Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 121–130 of 286

121

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں، اور جو اس کو نہیں مانتے، وہ خسارہ پانے والے ہیں

خلاصہ تفسیر :- (اس آیت سے پہلے کی آیت میں معاندین اہل کتاب کا ذکر اور مخالفین کے ایمان سے کلی مایوسی کا بیان تھا اس کے بعد حسب عادت قرآن انصاف پسند اہل کتاب کا بیان ہے جنہوں نے حق واضح ہوجانے کے بعد جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور آپ کا اتباع اختیار کرلیا پس ارشاد ہے) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات و انجیل) دی بشرطیکہ وہ اس کی تلاوت (اس طرح) کرتے رہے جس طرح تلاوت کا حق ہے (کہ قوت علمیہ کو فہم مضامین میں صرف کیا اور قوت ارادیہ کو عزم اتباع حق میں استعمال کیا) ایسے لوگ (البتہ آپ کے) اس (دین حق اور علم وحی) پر ایمان لے آتے ہیں اور جو شخص نہ مانے گا (کس کا نقصان کرے گا) خود ہی ایسے لوگ خسارہ میں رہیں گے (کہ ایمان پر جو ثمرات عطا ہوتے ہیں ان سے محروم رہیں گے) ۔

Al-Baqara 2:121Listen in Qur'an →
122

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اے بنی اسرائیل! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہلِ عالم پر فضیلت بخشی

خلاصہ تفسیر :- اوپر کی آیت تک بنی اسرائیل کے متعلق جن خاص مضامین کا بیان کرنا مقصود تھا وہ تو ختم ہوئے اب ان مضامین کی ابتدائی تمہید جن کے اجمال کے یہ سارے مضامین تفصیل تھے اس کو دوبارہ پھر بیان کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ تمہید کا مضمون خاص یعنی ترغیب کے لئے انعام عام وخاص کا یاد دلانا اور ترہیب کیلئے قیامت کو پیش نظر کردینا بوجہ تکرار خوب ذہن نشین ہوجائے کیونکہ مقصود اعظم کلیات ہوتے ہیں جن کا خود استحضار ان کے اختصار کی وجہ سے سہل اور آسان ہوتا ہے اور بوجہ جامعیت اور انطباق کے ان کے ذریعہ سے ان کے جزئیات کا محفوظ رکھنا آسان ہوتا ہے اور محاورات میں یہ طرز بلیغ بھی اعلیٰ درجہ کا سمجھا جاتا ہے کہ مفصل اور مطول بات کرنے سے پہلے ایک مجمل عنوان سے اس کی تقریر کردی جائے جس کا قدر مشترک تمام تفاصیل کے سمجھنے میں معین و مددگار ہو اور آخر میں بطور خلاصہ اور نتیجہ تفصیل اسی مجمل عنوان کا پھر اعادہ کردیا جائے مثلاً یہ کہا جائے کہ تکبر بڑی مضر خصلت ہے اس میں ایک ضرر یہ دوسرا یہ تیسرا یہ دس بیس مضرتیں گنوا کر پھر آخر میں کہہ دیا جائے کہ غرض تکبر بڑی مضر خصلت ہے اسی طور پر اس آیت يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ کا اعادہ فرمایا گیا ہے،- اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) میری ان نعمتوں کو یاد کرو جن کا میں نے تم پر (وقتا فوقتا) انعام کیا اور اس کو (بھی یاد کرو) کہ میں نے تم کو بہت لوگوں پر (بہت سی باتوں میں) فوقیت دی اور تم ڈرو ایسے دن سے (یعنی روز قیامت سے) جس میں کوئی شخص کسی کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ (اور حق واجب) ادا کرنے پاوے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ (بجائے حق واجب کے) قبول کیا جاوے گا اور نہ کسی کی کوئی سفارش (جبکہ ایمان نہ ہو) مفید ہوگی اور نہ ان لوگوں کو کوئی (بزور) بچا سکے گا۔

Al-Baqara 2:122Listen in Qur'an →
123

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ شَيْـًۭٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌۭ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَٰعَةٌۭ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے، اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے

Explained together with ayah 122

Al-Baqara 2:123Listen in Qur'an →
124

۞ وَإِذِ ٱبْتَلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٍۢ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّى جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًۭا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا

