Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 141–150 of 286

141

تِلْكَ أُمَّةٌۭ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْـَٔلُونَ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

اب بات اپنی انتہائی بلندی تک جاپہنچتی ہے ۔ اس مسئلے کا خاطر خواہ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا دیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب (علیہم السلام) کے مابین اور ان کے موجود نام نہاد پیروکاروں کے درمیان مکمل تضاد پایا جاتا ہے ۔ وہ کچھ اور تھے اور یہ کچھ اور ۔ اس لئے یہاں خاتمہ کلام اس فقرے پر کیا جاتا ہے جو پہلے گزرچکا ہے تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (141) ” یہ کچھ لوگ تھے جو گزرچکے ۔ ان کی کمائی ان کے لئے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لئے ۔ تم سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہ ہوگا۔ “

یہ ایک فیصلہ کن بات اب گویا نزاع ختم کردیا گیا ہے اور ان لوگوں کے فضول دعوؤں کے متعلق آخری بات کہہ دی گئی۔

واخر دعوانا ان الحمد ﷲرب العالمین

Al-Baqara 2:141Listen in Qur'an →
142

۞ سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ ٱلَّتِى كَانُوا۟ عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے

پارہ دوم ایک نظر میں

سورة بقرہ کے اس حصے میں ، یعنی پارہ دوئم کے شروع ہی سے اس امر پر زور دیا جارہا ہے کہ تحریک اسلامی کو امانت کبریٰ کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے تیار ہوجانا چاہئے ۔ اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں ۔ پھر اس نظریہ حیات کی اساس پر دنیا میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریاں ۔ اگرچہ جابجا تحریک اسلامی کے مخالفین کے ساتھ بحث و تکرار کے مضامین بھی پائے جاتے ہیں ۔ اس وقت مخالفین کے سرخیل بنی اسرائیل ، یعنی یہودی تھے ۔ اس لئے یہاں ان کی سازشوں ، مکاریوں اور اسلامی نظریہ حیات کے خلاف ان کی نظریاتی جنگ اور تحریکِ اسلامی کے وجود کے خلاف ان کی جدوجہد کا مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تحریک اسلامی کو ہدایات دی گئیں ہیں اور انہیں دشمنان تحریک اسلامی کی اس چومکھی لڑائی سے خبردار کیا گیا ہے جو انہوں نے تحریک کے خلاف شروع کررکھی ہے ۔ مسلمانوں کو ان کی کوتاہیوں سے آگاہ کیا گیا ہے ، جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے تھے ۔

اس پارے اور سورت کے بقیہ حصے کا بنیادی مضمون امت مسلمہ کو ایک مستقل تشخص اور ایک علیحدہ قبلہ عطا کرتا ہے ، تاکہ وہ ایک ایسی امت قرار پائے جو منصب خلافت الٰہی کی حامل بن سکے ۔ اور اسے ایک الگ ایسا نظام قانون اور الگ شریعت دی جائے جو پہلے آئے ہوئے قوانین وشرائع کی تصدیق کرتی ہو اور ان کی حامل ہو ۔ اور امت ایک جامع نظام اور عمومی منہاج کی حامل ہو۔ سب سے اہم یہ کہ یہ امت انسانی حیات وممات کے بارے میں ایک خاص نظریہ کی حامل ہو ۔ اسے امر کا شعور ہو کہ اسے اس نظریہ حیات کی راہ میں مال وزر ، شعور و خیال ، طور واطوار اور جان وآبرو کی کیا کیا قربانیاں دینی ہوں گی ۔ اسے اپنے آپ کو قرآن وسنت کے مطابق قادر مطلق کے اقتدار اعلیٰ کے ماننے اور اس کی اطاعت کے لئے تیار کرنا ہے ۔ غرض تسلیم ورضا اور نہایت فرمانبرداری کے ساتھ اسے یہ سب کچھ کرنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ابتداء ہی سے تحویل قبلہ کے متعلق بات شروع کی جاتی ہے ۔ تحویل قبلہ کے حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کو امت وسط قرار دیا جارہا ہے ۔ یہ لوگوں پر گواہ ہے اور رسول امت پر گواہ ہیں ۔ یہ امت پورے کرہ ارض کی قائد ہے ، رہبر و راہنما ہے ، لہٰذا اسے نصیحت کی گئی ہے کہ اس منصب کی وجہ سے اسے جو جو مشکلات پیش آئیں ان پر صبر کرے ۔ راضی برضا رہنا ہوگا۔ مالی وجانی قربانیاں پیش کرنی ہوں گی اور ہر حال میں اپنے تمام امور اللہ کے سپرد کردینے ہوں گے ۔

