Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 141–150 of 286

141

تِلْكَ أُمَّةٌۭ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْـَٔلُونَ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

یہ ایک جماعت ہے، تحقیق گزر گئی وہ، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے۔

[141] اس کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا مکرر ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ مخلوق سے اپنا تعلق منقطع کر لیں۔ بھروسہ صرف اسی عمل اور اسی صفت پر کرنا چاہیے جس سے انسان خود متصف ہو، نہ کہ اپنے اسلاف اور اپنے آباء و اجداد کے اعمال پر، کیونکہ اپنے اعمال ہی حقیقی فائدہ دیتے ہیں نہ کہ بڑے انسانوں کی طرف انتساب محض۔

Al-Baqara 2:141Listen in Qur'an →
142

۞ سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ ٱلَّتِى كَانُوا۟ عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے

عنقریب کہیں گے بیوقوف لوگوں میں سے، کس چیز نے پھیر دیا ان (مسلمانوں) کو ان کے اس قبلے سے کہ تھے وہ اوپر اس کے؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب، ہدایت دیتا ہے وہ جسے چاہتا ہے، طرف سیدھی راہ کی(142) اور (جیسے تمھیں ہدایت دی) اسی طرح بنایا ہم نے تمھیں امت عدل، تاکہ ہو تم گواہ لوگوں پراور ہو رسول اوپر تمھارے گواہ

[142] پہلی آیت ایک معجزے، تسلی اور اہل ایمان کے دلوں کو مطمئن کرنے، ایک اعتراض اور تین وجوہ سے اس کے جواب، اعتراض کرنے والے کی صفت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے کی صفت پر مشتمل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب بیوقوف لوگ اعتراض کریں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے نفس کے مصالح کو نہیں پہچانتے بلکہ انھیں ضائع کر دیتے ہیں اور انھیں نہایت کم قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں یہ یہود و نصاریٰ اور وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی شریعت پر اعتراض کرنے میں ان سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان کے اعتراض کی بنیاد یہ بنی کہ مسلمان جب تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے ان کو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم تھا۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد بھی تقریباً ڈیڑھ سال تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمتیں تھیں جن میں سے بعض کی طرف اللہ تعالیٰ کے اشارے کا تذکرہ عنقریب ہوگا اور کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم بھی اس کی حکمت کا تقاضا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ بیوقوف لوگ ضرور یہ کہیں گے ﴿مَا وَلّٰىهُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِهِمُ الَّتِيۡ كَانُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’ان کو کس چیز نے اس قبلے سے پھیر دیا جس پر وہ تھے‘‘ مراد بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا تھا یعنی کس چیز نے ان کو بیت المقدس کی طرف منہ کرنے سے پھیر دیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم، اس کی شریعت اور اس کے فضل و احسان پر اعتراض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کے وقوع کے بارے میں خبر دے کر اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ یہ اعتراض صرف وہی لوگ کریں گے جو بیوقوف یعنی قلیل العقل اور بردباری و دیانت سے محروم ہوں، اس لیے ان کی باتوں کی پروا نہ کرو کیونکہ ان کا سرچشمۂ کلام معلوم ہے۔ عقل مند شخص بیوقوف کے اعتراض کی پروا نہیں کرتا اور نہ اس کی طرف دھیان دیتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر صرف وہی شخص اعتراض کرتا ہے جو بیوقوف، جاہل اور عناد رکھتا ہو اور رہا عقل مند اور ہدایت یافتہ مومن تو وہ اپنے رب کے احکام اطاعت اور تسلیم و رضا کے جذبے سے قبول کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّلَا مُؤۡمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ﴾(الاحزاب : 33؍36) ’’کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کر دیں تو اس معاملے میں وہ اپنا بھی کوئی اختیار سمجھیں۔‘‘ ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوۡكَ فِيۡمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ﴾(النساء : 4؍65) ’’ہرگز نہیں۔ تیرے رب کی قسم! لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں تجھے حکم (فیصلہ کرنے والا) نہ بنائیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿اِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾(النور : 24؍51) ’’اہل ایمان کی تو یہ بات ہے کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ اللہ کا رسول ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ان کے لیے ﴿السُّفَهَآءُ﴾ ’’بے وقوف‘‘ کا لفظ استعمال کرنا اس بات کے سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ان کا اعتراض غیر معقول ہے جس کے جواب کی ضرورت ہے …