خلاصہ تفسیر :- اور جس وقت امتحان کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ان کے پروردگار نے چند باتوں میں (اپنے احکام میں سے) اور وہ ان کو پورے طور سے بجا لائے (اس وقت) حق تعالیٰ نے (ان سے) فرمایا کہ میں تم کو (اس کے صلہ میں نبوت دے کر یا امت بڑھا کر) لوگوں کو مقتدا بناؤں گا انہوں نے عرض کیا اور میری اولاد میں سے بھی کسی کو (نبوت دیجئے) ارشاد ہوا کہ (آپ کی درخواست منظور ہے مگر اس کا ضابطہ سن لیجئے کہ) میرا (یہ) عہدہ (نبوت) خلاف ورزی (قانون) کرنے والوں کو نہ ملے گا (سو ایسے لوگوں کو تو صاف جواب ہے البتہ اطاعت کرنے والوں میں سے بعض کو نبوت دی جائے گی) - معارف و مسائل :- اس آیت میں حق تعالیٰ کے خاص پیغمبر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مختلف امتحانات اور ان میں ان کی کامیابی پھر اس کے انعام وصلہ کا بیان اور پھر جب حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے ازراہ شفقت اپنی اولاد کے لئے بھی اسی انعام کی درخواست کی تو انعام پانے کا ایک ضابطہ ارشاد فرما دیا گیا جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی درخواست کی منظوری مشروط صورت میں دی گئی کہ یہ انعام آپ کی ذریت کو بھی ملے گا مگر جو لوگ ذریت میں سے نافرمان اور ظالم ہوں گے وہ یہ انعام نہ پاسکیں گے،- حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کے عظیم امتحانات اور مضامین امتحان :- یہاں چند باتیں غور طلب ہیں ؛- اول یہ کہ امتحان کسی شخص کی قابلیت معلوم کرنے لئے لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ علیم و خیبر ہیں کسی بھی شخص کا کوئی حال یا کمال ان پر مخفی نہیں پھر اس امتحان کا مقصد کیا تھا ؟ - دوسرے یہ کہ امتحان کس کس عنوان سے لیا گیا،- تیسرے یہ کہ کامیابی کس صورت میں اور کس نوعیت کی رہی،- چوتھے یہ کہ انعام کیا دیا گیا اور اس کی حیثیت کیا ہے،- پانچویں یہ کہ اس انعام کے لئے جو ضابطہ مقرر کیا گیا ہے اس کی کچھ توضیح و تفصیل۔- ان پانچوں سوالات کے جوابات بالتفصیل ملاحظہ فرمائیے،- پہلی بات کہ امتحان کا مقصد کیا تھا ؟ قرآن کے ایک لفظ ربُّہ نے اس کو حل کردیا جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اس امتحان کے ممتحن خود اللہ جل شانہ ہیں اور ان کے اسماء حسنی میں سے اس جگہ لفظ رب لاکر شان ربوبیت کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو آہستہ آہستہ درجہ کمال تک پہنچانا،- مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ ابتلاء و امتحان کسی جرم کی پاداش میں یا نامعلوم قابلیت کا علم حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ شان تربیت و ربوبیت اس کا منشاء ہے ان آزمائشوں کے ذریعے اپنے خلیل (علیہ السلام) کی تربیت کرکے ان کے درجات و مقامات تک پہنچانا مقصود ہے پھر اس جملہ میں مفعول کو مقدم اور فاعل کو مؤ خر کرکے یوں ارشاد ہوا وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ اس میں ابراہیم (علیہ السلام) کی جلالت شان کو اور نمایاں فرمایا گیا،- دوسرا سوال کہ امتحان کس عنوان سے لیا گیا ؟ اس کے متعلق قرآن شریف میں تو صرف کلمات کا لفظ آیا ہے اور اس لفظ کی تفسیر و تشریح میں حضرات صحابہ کرام (رض) اجمعین وتابعین کے مختلف اقوال ہیں کسی نے احکام الہیہ میں سے دس چیزیں شمار کیں کسی نے تیس بتلائی ہیں اور کسی نے اور کچھ کم وبیش دوسری چیزیں بتائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں کچھ اختلاف نہیں وہ چیزیں سب کی سب ہی حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کے مضامین امتحان تھے ائمہ تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر کی یہی رائے ہے۔- اللہ تعالیٰ کے نزدیک علمی موشگافیوں سے زیادہ قابل قدر اخلاق و کردار کی عملی ثابت قدمی ہے :- یہی مضامین امتحان جن کی تفصیل آگے بیان ہوگی مدارس کے امتحانات کی طرح فنی مسائل اور ان کی تحقیقات نہیں بلکہ اخلاقی قدروں اور عملی ثابت قدمی کی جانچ ہے اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہ عزوجلال میں جس چیز کی قیمت ہے وہ علمی موشگافیاں نہیں بلکہ عملی اور اخلاقی برتری ہے،- اب ان مضامین امتحان میں سے چند اہم چیزیں …

