Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 141–150 of 286

141

تِلْكَ أُمَّةٌۭ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْـَٔلُونَ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

Explained together with ayah 139

Al-Baqara 2:141Listen in Qur'an →
142

۞ سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ ٱلَّتِى كَانُوا۟ عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے

خلاصہ تفسیر :- (جب کعبہ قبلہ نماز مقرر ہو کر یہود کا قبلہ متروک ہوگیا تو بوجہ ناگواری کے) اب تو (یہ) بیوقوف لوگ ضرور ہی کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو ان کے (سابق سمیت) قبلہ سے (کہ بیت المقدس تھا) جس طرف پہلے متوجہ ہوا کرتے تھے کس بات نے (دوسری سمت کی طرف) بدل دیا آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ سب (سمتیں خواہ) مشرق ہو اور (خواہ) مغرب (ہو) اللہ ہی ملک ہیں (خدا تعالیٰ کو مالکانہ اختیار ہے جس سمت کو چاہیں مقرر فرمادیں کسی کو منصب علت دریافت کرنے کا نہیں ہے اور سیدھا طریق احکام شرعیہ کے باب میں یہی اعتقاد ہے لیکن بعضوں کو اس راہ کے اختیار کرنے کی توفیق نہیں ہوتی خواہ مخواہ علتیں ڈھونڈتے پھرا کرتے ہیں البتہ) جس کو خدا ہی (اپنے فضل سے) چاہیں (یہ) سیدھا طریق بتلا دیتے ہیں، - معارف و مسائل :- اس آیت میں میں مخالفین کا اعتراض درباہ تحویل قبلہ نقل کرکے اس کا جواب دیا گیا ہے اس اعتراض اور جواب سے پہلے قبلہ کی حقیقت اور اس کی مختصر تاریخ سن لیجئے جس سے سوال و جواب کا سمجھنا آسان ہوجائے گا،- قبلہ کے لفظی معنی ہیں سمت توجہ یعنی جس طرف رخ کیا جائے یہ ظاہر ہے کہ مومن کا رخ ہر عبادت میں صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف ہوتا ہے اور اس کی ذات پاک مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی قیدوں اور سمتوں سے بالاتر ہے وہ کسی خاص سمت میں نہیں اس کا اثر طبعی طور پر یہ ہونا تھا کہ کوئی عبادت کرنے والا کسی خاص رخ کا پابند نہ ہوتا جس کا جس طرف جی چاہتا نماز میں اپنا رخ اس طرف کرلیتا اور ایک ہی آدمی کسی وقت ایک طرف اور کسی وقت کئی طرف رخ کرتا تو وہ بھی بےجا نہ ہوتا،- لیکن ایک دوسری حکمت الہیہ اس کی مقتضی ہوئی کہ تمام عبادت گذاروں کا رخ ایک ہی طرف ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ عبادت کی مختلف قسمیں ہیں بعض انفرادی ہیں بعض اجتماعی ذکر اللہ اور روزہ وغیرہ انفرادی عبادات ہیں جن کو خلوت میں اور اخفاء کے ساتھ ادا کیا جاسکتا ہے اور نماز اور حج اجتماعی عبادات ہیں جن کو جماعت و اجتماع و اعلان کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے ان میں عبادت کے ساتھ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی کے آداب کا بتلانا اور سکھانا بھی پیش نظر ہے اور یہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ اجتماعی نظام کا سب سے بڑا بنیادی اصول افراد کثیرہ کی وحدت اور یک جہتی ہے، یہ وحدت جتنی زیادہ قوی سے قوی ہوگی اتنا ہی اجتماعی نظام مستحکم اور مضبوط ہوگا انفرادیت اور تشتت اجتماعی نظام کے لئے سم قاتل ہے پھر نقطہ وحدت متعین کرنے میں ہر قرن ہر زمانہ کے لوگوں کی مختلف راہیں رہی ہیں کسی قوم نے نسل اور نسب کو نقطہ وحدت قرار دیا کسی نے وطن اور جغرافیائی خصوصیات کو کسی نے رنگ اور زبان کو،- لیکن دین الہی اور شرائع انبیاء (علیہم السلام) نے ان غیر اختیاری چیزوں کو نقطہ وحدت بنانے کے قابل نہیں سمجھا اور نہ درحقیقت یہ چیزیں ایسی ہیں جو پورے افراد انسانی کو کسی ایک مرکز پر جمع کرسکیں بلکہ جتنا غور کیا جائے یہ وحدتیں درحقیقت افراد انسانی کو بہت سی کثرتوں میں تقسیم کر ڈالنے اور آپس میں ٹکراؤ اور اختلافات کے اسباب ہیں، - دین اسلام نے جو درحقیقت تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ہے وحدت کا اصل نقطہ فکر و خیال اور عقیدہ کی وحدت کو قرار دیا اور کروڑوں خداؤں کی پرستش میں بٹی ہوئی دنیا کو ایک ذات حق وحدہ لاشریک لہ کی عبادت اور اطاعت کی دعوت دی جس پر مشرق ومغرب اور ماضی و مستقبل کے تمام افراد انسانی جمع ہوسکتے ہیں پھر اس حقیقی فکری اور نظری وحدت کو عملی صورت اور قوت دینے کے لئے کچھ ظاہری وحدتیں بھی ساتھ لگائی گئیں مگر ان ظاہری وحدتوں میں بھی اصول یہ رکھا گیا کہ وہ عملی اور اختیاری ہوں تاکہ تمام افراد انسانی ان کو اختیار کرکے ایک رشتہ اخوت میں منسلک ہوسکیں نسب، وطن، زبان، رنگ وغیرہ اختیاری چیزیں نہیں ہیں جو شخص ایک خاندان کے اندر پیدا ہوچکا ہے وہ کسی طرح دوسرے خاندان میں پیدا نہیں …

