Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 121–130 of 286

121

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں، اور جو اس کو نہیں مانتے، وہ خسارہ پانے والے ہیں

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ” جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہوتا ہے ۔ وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرتے کا رویہ اختیار کریں وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ “

کیونکہ وہ ایمان سے محروم ہوگئے ہیں اور ایمان اس پوری کائنات میں اللہ کی جملہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ۔ لہٰذا ایمان کے خسارے سے بڑا خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اس فیصلہ کن اور زور دار تقریر کے بعد روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف پھرجاتا ہے ۔ گویا اس طویل مقابلے اور مجادلے کے بعد اور اللہ اور اس کے نبیوں کے ساتھ ان کے طرز عمل کی طویل تاریخ کے دہرانے کے بعد انہیں آخری بار متوجہ کیا جاتا ہے۔ انہیں چھوڑ کر حضرت نبی ﷺ اور مومنین کو خطاب کرنے کے بعد اب یہاں دوبارہ انہیں آخری بار دعوت دی جاتی ہے ۔ دراں حالیکہ وہ امانت الٰہی یعنی اسلامی نظریہ حیات کی حفاظت کے شرف سے حد درجہ غافل اور بےپر وہ ہوچکے ہیں ۔ حالانکہ یہ شرف اور ذمہ داری انہیں ازمنہ قدیم سے حاصل چلی آرہی تھی ۔ غرض اس تقریر کے آخری حصے میں بھی لوگوں کو وہی دعوت دی جاتی ہے جو اس کے آغاز میں انہیں دی گئی تھی ۔

Al-Baqara 2:121Listen in Qur'an →
122

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اے بنی اسرائیل! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہلِ عالم پر فضیلت بخشی

درس 7 ایک نظر میں

ان یہاں سے وہ حالات بیان کئے جارہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے دور سے متعلق ہیں یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کو جس طرح بیان کیا جارہا ہے اس سیاق کلام میں اس کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اسلامی جماعت اور یہودیوں کے درمیان جو مختلف النوع اختلافات پائے جاتے تھے ، ان پر روشنی ڈالنے کے لئے یہ قصہ بےحد اہم تھا۔

کیونکہ اہل کتاب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے واسطے سے اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے اور اپنی اس نسبت اور اللہ تعالیٰ کی جاب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد اولاد ابراہیم کے ساتھ ترقی اور برکت کا وعدہ کرنے پر فخر کرتے تھے۔ اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ ہدایت اور صحیح دین پر قائم رہنا گویا ان کی اجارہ داری ہے ۔ جیسا کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں چاہے ان کا عمل جیسا بھی ہو۔

اہل قریش بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واسطے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تھے ۔ اور اپنی اس نسبت پر فخر کرتے تھے اور انہوں نے بیت اللہ کی نگرانی اور مسجد حرام کی تعمیر کے مناصب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی ورثے میں پائے تھے اور پورے عرب پر دینی سیادت اور فضل وشرف کے رتبے بھی انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ورثے میں پائے تھے ۔

اس سے قبل جنت کے بارے میں یہود ونصاریٰ کے دعاوی پر کلام کرتے ہوئے یہاں تک کہا گیا تھا۔ ” وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخ ہوگا ، جو یہودی ہو یا عیسائی ہو۔ “ اور دوسری جگہ ان کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو یہودی یا عیسائی بنانے کی سعی کرتے ہوئے کہتے ہیں ! ” تم یہوی بن جاؤ یا عیسائی تاکہ ہدایت پاؤ۔ “ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کو اللہ کی مساجد میں ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور مساجد کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہاں ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ باتیں واقعہ تحویل سے متعلق ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ اس موقع پر یہودیوں نے اسلامی جماعت کے خلاف مسموم پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا۔