Al-Baqara 2:124Listen in Qur'an →
125

وَإِذْ جَعَلْنَا ٱلْبَيْتَ مَثَابَةًۭ لِّلنَّاسِ وَأَمْنًۭا وَٱتَّخِذُوا۟ مِن مَّقَامِ إِبْرَٰهِۦمَ مُصَلًّۭى ۖ وَعَهِدْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْعَٰكِفِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ

اور جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے، اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسمٰعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو

حل لغات مثابۃ یہ لفظ ثاب یثوب ثوباً ومثاباً سے ماخوذ ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں اس لئے مثابہ کے مرجع کے ہوگئے جہاں آدمی بار بار لوٹ کرجائے - خلاصہ تفسیر :- (اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ) جس وقت ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کا معبد اور (مقام) امن (ہمیشہ سے) مقرر رکھا اور (آخر میں امت محمدیہ کو حکم دیا کہ برکت حاصل کرنے کے لئے) مقام ابراہیم کو (کبھی کبھی) نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیا کرو اور ہم نے (بناء کعبہ کے وقت) ابراہیم و (حضرت) اسمعٰیل (علیہما السلام) کی طرف حکم بھیجا کہ میرے (اس) گھر کو خوب پاک (صاف) رکھا کرو بیرونی اور مقامی لوگوں (کی عبادت) کے واسطے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے واسطے۔- معارف و مسائل :- حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کی ہجرت مکہ اور بناء بیت اللہ کا تفصیلی واقعہ :- اس آیت میں بیت اللہ کعبہ کی تاریخ کی طرف اشارہ ہے اور حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) اور اسمعٰیل (علیہما السلام) کے ہاتھوں اس کی تعمیر جدید نیز بیت اللہ اور مکہ مکرمہ کی چند خصوصیات کا ذکر اور بیت اللہ اور مکہ مکرمہ کی چند خصوصیات کا ذکر اور بیت اللہ کے احترام سے متعلقہ احکام مذکور ہیں یہ مضمون قرآن کی بہت سی آیات میں مختلف سورتوں میں پھیلا ہوا ہے اس جگہ مختصر طور پر اس کو بیان کیا جاتا ہے جس سے مذکورہ آیات کا پورا مضمون واضح ہوجائے گا یہ مضمون سورة حج کی آیت نمبر ٢٦ میں اس طرح مذکور ہے،- وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ للطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ وَاَذِّنْ فِي النَّاس بالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ یعنی وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ ہم نے ابراہیم کو خانہ کعبہ کی جگہ بتلادی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرنا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے اور قیام و رکوع وسجود کرنے والوں کے واسطے پاک رکھنا اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز کے راستوں سے پہنچی ہوں گی،- تفسیر ابن کثیر میں ائمہ تفسیر حضرت مجاہد وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک شام میں مقیم تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) شیر خوار بچے تھے جس وقت حق تعالیٰ کا ان کو یہ حکم ملا کہ ہم خانہ کعبہ کی جگہ آپ کو بتلاتے ہیں آپ اس کو پاک صاف کرکے طواف و نماز سے آباد رکھیں اس حکم کی تعمیل کے لئے جبریل امین براق لے کر حاضر ہوئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اور اسماعیل کو مع ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کے ساتھ لے کر سفر کیا راستے میں جب کسی بستی پر نظر پڑتی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جبریل امین سے دریافت کرتے کہ کیا ہمیں یہاں اترنے کا حکم ملا ہے تو حضرت جبریل (علیہ السلام) فرماتے کہ نہیں آپ کی منزل آگے ہے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کی جگہ سامنے آئی جس میں کانٹے دار جھاڑیاں اور ببول کے درختوں کے سوا کچھ نہ تھا اس خطہ زمین کے آس پاس کچھ آس پاس کچھ لوگ بستے تھے جن کو عمالین کہا جاتا تھا بیت اللہ اس وقت ایک ٹیلہ کی شکل میں تھا حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اس جگہ پہنچ کر جبریل امین سے دریافت کیا کہ کیا ہماری منزل یہ ہے تو فرمایا کہ ہاں، - حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مع اپنے صاحبزادے اور حضرت ہاجرہ کے یہاں اتر گئے اور بیت اللہ کے پاس ایک معمولی چھپر ڈال کر حضرت اسماعیل اور ہاجرہ (علیہما السلام) کو یہاں ٹھہرا دیا ان کے پاس ایک توشہ دان میں کچھ کھجوریں اور ایک مشکیزہ میں پانی رکھ دیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس وقت یہاں ٹھہرنے کا حکم نہ تھا وہ اس شیر خوار بچہ اور ان کی والدہ کو حوالہ بخدا کرکے واپس ہونے لگے جانے کی تیاری دیکھ کر حضرت ہاجرہ نے عرض کیا کہ …