Al-Baqara 2:142Listen in Qur'an →
143

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةًۭ وَسَطًۭا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًۭا ۗ وَمَا جَعَلْنَا ٱلْقِبْلَةَ ٱلَّتِى كُنتَ عَلَيْهَآ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (اے متبعان محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح ہم نے تم کو ایسی ہی ایک جماعت بنادی ہے جو (ہر پہلو سے) نہایت اعتدال پر ہے تاکہ (دنیا میں شرف و امتیاز حاصل ہونے کے علاوہ آخرت میں بھی تمہارا بڑا شرف ظاہر ہو کہ) تم (ایک بڑے مقدمہ میں جس میں ایک فریق حضرات انبیاء (علیہم السلام) ہوں گے اور فریق ثانی ان کی مخالف قومیں ہوں گی ان مخالف) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ (تجویز) ہو اور (شرف بالائے شرف یہ ہوا کہ) تمہارے (قابل شہادت اور معتبر ہونے کے) لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گواہ ہوں ( اور اس شہادت سے تمہاری شہادت معتبر ہونے کی تصدیق ہو پھر تمہاری شہادت سے اس مقدمہ کا حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں فیصلہ ہو اور مخالفین مجرم قرار پاکر سزا یاب ہوں اور اس امر کا اعلیٰ درجہ کی عزت ہونا ظاہر ہے) - معارف و مسائل :- امت محمدیہ کا خاص اعتدال :- لفظ وَسَطَ بفتح السین بمعنی اوسط ہے اور خیر الامور اور افضل اشیاء کو وسط کہا جاتا ہے، - ترمذی میں بروایت ابو سعید خدری آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لفظ وسط کی تفسیر عدل سے کی گئی ہے جو بہترین کے معنی میں آیا ہے (قرطبی) اس آیت میں امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی ایک امتیازی فضیلت وخصوصیت کا ذکر ہے کہ وہ ایک معتدل امت بنائی گئی اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح ہم نے مسلمانوں کو وہ قبلہ عطا کیا جو سب سے اشرف و افضل ہے اسی طرح ہم نے امت اسلامیہ کو ایک خاص امتیازی فضیلت یہ عطا کی ہے کہ اس کو ایک معتدل امت بنایا ہے جس کے نتیجہ میں ان کو میدان حشر میں یہ امتیاز حاصل ہوگا کہ سارے انبیاء (علیہم السلام) کی امتیں جب اپنے انبیاء کی ہدایت و تبلیغ سے مکر جائیں گی اور ان کو جھٹلا کر یہ کہیں گی کہ ہمارے پاس نہ کوئی کتاب آئی نہ کسی نبی نے ہمیں کوئی ہدایت کی اس وقت امت محمدیہ انبیاء (علیہم السلام) کی طرف سے گواہی میں پیش ہوگی اور یہ شہادت دے گی کہ انبیاء (علیہم السلام) نے ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائی ہوئی ہدایت ان کو پہنچائیں اور ان کو صحیح راستہ پر لانے کی مقدور بھر پوری کوشش کی مدعیٰ علیہم امتیں امت محمدیہ کی گواہی پر یہ جرح کریں گی کہ اس امت محمدیہ کا تو ہمارے زمانے میں وجود بھی نہ تھا اس کو ہمارے معاملات کی کیا خبر اس کی گواہی ہمارے مقابلہ میں کیسے قبول کی جاسکتی ہے،- امت محمدیہ اس جرح کا یہ جواب دے گی کہ بیشک ہم اس وقت موجود نہ تھے مگر ان کے واقعات و حالات کی خبر ہمیں ایک صادق مصدوق رسول نے اور اللہ کی کتاب نے دی ہے جس پر ہم ایمان لائے اور ان کی خبر کو اپنے معائنہ سے زیادہ وقیع اور سچا جانتے ہیں اس لئے ہم اپنی شہادت میں حق بجانب اور سچے ہیں اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش ہوں گے اور ان گواہوں کا تزکیہ و توثیق کریں گے کہ بیشک انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور میری تعلیم کے ذریعہ ان کو یہ صحیح حالات معلوم ہوئے،- محشر کے اس واقعہ کی تفصیل صحیح بخاری، ترمذی، نسائی، اور مسند احمد کی متعدد احادیث میں مجملا اور مفصلا مذکور ہے،- الغرض آیت مذکورہ میں امت محمدیہ کی اعلیٰ فضلیت وشرف کا راز یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ امت معتدل امت بنائی گئی ہے اس لئے یہاں چند باتیں قابل غور ہیں، - اعتدال امت کی حقیقت، اہمیت اور اس کی کچھ تفصیل :- (١) اعتدال کے معنی اور حقیقت کیا ہیں، (٢) وصف اعتدال کی یہ اہمیت کیوں ہے کہ اس پر مدار فضیلت رکھا گیا، (٣) اس امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے معتدل ہونے کا واقعات کی رو سے کیا ثبوت ہے ترتیب وار ان تینوں سوالوں کا جواب یہ ہے،- ١۔ اعتدال کے لفظی معنی ہیں برابر ہونا یہ لفظ عدل سے مشتق ہے اس کے معنی بھی برابر کرنے کے ہیں ٢۔ وصف اعتدال کی یہ اہمیت کہ اس کو انسانی شرف و فضیلت کا معیار قرار دیا گیا، ذرا …

Al-Baqara 2:143Listen in Qur'an →
144

قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى ٱلسَّمَآءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةًۭ تَرْضَىٰهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ ۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں

خلاصہ تفسیر :- آپ جو دل سے کعبہ کے قبلہ ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور امید وحی میں بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھتے ہیں کہ شاید فرشتہ حکم لے آوے سو) آپ کے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں (اور چونکہ ہمیں آپ کی خوشی پورا کرنا منظور ہے) اس لئے (ہم وعدہ کرتے ہیں کہ) آپ کو اسی قبلہ کی طرف متوجہ کردیں گے جو آپ کو پسند ہے (لو پھر ہم حکم ہی دئیے دیتے ہیں کہ) اب سے اپنا چہرہ نماز میں مسجد حرام کی طرف کیا کیجئے اور (یہ حکم صرف آپ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ سب لوگ پیغمبر بھی اور امتی بھی) جہاں کہیں موجود ہو (خواہ مدینہ منورہ میں یا اور جگہ یہاں تک کہ خود بیت المقدس میں بھی) اپنے چہروں کو اسی (مسجد حرام) کی طرف کیا کرو ( اور اس قبلہ کے مقرر ہونے کے متعلق) یہ اہل کتاب بھی (بالعموم اپنی کتابوں کی پیشینگوئی کی وجہ سے کہ نبی آخرالزماں کا قبلہ اس طرح ہوگا) یقینا جانتے ہیں کہ یہ حکم بالکل ٹھیک ہے (اور) ان کے پروردگار ہی کی طرف سے ہے (مگر عنادا مانتے نہیں) اور اللہ تعالیٰ ان کی کارروائیوں سے کچھ بیخبر نہیں ہے،- معارف و مسائل :- اس آیت کے پہلے جملہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اشتیاق کعبہ کا ذکر ہے اس اشتیاق کی مختلف وجوہ بیان کی گئی ہیں اور سب میں کوئی تعارض نہیں وہ سب وجوہ ہوسکتی ہیں مثلاً یہ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نزول وحی اور عطاء نبوت سے پہلے اپنی طبیعت و فطرت سے ملت ابراہیمی کے تابع کام کرتے تھے اور نزول وحی کے بعد قرآن نے بھی آپ کی شریعت کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے مطابق قرار دیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا قبلہ بیت اللہ تھا اس لئے آپ کی دلی خواہش یہی تھی کہ آپ کا اور مسلمانوں کا قبلہ بھی وہی کعبہ بیت اللہ قرار دے دیا جائے،- یہ وجہ بھی تھی کہ قبائل عرب بھی چونکہ ملت ابراہیمی کو کم ازکم زبان سے مانتے تھے اور اس کی پیروی کے مدعی تھے کعبہ کے قبلہ مسلمین ہوجانے سے ان کے اسلام کی طرف مائل ہوجانے کی توقع تھی اور سابق قبلہ بیت المقدس میں جو موافقت اہل کتاب کی توقع کی جاسکتی تھی وہ سولہ سترہ مہینے کے عمل کے بعد منقطع ہوچکی تھی کیونکہ یہود مدینہ منورہ کو اس کی وجہ سے کوئی اسلام سے قرب ہونے کے بجائے بعد ہی بڑھا تھا،- بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش یہ تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ یعنی کعبہ کو قرار دے دیا جائے اور چونکہ مقربان بارگاہ الہٰی انبیاء (علیہم السلام) اپنی کوئی خواہش اور کوئی درخواست حق تعالیٰ کی بارگاہ میں اس وقت تک پیش نہیں کرتے جب تک ان کو یہ درخواست پیش کرنے کی اجازت کا علم نہ ہوجائے اس سے سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دعا کرنے کی اجازت پہلے مل چکی تھی اور آپ اس کی دعا کررہے تھے اور اس کی قبولیت کے امیدوار تھے اس لئے بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تھے کہ شاید کوئی فرشتہ حکم لے کر آجائے آیت مذکورہ میں اس کیفیت کا بیان فرما کر پہلے تو قبولیت دعا کا وعدہ فرمایا فَلَنُوَلِّيَنَّكَ یعنی ہم آپ کا رخ اسی کی طرف پھیر دیں گے جو سمت آپ کو پسند ہے اس کے فوراً بعد ہی یہ رخ پھیرنے کا حکم بھی نازل فرما دیا فَوَلِّ وَجْهَكَ اس طرز عمل میں ایک خاص لطف تھا کہ پہلے وعدہ کی خوشی حاصل ہو پھر ایفائے وعدہ کی خوشی قند مکرر ہوجائے (یہ سب مضمون قرطبی، جصاص، مظہری سے لیا گیا ہے) - مسئلہ استقبال قبلہ :- یہ تحقیق پہلے آچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے تو ساری سمتیں اور ساری جہات برابر ہیں قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ لیکن مصالح امت کے لئے بتقاضائے حکمت کسی ایک جہت کو تمام دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کے لئے قبلہ بنا کر سب میں ایک دینی وحدت کا عملی مظاہرہ مقصود تھا وہ جہت بیت المقدس بھی ہوسکتی تھی مگر رسول اللہ (صلی اللہ …

Al-Baqara 2:144Listen in Qur'an →
145

وَلَئِنْ أَتَيْتَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٍۢ مَّا تَبِعُوا۟ قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٍۢ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍۢ قِبْلَةَ بَعْضٍۢ ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

