Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 11–20 of 286

11

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

چوتھی اور پانچویں آیتوں میں منافقین کا یہ مغالطہ مذکور ہے کہ فساد کو اصلاح سمجھتے اور اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے قرآن کریم نے واضح کیا کہ فساد و اصلاح زبانی دعوؤں پر نہیں ہوتے ورنہ کوئی چور ڈاکو بھی اپنے آپ کو مفسد کہنے کو تیار نہیں بلکہ مدارکار اس کام پر ہے جو کیا جارہا ہے وہ فساد ہے تو کرنے والے کو مفسد ہی کہا جائے گا خواہ اس کی نیت فساد کی نہ ہو،- (٧) اصلاح و فساد کی تعریف اور مصلح ومفسد کی پہچان :- آیات مذکورہ میں گذر چکا ہے کہ جب کوئی ان منافقین سے یہ کہتا کہ اپنے نفاق کے ذریعہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ بڑے زور اور تاکید سے کہتے تھے۔ میں لفظ اِنَّماَ جو حصر و انحصار کے لئے بولا جاتا ہے اس کی وجہ سے معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ہم تو مصلح ہی ہیں یعنی ہمارے کسی عمل کا فساد سے کوئی واسطہ نہیں مگر قرآن کریم نے ان کے جواب میں فرمایا اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ یعنی یادر کھو کہ یہی لوگ مفسد ہی ہیں مگر ان کو اس کا شعور نہیں، - اس میں دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ منافقین کی حرکات حقیقۃً زمین میں فتنہ و فساد پھیلنے کا سبب تھیں دوسری بات یہ کہ منافقین فتنہ و فساد پھیلانے کی نیت اور قصد سے یہ کام نہ کرتے تھے بلکہ ان کو معلوم بھی نہ تھا کہ اس کا نتیجہ فتنہ و فساد ہے جیسا کہ قرآن کی تصریح وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ سے معلوم ہوتا ہے ،- وجہ یہ ہے کہ زمین میں فتنہ و فساد جن چیزوں سے پھیلتا ہے ان میں کچھ تو ایسی چیزیں ہیں جن کو ہر شخص فتنہ و فساد سمجھتا ہے جیسے قتل، غارتگری، چوری، دھوکہ، فریب، اغواء، بدکاری وغیرہ ہر سمجھدار آدمی ان کو شر و فساد سمجھتا ہے اور ہر شریف آدمی ان سے بچتا ہے اور کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو اپنی ظاہری سطح کے اعتبار سے کوئی فتنہ و فساد نہیں ہوتیں، مگر ان کی وجہ سے انسانوں کے اخلاق برباد ہوتے ہیں اور انسانوں کی اخلاقی گراوٹ سارے فتنوں اور فسادوں کے دروازے کھول دیتی ہے، ان منافقین کا بھی یہی حال تھا کہ چوری، ڈاکہ، بدکاری وغیرہ سے بچتے تھے، اسی لئے بڑے زور سے اپنے مفسد ہونے کا انکار اور مصلح ہونے کا اثبات کیا،- مگر نفاق اور کینہ وحسد اور اس کے ماتحت دشمنوں سے سازشیں، یہ چیزیں انسان کے اخلاق کو ایسا تباہ کردیتی ہیں کہ انسان بہت سے حیوانوں کے سطح سے بھی نیچے آجاتا ہے اور ایسے کام کرنے پر اتر آتا ہے جو کبھی کبھی بھلے مانس سے متصور نہیں ہوتے، اور جب انسان اپنے انسانی اخلاق کھو بیٹھا تو انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں فساد ہی فساد آجاتا ہے فساد بھی ایسا عظیم جو نہ درندے جانوروں سے متوقع ہے نہ ڈاکوؤں اور چوروں سے کیونکہ ان کے فساد کو قانون اور حکومت کی طاقت سے روکا جاسکتا ہے مگر قانون جو انسان ہی جاری کرتے ہیں جب انسان انسان نہ رہا تو قانون کی جو گت بنے گی اس کا تماشا آج کھلی آنکھوں ہر شخص ہر محکمہ اور ہر ادارہ میں دیکھتا ہے آج دنیا کا تمدن ترقی پذیر ہے تعلیم وتعلّم کے اداروں کا جال گاؤں گاؤں تک پھیلا ہوا ہے تہذیب کے الفاظ ہر شخص کی زبان پر ہیں قانون سازی کی مجلسوں کا بازار گرم ہے تنقیذ قانون کے بیشمار ادارے اربوں روپے کے خرچ سے قائم ہیں دفتری انتظامات کی بھول بھلیّاں ہے مگر جرائم اور فتنے فساد روز بروز بڑہتے ہی جاتے ہیں وجہ اس کے سوا نہیں کہ کوئی قانون خودکار مشین نہیں ہوتا بلکہ اس کو انسان چلاتے ہیں جب انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھا تو پھر اس فساد کا علاج نہ قانون سے ہوسکتا ہے نہ حکومت اور محکموں کے چکر سے اسی لئے انسانیت کے عظیم ترین محسن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز فرمائی ہے کہ انسان کو صحیح معنی میں انسان بنادیں تو پھر فساد و جرائم خودبخود ختم ہوجاتے ہیں نہ پولیس کی زیادہ ضرورت رہتی ہے نہ عدالتوں کے اس پھیلاؤ کی جو دنیا میں پایا جاتا ہے اور جب تک دنیا کے جس …