ذرا آگے چلیں تو ہمارے سامنے ایمانی تصور حیات کے کچھ اصول رکھے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ” نیکی “ تقویٰ اور عمل صالح کا دوسرانام ہے ۔ شرق وغرب کی سمتیں اور عبادت کرتے وقت ان کی طرف رخ کرنا بذات خود کوئی ٹھوس نیکی نہیں ہے ۔ دراصل یہ یہودیوں کی اس غوغا آرائی کا جواب ہے جو وہ تحویل قبلہ کے وقت بپاکئے ہوئے تھے ۔ وہ حقائق کو مسخ کررہے تھے یا چھپا رہے تھے اور یہ تمام بحث و تکرار ایک نمائش تھی ۔ وہ یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کررہے تھے ، چناچہ ان آیات میں زیادہ تربحث تحویل قبلہ اور اس سے متعلق دوسرے مباحث پر مشتمل ہے۔

اب سیاق کلام تحریک کی عملی تنظیم کی طرف پھرجاتا ہے اور ساتھ ساتھ بنیادی عبادات سے متعلق بھی کچھ احکام دیئے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اجتماعی نظم اور عبادت ہی دراصل وہ بنیادی اصول ہیں جن پر امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا قیام ہے ۔ معاشرہ کی تنظیم اس لئے بھی ضروری ہے کہ تحریک اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کرسکے جو اس پر ڈالی گئی ہے ۔ چناچہ اس حصے میں قانون قصاص ، قانون وصیت ، احکام صیام ، مسجد حرام اور اشہر حرام میں قانونی جنگ فریضہ حج ، شراب اور جوئے کے تعزیزی قوانین اور عائلی قوانین کا ذکر ہے ۔ یہ سب احکام اسلامی نظریہ حیات اور تعلق باللہ کے اصولوں پر قائم ہیں ۔ اس پارے کے آخری حصہ میں جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کی مناسبت سے بطور عبرت و …

Al-Baqara 2:142Listen in Qur'an →
143

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةًۭ وَسَطًۭا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًۭا ۗ وَمَا جَعَلْنَا ٱلْقِبْلَةَ ٱلَّتِى كُنتَ عَلَيْهَآ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے

اب روئے سخن امت مسلمہ کی طرف ہوجاتا ہے ۔ اے بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات میں وہ کس عظیم مرتبے کی حامل ہے اور اس کرہ ارض پر اسے کیا فرائض سر انجام دینے ہیں ؟ عالم انسانیت میں اسے کیا فضیلت و برتری حاصل ہے ؟ لوگوں کی زندگی میں اسے کیا رول ادا کرنا ہے ۔ اس مقام اور مرتبے کا تقاضا ہے کہ اس کا ایک ہی خاص قبلہ ہو ۔ وہ ایک مخصوص تشخص کا مالک ہو۔ چھوڑئیے اور باتیں اس رب عظیم کی سنئے جس نے اس امت کو عظیم مشن کے لئے منتخب کیا :

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا

” اس طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا “ تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ “

یہ امت وسط ہے ۔ لوگوں پر گواہ ہے ۔ اس کا فرض ہے کہ لوگوں کے درمیان عدال و انصاف قائم کرے ۔ ان کے لئے معیار حق واقدار حیات کا تعین کرے ۔ ان کو ایسی رائے دے جو رائے عامہ بن جائے ۔ اور لوگ اس پر اعتماد کریں ۔ وہ تمام دنیا کے لوگوں کی اقدار ، ان کے نظریات ، ان کے رسم و رواج اور ان کے قومی شعاروں کا بغور جائزہ لے اور اپنا فیصلہ سنادے ! یہ حق ہے اور یہ باطل !” وہ کوئی ایسی امت نہیں ہے کہ دوسری اقوام سے نظریات ، اقدار اور معیار حسن وقبح حاصل کرے ۔ وہ لوگوں پر گواہ ہے اور ایک منصف اور جج کے منصب پر فائز ہے ۔ جس طرح وہ لوگوں پر گواہ ہے ۔ خود رسول اللہ ﷺ اس پر گواہ ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ اس امت کے لئے اقدار حیات اور معیار حق تجویز کریں گے ۔ اس کے اعمال اور رسم و رواج کے بارے میں فیصلہ دیں گے ۔ اس کے افعال واقوال کے بارے میں آخری فیصلہ رسول اللہ ﷺ دیں گے ۔ اس سے اس امت کی حقیقت اور اس کے فرائض معلوم ہوجاتے ہیں ۔ اسے چاہئے کہ اپنی حقیقت سے اچھی طرح روشناس ہوجائے ۔ اپنی اہمیت اور قدر و قیمت جانے اور اس دنیا میں اپنے منصب وکردار کو ٹھیک طرح متعین کرے اور اسے ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو پوری طرح تیار بھی کرے ، یعنی وہ لوگوں کے لئے معیار حق ہو اور رسول اللہ ﷺ اس کے لئے معیار حق ہوں۔

یہ امت ، امت وسط ہے ۔ وسط کے ہر مفہوم کے اعتبار سے وہ وسط ہے ۔ وسط کا مفہوم اگر احسن و افضل ہو ، تو پھر بھی یہ وسط ہے ۔ وسط کا مفہوم اگر میانہ روی اور اعتدال لیا جائے تو بھی یہ وسط ہے ۔ وسط سے مراد اگر مادی اور حسی وسط مراد ہو تو بھی یہ امت ، امت وسط ہے۔

” امت وسط “ عقائد ونطریات میں وسط ، میانہ رو ، روحانی تجرد میں ڈوبی ہوئی اور نہ مادہ پرستی میں گرفتار ۔ بلکہ اصول فطرت کو اپنائے ہوئے ہے ۔ مثلاً انسانی جسم کیا ہے ؟ ایک مادہ ہے اور روح کو جسم مادی میں پیوست کیا گیا ہے یا مادی جسم کو روح کے ساتھ ایک کردیا گیا ہے ۔ یہ امت ان مختصر عناصر کے مرکب اس انسان کو ، بلکہ اس کے عناصر ترکیبی میں سے ہر عنصر کو پورا پورا حق دیتی ہے ۔ وہ روحانی زندگی کی ترقی اور کمال کے لئے بھی کام کرتی ہے اور انسان کی مادی ضروریات پوری کرکے اس کی اس مادی زندگی کی بقا کا کام بھی کرتی ہے ۔ یہ امت انسان کی آزادی فکر ، اس کی آزادی اظہا رخیال اور اس کی ذاتی ذوق وشوق کی تسکین کے بلا افراط وتفریط ۔ میانہ روی اور ہم آہنگی اور اعتدال کے ساتھ ، ایک وسیع دائرہ مقرر کرتی ہے اور انسان کو اس دائرے میں پوری پوری آزادی دیتی ہے ۔

یہ امت وسط ہے ، فکر و شعور کے میدان میں بھی ، یہ موجودہ ذخیرہ علم پر قانع اور منجمد ہوکر نہیں بیٹھ جاتی اور نہ علم ومعرفت اور تجربہ وتحقیق کے دروازے بند کردیتی ہے ، لیکن وہ ہر سوچے سمجھے بغیر ہر نعرہ باز کے پیچھے نہیں لگ جاتی ۔ بندر کی طرح ہر کسی کی نقل بھی نہیں کرتی ۔ وہ اپنے نظریات ، اصول اور نظام فکر وعمل کی محافظ بن جاتی ہے اور انہیں مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوتی ہے ، لیکن پوری انسانیت کے افکار وتجربات پر بھی کڑی نطر رکھے ہوئے ہوتی ہے۔ اور اس کی مستقل پالیسی یہ ہے !” …

Al-Baqara 2:143Listen in Qur'an →
144

قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى ٱلسَّمَآءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةًۭ تَرْضَىٰهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ ۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں

ہر کسی کے لئے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ، جہاں بھی تم ہوگے ، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ۔ تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف پھیر دو ، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے ۔ اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے ۔ اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو ، اور جہاں بھی تم ہو ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہے ۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو ان سے تم نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کروں گا اور اس توقع پر کہ میرے حکم کی پیروی سے تم فلاح کا راستہ پاؤگے۔ “