اب یہاں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق وحضرت اسماعیل (علیہم السلام) اور بیت اللہ ، اس کی تعمیر اور اس سے متعلق اسلامی شعائر کی بابت بات کی جارہی ہے کیونکہ یہی مناسب موقع ہے ۔ تاکہ انبیاء کرام کے شجر ونسب اور باہمی تعلق کے بارے میں یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کے بےبنیاد دعوؤں کے بارے میں صحیح حقائق لوگوں کے ذہن نشین ہوجائیں اور مسلمانوں کو جسے قبلے کی طرف مڑنا ہے اس کے مسئلے کا بھی فیصلہ ہوجائے۔ نیز اس موقع پر دین ابراہیم (علیہ السلام) یعنی خالص توحید کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین نے جو من گھڑت عقائد اور بےراہ روی اختیار کی ہوئی ہے ، اس کا اسلام کے عقیدہ ٔ توحید کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) (اسرائیل جس کی طرف سے یہ لوگ نسبت کرتے ہیں) اور مسلمانوں کے عقائد اور اخری دین میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہی تمام انبیاء اور رسل کا مشن رہا ہے اور وہ کسی قوم یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے نہ اس پر کسی کی اجارہ داری ہے۔ یہ تو ایک عقیدہ ہے جو دل مومن کی دولت ہے ۔ اندھی عصبیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی میراث ہے جو خون اور نسل کے رشتوں پر تقسیم نہیں ہوتی بلکہ ایمان اور عقائد کے رشتے پر ختم ہوتی ہے ۔ لہٰذا جو شخص بھی اس دین کو قبول کرے اور اس کی نگہبانی کرے ، وہ جس نسل سے متعلق ہے اور جس قوم کا فرد ہو ، وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے ۔ یعنی اپنے حقیقی بھائیوں اور صلبی اولاد …

Al-Baqara 2:122Listen in Qur'an →
123

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ شَيْـًۭٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌۭ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَٰعَةٌۭ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے، اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے

درس 7 ایک نظر میں

ان یہاں سے وہ حالات بیان کئے جارہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے دور سے متعلق ہیں یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کو جس طرح بیان کیا جارہا ہے اس سیاق کلام میں اس کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اسلامی جماعت اور یہودیوں کے درمیان جو مختلف النوع اختلافات پائے جاتے تھے ، ان پر روشنی ڈالنے کے لئے یہ قصہ بےحد اہم تھا۔

کیونکہ اہل کتاب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے واسطے سے اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے اور اپنی اس نسبت اور اللہ تعالیٰ کی جاب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد اولاد ابراہیم کے ساتھ ترقی اور برکت کا وعدہ کرنے پر فخر کرتے تھے۔ اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ ہدایت اور صحیح دین پر قائم رہنا گویا ان کی اجارہ داری ہے ۔ جیسا کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں چاہے ان کا عمل جیسا بھی ہو۔

اہل قریش بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واسطے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تھے ۔ اور اپنی اس نسبت پر فخر کرتے تھے اور انہوں نے بیت اللہ کی نگرانی اور مسجد حرام کی تعمیر کے مناصب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی ورثے میں پائے تھے اور پورے عرب پر دینی سیادت اور فضل وشرف کے رتبے بھی انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ورثے میں پائے تھے ۔

اس سے قبل جنت کے بارے میں یہود ونصاریٰ کے دعاوی پر کلام کرتے ہوئے یہاں تک کہا گیا تھا۔ ” وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخ ہوگا ، جو یہودی ہو یا عیسائی ہو۔ “ اور دوسری جگہ ان کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو یہودی یا عیسائی بنانے کی سعی کرتے ہوئے کہتے ہیں ! ” تم یہوی بن جاؤ یا عیسائی تاکہ ہدایت پاؤ۔ “ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کو اللہ کی مساجد میں ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور مساجد کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہاں ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ باتیں واقعہ تحویل سے متعلق ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ اس موقع پر یہودیوں نے اسلامی جماعت کے خلاف مسموم پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا۔