Al-Baqara 2:142Listen in Qur'an →
143

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةًۭ وَسَطًۭا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًۭا ۗ وَمَا جَعَلْنَا ٱلْقِبْلَةَ ٱلَّتِى كُنتَ عَلَيْهَآ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے

اور نہیں بنایا ہم نے اس قبلے کو کہ تھے آپ اوپر اس کے مگرتاکہ جان لیں ہم اس شخص کو جو اتباع کرے گا رسول کا، اس سے جو ، پھر جائے گا اوپر اپنی دو ایڑیوں کےاور بلاشبہ یہ (بات) بڑی بھاری ہے مگر اوپر ان کے جن کو ہدایت دی اللہ نےاور نہیں ہے اللہ کہ ضائع کر دے ایمان تمھارا، بے شک اللہ ہے لوگوں پر بہت شفیق بڑا مہربان(143)

[143]﴿وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا﴾ ’’اور اس طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا۔‘‘ یعنی معتدل اور بہترین امت، ’’وسط‘‘ کے علاوہ اور اطراف خطرے کی زد میں ہیں اللہ تعالیٰ نے دین کے ہر معاملے میں اس امت کو معتدل امت بنایا ہے۔ انبیاء کرام کے ساتھ عقیدت کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کو ان امتوں کے مابین معتدل امت بنایا ہے جو انبیاء علیہ السلام کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں جیسے عیسائی ہیں اور انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ظلم و جفا کرنے والوں کے مابین بھی اسے معتدل امت بنایا کہ وہ سب پر اس طرح ایمان لائے جو ان کی شان کے لائق ہے۔ جب کہ یہودیوں نے انبیاء علیہ السلام کی توہین و تنقیص کی۔ امت مسلمہ شریعت کے اعتبار سے بھی امت وسط ہے اس میں نہ تو یہودیوں کی شریعت کی سی سختی اور بوجھ ہے اور نہ عیسائیوں کی سی نرمی اور لاپروائی۔ طہارت اور مطعومات کے باب میں بھی۔ نہ یہودیوں کی طرح (سختی ہے) جن کے ہاں ان کی عبادت گاہ اور کنیسہ کے سوا کہیں نماز نہیں ہوتی۔ پانی ان کو نجاستوں سے پاک نہیں کر سکتا۔ سزا کے طور پر ان پر طیبات حرام ٹھہرا دی گئیں اور نہ نصاریٰ کی مانند (نرمی ہے) کہ وہ کسی چیز کو نجس ہی نہیں مانتے اور نہ ان کے ہاں کوئی چیز حرام ہے بلکہ انھوں نے ہر چیز کو حلال ٹھہرا لیا ہے۔ بلکہ اہل ایمان کی طہارت کامل ترین طہارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ہر قسم کی طیب و طاہر مطعومات، مشروبات، ملبوسات اور پاک عورتیں مباح ٹھہرا دی ہیں اور تمام خبائث ان کے لیے حرام قرار دے دیے۔ بنا بریں اس امت کا دین سب سے کامل، اس کے اخلاق سب سے اچھے اور اس کے اعمال سب سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو علم و حلم اور عدل و احسان سے جس طرح نوازا ہے، اس طرح ان کے علاوہ کسی اور امت کو یہ چیزیں عطا نہیں کیں، اس لیے وہ ﴿اُمَّؔةً وَّسَطًا﴾ ’’امت وسط‘‘ یعنی کامل اور معتدل امت کہلانے کی مستحق ہے۔ ﴿شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ﴾ تاکہ وہ اپنی عدالت اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کے سبب سے لوگوں پر گواہ ہوں اور وہ تمام اہل ادیان کے لوگوں سے متعلق فیصلے کریں اور ان کی بابت دوسرے فیصلے نہ کریں۔ پس جس چیز کی بابت یہ امت قبولیت کی شہادت دے، وہی مقبول اور جسے رد کرنے کی گواہی دے، وہ مردود ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دوسروں کے بارے میں ان کا فیصلہ کیسے قابل قبول ہے حالانکہ تنازع میں دونوں ایک دوسرے کے مخالف فریق ہیں اور فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف قابل قبول نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی تنازع میں فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف وجود تہمت کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہوتا مگر جب تہمت کا شائبہ ختم ہو جائے اور عدالت کامل حاصل ہو جائے، جیسا کہ یہ امت عدالت کامل کی حامل ہے۔ مقصد تو حق اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے اور اس کی شرط علم و عدل ہے اور یہ دونوں چیزیں اس امت میں موجود ہیں، اس لیے اس امت کا قول قابل قبول ہے۔ اگر کوئی شک کرنے والا اس امت کی فضیلت میں شک کرے اور اس کے لیے تزکیہ کرنے والے کا مطالبہ کرے، تو اس کا تزکیہ کرنے والے اس امت کے نبی(ﷺ)تمام مخلوقات میں ایک کامل ترین ہستی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور رسول تم پر گواہ ہو گا‘‘ اس امت کی دوسری قوموں پر گواہی اس طرح ہو گی کہ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ انبیاء و مرسلین سے ان کی تبلیغ کے بارے میں سوال کرے گا اور ان کی امتیں اس تبلیغ کی تکذیب کریں گی اور …