Al-Baqara 2:125Listen in Qur'an →
126

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا ءَامِنًۭا وَٱرْزُقْ أَهْلَهُۥ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ مَنْ ءَامَنَ مِنْهُم بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُۥ قَلِيلًۭا ثُمَّ أَضْطَرُّهُۥٓ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلنَّارِ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے (دعا میں) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اس (موقع) کو ایک (آباد) شہر بنا دیجئے (اور شہر بھی کیسا) امن (امان) والا اور اس کے بسنے والوں کو پھلوں (کی قسم) سے بھی عنایت کیجئے (اور میں سب بسنے والوں کو نہیں کہتا بلکہ خاص) ان کو (کہتا ہوں) جو ان میں اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہوں (باقیوں کو آپ جانیں) حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (کہ چونکہ رزق ہمارا خاص نہیں ہے اس لئے ثمرات سب کو دوں گا مومن کو بھی) اور اس شخص کو بھی جو کافر رہے (البتہ نجات آخرت چونکہ اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے) (اس واسطے) ایسے شخص کو (جو کہ کافر رہے) تھوڑے روز (یعنی دنیا میں) تو خوب آرام برتاؤں گا (لیکن) پھر (بعد مرگ) اس کو کشاں کشاں عذاب دوزخ میں پہنچا دوں گا اور ایسی پہنچنے کی جگہ تو بہت بری ہے (اللہ بچاوے اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ اٹھا رہے تھے ابراہیم (علیہ السلام) دیواریں خانہ کعبہ کی اور (ان کے ساتھ) اسماعیل (علیہ السلام) بھی (اور یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ) اے ہمارے پروردگار (یہ خدمت) ہم سے قبول فرمائیے بلاشبہ آپ خوب سننے والے جانتے والے ہیں (ہماری دعا کو سنتے ہیں ہماری نیتوں کو جانتے ہیں) اے ہمارے پروردگار اور (ہم دونوں یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ) ہم کو اپنا اور زیادہ مطیع بنا لیجئے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کی جیئے جو آپ کی مطیع ہو اور (نیز) ہم کو ہمارے حج (وغیرہ) کے احکام بھی بتلا دیجئے اور ہمارے حال پر (مہربانی کے ساتھ) توجہ رکھئے اور فی الحقیقت آپ ہی ہیں توجہ فرمانے والے مہربانی کرنے والے،- معارف و مسائل :- حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں مال ومنال اہل و عیال اور خود اپنے نفس کی خواہشات کو نظر انداز کرکے تعمیل احکام ربانی میں مسارعت کے جو کارنامے پیش کئے وہ عجائب روزگار میں سے ہیں۔- اس کے ساتھ اہل و عیال پر شفقت و محبت ایک طبعی اور فطری امر ہونے کے ساتھ حکم ربانی بھی ہے مذکور الصدر آیات اس کا مظہر ہیں انہوں نے اپنے اہل و عیال کیلئے دین و دنیا کی آسائش و راحت کے لئے دعائیں مانگی ہیں، - حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں :- دعا کو شروع لفظ رب سے کیا ہے جس کے معنی ہیں اے میرے پالنے والے ان الفاظ میں دعا مانگنے کا سلیقہ سکھایا ہے کہ خود یہ الفاظ حق تعالیٰ کی رحمت اور لطف وکرم کو متوجہ کرنے پر مؤ ثر دواعی ہیں پھر سب سے پہلی دعا یہ فرمائی کہ اس چٹیل میدان کو جس میں آپ کے حکم کے مطابق میں نے اپنے اہل و عیال کو لا ڈالا ہے آپ ایک شہر بنادیں تاکہ یہاں کی سکونت میں ان کو وحشت نہ ہو اور ضروریات زندگی بآسانی میسر آجائیں یہی دعا سورة ابراہیم میں ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا کے الفاظ سے آئی ہے جس میں البلد کو الف لام کے ساتھ ذکر کیا ہے جو عربی زبان کی اصطلاح میں معرفہ کہلاتا ہے فرق کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پہلی دعا جو آیت سورة بقرہ میں بلدا کے لفظ سے آئی ہے یہ اس وقت کی گئی ہے جب یہ جگہ جنگل تھی شہر بنا نہیں تھا اس وقت بلد کو بغیر الف لام کے نکرہ استعمال کیا اور دوسری دیا بظاہر اسوقت کی ہے جب مکہ کی بستی بس گئی اور وہ شہر معروف بن گیا اس کا قرینہ یہ ہے کہ سورة ابراہیم کی آخری آیات میں ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ (٣٩: ١٤) جس سے اندازہ یہ ہوتا ہے کہ دعا حضرت اسحاق کی پیدائش کے بعد کی ہے اور حضرت اسحاق حضرت سمٰعیل سے تیرہ سال بعد میں پیدا ہوئے (ابن کثیر) - دوسری دعا اس میں یہ ہے کہ اس شہر کو امن والا شہر بنا دیجئے یعنی جو قتل و غارت گری سے کفار کے تسلط سے اور آفات سے مامون و محفوظ رہے،- حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول ہوئی اور مکہ مکرمہ ایسا شہر ہوگیا کہ اس کی اپنی آبادی …