خلاصہ تفسیر :- اور (باجود ان لوگوں کے سب کچھ سمجھنے کے ان کی ضد کی یہ حالت تھی) کہ اگر آپ (ان) اہل کتاب کے سامنے تمام (دنیا بھر کی) دلیلیں (جمع کرکے) پیش کردیں جب بھی یہ (کبھی) آپ کے قبلہ کو قبول نہ کریں اور (ان کی موافقت کی امید اس لئے نہ رکھنی چاہئے کہ آپ کا قبلہ بھی منسوخ ہونے والا نہیں اس لئے) آپ بھی ان کے قبلہ کو قبول نہیں کرسکتے (پس کوئی صورت موافقت کی باقی نہیں رہی) اور (جیسا ان اہل کتاب کو آپ سے ضد ہے ان میں باہم بھی موافقت نہیں کیونکہ) ان کا کوئی (فریق) بھی دوسرے (فریق) کے قبلہ کو قبول نہیں کرتا، (مثلا یہود نے بیت المقدس لے رکھا تھا اور نصاریٰ نے مشرق کی سمت کو قبلہ بنا رکھا تھا) اور (خدانخواستہ آپ تو کسی طرح ان کے قبلہ منسوخہ غیر مشروعہ کو لے ہی نہیں سکتے کیونکہ) اگر آپ ان کے (ان) نفسانی خیالات کو (گو وہ اصل میں حکم آسمانی رہے ہوں لیکن اب بوجہ منسوخ ہونے کے ان پر عمل کرنا محض نفسانی تعصب ہے سو اگر آپ ایسے خیالات کو) اختیار کرلیں (اور وہ بھی) آپ کے پاس علم (قطعی یعنی وحی) آئے پیچھے تو یقیناً آپ (نعوذ باللہ) ظالموں میں شمار ہونے لگیں ( جو کہ تارکین حکم ہیں اور آپ کا ظالم ہونا بوجہ معصوم ہونے کے محال ہے اس لئے یہ بھی محال ہے کہ آپ ان کے خیالات کو جن میں سے ان کا قبلہ بھی ہے قبول کرلیں) - معارف و مسائل :- وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ میں یہ اعلان کردیا گیا کہ اب قیامت تک کے لئے آپ کا قبلہ بیت اللہ ہی رہے گا اس سے یہود و نصاریٰ کے ان خیالات کا قطع کرنا مقصود تھا کہ مسلمانوں کے قبلہ کو تو کوئی قرار نہیں پہلے بیت اللہ تھا پھر بیت المقدس ہوگیا پھر بیت اللہ ہوگیا اب بھی ممکن ہے کہ پھر دوبارہ بیت المقدس ہی کو قبلہ بنالیں (بحر محیط) وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ یہ خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور فرض محال کے ہے جس کے وقوع کا کوئی احتمال نہیں اور دراصل سنانا امت محمدیہ کو ہے کہ اس کی خلاف ورزی ایسی چیز ہے کہ خود رسول بھی بفرض محال ایسا کریں تو وہ بھی ظالم قرار پائیں۔