ان آیات کے شروع میں نبی ﷺ کی حالت کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی گئی تھی ! قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ” اے رسول ! یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ “

اس سے اس شدید خواہش کا اظہار ہوتا ہے جو آپ ﷺ تحویل قبلہ کے سلسلے میں رکھتے تھے ۔ یہودیوں اور کٹ حجتیوں اور دلیل بازیوں سے مجبور ہوکر آپ ﷺ یہ چاہنے لگے تھے کہ مسلمانوں کاموجودہ قبلہ بدل جائے ۔ چونکہ مسلمان یہودیوں کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے اور یہودیوں نے اس غلط پروپیگنڈے ، غوغا آرائی اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی تھی ، اس کے لئے رسول اللہ ﷺ اپنی دلی خواہش کے تحت ، بار بار منہ آسمان کی طرف اٹھاتے ، ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بات کا اظہار نہ کرتے ، اس خوف سے کہ جناب باری میں وہ کوئی تجویز پیش کرنے کی جراءت کیسے کریں ؟ یا از خود کوئی بات اللہ کے سامنے لائیں ۔ مبادا کہ اللہ کو پسند نہ ہو لیکن اللہ نے اس کی خواہش پوری کردی ۔ اور جن الفاظ میں یہ خواہش پوری کی گئی ہے ، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے حبیب کی رضا منظور تھی ۔

فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ” لو ہم اس قبلہ کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ “

اب اس قبلہ کا تعین ہوجاتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ آپ کی مرضی بھی اسی میں ہے : فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ۔ “

اب یہ تمہارا قبلہ ہے تمہاری امت کا قبلہ ہے ۔ جو لوگ تمہارے ساتھ موجود ہیں ان کا اور جو آنے والے ہیں ان کا تاقیامت ، قبلہ ہے ۔ اس وقت تک جب کرہ ارض پر اور اس میں بسنے والے آخر کار اللہ کے سامنے پیش ہوں گے :

وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ” اب جہاں کہیں بھی تم ہو ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔ “

ہر سمت سے ، کرہ ارض کے تمام اطراف و جوانب سے ، اب یہ ایک ہی قبلہ ہے اور امت کا ہر فرد اسی طرف رخ کرے گا جہاں کہیں بھی وہ رہتا ہو ، چاہے وطن کوئی بھی ہو ، محل وقوع دور دراز ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے ان افراد کے رنگ جدا ہوں ، زبانیں مختلف ہوں اور قومیتیں الگ ہوں لیکن قبلہ ایک ہوگا۔ اور امت مسلمہ چاہے شرق میں ہو یا غرب میں ، اس سمت میں قبلہ رخ ہوگی ۔ یوں اس امت میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک جسم ہے ، ایک جان ہے ، ایک ہی نصب العین اس کے سامنے ہے ، ایک ہی نظام زندگی کے قیام کے لئے ، سرگرم عمل ہے ۔ وہ نظام جو اسے ایک ہی تصور ، ایک ہی رسول ﷺ اور ایک ہی قبلہ عطا کرتا ہے۔

یوں اللہ نے اس امت کو جوڑ دیا ۔ ایک اللہ ، ایک رسول ، ایک دین اور ایک قبلہ ۔ قومیت اوطان اور السنہ والوان کے اختلاف کے باوجود ایک امت رنگ ونسل ووطن کے تمام اصولوں کو نظر انداز کردیا گیا اور وحدت امت کی اساس اسلامی نظریہ حیات اور وحدت قبلہ پر رکھی گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی اتحاد بنی آدم کے شایان شان ہے کیونکہ انسان عقیدے اور نظریہ پر متحد ہوتا ہے ۔ …

Al-Baqara 2:144Listen in Qur'an →
145

وَلَئِنْ أَتَيْتَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٍۢ مَّا تَبِعُوا۟ قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٍۢ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍۢ قِبْلَةَ بَعْضٍۢ ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

وہ کسی بھی دلیل سے مطمئن نہی ہوسکتے ۔ ان کے ہاں فہم دلیل کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ اگر وہاں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اخلاص ہے ۔ وہ ہوائے نفس کے بندے ہیں اور باجود علم کے ان میں حق وصداقت کے تسلیم کرنے کی استعداد نہیں ہے : وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ” تم ان اہل کتاب کے سامنے چاہے کوئی دلیل پیش کرو ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں ۔ “