Al-Baqara 2:143Listen in Qur'an →
144

قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى ٱلسَّمَآءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةًۭ تَرْضَىٰهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ ۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں

تحقیق ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف، سو ہم ، البتہ ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلے کی طرف کہ پسند کرتے ہیں آپ اس کو، پس پھیر لیں آپ اپنا چہرہ طرف مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم، تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی طرف اور بلاشبہ وہ لوگ جو دیے گئے کتاب، وہ یقیناً جانتے ہیں کہ بے شک وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سےاور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(144)

[144] اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺسے فرماتا ہے ﴿قَدۡ نَرٰؔى تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’ہم تمھارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ یعنی ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ استقبال کعبہ کے بارے میں نزول وحی کے شوق اور انتظار میں اپنا منہ تمام جہات میں کثرت سے پھیرتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ﴿وَجۡهَكَ﴾ ارشاد فرمایا ہے ﴿بَصۡرُكَ﴾ نہیں، کیونکہ اس سے نبیﷺکے فکروغم کی زیادتی کو بیان کرنا مقصود ہے، نیز چہرہ پھیرنا نظر پھیرنے کو بھی شامل ہے۔ ﴿فَلَنُوَلِّيَنَّكَ﴾ ’’سو ہم آپ کو پھیر دیں گے۔‘‘ یعنی چونکہ ہم آپ کے سرپرست اور مددگار ہیں اس لیے ہم ضرور آپ کا منہ پھیر دیں گے ﴿قِبۡلَةً تَرۡضٰىهَا﴾ ’’اس قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم آپ کا منہ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں اور وہ ہے کعبہ شریف۔ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺکے شرف و فضیلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پسندیدہ امر کے مطابق حکم نازل کرنے میں جلدی فرمائی۔ اس کے بعد اللہ نے آپ کو استقبال کعبہ کا صراحتاً حکم فرمایا۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’پس اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیں‘‘ ’’وَجْہٌ‘‘ سے مراد انسان کے بدن کے سامنے کا حصہ ہے۔ فرمایا: ﴿وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو‘‘ یعنی بحر و بر، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب جہاں کہیں بھی ہو ﴿فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ﴾ ’’پس اپنے چہروں کو اس جہت کی طرف پھیر لو۔‘‘ اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ تمام نمازوں میں، خواہ فرض ہو یا نفل اگر عین کعبہ کی طرف منہ کرنا ممکن ہو تو اس کی طرف منہ کرنا فرض ہے ورنہ اس کی طرف اور جہت میں منہ کر لینا کافی ہے۔ اور یہ کہ نماز کے اندر بدن کے ساتھ ادھر ادھر التفات کرنا نماز کو باطل کرنے والا عمل ہے کیونکہ کسی چیز کی بابت حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب وغیرہ میں سے اعتراض کرنے والوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے اعتراض کا جواب بھی دیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اہل کتاب اور ان کے اہل علم جانتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں واضح حق پر ہیں کیونکہ انھیں اپنی کتابوں میں اس نبی کی نشانیاں ملتی ہیں، اس لیے وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ پس جب وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے مبتلائے غم ہیں تو تم ان کے اعتراضات کی پروا نہ کرو، اس لیے کہ انسان کو صرف اس اعتراض کرنے والے کا اعتراض غم میں ڈالتا ہے، جب معاملہ مشتبہ ہو اور اس کا امکان ہو کہ صواب (صحیح بات) اس کے ساتھ ہو۔ لیکن جب یہ یقین ہو جائے کہ حق و صواب اس شخص کے ساتھ ہے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور اعتراض کرنے والا محض عناد سے کام لے رہا ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ معترض کا اعتراض باطل ہے تو اسے پروا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے انتظار کرنا چاہیے کہ معترض کو دنیاوی اور اخروی عقوبت کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں‘‘ بلکہ وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس آیت کریمہ میں اعتراض کرنے والوں کے لیے وعید اور اہل ایمان کے لیے تسلی ہے۔