Al-Baqara 2:126Listen in Qur'an →
127

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَٰهِۦمُ ٱلْقَوَاعِدَ مِنَ ٱلْبَيْتِ وَإِسْمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت الله کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کئے جاتے تھے کہ) اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

اپنے نیک عمل پر بھروسہ اور قناعت نہ کرنے کی تعلیم :- رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے حکم ربانی کی تعمیل میں ملک شام کے ہرے بھرے خوش منظر خطہ کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ کے خشک پہاڑوں کے درمیان اپنے اہل و عیال کو لاڈلا اور بیت اللہ کی تعمیر میں اپنی پوری توانائی خرچ کی یہ موقع ایسا تھا کہ ایسے مجاہدے کرنے والے کے دل میں عجب پیدا ہوتا تو وہ اپنے عمل کو بہت کچھ قابل قدر سمجھتا لیکن یہاں حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) ہیں رب العزت کی بارگاہ عزت و جلال کو پہچاننے والے ہیں کہ کسی انسان سے اللہ تعالیٰ کے شایان شان عبادت و اطاعت ممکن نہیں ہر شخص اپنی قوت وہمت کی مقدار سے کام کرتا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا عمل کرے تو اس پر ناز نہ کرے بلکہ الحاح وزاری کے ساتھ دعا کرے کہ میرا یہ عمل قبول ہوجائے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بناء بیت اللہ کے عمل کے متعلق یہ دعا فرمائی کہ اے ہمارے پروردگار آپ ہمارے اس عمل کو قبول فرمالیں کیونکہ آپ توسننے والے اور جاننے والے ہیں ہماری دعا کو سنتے ہیں اور ہماری نیتوں کو جانتے ہیں