ان کی نکیل ہوائے نفس کے ہاتھ میں ہے ۔ دنیاوی مصالح انہیں ہانکے لے جارہے ہیں اور ذاتی اغراض ان کے لئے حدی خواں ہیں ۔ مخلصین میں سے بیشمار لوگ اب بھی ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ اسلام کو اس لئے قبول نہیں کرتے کہ انہیں اسلام کا صحیح علم نہیں ہے ۔ یا ان کے سامنے اطمینان بخش طریقے سے ، اسلام پیش ہی نہیں کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک وہم ہے وہ تو اسلام قبول ہی اس لئے نہیں کرتے کہ انہیں اس کا صحیح صحیح علم ہے ! اور وہ جانتے ہیں کہ اسلام ان کے مفادات کے سراسر خلاف ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اس میں ان کے لئے قیادت وسیادت کا کوئی مقام نہیں ہے ۔ یہی سبب ہے کہ وہ اسلام کے خلاف مسلسل بلاانقطاع سازشیں کرتے چلے جاتے ہیں ، مختلف طریقوں سے ، مختلف وسائل کے ذریعہ ، براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی وہ اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ دوبدو بھی اور پس پردہ بھی ۔ وہ اسلام کے خلاف خود بھی لڑتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کے خلاف لڑنے پر آمادہ اور برانگیختہ کرتے ہیں ۔ غرض ہر شکل میں وہ یہ کام کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے جو کہا ہے وہ ہر وقت اس کا مصداق ہیں وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ” تم اہل کتاب کے سامنے چاہے کوئی دلیل پیش کرو ، ممکن نہیں کہ وہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں۔ “

اہل کتاب کا حال تو یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے قبلہ اور اسلامی نظام زندگی سے مسلسل اعراض کرتے چلے آتے ہیں ۔ جس کے اشارات اس قبلے میں واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اس موقف کے مقابلے میں نبی ﷺ اور حلقہ بگوشان اسلام کا موقف کیا ہے ؟ وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ” اور نہ تمہارے لئے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو “ قدرتی طور پر یہ درست موقف ہے۔

یعنی آپ ﷺ کی شان کے خلاف ہے کہ آپ ﷺ کسی صورت میں ان کے قبلے کی پیروی کریں ، یہاں قرآن نے یہ انداز بیان اختیار کیا ” اور آپ بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں “ یعنی جملہ اسمیہ منفیہ اور یہ نہیں کہا کہ ” آپ ان کے قبلے کی پیروی نہیں کرتے “ کیونکہ پہلے فقرے کے ذریعے رسول ﷺ کی مستقل شان اور اس معاملے میں اپنے موقف سے ڈٹا رہنے کا اظہار اچھی طرح ہوتا ہے اور آپ ﷺ کے بعد اس امت مسلمہ کو بھی واضح اشارہ مل جاتا ہے کہ وہ اپنے رسول کے اختیار کردہ قبلے کو ہرگز ترک نہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ اپنے رسول کی خواہش اور دلجوئی کی خاطر تمہارے لئے پسند کیا ہے ۔ وہ اس ربانی جھنڈے کے سوا کوئی علم بلند نہ کرے ، وہ اسلامی نظام حیات کے علاوہ کسی دوسرے نظام کی پیروی نہ کرے ، جس کی طرف تحویل قبلہ میں اشارات موجود ہیں ۔ جب تک وہ امت ، امت مسلمہ ہے اسے یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے ۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر اس کا اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہ رہے گا ۔ اس کا اسلام محض دعوائے اسلام رہ جائے گا۔

تحویل قبلہ کی مناسبت سے بتایا جاتا ہے کہ خود اہل کتاب کے مابین بھی قبلے کے معاملے میں شدید اختلاف رائے پہلے سے موجود ہے ۔ وہ بھی باہم متفق نہیں ہیں کیونکہ ان کی خواہشات نفس بھی مختلف ہیں وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ” اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے گروہ کے قبلے کی پیروی کے لئے تیار نہیں ۔ “