Al-Baqara 2:144Listen in Qur'an →
145

وَلَئِنْ أَتَيْتَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٍۢ مَّا تَبِعُوا۟ قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٍۢ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍۢ قِبْلَةَ بَعْضٍۢ ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

اور البتہ اگر لے آئیں آپ ان لوگوں کے پاس جو دیے گئے کتاب، ہر قسم کی نشانی، تب بھی وہ نہیں پیروی کریں گے آپ کے قبلے کی اور نہ آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلے کی اور نہ بعض ان کا پیروی کرنے والا ہے بعض کے قبلے کی، اور البتہ اگر پیروی کی آپ نے ان کی خواہشات کی، بعد اس کے جو آگیا آپ کے پاس علم تو یقینا ًآپ اس وقت ہو جائیں گے ظالموں میں سے(145)

[145] نبی اکرمﷺمخلوقات کی ہدایت کی بہت تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے اور ان کی نہایت درجہ خیر خواہی کرتے تھے۔ نرمی اور پیار سے انھیں ہدایت کی راہ پر لانے کی کوششیں کیا کرتے تھے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے، تو یہ امر آپ کو نہایت غمگین کر دیتا تھا۔ پس کافروں میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں سرتابی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور جان بوجھ کر ظلم و عدوان کی بنا پر ہدایت کو چھوڑ دیا۔ انھی میں سے پہلے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ ہیں جنھوں نے محمدﷺکا جہالت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے انکار کیا کہ آپ نبی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ فرمایا ﴿وَلَىِٕنۡ اَتَيۡتَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ﴾ ’’اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آئیں۔‘‘ یعنی اگر آپ ان کے سامنے ہر قسم کی دلیل اور برہان پیش کردیں جو آپ کی بات اور دعوت کو واضح کر دیں ﴿مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَكَ﴾ ’’تو بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہ کریں گے۔‘‘ یعنی تب بھی وہ آپ کی اتباع نہیں کریں گے۔ کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا درحقیقت آپ کی اتباع کی دلیل ہے اور اس لیے کہ اصل سبب قبلے کا معاملہ ہے اور معاملہ واقعی ایسا ہے، کیونکہ وہ حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں انھوں نے حق کو پہچانا اور اسے چھوڑ دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے صرف وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو حق کا متلاشی ہو اور حق اس پر مشتبہ ہو گیا ہو، تب یہ آیات بینات اس پر حق کو واضح کر دیتی ہیں اور جو کوئی اس بات پر اڑ جاتا ہے کہ وہ حق کی اتباع نہیں کرے گا تو اسے حق کی طرف لانے کی کوئی صورت نہیں۔ نیز ان میں آپس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اے محمد(ﷺ) یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، کیونکہ وہ دشمن اور حاسد ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِتَابِـعٍ قِبۡلَتَهُمۡ﴾(وَلَا تَتَّبِـعْ) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ یہ لفظ اس بات کو متضمن ہے کہ رسول اللہﷺان کی مخالفت سے متصف ہیں، پس آپ سے اس کا وقوع ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا (وَلَوْ اَتَوْا بِکُلِّ آیَۃٍ) کیونکہ ان کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل ہی نہیں۔ اسی طرح جب یقینی دلائل و براہین سے حق واضح ہو جاتا ہے تو اس پر وارد شبہات کا جواب دینا لازم نہیں۔ کیونکہ ان شبہات کی تو کوئی حد نہیں اور ان کا بطلان واضح ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو چیز واضح حق کے منافی ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ تب شبہ کو حل کرنا تبرع کے زمرے میں آئے گا۔ (یعنی بغیر ضرورت کے محض خوشی سے شبہات کا ازالہ کرنا)﴿وَلَىِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَؔآءَهُمۡ﴾ ’’اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ﴿ اَهۡوَؔآءَهُمۡ﴾ ’’ان کی خواہشات‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کی بجائے (دِینَھُمْ) ’’ان کا دین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ وہ خود بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین نہیں ہے۔ اور جو کوئی دین کو چھوڑ دیتا ہے وہ لامحالہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَفَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾(الجاثیہ : 45؍23) ’’بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے …

Al-Baqara 2:145Listen in Qur'an →
146

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ پہچانتے ہیں اس (رسول) کو جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کواور بے شک ایک فریق ان میں سے ، البتہ وہ چھپاتا ہے حق کو، حالانکہ وہ جانتا ہے(146)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس ہرگز نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(147)

[146] اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمدﷺاللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انھیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انھیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انھیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفیﷺکی پہچان ان کے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا انکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپا لیا۔ درآں حالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا :﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ﴾(البقرہ:140) ’’اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے لیے تسلی اور ان کو اہل کتاب کے شر اور شبہات سے بچنے کی تلقین ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے جانتے بوجھتے حق کو نہیں چھپایا۔ پس ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور بعض نے محض جہالت کی بنا پر آپ کا انکار کر دیا۔ پس صاحب علم اپنے علم کے مطابق جس قدر دلیل دینے اور تعبیر کرنے پر قادر ہے اس پر اسی قدر حق کا اظہار کرنا، اس کو بیان کرنا اور اس کو مزین کرنا فرض ہے اور اسی قدر باطل کا ابطال کرنا ، حق سے اس کو علیحدہ کرنا اورہر ممکن طریقے سے نفوس کے سامنے اس کی برائی نمایاں کرنا اس پر لازم ہے۔ لیکن اس حق کو چھپانے والوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، لہٰذا ان کے احوال بھی اس کے برعکس ہو گئے۔

[147]﴿اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’یہ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی یہ حق، جو ہر چیز سے زیادہ حق کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ یہ مطالب عالیہ، اچھے احکام اور تزکیہ نفوس پر مشتمل ہے، نیز نفوس کے لیے ان کے مصالح کے حصول اور ان سے مفاسد کو دور کرنے کا باعث ہے، اس لیے کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے اور یہ من جملہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی تربیت ہے کہ اس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا جس میں نفوس و عقول کی تربیت اور تمام مصالح ہیں ﴿فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس حق کے بارے میں آپ کو معمولی سے شک و شبہ میں بھی مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حق میں غور و فکر کیجیے یہاں تک کہ آپ یقین کی منزل پر پہنچ جائیں۔ کیونکہ حق میں غور و فکر لامحالہ شک کو دور کر کے یقین کی منزل پر پہنچاتا ہے۔

Al-Baqara 2:146Listen in Qur'an →
147

ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(اے پیغمبر، یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ پہچانتے ہیں اس (رسول) کو جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کواور بے شک ایک فریق ان میں سے ، البتہ وہ چھپاتا ہے حق کو، حالانکہ وہ جانتا ہے(146)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس ہرگز نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(147)

