اور جہاں سے نکلیں آپ تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور بلاشبہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(149) اور جہاں سے آپ نکلیں تو پھیر لیں اپنا چہرہ جانب مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی جانب تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے تمھارے خلاف کوئی حجت، سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سےاور تاکہ پوری کروں میں اپنی نعمت اوپر تمھارے اور شاید کہ تم ہدایت پاؤ(150)
[149]﴿وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ﴾ ’’جہاں سے بھی آپ نکلیں‘‘ یعنی اپنے سفر وغیرہ میں۔ یہ عموم کے لیے ہے ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
[150]﴿وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ﴾ ’’اور تم جہاں بھی ہو، تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔‘‘ فرمایا:﴿وَاِنَّهٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’اور یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے (اِنَّ) اور (لام) استعمال کر کے اس کو موکد کر دیا ہے تاکہ اس میں کسی کے لیے ادنیٰ سے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ محض خواہش ہے اس میں اطاعت مطلوب نہیں۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے‘‘ بلکہ وہ تمھیں تمھارے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، اس لیے اس کا ادب کرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے اجتناب کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں بلکہ تمھارے اعمال کی کامل جزا دی جائے گی۔ اگر اچھے اعمال ہیں تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برے اعمال ہیں تو ان کی جزا بری ہو گی۔ ﴿لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ﴾ ’’اس لیے کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارے لیے کعبہ شریف کو اس لیے قبلہ قرار دیا ہے تاکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب کے لیے تم پر کوئی حجت نہ رہے۔ کیونکہ اگر بیت المقدس کو قبلہ کے طور پر باقی رکھا ہوتا تو یہ استقبال کعبہ کے خلاف حجت ہوتی، کیونکہ اہل کتاب اپنی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ نبی آخر الزمانﷺکا مستقل قبلہ، کعبہ یعنی بیت الحرام ہو گا اور مشرکین مکہ سمجھتے تھے کہ یہ عظیم گھر ان کے مفاخر میں شمار ہوتا ہے اور یہ ملت ابراہیم کامرکز ہے اور جب رسول اللہﷺکعبہ شریف کو قبلہ نہیں بنائیں گے تو مشرکین کے پاس آپ کے خلاف حجت ہو گی۔ وہ کہیں گے کہ محمد(ﷺ) ملت ابراہیم پر ہونے کا کیسے دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس نے ابراہیمuکی اولاد ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کو قبلہ نہیں بنایا۔ پس بیت اللہ کو قبلہ بنانے سے اہل کتاب اور مشرکین دونوں پر حجت قائم ہو گئی اور آپ پر وہ جو حجت قائم کر سکتے تھے، وہ منقطع ہو گئی۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ﴾ ’’مگر ان میں سے جو ظالم ہیں۔‘‘ یعنی ان میں جو کوئی دلیل دیتا ہے وہ اس بارے میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اس کے پاس کوئی سند اور کوئی دلیل نہیں سوائے ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی کے، لہٰذا آپ کے خلاف حجت قائم کرنے کی کوئی راہ نہیں۔ اسی طرح اس شبہ کی پروا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں جسے یہ لوگ حجت کے طور پر وارد کرتے ہیں۔ اس کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ﴾ ’’تم ان سے مت ڈرو‘‘ کیونکہ ان کی حجت باطل ہے اور باطل اپنے نام کی مانند بے کار اور فاسد ہے۔ باطل اور باطل پرست مدد اور تائید سے محروم ہیں۔ صاحب حق کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حق کا رعب اور عزت ہے۔ حق جس کے ساتھ ہے وہ اس کی خشیت کا موجب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خشیت کا حکم دیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے پس جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ اس کی نافرمانی …