Al-Baqara 2:127Listen in Qur'an →
128

رَبَّنَا وَٱجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةًۭ مُّسْلِمَةًۭ لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ یہ دعا بھی اسی معرفت و خشیت کا نتیجہ ہے جو حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کو حاصل تھی کہ اطاعت و فرمانبرداری کے بےمثال کارنامے بجا لانے کے بعد بھی یہ دعا کرتے ہیں کہ ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لیجئے وجہ یہ ہے کہ جتنی کسی کو حق تعالیٰ کی معرفت بڑہتی جاتی ہے اتنا ہی اس کا یہ احساس بڑہتا جاتا ہے کہ ہم حق وفاداری اور حق فرنبرداری پورا ادا نہیں کر رہے،- وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اس دعا میں بھی اپنی اولاد کو شریک فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ والے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اولاد کی قربانی پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ان کو اپنی اولاد سے کس قدر محبت ہوتی ہے مگر اس محبت کے صحیح تقاضوں کو پورا کرتے ہیں جہاں تک عوام کی رسائی نہیں عوام تو اولاد کی صرف جسمانی صحت و راحت کو جانتے ہیں ان کی ساری شفقت و راحت اسی کے گرد گھومتی ہے مگر اللہ کے مقبول بندے جسمانی سے زیادہ روحانی اور دنیوی سے زیادہ اخروی راحت کی فکر کرتے ہیں اس لئے دعا فرمائی کہ میری اولاد میں سے ایک جماعت کو پورا فرمانبردار بنا دیجئے اپنی ذریت کے لئے دعا میں ایک حکمت اور بھی ہے کہ تجربہ شاہد ہے کہ جو لوگ قوم میں بڑے مانے جاتے ہیں ان کی اولاد اگر ان کے راستہ پر قائم رہے تو عوام میں ان کی مقبولیت فطری ہوتی ہے انکی صلاحیت صلاح عوام کا ذریعہ بنتی ہے (بحر محیط) - حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی قبول ہوئی کہ آپ کی ذریت میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو دین حق پر قائم اور اللہ کے فرمانبردار بندے تھے جاہلیت عرب میں جبکہ پوری دنیا کو خصوصاً عرب کو شرک وبت پرستی نے گھیر لیا تھا اس وقت اولاد ابراہیم میں ہمیشہ کچھ لوگ عقیدہ توحید وآخرت کے سچے معتقد اور اطاعت شعار رہے ہیں جیسے اہل جاہلیت میں زید بن عمرو بن نفیل اور قیس بن ساعدہ تھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جد امجد عبدالمطلب بن ہاشم کے متعلق بھی یہی روایت ہے کہ وہ شرک وبت پرستی سے بیزار تھے (بحر محیط) - اَرِنَا مَنَاسِكَنَا مناسک منسک کی جمع ہے اعمالِ حج کو بھی مناسک کہا جاتا ہے اور مقاماتِ حج، عرفات منیٰ ، مزدلفہ کو بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں اور دعا کا حاصل یہ ہے کہ ہمیں اعمال حج اور مقامات حج پوری طرح سمجھا دیجئے اسی لئے لفظ ارنا استعمال فرمایا جس کے معنی ہیں ہمیں دکھلا دیجئے وہ دیکھنا آنکھوں سے بھی ہوسکتا ہے اور قلب سے بھی چناچہ مقامات حج کو بذریعہ جبرئیل امین دکھلا کر متعین کردیا گیا اور احکام حج کی واضح تلقین وتعلیم فرمادی گئی ،

Al-Baqara 2:128Listen in Qur'an →
129

رَبَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْهُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے

خلاصہ تفسیر :- اے ہمارے پروردگار اور (یہ بھی دعا ہے کہ) اس جماعت کے اندر (جس کے پیدا ہونے کی دعا اپنی اولاد میں سے کر رہے ہیں) انہی میں کا ایک ایسا پیغمبر بھی مقرر کیجئے جو ان لوگوں کو آپ کی آیات پڑھ کر سنایا کریں اور ان کو (آسمانی) کتاب (کے مضامین) کی اور (اس میں) خوش فہمی (کا سلیقہ حاصل کرنے) کی تعلیم دیا کریں اور ان کو (اس تعلیم و تلاوت کے ذریعہ جہالت کے خیالات اور اعمال سے) پاک کریں بلاشبہ آپ ہی ہیں غالب القدرت کامل الانتظام، - تشریح لغات :- يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ مصدر تلاوۃ سے مشتق ہے، تلاوت کے اصلی معنی اتباع اور پیروی کے ہیں اصطلاح قرآن و حدیث میں یہ لفظ قرآن کریم اور دوسری آسمانی کتابوں اور کلام الہی کے پڑھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس کلام کے پڑھنے والے کو اس کا پورا اتباع کرنا لازم ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ٹھیک اسی طرح پڑھنا ضروری ہے اپنی طرف سے کسی لفظ یا اس کی حرکات میں کمی بیشی یا تبدیلی کی اجازت نہیں امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا ہے کہ کلام الہی کے سوا کسی دوسری کتاب یا کلام کے پڑھنے کو عرفاً تلاوت نہیں کہا جاسکتا،- وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ اس میں کتاب سے مراد کتاب اللہ ہے اور الحکمۃ کا لفظ عربی لغت میں کئی معنے کے لئے آتا ہے حق بات پر پہونچنا، عدل و انصاف، علم وحلم وغیرہ (قاموس) امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی تمام اشیاء کی پوری معرفت اور مستحکم ایجاد کے ہوتے ہیں اور جب غیر اللہ کے لئے بولا جائے تو موجودات کی صحیح معرفت اور نیک اعمال کے لئے جاتے ہیں ترجمہ شیخ الہند میں اس کا ترجمہ تہہ کی باتیں اسی مفہوم کو ادا کرتا ہے اور لفظ حکمت عربی زبان میں کئی معنی کے لئے بولا جاتا ہے علم صحیح، نیک عمل عدل و انصاف قول صادق وغیرہ (قاموس وراغب) - اس لئے دیکھنا ہے کہ اس آیت میں لفظ حکمت سے کیا مراد ہے مفسریں صحابہ کرام (رض) اجمعین وتابعین جو معانی قرآنی کی تشریح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکھ کر کرتے ہیں اس جگہ لفظ حکمت کے معنی بیان کرنے میں اگرچہ ان کے الفاظ مختلف ہیں لیکن خلاصہ سب کا ایک ہی ہے یعنی سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، امام تفسیر ابن کثیر وابن جریر نے حضرت قتادہ سے یہی تفسیر نقل کی ہے کسی نے تفسیر قرآن اور کسی نے تفقہ فی الدین فرمایا ہے اور کسی نے علم احکام شرعیہ کہا اور کسی نے کہا کہ ایسے احکام الہہ کا علم جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہی بیان سے معلوم ہوسکتے ہیں ظاہر ہے کہ ان سب کا حاصل وہی حدیث وسنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے،- لفظ وَيُزَكِّيْهِمْ زکوٰۃ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں طہارت اور پاکی اور یہ لفظ ظاہری اور باطنی ہر طرح کی پاکی کے لئے بولا جاتا ہے، - معارف و مسائل : - تشریح مذکور سے آیت کا مفہوم واضح ہوگیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی آئندہ نسل کی فلاح دنیا وآخرت کے واسطے حق تعالیٰ سے یہ دعا کی میری اولاد میں ایک رسول بھیج دیجئے جو ان کو آپکی آیات تلاوت کرکے سنائے اور قرآن وسنت کی تعلیم دے اور ان کو ظاہری و باطنی گندگیوں سے پاک کرے اس میں حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اس رسول کے لئے اپنی اولاد میں ہونے کی اس لئے دعا فرمائی کہ اول تو یہ اپنی اولاد کے لئے سعادت وشرف ہے دوسرے ان لوگوں کے لئے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ رسول جب انہی کی قوم اور برادری کے اندر ہوگا تو اس کے چال چلن سیرت و حالات سے یہ لوگ بخوبی واقف ہوں گے کسی دھوکہ فریب میں مبتلا نہ ہوں گے، حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس دعاء کا جواب حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ملا کہ آپ کی دعا قبول کرلی گئی اور یہ رسول آخری زمانہ میں بھیجے جائیں گے (ابن جریر وابن کثیر) - رسول اللہ (صلی …

Al-Baqara 2:129Listen in Qur'an →
130

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَٰهِۦمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُۥ ۚ وَلَقَدِ ٱصْطَفَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے

حل لغات :- سَفِهَ نَفْسَهٗ ، سفہ بمعنی جہل، وانتصاب نفسہ علیٰ انہ تمیز علی قول الفراء او شبہ بالمفعول علٰی قول بعض الکوفین او مفعول بہ اما لکون سفہ متعدیاً بنفسی کسفہ المضعف او لکونہ ضمن معنی ما یتعدی ای جہل وہو قول الزجاج، ترجمہ شیخ الہند اسی پر مبنی ہے اس لئے سفہ نفسہ کے معنی یہ ہوں گے کہ ملت ابراہیمی سے روگردانی وہی کرے گا جو اپنے نفس سے بھی جاہل ہو یعنی اس کو خود اپنی ذات کی بھی خبر نہ ہو کہ میں کیا ہوں۔- خلاصہ تفسیر :- (اور ملت ابراہیمی سے تو وہی روگردانی کرے گا جو اپنی ذات ہی سے احمق ہو) اور (ایسی ملت کے تارک کو کیونکر احمق نہ کہا جائے جس کی یہ شان ہو کہ اسی کی بدولت) ہم نے ان (ابراہیم علیہ السلام) کو (عہدہ رسالت کے لئے) دنیا میں منتخب کیا اور (اسی کی بدولت) وہ آخرت میں بڑے لائق لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں (جن کے لئے سب ہی کچھ ہے اور یہ انتخاب عہدہ رسالت کے لئے اس وقت ہوا تھا) جب کہ ان سے ان کے پروردگار نے (بطور الہام کے) فرمایا کہ تم (حق تعالیٰ کی) اطاعت اختیار کرو انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اطاعت اختیار کی رب العالمین کی (پس اسی اطاعت کے اختیار کرنے پر ہم نے ان شرف نبوت دے دیاخواہ اسی وقت ہو یا بعد چندے) اور اسی (ملت موصوفہ پر قائم رہنے) کا حکم کر گئے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کو اور (اسی طرح) یعقوب (علیہ السلام) بھی (اپنے بیٹوں کو جس کا یہ مضمون تھا کہ) میرے بیٹو اللہ تعالیٰ نے اس دین (اسلام و اطاعت حق) کو تمہارے لئے منتخب فرمایا ہے سو تم (دم مرگ تک اسی کو مت چھوڑنا اور) بجز اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دینا،- معارف و مسائل :- سابقہ آیات میں ملت ابراہیمی کے بنیادی اصول اور ان کے اتباع کی تاکید اور ان سے انحراف کی خرابی کا بیان ہے جس میں یہود و نصاریٰ کے اتباع ملت ابراہیمی کے متعلق دعو وں کی تردید اور صرف ملت اسلام کا ملت ابراہیمی کے مطابق ہونا اور دین اسلام کی حقیقت اور یہ کہ وہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا مشترکہ دین ہے ذکر کیا گیا ہے۔- مذکورہ آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کا اپنی اولاد کی دینی اور روحانی تربیت کی طرف خاص توجہ اور اہتمام کرنا مذکور ہے پہلی آیت میں ملت ابراہیمی کی فضیلت اور اسی کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دنیا وآخرت میں شرف اور بزرگی بتلا کر ان کی ملت سے انحراف کرنے کو احمقانہ کام بتلایا ہے ارشاد ہے وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ یعنی ملت ابراہیمی سے روگردانی صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس میں ذرا عقل نہ ہو کیونکہ یہ ملت عین دین فطرت ہے کوئی سلیم الفطرۃ انسان اس سے انکار نہیں کرسکتا آگے اس کی وجہ بیان فرمائی کہ اس ملت کا شرف اور فضیلت اس سے ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ نے اسی ملت کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں عزت و بزرگی عطاء فرمائی اور آخرت میں بھی دنیا کی عزت و بزرگی کا مشاہدہ تو ساری دنیا نے کرلیا کہ نمرود جیسا صاحب اقتدار بادشاہ اور اس کی قوم اس اکیلے بزرگ کے خلاف کھڑی ہوئی اور اپنی اقتدار کے سارے عوامل ان کے خلاف استعمال کرلئے آخر میں آگ کے ایک بڑے انبار میں ان کو ڈال دیا گیا مگر دنیا کے سارے عناصر اور انکی طاقتیں جس قدرت والے کے تابع فرمان ہیں اس نے سارے نمرودی منصوبوں کو خاک میں ملا دیا آگ ہی کو اپنے خلیل کے لئے گلزار بنادیا اور دنیا کی ساری قومیں ان کا لوہا ماننے پر مجبور ہوگئیں دنیا کے سارے مومن اور کافر یہاں تک کہ بت پرست بھی اس بت شکن کی عزت کرتے چلے آئے مشرکین عرب بہرحال اولاد ابراہیم تھے بت پرستی کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عزت و عظمت پر جان دیتے تھے اور انہی کی ملت کے اتباع کا دعویٰ کرتے تھے اور ملت ابراہیمی کے مٹے مٹے کچھ آثار ان کے عمل میں بھی موجود تھے۔- حج وعمرہ و قربانی، مہمان نوازی انہی کے باقیات …

Al-Baqara 2:130Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.