[146] اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمدﷺاللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انھیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انھیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انھیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفیﷺکی پہچان ان کے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا انکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپا لیا۔ درآں حالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا :﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ﴾(البقرہ:140) ’’اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے لیے تسلی اور ان کو اہل کتاب کے شر اور شبہات سے بچنے کی تلقین ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے جانتے بوجھتے حق کو نہیں چھپایا۔ پس ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور بعض نے محض جہالت کی بنا پر آپ کا انکار کر دیا۔ پس صاحب علم اپنے علم کے مطابق جس قدر دلیل دینے اور تعبیر کرنے پر قادر ہے اس پر اسی قدر حق کا اظہار کرنا، اس کو بیان کرنا اور اس کو مزین کرنا فرض ہے اور اسی قدر باطل کا ابطال کرنا ، حق سے اس کو علیحدہ کرنا اورہر ممکن طریقے سے نفوس کے سامنے اس کی برائی نمایاں کرنا اس پر لازم ہے۔ لیکن اس حق کو چھپانے والوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، لہٰذا ان کے احوال بھی اس کے برعکس ہو گئے۔

[147]﴿اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’یہ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی یہ حق، جو ہر چیز سے زیادہ حق کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ یہ مطالب عالیہ، اچھے احکام اور تزکیہ نفوس پر مشتمل ہے، نیز نفوس کے لیے ان کے مصالح کے حصول اور ان سے مفاسد کو دور کرنے کا باعث ہے، اس لیے کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے اور یہ من جملہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی تربیت ہے کہ اس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا جس میں نفوس و عقول کی تربیت اور تمام مصالح ہیں ﴿فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس حق کے بارے میں آپ کو معمولی سے شک و شبہ میں بھی مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حق میں غور و فکر کیجیے یہاں تک کہ آپ یقین کی منزل پر پہنچ جائیں۔ کیونکہ حق میں غور و فکر لامحالہ شک کو دور کر کے یقین کی منزل پر پہنچاتا ہے۔

Al-Baqara 2:147Listen in Qur'an →
148

وَلِكُلٍّۢ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا۟ يَأْتِ بِكُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے

اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے وہ (منہ) پھیرنے والا ہے اس کی طرف، پس تم سبقت کرو نیکیوں میں، جہاں کہیں تم ہو گے، لے آئے گا تم کو اللہ سب کو، تحقیق اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(148)

[148] یعنی ہر ملت اور ہر دین والوں کے لیے ایک جہت مقرر ہے وہ اپنی عبادت میں اس کی طرف منہ کرتے ہیں۔ استقبال قبلہ کوئی بڑا معاملہ نہیں، اس لیے کہ یہ ان شریعتوں میں سے ہے جو احوال و زمان کے بدلنے کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، اس میں نسخ اور ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہونا بھی داخل ہے، لیکن اصل اور اہم معاملہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کا تقرب اور اس کے قرب میں حصول درجات ہے، یہی سعادت کا عنوان اور ولایت کا منشور ہے۔ یہی وہ وصف ہے کہ اگر نفوس اس سے متصف نہ ہوں تو دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے ہیں جیسے اگر نفوس اپنے آپ کو اس وصف سے متصف کر لیں تو یہی حقیقی منافع ہے۔ تمام شریعتوں میں یہ متفق علیہ امر ہے۔ اسی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا اور اسی کا اللہ تعالیٰ نے سب کو حکم دیا۔ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کا حکم، نیکی کرنے کے حکم پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ نیکیوں کی طرف سبقت، نیکیوں کے کرنے، ان کی تکمیل، کامل ترین احوال میں ان کو واقع کرنے اور نہایت سرعت سے ان کی طرف بڑھنے کو متضمن ہے۔ جو کوئی اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے وہ آخرت میں جنت کی طرف سبقت لے جائے گا، پس سابقون (سبقت کرنے والے) تمام مخلوق میں بلند ترین درجے پر فائز ہوں گے۔ اور نیکیوں کا لفظ تمام فرائض، نماز، نوافل، روزے، زکٰوۃ ، حج و عمرہ، جہاد اور لوگوں کو نفع پہنچانے وغیرہ کو شامل ہے۔ جب بات یہ ہے کہ سب سے طاقتور داعیہ جو نفوس کو نیکیوں میں مسابقت و مسارعت پر آمادہ کرتا ہے اور انھیں نشاط عطا کرتا ہے، وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ ان نیکیوں پر عطا کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ﴿ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يَاۡتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’تم جہاں کہیں بھی ہو گے، اللہ تم سب کو لے آئے گا ،بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ وہ قیامت کے روز اپنی قدرت سے تمھیں اکٹھا کرے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى ﴾(النجم : 53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے ہیں ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ہیں ان کو نیک بدلہ دے۔‘‘ اس آیت کریمہ سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ہر اس فضیلت کو اختیار کرنا چاہیے جس سے کوئی عمل متصف ہو سکتا ہے، مثلاً اول وقت پر نماز ادا کرنا، روزے، حج، عمرہ اور زکٰوۃ کی ادائیگی سے فوری طور پر بری الذمہ ہونا۔ تمام عبادات کی سنن و آداب کو پوری طرح ادا کرنا۔ پس کتنی جامع اور کتنی نفع مند آیت ہے۔