Al-Baqara 2:11Listen in Qur'an →
12

أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ

دیکھو یہ بلاشبہ مفسد ہیں، لیکن خبر نہیں رکھتے

Explained together with ayah 11

Al-Baqara 2:12Listen in Qur'an →
13

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ كَمَآ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُ ۗ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلسُّفَهَآءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

چھٹی آیت میں منافقین کے سامنے صحیح ایمان کا ایک معیار رکھا گیا کہ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاس یعنی ایمان لاؤ جیسے ایمان لائے اور لوگ، اس میں ناس سے مراد باتفاق مفسرین صحابہ کرام ہیں کیونکہ وہی حضرات ہیں جو نزول قرآن کے وقت ایمان لائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی ایمان معتبر ہے جو صحابہ کرام کے ایمان کی طرح ہو جن چیزوں میں جس کیفیت کے ساتھ ان کا ایمان ہے اسی طرح کا ایمان دوسروں کا ہوگا تو ایمان لیا جائے گا، ورنہ نہیں اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کریم کا ایمان ایک کسوٹی ہے جس پر باقی ساری امت کے ایمان کو پرکھا جائے گا جو اس کسوٹی پر صحیح نہ ہو اس کو شرعا ایمان اور ایسا کرنے والے کو مومن نہ کہا جائے گا اس کے خلاف کوئی عقیدہ اور عمل خواہ ظاہر میں کتنا ہی اچھا نظر آئے اور کتنی ہی نیک نیتی سے کیا جائے اللہ کے نزدیک ایمان معتبر نہیں ان لوگوں نے صحابہ کرام کو سفہاء یعنی بیوقوف کہا اور یہی ہر زمانے کے گمراہوں کا طریقہ رہا ہے کہ جو ان کو صحیح راہ بتلائے اس کو جاہل قرار دیتے ہیں مگر قرآن کریم نے بتلا دیا کہ درحقیقت وہ خود ہی بیوقوف ہیں کہ ایسی کھلی نشانیوں پر ایمان نہیں رکھتے،- یہ تیرہ (١٣) آیتیں منافقین کے حال و مثال پر مشتمل ہیں ان میں بہت سے احکام و مسائل اور اہم ہدایات بھی ہیں، - (١) کیا کفر ونفاق عہد نبوی کے ساتھ مخصوص تھا یا اب بھی موجود ہیں ؟- اس معاملہ میں صحیح یہ ہے کہ منافق کے نفاق کو پہچاننا اور اس کو منافق قرار دینا دو طریقوں سے ہوتا تھا ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ وحی بتلا دیا کہ فلاں شخص دل سے مسلمان نہیں منافق ہے دوسرے یہ کہ اس کے کسی قول و فعل سے کسی عقیدہ اسلام کے خلاف کوئی بات یا اسلام کی مخالفت کا کوئی عمل ظاہر اور ثابت ہوجائے،- آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد انقطاع وحی کے سبب ان کے پہچاننے کی پہلی صورت تو باقی نہ رہی مگر دوسری صورت اب بھی موجود ہے جس شخص کے کسی قول وفعل سے اسلامی قطعی عقائد کی مخالفت یا ان پر استہزاء یا تحریف ثابت ہوجائے مگر وہ اپنے ایمان واسلام کا مدعی بنے تو وہ منافق سمجھا جائے گا ایسے منافق کا نام قرآن کریم کی اصطلاح میں ملحد ہے، الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا (٤: ٤١) اور حدیث میں اس کو زندیق کے نام سے موسوم کیا گیا ہے مگر چونکہ اس کا کفر دلیل سے ثابت اور واضح ہوگیا اس لئے اس کا حکم سب کفار جیسا ہوگیا الگ کوئی حکم اس کا نہیں ہے اسی لئے علماء امت نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد منافقین کا قضیہ ختم ہوگیا اب جو مومن نہیں وہ کافر کہلائے گا - حضرت امام مالک سے عمدہ شرح بخاری میں نقل کیا گیا ہے کہ زمانہ نبوت کے نفاق کی یہی صورت ہے جس کو پہچانا جاسکتا ہے اور ایسا کرنے والے کو منافق کہا جاسکتا ہے