اب یہاں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق وحضرت اسماعیل (علیہم السلام) اور بیت اللہ ، اس کی تعمیر اور اس سے متعلق اسلامی شعائر کی بابت بات کی جارہی ہے کیونکہ یہی مناسب موقع ہے ۔ تاکہ انبیاء کرام کے شجر ونسب اور باہمی تعلق کے بارے میں یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کے بےبنیاد دعوؤں کے بارے میں صحیح حقائق لوگوں کے ذہن نشین ہوجائیں اور مسلمانوں کو جسے قبلے کی طرف مڑنا ہے اس کے مسئلے کا بھی فیصلہ ہوجائے۔ نیز اس موقع پر دین ابراہیم (علیہ السلام) یعنی خالص توحید کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین نے جو من گھڑت عقائد اور بےراہ روی اختیار کی ہوئی ہے ، اس کا اسلام کے عقیدہ ٔ توحید کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) (اسرائیل جس کی طرف سے یہ لوگ نسبت کرتے ہیں) اور مسلمانوں کے عقائد اور اخری دین میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہی تمام انبیاء اور رسل کا مشن رہا ہے اور وہ کسی قوم یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے نہ اس پر کسی کی اجارہ داری ہے۔ یہ تو ایک عقیدہ ہے جو دل مومن کی دولت ہے ۔ اندھی عصبیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی میراث ہے جو خون اور نسل کے رشتوں پر تقسیم نہیں ہوتی بلکہ ایمان اور عقائد کے رشتے پر ختم ہوتی ہے ۔ لہٰذا جو شخص بھی اس دین کو قبول کرے اور اس کی نگہبانی کرے ، وہ جس نسل سے متعلق ہے اور جس قوم کا فرد ہو ، وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے ۔ یعنی اپنے حقیقی بھائیوں اور صلبی اولاد …

Al-Baqara 2:123Listen in Qur'an →
124

۞ وَإِذِ ٱبْتَلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٍۢ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّى جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًۭا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا

خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے ۔ ذرا روئیداد ابتلائے ابراہیم (علیہ السلام) کو یاد کرو ۔ آپ کو کچھ احکام دئیے گئے ۔ آپ پر کچھ بندشیں عائد کی گئیں اور آپ نے پوری وفاکیشی سے ان اوامر نواہی پر عمل کیا ۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وفا کیشی کو سراہتے ہوئے فرمایا وَاِبرَاھِیمَ الَّذِی وَفّٰی ” اور ابراہیم جنہوں نے احکام پورے کئے۔ “ یہ وہ بلند وبالامقام ہے جس تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہنچے ۔ اس مقام تک جہاں اللہ تعالیٰ خود بندے کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی شہادت دیتا ہے جبکہ بحیثیت انسان ای ضعیف اور پر تقصیر مخلوق ہے اور اس کے لئے وفا یعنی پوری اطاعت ممکن نہیں ہے ۔

اور اس مقام تک رسائی حاصل کرنے ہی کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس سعادت اور اس اعتماد کے مستحق ہوئے ۔ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ” میں تمہیں لوگوں کا پیشوابنانے والا ہوں ۔ “ ایسا پیشوا جو لوگوں کا قبلہ وکعبہ ہو ۔ جو انہیں اللہ تک پہنچانے والا ہو ، جو بھلائی کے کام میں سب سے پہلے ہو ، اور لوگ ان سے پیچھے ہوں اور وہ ان کا محبوب قائد ہو۔