Al-Baqara 2:145Listen in Qur'an →
146

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

خلاصہ تفسیر :- اس سے پہلی آیت میں اہل کتاب کا قبلہ مسلمین کو دل میں حق جاننے اور زبان سے نہ ماننے کا ذکر تھا اس آیت میں انہی اہل کتاب کا صاحب قبلہ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح دل میں حق جاننے اور زبان سے نہ ماننے کا بیان ہے۔- جن لوگوں کو ہم نے کتاب (توراۃ و انجیل) دی ہے وہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (توراۃ و انجیل میں آئی ہوئی بشارت کی بناء پر بحیثیت رسالت) ایسا (بےشک وشبہ) پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو (ان کی صورت سے) پہچانتے ہیں (کہ بیٹے کی صورت دیکھ کر کبھی شبہ نہیں ہوتا کہ یہ کون شخص ہے مگر پہچان کر بھی سب مسلمان نہیں ہوتے بلکہ بعض تو ایمان لے آئے) اور بعضے ان میں سے (ایسے ہیں کہ اس) امر واقعی کو باوجودیکہ خوب جانتے ہیں (مگر) اخفاء کرتے ہیں (حالانکہ) یہ امر واقعی من جانب اللہ (ثابت ہوچکا) ہے سو (ایسے امر واقعی ثابت من اللہ میں ہر ہر فرد کو کہا جاسکتا ہے کہ) ہرگز شک وشبہ لانے والوں میں شمار نہ ہونا،- معارف و مسائل :- اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بحیثیت رسول پہچاننے کی تشبیہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے کے ساتھ دی گئی ہے کہ یہ لوگ جس طرح اپنے بیٹوں کو پوری طرح پہچانتے ہیں ان میں کبھی شبہ و اشتباہ نہیں ہوتا اسی طرح تورات و انجیل میں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت اور آپ کی واضح علامات و نشانات کا ذکر آیا ہے اس کے ذریعہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی یقینی طور سے جانتے پہچانتے ہیں ان کا انکار محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے،- یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ پوری طرح پہچاننے کے لئے بیٹوں کی مثال دی گئی ہے ماں باپ کی مثال نہیں دی حالانکہ آدمی اپنے ماں باپ کو بھی عادۃ خوب پہچانتا ہے وجہ یہ ہے کہ بیٹوں کی پہچان ماں باپ کی پہچان کی نسبت بہت زیادہ ہے کیونکہ انسان اپنے بیٹوں کو ابتداء پیدائش سے اپنے ہاتھوں میں پالتا ہے اس کے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہوتا جو ماں باپ کی نظر سے اوجھل رہا ہو بخلاف ماں باپ کے کہ ان کے اعضاء مستورہ پر اولاد کی کبھی نظر نہیں ہوتی، - اس بیان سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یہاں بیٹوں کو بیٹا ہونے کی حیثیت سے پہچاننا مراد نہیں کیونکہ اس کی نسبت تو انسان پر مشتبہ ہوسکتی ہے کہ ممکن ہے کہ بیوی نے خیانت کی ہو اور یہ بیٹا اپنا نہ ہو بلکہ مراد ان کی شکل و صورت وغیرہ کا پہچاننا ہے کہ بیٹا فی الواقع اپنا ہو یا نہ ہو مگر جس کو بحیثیت بیٹے کے انسان پالتا ہے اس کی شکل و صورت کے پہچاننے میں کبھی اشتباہ نہیں ہوتا،

Al-Baqara 2:146Listen in Qur'an →
147

ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(اے پیغمبر، یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