Al-Baqara 2:13Listen in Qur'an →
14

وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَىٰ شَيَٰطِينِهِمْ قَالُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں

ساتویں آیت میں منافقین کے نفاق اور دو رخی پالیسی کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے تھے کہ ہم مومن مسلمان ہوگئے اور جب اپنی قوم کے کافر لوگوں سے ملتے جو کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں اور تمہاری قوم کے فرد ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تو محض تمسخر و استہزاء کے لئے یعنی ان کو بیوقوف بنانے کے لئے ملتے ہیں - (٢) ایمان و کفر کی حقیقت :- آیات مذکورہ میں غور کرنے سے ایمان واسلام کی پوری حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور اس کے بالمقابل کفر کی بھی کیونکہ ان آیات میں منافقین کی طرف سے ایمان کا دعوٰی اٰمَنَّابِاللہ میں اور قرآن کریم کی طرف سے ان کے اس دعوے کا غلط ہونا وَمَا ھُمْ بِمُؤ ْمِنِيْنَ میں ذکر کیا گیا ہے یہاں چند باتیں غور طلب ہیں ؛ - اول یہ کہ جن منافقین کا حال قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے وہ اصل میں یہودی تھے اور اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان لانا یہود کے مذہب میں بھی ثابت اور مسلم ہے اور جو چیز ان کے عقیدہ میں نہیں تھی یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ونبوت کو ماننا اور آپ پر ایمان لانا اس کو انہوں نے اپنے بیان میں ذکر نہیں کیا بلکہ صرف دو چیزیں ذکر کیں، ایمان باللہ، ایمان بالیوم الآخر، جس میں ان کو جھوٹا نہیں کہا جاسکتا پھر قرآن کریم میں ان کو جھوٹا قرار دینا اور ان کے ایمان کا انکار کرنا کس بنا پر ہے ؟ بات یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنی من مانی صورتوں میں خدا تعالیٰ یا آخرت کا اقرار کرلینا ایمان نہیں یوں تو مشرکین بھی کسی نہ کسی انداز سے اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں اور سب سے بڑا قادر مطلق مانتے ہیں، اور مشرکین ہندوستان تو پر لو کا نام دے کر قیامت کا ایک نمونہ بھی تسلیم کرتے ہیں مگر قرآن کی نظر میں یہ ایمان نہیں بلکہ وہ ایمان معتبر ہے جو اس کی بتلائی ہوئی تمام صفات کے ساتھ ہو، اور آخرت پر ایمان وہ معتبر ہے جو قرآن کریم اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتلائے ہوئے حالات داد صاف کے ساتھ ہو،- ظاہر ہے کہ یہود اس معنیٰ کے اعتبار سے نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت پر کیونکہ ایک طرف تو وہ حضرت عزیز (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور آخرت کے معاملہ میں بھی یہ غلط اعتقاد رکھتے ہیں کہ انبیاء کی اولاد کچھ بھی کرتی رہے وہ بہرحال اللہ تعالیٰ کی محبوب ہے ان سے آخرت میں کوئی باز پرس نہ ہوگی، اور کچھ عذاب ہوا بھی تو بہت معمولی ہوگا اس لئے قرآنی اصطلاح کے اعتبار سے ان کا یہ کہنا کہ ہم اللہ اور روز قیامت پر ایمان لائے ہیں غلط اور جھوٹ ہوا۔- (٣) کفر و ایمان کا ضابطہ قرآن کی اصطلاح میں ایمان وہ ہے جس کا ذکر اوپر سورة بقرہ کی تیرہویں آیت میں آچکا ہے وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ جس سے معلوم ہوا کہ ایمان کا دعوٰی صحیح یا غلط کے جانچنے کا معیار صحابہ کرام کا ایمان ہے جو اس کے مطابق نہیں وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک ایمان نہیں، - اگر کوئی شخص قرآنی عقیدہ کا مفہوم قرآنی تصریح یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریح کے خلاف قرار دے کر یہ کہے کہ میں تو اس عقیدہ کو مانتا ہوں تو یہ ماننا شرعا معتبر نہیں جیسا کہ آجکل قادیانی گروہ کہتا ہے کہ ہم بھی عقیدہ ختم نبوت کو ماننے ہیں مگر اس عقیدہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصریحات اور صحابہ کرام کے ایمان سے بالکل مختلف تحریف کرتے ہیں مرزا غلام احمد کی نبوت کیلئے جگہ نکالتے ہیں قرآن کریم کی اس تصریح کے مطابق وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کو وَمَا ھُمْ بِمُؤ ْمِنِيْنَ کہا جائے یعنی وہ ہرگز مومن نہیں،- خلاصہ یہ کہ ایمان صحابہ کے خلاف کوئی شخص کسی عقیدہ کا نیا مفہوم بنائے اور اس عقیدہ کا پابند ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو مومن مسلمان بتلائے اور مسلمانوں کے نماز روزہ میں شریک بھی ہو …