یہود ونصاریٰ کے درمیان عداوت ہے ، مختلف یہودی فرقے بھی ایک دوسرے کے مخالف …

Al-Baqara 2:145Listen in Qur'an →
146

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

مسلمانوں سے اس مختصر خطاب کے بعد اب روئے سخن پھر اصل موضوع پر لوٹ آتا ہے ۔ بات وہی ہے کہ اہل کتاب اس بات کو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ حق وہی ہے جس کا اظہار قرآن شریف کرتا ہے اور جس کا حکم رسول ﷺ دیتے ہیں لیکن وہ اپنے اس یقینی علم کے باوجود ، اس حق کو چھپاتے ہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اللہ پرست نہیں بلکہ نفس پرست ہیں !

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” جن کو ، ہم نے کتاب دی ہے۔ وہ اس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے ) ایسا ہی پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپارہا ہے۔ “

اپنے بچوں کو پہچاننا علم ومعرفت کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔ عربی زبان میں یہ مثال ایک ایسے مقام اور ایسے واقعہ کے لئے استعمال ہوتی ہے جو یقینی ہو اور اس کے علم ومعرفت میں کوئی شک وشبہ نہ ہو۔ اہل کتاب کی حالت یہ ہے کہ ان کو سچائی کا یقینی علم ہوچکا ہے ۔ تحویل قبلہ کا حکم بھی اسی عالم گیر سچائی کا ایک حصہ ہے اور پھر بھی وہ اس سچائی کو چھپاتے ہیں جو یقینی علم کے طور پر انہیں حاصل ہے ۔ تو پھر مؤمنین کے درست راہ عمل یہ ہے کہ وہ یہودیوں کے کذب وافتراء سے ہرگز متاثر نہ ہوں ۔ ان کو یہ بات ہرگز زیب نہیں دیتی کہ وہ ان یہودیوں سے کوئی چیز اخذ کریں جنہیں حقیقت کا علم ہے اور پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔ وہ خود اپنے دین کے اس حصے کا بھی انکار کردیتے ہیں جسے مسلمانوں کے رسول امین وحی کی صورت میں پیش کریں ۔ محض تعصب کی وجہ سے ۔

Al-Baqara 2:146Listen in Qur'an →
147

ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(اے پیغمبر، یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

اہل کتاب کے سلسلے میں بیان کے بعد اب روئے سخن نبی ﷺ کی ذات کی طرف ہوجاتا ہے الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ” یہ ایک قطعی امر حق ہے ، جو تمہارے رب کی طرف سے ہے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو۔ “

کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی شک کیا ؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ ایک دوسری آیت میں جب کہا گیا : فَاِن کُنتَ فِی شَکٍّ مِّمَّا اَنزَلنَا اِلَیکَ فَساَلِالَّذِینَ یَقرَءُونَ الکِتَابَ مِن قَبلِکَ ” جو کلام ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ، اگر تمہیں اس کے بارے میں کوئی شک ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو تم سے پہلے کتاب پڑھتے چلے آرہے ہیں ۔ “

اس پر آپ ﷺ نے فرمایا !” نہ مجھے شک ہے اور نہ ہی میں ان سے پوچھتا ہوں۔ “

تو پھر رسول اللہ ﷺ کو ذاتی طور پر کیوں مخاطب کیا گیا ؟ مسلمانوں کو متوجہ کرنا تھا ۔ چاہے وہ مسلمان جو آپ کے ساتھ موجود تھے اور یہودیوں کے خرافات سے متاثر ہورہے تھے یا وہ لوگ جو بعد میں آنے والے تھے اور دینی معاملات میں یہودیوں کے اباطیل واکاذیب سے متاثر ہوسکتے تھے ۔

میں کہوں گا کہ آج مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ذرا اس تنبیہ پر کان دھریں ۔ آج ہم ایسی نادانی میں مبتلا ہیں جس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے ۔ ہم اپنے دینی معاملات میں بھی یہودونصاریٰ اور اشتراکی ملحدین سے یہ ہدایت طلب کرتے ہیں اور فتویٰ لیتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں سے خود اپنی تاریخ پڑھتے ہیں ۔ ہم ان پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ورثہ کے بارے میں کوئی بات کریں ۔ وہ ہمارے قرآن اور ہمارے رسول ﷺ کی سنت اور آپ کی سیرت کے بارے میں جو شکوک پیدا کرتے ہیں یہ ان پر اطمینان سے کان دھرتے ہیں ۔ ہم ان کے پاس اپنے طلبہ بھیجتے ہیں تاکہ وہ ان سے اسلامی تعلیمات حاصل کریں اور ان کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوکر آئیں اور جب ہمارے پاس لوٹیں تو ان کی عقل ان کا ضمیر فاسد ہوچکا ہو اور وہ فاضل کہلائیں ۔

