ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں، اور جو اس کو نہیں مانتے، وہ خسارہ پانے والے ہیں
خلاصہ تفسیر :- (اس آیت سے پہلے کی آیت میں معاندین اہل کتاب کا ذکر اور مخالفین کے ایمان سے کلی مایوسی کا بیان تھا اس کے بعد حسب عادت قرآن انصاف پسند اہل کتاب کا بیان ہے جنہوں نے حق واضح ہوجانے کے بعد جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور آپ کا اتباع اختیار کرلیا پس ارشاد ہے) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات و انجیل) دی بشرطیکہ وہ اس کی تلاوت (اس طرح) کرتے رہے جس طرح تلاوت کا حق ہے (کہ قوت علمیہ کو فہم مضامین میں صرف کیا اور قوت ارادیہ کو عزم اتباع حق میں استعمال کیا) ایسے لوگ (البتہ آپ کے) اس (دین حق اور علم وحی) پر ایمان لے آتے ہیں اور جو شخص نہ مانے گا (کس کا نقصان کرے گا) خود ہی ایسے لوگ خسارہ میں رہیں گے (کہ ایمان پر جو ثمرات عطا ہوتے ہیں ان سے محروم رہیں گے) ۔