Al-Baqara 2:14Listen in Qur'an →
15

ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں

آٹھویں آیت میں ان کی اس احمقانہ گفتگو کا جواب ہے کہ یہ بےشعور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں سے استہزاء کرتے ہیں اور ان کو بیوقوف بنا رہے ہیں حالانکہ درحقیقت خود بیوقوف بن رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حلم وکرم سے ان کو ڈھیل دے کر خود انہی استہزاء کا سامان کردیا ہے کہ ظاہر میں کسی عذاب کے نہ آنے سے وہ اور غفلت میں پڑگئے اور اپنی سرکشی میں بڑہتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کا جرم اور سنگین ہوگیا پھر دفعۃً پکڑ لئے گئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ عمل چونکہ ان کے استہزاء کے جواب میں تھا اس لئے اس عمل کو بھی استہزاء سے تعبیر کیا گیا۔

Al-Baqara 2:15Listen in Qur'an →
16

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَٰرَتُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

نویں آیت میں منافقین کے اس حال کا ذکر ہے کہ انہوں نے اسلام کو بھی قریب سے دیکھا اس کا ذائقہ بھی چکھا اور کفر میں تو پہلے سے مبتلا ہی تھے پھر کفر واسلام دونوں کو دیکھنے سمجھنے کے بعد انہوں نے اپنی ذلیل دنیاوی اغراض کی خاطر اسلام کے بدلے کفر ہی کو ترجیح دی ان کے اس عمل کو قرآن کریم نے تجارت (بیوپار) کا نام دے کر یہ بتلایا کہ ان لوگوں کو بیوپار کا بھی سلیقہ نہ آیا کہ بہترین قیمتی چیز یعنی ایمان دے کر ردی اور تکلیف دہ چیز یعنی کفر خرید لیا،

Al-Baqara 2:16Listen in Qur'an →
17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارًۭا فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ظُلُمَٰتٍۢ لَّا يُبْصِرُونَ

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

آخری چار آیتوں میں منافقین کے حال کی دو مثالیں دے کر اس کا قابل نفرت ہونا بیان فرمایا گیا دو مثالیں اس بناء پر دی گئیں کہ منافقین میں دو طرح کے آدمی تھے ایک وہ جو اپنے کفر میں بالکل پختہ تھے ایمان کا اظہار صرف دنیوی مصلحت کی وجہ سے کرتے تھے ایمان واسلام سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا دوسرے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر کبھی کبھی سچے مسلمان ہونے کا ارادہ بھی کرلیتے تھے مگر پھر دنیوی اغراض سامنے آکر ان کو اس ارادہ سے روک دیتی تھیں اسی طرح وہ ایک تذبذب اور تردد کے حال میں رہتے،- اسی مضمون کے ضمن میں ان ظالموں کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی کہ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ہر وقت ہر حال میں ہلاک بھی کرسکتے ہیں اور بینائی وشنوائی کی طاقتیں بھی سلب کرسکتے ہیں

Al-Baqara 2:17Listen in Qur'an →
18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌۭ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ

(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

Explained together with ayah 17

Al-Baqara 2:18Listen in Qur'an →
19

أَوْ كَصَيِّبٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فِيهِ ظُلُمَٰتٌۭ وَرَعْدٌۭ وَبَرْقٌۭ يَجْعَلُونَ أَصَٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِم مِّنَ ٱلصَّوَٰعِقِ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ ۚ وَٱللَّهُ مُحِيطٌۢ بِٱلْكَٰفِرِينَ

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے

Explained together with ayah 17

Al-Baqara 2:19Listen in Qur'an →
20

يَكَادُ ٱلْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَٰرَهُمْ ۖ كُلَّمَآ أَضَآءَ لَهُم مَّشَوْا۟ فِيهِ وَإِذَآ أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا۟ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَٰرِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے

Explained together with ayah 17

Al-Baqara 2:20Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.