت پر دیا گیا ہے ۔ لیکن پھر بھی اللہ کے فضل و عنایت کا پلڑا بھاری ہے ۔ یہ عنایت تمام عنایات سے بھاری ہے ۔ فتح ، نصرت اور تمکن فی الارض تمام امور سے یہ عنایت بھاری ہے ۔ نیز یہ اس مسرت سے زیادہ خوش آئند ہے جو فتح ونصرت اور اسلامی انقلاب کے بعد حسرت دل پوری ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔

یہ ہے وہ ترتیب جس سے اللہ تعالیٰ نے اسلامی محاذ کو گزارا۔ بنی نوع انسان میں سے ، جو شخص اپنے نفس ، اپنی دعوت اور اپنے دین کو پاک وصاف کرنا چاہتا ہے ، اسے چاہئے کہ وہ تربیت کے اس انداز کو اپنائے۔

درس 10 ایک نظر میں

اس سبق میں بعض بنیادی اصولوں کی تصحیح مطلوب ہے ، جن پر اسلامی تصور حیات کی عمارت قائم ہے ۔ اسلام کے ان بنیادی اصولوں کے سلسلے میں مدینہ طیبہ کے یہودی تلبیس کرتے تھے اور حق کو باطل سے ملاتے تھے ، جان بوجھ کر حق چھپاتے تھے ، مسلمانوں کے دلوں میں …

Al-Baqara 2:157Listen in Qur'an →
158

۞ إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ ٱلْبَيْتَ أَوِ ٱعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

اس آیت کی شان نزول میں متعدد روایات منقول ہیں ۔ اسلام نے مہاجرین وانصار کے سابقون الاولون کے دلوں میں جس قسم کا تصور حیات پیدا کیا تھا اس کی نوعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سب سے زیادہ موضوع اور اس وقت نفیساتی منطق کے مطابق کتب حدیث کی وہ روایت ہے جس میں کہا گیا ہے :” بعض مسلمان حج وعمرہ کے موقع پر صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے سے کراہت محسوس کرتے تھے ۔ کیونکہ جاہلیت کے زمانے میں ان پہاڑیوں کے درمیان وہ اس لئے سعی کرتے تھے کہ یہ مقامات دو بتوں ، اساف ونائلہ کے استھان تھے ۔ اس لئے اسلام آنے کے بعد اب مسلمان اس سعی میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے اور اسے زمانہ جاہلیت کا ایک فعل تصور کرنے لگے تھے ۔ “

امام بخاری (رح) نے محمد ابن یوسف ، سفیان ، عاصم بن سلیمان کے سلسلے سے روایت نقل کی ہے ۔ سلیمان کہتے ہیں : میں نے حضرت انس ؓ سے صفاو مروہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا :” ہم سمجھتے تھے کہ یہ دورجاہلیت کی رسومات ہیں ۔ جب اسلام کا ظہور ہوا تو ہم نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا ترک کردی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی ” صفا ومروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ “

امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ اساف بت صفا پر تھا ، اور نائلہ مروہ پر اور وہ انہیں بوسہ دیا کرتے تھے ۔ اس لئے اسلام کے بعد مسلمانوں نے ان کے درمیان سعی کرنے میں کراہت محسوس کی اور اسی پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

روایات میں اس آیت کے نزول کی تاریخ متعین نہیں ہے ، البتہ راجع صورت یہ ہے کہ تحویل قبلہ کے سلسلہ میں جو آیات نازل ہوئیں یہ ان کے بعد نازل ہوئی ہے ۔ اگرچہ اس دور میں مکہ مکرمہ دارالحرب بن گیا تھا ، لیکن اس کے باوجود بعض مسلمان انفرادی طور پر حج اور عمرہ کرسکتے تھے ۔ ایسے ہی لوگوں نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کو جاہلیت کی ایک رسم سمجھا ہوگا۔ ان کے دلوں میں طویل تعلیم و تربیت کے نتیجے میں ایمانی تصور حیات جاگزیں ہوچکا تھا۔ اور اس کی برکت سے وہ جاہلیت کے ہر فعل اور ہر رسم و رواج کو شک اور کراہیت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ وہ جاہلیت کے ہر کام کے بارے میں اس قدر حساس ہوگئے تھے کہ جاہلیت کے دور میں کئے جانے والے ہر فعل کو کرتے ہوئے ڈرتے تھے ، مبادا کہ اسلام نے اسے ترک کرنے کا حکم دیا ہو ۔ مسلمانوں نے مختلف مواقع پر اپنے اس احساس کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔

اسلام کی دعوت نے ان لوگوں کے دلوں کو خوب جھنجھوڑ دیا تھا اور یہ دعوت ان کے دلوں کی گہرائیوں تک اترچکی تھی اور اس دعوت نے ان کے دلوں میں ایک عظیم نفسیاتی اور شعوری انقلاب برپا کردیا تھا ۔ وہ اپنی ہر بات کو کراہیت سے دیکھتے تھے بلکہ وہ ماضی کو ترک کرچکے تھے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ دورجاہلیت ان کی زندگی کا ایک باب تھا جسے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرچکے ہیں ۔ ان کا ماضی اب ان سے کوئی تعلق ہے ، نہ ان کا ماضی سے کوئی واسطہ ہے ۔ ان کے خیال میں ان کا ماضی ایک قسم کی ناپاکی اور گندگی تھا جسے اب چھونا بھی جائز نہ تھا۔