Explained together with ayah 146

Al-Baqara 2:147Listen in Qur'an →
148

وَلِكُلٍّۢ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا۟ يَأْتِ بِكُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (دوسری حکمت تحویل قبلہ میں یہ ہے کہ عادۃ اللہ جاری ہے کہ) ہر (مذہب والے) شخص کے واسطے ایک ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ (عبادت میں) منہ کرتا رہا ہے (چونکہ شریعت محمدیہ بھی ایک مستقل دین ہے اس کا قبلہ بھی ایک خاص ہوگیا جب حکمت سب پر ظاہر ہوچکی) سو (مسلمانوں) تم (اب اس بحث کو چھوڑ کر اپنے دین کے) نیک کاموں میں آگے بڑہنے کی کوشش کرو (کیونکہ ایک روز اپنے مالک سے سابقہ پڑنا ہے چنانچہ) تم خواہ کہیں ہوگے (لیکن) اللہ تعالیٰ تم سب کو (اپنے اجلاس میں) حاضر کردیں گے (اس وقت نیکیوں پر جزا اور اعمالِ بد پر سزا ہوگی اور) بالیقین اللہ تعالیٰ ہر امر پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور (اس حکمت کا مقتضاء بھی یہی ہے کہ جس طرح حضر میں کعبہ کی طرف رخ ہوتا ہے اسی طرح اگر مدینہ سے یا اور کہیں سے) جس جگہ سے بھی (کہیں سفر میں) آپ باہر جاویں تو (بھی) اپنا چہرہ (نماز میں) مسجد حرام کی طرف رکھا کیجئے (غرض حضر وسفر سب حالتوں کا یہی قبلہ ہے) اور یہ (حکم عام قبلہ کا) بالکل حق (اور صحیح) ہے (اور) منجانب اللہ (ہے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے کئے ہوئے کاموں سے ذرا بیخبر نہیں، - تحویل قبلہ کی تیسری حکمت :- اور (مکرر پھر کہا جاتا ہے کہ) آپ جس جگہ سے بھی (سفر میں) باہر جاویں اور حضر میں بدرجہ اولیٰ ) اپنا چہرہ (نماز میں) مسجد حرام کی طرف رکھئے اور (اسی طرح سب مسلمان بھی سن لیں کہ) تم لوگ جہاں کہیں (موجود) ہو اپنا چہرہ (نماز میں) اسی (مسجد حرام) کی طرف رکھا کرو (اور یہ حکم اس لئے مقرر کیا جاتا ہے) تاکہ (ان مخالف) لوگوں کو تمہارے مقابلہ میں (اس) گفتگو (کی مجال) نہ رہے (کہ اگر محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہی نبی موعود آخر الزماں ہوتے تو ان کی علامات میں تو یہ بھی ہے کہ ان کا اصلی قبلہ کعبہ ہوگا اور یہ تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑہتے ہیں یہ تیسری حکمت ہے تحویل قبلہ کی ہاں) مگر ان میں جو (بالکل ہی) بےانصاف ہیں (وہ اب بھی کٹھ حجتی نکالیں گے کہ یہ کیسے نبی ہیں جو اتنے نبیوں کے خلاف کعبہ کی طرف نماز پڑہتے ہیں لیکن جب ایسے مہمل اعتراضوں سے دین حق کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا) جو ایسے لوگوں سے (ذرا) اندیشہ نہ کرو (اور ان کے اعتراضوں کے جواب کی فکر میں مت