یاد رکھئے ! یہ قرآن ہمارے لئے کتاب شریعت ہے ۔ وہ پوری امت مسلمہ کی کتاب ہے ۔ یہ امت کی وہ دائمی کتاب ہے جس میں اسے راہ عمل بتایا گیا ہے اور اسے راہ بد سے ڈرایا گیا ہے ۔ اس کے بالمقابل اہل کتاب بہرحال اہل کتاب ہیں ۔ کفار ، کفار ہیں ۔ ان کا دین ان کا دین ہے ، اور ہمارا دین ہمارا دین !

Al-Baqara 2:147Listen in Qur'an →
148

وَلِكُلٍّۢ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا۟ يَأْتِ بِكُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے

اب بات کا رخ اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اہل کتاب کی باتوں پر کان ہی نہ دھریں ۔ ان کی ہدایات و رہنمائی قبول ہی نہ کریں اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے طریق زندگی اور اپنے نقطہ نظر کی طرف بڑھتے چلے جائیں ۔ ہر گروہ کا اپنا رخ رفتار ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کا رخ نیکی اور خیر کی طرف ہے ۔ انہیں چاہئے کہ کسی چیز کی طرف بھی نظریں نہ اٹھائیں اور بڑھتے چلے جائیں ۔ آخر کار انہیں خداوند قیامت کے سامنے حاضر ہونا ہے جو اس پر اچھی طرح قدرت رکھتا ہے کہ انہیں جمع کرے ۔ وہ قادر ہے کہ وہاں سب کو جزا وسزا دے : وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَمَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ بس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔ جہاں بھی تم ہوگے ، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ “

اہل کتاب جو فتنے پھیلاتے تھے اور جو سازشیں کرتے تھے اور اللہ کے کلام کی جو تاویلات و تحریفات کرتے تھے یہاں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اہل کتاب کی ان کارستانیوں میں بالکل دلچسپی نہ لیں ۔ وہ راہ عمل پر گامزن ہوں اور نیکی کے کام میں میں ایک دوسرے کے آگے بڑھیں ۔ ساتھ ساتھ یہ یاد دہانی بھی کرائی جاتی ہے کہ آخرکار انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے آنا ہے ۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہے ۔ نہ ہی کوئی چیز اس کی نظروں سے اوجھل ہوسکتی ہے ۔ یہ ہے وہ سچائی جس کے مقابلے میں تمام اقوال احوال باطل ہیں ، جن کی کچھ حقیقت ہی نہیں ہوتی۔

Al-Baqara 2:148Listen in Qur'an →
149

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں

پھر تحویل قبلہ کی بات دھرائی جاتی ہے ، تاکیدا حکم دیا جاتا ہے کہ جدید قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھاکرو ، جسے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا ہے ، اس موقع پر کچھ نئی تعریفات مرتب ہوئی ہیں اور کچھ نتائج نکالے جاتے ہیں ۔ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ (نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف پھیردو ، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ “

اس تاکیدی حکم میں یہودیوں کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی قبلے کے سلسلے میں ان کے موقف کا ذکر ہے ۔ کہا گیا ہے کہ نبی ﷺ جہاں بھی ہوں اور ان کا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہ نماز کے وقت بیت اللہ کی طرف پھیردیں ۔ کیونکہ یہ ان کے رب کا برحق فیصلہ ہے ۔ اشارۃً یہ بھی کہہ دیا گیا کہ کہیں تمہیں اس سچائی سے روگردانی نہ کردو ۔ قرآن مجید کے الفاظ :” اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے “ واضح طور پر اس طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ ان الفاظ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ واقعی بعض مسلمانوں کے دلوں میں خلجان تھا اور ایسی صورت حال موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو باربار تاکید کرنی پڑی اور شدید وعید بھی فرمائی۔