اس برگزیدہ قوم کی زندگی کے آخری دور کو ذرا غور سے پڑھا جائے ، تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان پاک نفوس پر اس اسلامی نظریہ حیات کا کیا ہی عجیب اثر ہوگیا تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور ان سے ہر قسم کی آلودگی کو جھاڑ دیا ۔ اور ان کے وجود کے ذرات کو جدید طرز پر مرتب کردیا بعینہ اس طرح جس طرح بجلی کا ایک جھٹکا دینے سے کسی مادے کے اجزاء اپنی سابقہ کیمیاوی شکل بدل دیتے ہیں اور ایک بالکل نئی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔

یہ ہے اسلام یعنی جاہلیت سے پوری طرح باہر نکل آنا ، اور جاہلیت کے تمام امور کو پوری طرح حرام اور ناپسندیدہ سمجھنا ۔ ہر اس ناپسندیدہ حرکت سے باہر آنا جو جاہلیت ہوتی تھی ۔ ہر اس شعور کو دل و دماغ سے نکال دینا جو جاہلیت کے دور میں ذہنوں پر حاوی ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ مومن کا جام صبونئے تصور حیات اور اس کے تمام …

Al-Baqara 2:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَٰبِ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّٰعِنُونَ

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

اہل کتاب ، خود اپنی کتاب کے ذریعہ سے یہ جانتے تھے کہ رسول ﷺ کی رسالت برحق ہے ۔ اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ ﷺ جن احکامات کی تبلیغ کرتے ہیں وہ برحق ہیں اور من جانب اللہ ہیں ۔ اس کے باوجود وہ ان احکامات کو چھپاتے تھے جو اللہ نے ان کے لئے ان کی کتاب میں نازل کئے تھے ۔ بس ان لوگوں اور ہر دور میں ان جیسے لوگوں کا کردار یہ رہا ہے کہ یہ اللہ کی نازل کردہ حق اور سچائی کو چھپاتے ہیں ، خواہ اس حق پوشی کی کوئی معقول وجہ بھی نہ ہو ۔ ایسے لوگ مختلف ادوار میں مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں ، جو حق و صداقت کا علم رکھتے ہیں مگر پھر بھی اظہار حق کے وقت خاموش رہتے ہیں ۔ انہیں وہ اقوال وآیات یقین کے ساتھ معلوم ہوتی ہیں جن میں اس سچائی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ہے ، اللہ کی کتاب میں سے کئی آیات سے وہ ایک طرف ہوجاتے ہیں ، ان کا اظہار نہیں کرتے ، ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ، انہیں چھپاکر اس حقیقت سے پہلو تہی کرجاتے ہیں جس کی وہ آیات حامل ہوتی ہیں ۔ وہ ان آیات کو لوگوں کے سمع واحساس سے دور رکھتے ہیں ، چاہے کسی وجہ سے بھی وہ ایسا کرتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے ہم زندگی کے مختلف مراحل میں دوچار ہوتے ہیں رہتے ہیں اور حقائق دین میں سے مختلف اور بیشمار حقائق میں یہ صورتحال پیش آتی رہتی ہے۔

” یقین کرو اللہ بھی ایسے لوگوں پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں ۔ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ (159) “

گویا وہ لعنت کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور ان پر ہر طرف سے لعنت کی بارش ہورہی ہوگی اور اللہ کے بعد ہر لعنت کرنے والا ان پر لعنت برسا رہا ہوگا۔

Al-Baqara 2:159Listen in Qur'an →
160

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَبَيَّنُوا۟ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

لعنت کا مفہوم ہے قہر وغضب سے دھتکارنا ۔ اللہ کی لعنت یہ ہوگی کہ وہ انہیں اپنی رحمت سے باہر نکال دے اور پھر ہر طرف سے لعنت کرنے والے ان کا پیچھا کررہے ہوں گے ۔ یو وہ درگاہ الٰہی سے بھی راندہ ہوں گے اور مسلمانوں کی طرف سے بھی دھتکارے جائیں گے ۔ إِلا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے ، اسے بیان کرنے لگیں ، ان کو میں معاف کروں گا۔ میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “

اس تنبیہ وتہدید کے باوجود قرآن کریم توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ اس سے وہ روشنی پاتے ہیں اور رشتہ امل ٹوٹنے نہیں پاتا ۔ اس طرح دل نور کے سرچشمے کی طرف کھنچتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ۔ اللہ کی عفو و درگزر کی امید باقی رہتی ہے ۔ اس لئے جو چاہے ، جس وقت بھی چاہے صدق نیت سے ، اس دارالامن میں داخل ہوجائے۔

سچی توبہ کی نشانی کیا ہوگی ؟ عمل میں تبدیلی اور اصلاح ، صاف صاف بات کرنا ، حق کا اعتراف کرنا ، اور حق کے تقاضے پورے کرنا ۔ اور جو لوگ توبہ کرلیں وہ یقیناً اللہ کی رحمت سے بہرہ ور ہوں گے ، ان کی توبہ قبول ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اور میں بڑا درگز کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “ یقیناً ایسا ہوگا کیونکہ ، بات کرنے والوں میں اللہ تعالیٰ سب سے صادق القول ہے ۔

Al-Baqara 2:160Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.