پڑو) اور مجھ سے ڈرتے رہو (کہ میرے احکام کی مخالفت نہ ہونے پاوے کہ یہی مخالفت البتہ تم کو مضر ہے) اور (ہم نے ان سب احکام مذکورہ پر عمل کرنے کی توفیق بھی دی) تاکہ تم پر جو (کچھ) میرا انعام (اکرام متوجہ) ہے (تم کو آخرت میں داخل بہشت کرکے) اس کی تکمیل کردوں اور تاکہ (دنیا میں) تم راہ (حق) پر (یعنی اسلام پر قائم رہنے والوں میں رہو (جس پر وہ تکمیل نعمت مرتب ہوتی ہے) - معارف و مسائل :- تحویل قبلہ کی حکمتیں :- مذکور آیات میں تحویل قبلہ کے لئے الفاظ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام تین مرتبہ آئے ہیں اور حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ دو مرتبہ اس تکرار کی ایک عام وجہ تو یہ ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم مخالفین کے لئے شور وشغب کا ذریعہ تھا ہی خود مسلمانوں کے لئے بھی عبادات کا ایک عظیم انقلاب تھا اگر یہ حکم تاکیدات کے ساتھ بتکرار نہ لایا جاتا تو قلوب کا اطمینان و سکون آسان نہ ہوتا اس لئے اس حکم کو بار بار دہرایا گیا جس میں اس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ یہ تحویل آخری اور قطعی ہے اب اس کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں، - بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر میں جو تطبیق کی صورت لکھی گئی ہے قرطبی نے بھی اس کی ایک ایسی تقریر نقل کی ہے جس سے تکرار محض نہ رہے مثلاً فرمایا کہ پہلی مرتبہ جو حکم آیا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ یہ حکم حالت حضر کا ہے کہ جب آپ اپنی جگہ مقیم ہیں تو آپ مسجد حرام کی طرف رخ کیا کریں اور پھر پوری امت کو اسی کا حکم دیا گیا، …

Al-Baqara 2:148Listen in Qur'an →
149

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں

Explained together with ayah 148

Al-Baqara 2:149Listen in Qur'an →
150

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِى وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِى عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور تم جہاں سے نکلو، مسجدِ محترم کی طرف منہ (کرکے نماز پڑھا) کرو۔ اور مسلمانو، تم جہاں ہوا کرو، اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔ (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں، (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔ اور یہ بھی مقصود ہے کہ تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو

Explained together with ayah 148

Al-Baqara 2:150Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.