Al-Baqara 2:148Listen in Qur'an →
149

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں

اور جہاں سے نکلیں آپ تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور بلاشبہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(149) اور جہاں سے آپ نکلیں تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی جانب تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے تمھارے خلاف کوئی حجت، سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سےاور تاکہ پوری کروں میں اپنی نعمت اوپر تمھارے اور شاید کہ تم ہدایت پاؤ(150)

[149]﴿وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ﴾ ’’جہاں سے بھی آپ نکلیں‘‘ یعنی اپنے سفر وغیرہ میں۔ یہ عموم کے لیے ہے ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

[150]﴿وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ﴾ ’’اور تم جہاں بھی ہو، تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔‘‘ فرمایا:﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’اور یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے (اِنَّ) اور (لام) استعمال کر کے اس کو موکد کر دیا ہے تاکہ اس میں کسی کے لیے ادنیٰ سے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ محض خواہش ہے اس میں اطاعت مطلوب نہیں۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے‘‘ بلکہ وہ تمھیں تمھارے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، اس لیے اس کا ادب کرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے اجتناب کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں بلکہ تمھارے اعمال کی کامل جزا دی جائے گی۔ اگر اچھے اعمال ہیں تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برے اعمال ہیں تو ان کی جزا بری ہو گی۔ ﴿لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ﴾ ’’اس لیے کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارے لیے کعبہ شریف کو اس لیے قبلہ قرار دیا ہے تاکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب کے لیے تم پر کوئی حجت نہ رہے۔ کیونکہ اگر بیت المقدس کو قبلہ کے طور پر باقی رکھا ہوتا تو یہ استقبال کعبہ کے خلاف حجت ہوتی، کیونکہ اہل کتاب اپنی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ نبی آخر الزمانﷺکا مستقل قبلہ، کعبہ یعنی بیت الحرام ہو گا اور مشرکین مکہ سمجھتے تھے کہ یہ عظیم گھر ان کے مفاخر میں شمار ہوتا ہے اور یہ ملت ابراہیم کامرکز ہے اور جب رسول اللہﷺکعبہ شریف کو قبلہ نہیں بنائیں گے تو مشرکین کے پاس آپ کے خلاف حجت ہو گی۔ وہ کہیں گے کہ محمد(ﷺ) ملت ابراہیم پر ہونے کا کیسے دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس نے ابراہیمuکی اولاد ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کو قبلہ نہیں بنایا۔ پس بیت اللہ کو قبلہ بنانے سے اہل کتاب اور مشرکین دونوں پر حجت قائم ہو گئی اور آپ پر وہ جو حجت قائم کر سکتے تھے، وہ منقطع ہو گئی۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ﴾ ’’مگر ان میں سے جو ظالم ہیں۔‘‘ یعنی ان میں جو کوئی دلیل دیتا ہے وہ اس بارے میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اس کے پاس کوئی سند اور کوئی دلیل نہیں سوائے ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی کے، لہٰذا آپ کے خلاف حجت قائم کرنے کی کوئی راہ نہیں۔ اسی طرح اس شبہ کی پروا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں جسے یہ لوگ حجت کے طور پر وارد کرتے ہیں۔ اس کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ﴾ ’’تم ان سے مت ڈرو‘‘ کیونکہ ان کی حجت باطل ہے اور باطل اپنے نام کی مانند بے کار اور فاسد ہے۔ باطل اور باطل پرست مدد اور تائید سے محروم ہیں۔ صاحب حق کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حق کا رعب اور عزت ہے۔ حق جس کے ساتھ ہے وہ اس کی خشیت کا موجب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خشیت کا حکم دیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے پس جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ اس کی نافرمانی …