Al-Baqara 2:149Listen in Qur'an →
150

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِى وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِى عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور تم جہاں سے نکلو، مسجدِ محترم کی طرف منہ (کرکے نماز پڑھا) کرو۔ اور مسلمانو، تم جہاں ہوا کرو، اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔ (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں، (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔ اور یہ بھی مقصود ہے کہ تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو

تیسری مرتبہ پھر بالکل ایک جدید غرض کی خاطر ، قبلہ کے معاملے میں تاکید کی جاتی ہے ۔ مسلمان یہودیوں کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور یہودی اور دوسرے لوگ اس پر استدلال کرتے تھے کہ ان کا دین مسلمانوں کے دین سے زیادہ افضل ہے ۔ کیونکہ ان کا قبلہ اصل ہے ، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا نظام زندگی بھی اصل ہے ۔ اس لئے تحویل قبلہ کے حکم کی تاکید مزید کرکے اس استدلال کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا ۔ (دوسری طرف مشرکین عرب بیت الحرام کو ایک مقدس مقام سمجھتے تھے اور اس کا بےحد احترام کرتے تھے ۔ وہ بھی بیت المقدس کے قبلہ ہونے پر یوں اعتراض کرتے تھے کہ مسلمان تو یہودیوں کے تابع ہیں ۔ انہوں نے اپنے مقدس مقام کو چھوڑ دیا ہے اور بنی اسرائیل کے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلأتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ” اور جہاں بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو اور جہاں بھی تم ہو ، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بھی بند نہ ہوگی ۔ تو ان سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ، اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں ۔ اس توقع پر کہ تم یہ ہدایت و فلاح کا راستہ پالو۔ “

رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ تمہارا گزر جہاں سے بھی ہو ، مسجد حرام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں ۔ اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جہاں بھی وہ ہوں اپنا منہ بیت اللہ کی طرف پھیر کر نماز پڑھاکریں۔

ارشاد ہوا ! لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ” تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت نہ ملے ۔ “ ظالم اپنی بات کرتے ہی رہیں گے ۔ وہ کسی حجت اور کسی دلیل کے آگے نہیں جھکتے ۔ ہدایت ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کو نظرانداز کردیا جائے ۔ یہ لوگ کٹ حجتی کرتے ہیں اور عناد میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں کو کسی بھی طرح مطمئن نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ اپنی حجت بازی جاری رکھیں گے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي ” ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو “

ان کو تم پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ۔ تمہاری زمام کار ان کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ یہ بات تمہارے شایان شان نہیں ہے کہ تم ان سے ڈر کر ان احکام کو ترک کردو ، جو میری جانب سے تم پر نازل ہوئے ۔ ڈر اور خشیت کے لائق تو میں ہوں ۔ اس لئے کہ تمہاری دنیا وآخرت کے تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں ۔

ظالموں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اللہ کے انعام واکرام یاد دلائے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنا رویہ درست رکھا اور احکام خداوند کی اطاعت کی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مزید انعامات کی بارش ہوگی : وَلأتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ” اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اس توقع پر کہ تم راہ ہدایت پالو۔ “

غرض یہ ایک یاد دہانی ہے جس میں ایک خاص اشارہ ہے ، ایک بڑھتی ہوئی حوصلہ افزائی ہے ، اور بار بار اللہ کے فضل وکرم کی طرف اشارہ ہے ۔

وہ کیا انعام ہے ؟ وہ تو ان کے ہاتھوں میں ہے ، خود ان کے دل و دماغ گواہ ہیں کہ وہ کیا ہے ؟ ان کی پوری زندگی میں موجود ہے ۔ وہ اپنے موقف اور اپنے معاشرہ میں اسے پاتے ہیں ۔ اس کائنات میں انہوں نے جو مقام اپنے لئے متعین کیا ہے اس میں بھی وہ اس نعمت کو پاتے ہیں ۔

وہ جاہلیت کی جہالتوں اور تاریکیوں میں زندگی بسر کرچکے تھے ۔ وہ اپنی آنکھوں سے جاہلیت کی تاریکیوں کو دیکھ چکے تھے ۔ اس کے بعد انہوں نے خود نور ایمان کو اختیار کیا …

Al-Baqara 2:150Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.