Al-Baqara 2:149Listen in Qur'an →
150

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِى وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِى عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور تم جہاں سے نکلو، مسجدِ محترم کی طرف منہ (کرکے نماز پڑھا) کرو۔ اور مسلمانو، تم جہاں ہوا کرو، اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔ (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں، (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔ اور یہ بھی مقصود ہے کہ تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو

اور جہاں سے نکلیں آپ تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور بلاشبہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(149) اور جہاں سے آپ نکلیں تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی جانب تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے تمھارے خلاف کوئی حجت، سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سےاور تاکہ پوری کروں میں اپنی نعمت اوپر تمھارے اور شاید کہ تم ہدایت پاؤ(150)

[149]﴿وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ﴾ ’’جہاں سے بھی آپ نکلیں‘‘ یعنی اپنے سفر وغیرہ میں۔ یہ عموم کے لیے ہے ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

[150]﴿وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ﴾ ’’اور تم جہاں بھی ہو، تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔‘‘ فرمایا:﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’اور یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے (اِنَّ) اور (لام) استعمال کر کے اس کو موکد کر دیا ہے تاکہ اس میں کسی کے لیے ادنیٰ سے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ محض خواہش ہے اس میں اطاعت مطلوب نہیں۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے‘‘ بلکہ وہ تمھیں تمھارے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، اس لیے اس کا ادب کرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے اجتناب کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں بلکہ تمھارے اعمال کی کامل جزا دی جائے گی۔ اگر اچھے اعمال ہیں تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برے اعمال ہیں تو ان کی جزا بری ہو گی۔ ﴿لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ﴾ ’’اس لیے کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارے لیے کعبہ شریف کو اس لیے قبلہ قرار دیا ہے تاکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب کے لیے تم پر کوئی حجت نہ رہے۔ کیونکہ اگر بیت المقدس کو قبلہ کے طور پر باقی رکھا ہوتا تو یہ استقبال کعبہ کے خلاف حجت ہوتی، کیونکہ اہل کتاب اپنی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ نبی آخر الزمانﷺکا مستقل قبلہ، کعبہ یعنی بیت الحرام ہو گا اور مشرکین مکہ سمجھتے تھے کہ یہ عظیم گھر ان کے مفاخر میں شمار ہوتا ہے اور یہ ملت ابراہیم کامرکز ہے اور جب رسول اللہﷺکعبہ شریف کو قبلہ نہیں بنائیں گے تو مشرکین کے پاس آپ کے خلاف حجت ہو گی۔ وہ کہیں گے کہ محمد(ﷺ) ملت ابراہیم پر ہونے کا کیسے دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس نے ابراہیمuکی اولاد ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کو قبلہ نہیں بنایا۔ پس بیت اللہ کو قبلہ بنانے سے اہل کتاب اور مشرکین دونوں پر حجت قائم ہو گئی اور آپ پر وہ جو حجت قائم کر سکتے تھے، وہ منقطع ہو گئی۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ﴾ ’’مگر ان میں سے جو ظالم ہیں۔‘‘ یعنی ان میں جو کوئی دلیل دیتا ہے وہ اس بارے میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اس کے پاس کوئی سند اور کوئی دلیل نہیں سوائے ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی کے، لہٰذا آپ کے خلاف حجت قائم کرنے کی کوئی راہ نہیں۔ اسی طرح اس شبہ کی پروا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں جسے یہ لوگ حجت کے طور پر وارد کرتے ہیں۔ اس کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ﴾ ’’تم ان سے مت ڈرو‘‘ کیونکہ ان کی حجت باطل ہے اور باطل اپنے نام کی مانند بے کار اور فاسد ہے۔ باطل اور باطل پرست مدد اور تائید سے محروم ہیں۔ صاحب حق کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حق کا رعب اور عزت ہے۔ حق جس کے ساتھ ہے وہ اس کی خشیت کا موجب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خشیت کا حکم دیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے پس جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ اس کی نافرمانی …

Al-Baqara 2:150Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.