یہاں اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذات سے انسانی فطرت نمودار ہوتی ہے ۔ انسان کے اندر یہ فطرت داعیہ موجود ہوتا ہے کہ اس کا تسلسل بذریعہ اولاد جارہ رہے ۔ یہ ایک گہر افطری اور نفسیاتی شعور ہوتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کی گہرائیوں میں قودیعت کیا ہوا ہے ۔ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ زندگی کی ترقی جاری رہے اور انسانی زندگی ان خطوط پر آگے بڑھتی رہے جو خالق نے اس کے لئے وضع کئے ہیں ۔ اور جن ترقیات کا آغاز اگلوں نے کیا ہوتا ہے ، آنے والے مزید اسے آگے بڑھائیں اور تمام نسلوں کے اندر یہ ہم آہنگی قائم رہے ۔ یہ شعور بعض لوگ توڑنا چاہتے ہیں اور ختم کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ وہ انسان کی عین فطرت کے اندر مرکوز ہے ۔ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ انسان بعض دورس مقاصد پورے کرسکے ۔ اسی جذبے اور شعور کے تحت اسلام نے قانون میراث کے لئے تفصیلی قواعد وضع کئے ہیں تاکہ اولاد واحفاد کی بھلائی کے لئے انسان اپنی سعی جاری رکھے اور تیز تر کردے ۔ آج اس فطری شعور کو منہدم کرنے کے لئے دنیا میں جو سعی نامشکور ہورہی ہے دراصل انسانی فطرت کی تباہی کا سامان ہے ۔ انسان کی اجتماعی زندگی میں بیشک بعض مفاسد پائے جاتے ہیں لیکن ان مفاسد کو ختم کرنے کے لئے خودفطرت انسانی اور انسان کی شخصیت ہی تباہ کردینا ایک نہایت ہی بھونڈا ، کوتاہ اندیشانہ اور غیر فطری طریق علاج ہے اور ان اجتماعی مفاسد کا ہر وہ علاج جو خلاف فطرت طریقے سے کیا گیا ہو ، کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا ، کبھی بھی مفید نہیں ہوگا اور قطعاً دیرپا نہیں ہوسکتا۔ ایسے علاج موجود ہیں جو ان مفاسد کو ختم تو کردیں گے لیکن وہ فطرت انسانی سے بھی متصادم نہ ہوں گے ۔ لیکن ایسے طریقے پانے کے لئے ایمان وہدایت کی ضرورت اور اس بات کی ضرورت ہے معالج کو فطرت انسانی کا مکمل اور گہرا شعور ہو ۔ اور اس کی فکر انسان کی طبعی تخلیق سے بھی آگے گہرائیوں تک پہنچی ہوئی ہو اور یہ فکر اور یہ جذبہ اصلاح طبقاتی بغض وعداوت سے پاک ہو ، اس لئے کہ ان طبقاتی جذبات کی وجہ سے بجائے اس کے کہ انسان کی کوئی ہمہ گیر اصلاح ہو ، انسان ہمہ گیر تباہی سے دوچار ہوجاتا ہے ، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ” اور کہا کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے ؟ “

اس سوال کا جواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پروردگار کی طرف سے آتا ہے جس نے انہیں آزمایا اور پھر چن لیا۔ یہ جواب اس اہم اصول کی بنیاد رکھ دیتا ہے جس کا تذکرہ ہم کر آئے ہیں ۔ یہ کہ امامت و قیادت ان لوگوں کا حق ہے جو اپنے شعور اور طرزعمل اور اپنی صلاحیت اور ایمان سے اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کردیں ۔ یہ کوئی نسلی اور موروثی منصب نہیں ہے کہ باپ سے بیٹے …

Al-Baqara 2:124Listen in Qur'an →
125

وَإِذْ جَعَلْنَا ٱلْبَيْتَ مَثَابَةًۭ لِّلنَّاسِ وَأَمْنًۭا وَٱتَّخِذُوا۟ مِن مَّقَامِ إِبْرَٰهِۦمَ مُصَلًّۭى ۖ وَعَهِدْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْعَٰكِفِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ

اور جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے، اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسمٰعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو

یہی گھر ہے اللہ کا آج جس کا مجاور اہل قریش ، اہل ایمان کو خوفرزدہ کررہے ہیں ، انہیں طرح طرح کی اذیتیں دے رہے ہیں ، انہوں نے محض دین و ایمان کے جرم میں ان پر طرح طرح کے مصائب ڈھائے ، یہاں تک کہ وہ اس گھر کے پڑوس اور اس کی برکات کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ، حالانکہ اس گھر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا کہ یہ مرکز عوام ہوگا اور تمام لوگ ہر طرف سے اس کا رخ کریں گے ۔ یہاں انہیں کوئی خوفزدہ کرنے والا نہ ہوگا۔ یہاں انہیں روحانی اور جسمانی امن و طمانیت حاصل ہوگی ۔ کیونکہ یہ گھر بذات خود مجسمہ امن منبع طمانیت اور جائے سلامت ہے۔

لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مقام عبادت یعنی خانہ کعبہ کو (مقام ابراہیم (علیہ السلام) سے میری رائے اور ترجیح کے مطابق پورا خانہ کعبہ مراد ہے) جائے نماز اور مقام عبادت قرار دیں ۔۔ اس لئے یہ بات اب بالکل منطقی ہے کہ یہی گھر اہل اسلام کا بھی قبلہ ہو ۔ اور اس پر کسی کا کوئی اعتراض جائز نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہی مناسب قبلہ ہے کیونکہ ایمان اور توحید کی نسبت سے صرف مسلمان ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہیں اور اس کے وارث ہیں ۔ اور خانہ کعبہ صرف اللہ کا گھر ہے ۔ کسی انسان کا گھر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ جو اس کا مالک ہے ، اس نے اپنے نیک بندوں میں سے دو حضرات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو یہ فریضہ سپرد کیا تھا ، کہ وہ اسے ان لوگوں کے لئے پاک وصاف اور تیار رکھیں جو یہاں رکوع و سجود کی غرض سے آئیں گے یا جو لوگ مقام امن کی تلاش میں یہاں پناہ لیں گے ، یا حج وزیارت کی غرض سے یہاں آئیں گے ۔ یا وہ لوگ جو یہاں مقیم ہیں اور اس گھر میں اعتکاف کرتے ہیں یا جو باہر سے بغرض عبادت پہنچتے ہیں ، یہاں تک کہ یہ گھرخود حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی ملکیت بھی نہ تھا۔ تاکہ موروثی طور پر یہ حقوق قریش کو حاصل ہوجاتے ۔ قریش تو محض اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے اس کے مجاور اور خادم مقرر ہوئے تھے کہ وہ اسے یہاں آنے والے اہل ایمان کے لئے تیاررکھیں۔

Al-Baqara 2:125Listen in Qur'an →
126

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا ءَامِنًۭا وَٱرْزُقْ أَهْلَهُۥ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ مَنْ ءَامَنَ مِنْهُم بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُۥ قَلِيلًۭا ثُمَّ أَضْطَرُّهُۥٓ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلنَّارِ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا ایک بار پھر اس بات کی تائید کرتی ہے کہ اللہ کا یہ گھر بیت الامن ہے ۔ اور ایک بار پھر یہاں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اسلام میں وراثت ونیابت کا مداراخلاقی فضیلت اور نیکی پر ہے ۔ اس سے پہلی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو ہدایت دی گئی تھی کہ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ” میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “

تو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خوب سمجھ گئے کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے دعائے رزق میں مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ ، جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، کہہ کر از خود غلط لوگوں کو مستثنیٰ کردیا تھا۔ اس لئے کہ وہ سنت الٰہی اور منشائے الٰہی کو خوب سمجھ گئے تھے ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی حلیم الطبع اور خدا ترس پیغمبر تھے ۔ وہ نہایت ہی یکسو اور راہ مستقیم پر گامزن رہنے والے تھے ۔ وہ فوراً وہ طرز عمل اختیار کرلیتے تھے جس کا انہیں حکم دیا جاتا تھا۔ اور آپ دعا و درخواست میں بھی منشائے الٰہی کو ملحوظ رکھتے تھے ۔ تو اس مقام پر اللہ تعالیٰ ان کی دعا کا جواب یوں دیتے ہیں کہ جن لوگوں کے بارے میں آپ خاموش ہوگئے تھے ۔ یعنی اہل کفر اور اہل جہنم ان کے بارے میں بھی کہہ دیا جاتا ہے قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ” اور جس نے کفر اختیار کیا تو دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا مگر آخرکار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔ “

Al-Baqara 2:126Listen in Qur'an →
127

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَٰهِۦمُ ٱلْقَوَاعِدَ مِنَ ٱلْبَيْتِ وَإِسْمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت الله کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کئے جاتے تھے کہ) اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ! کلام کا آغاز حکایتی ہے ۔ ایک قصے کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ ” اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ “

اب قاری انتظار میں ہے کہ یہ حکایت آگے بڑھے گی ، لیکن اچانک ہمارے تصور کے اسکرین پر ایسا منظر آتا ہے کہ گویا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اس پر سامنے آتے ہیں ۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا تصور نہیں بلکہ ہم اپنی آنکھوں سے ان حضرات کو دیکھ رہے ہیں ۔ وہ ہمارے سامنے حاضر ہیں اور قریب ہے کہ ہم ان حضرات کی یہ رقت آمیز دعا اپنے کانوں سے سن لیں۔

زمزمہ دعا ، نغمہ التجا اور طلب مدعا کی یہ عجیب فضا بالکل آنکھوں کے سامنے ہے ، گویا یہ سب کچھ اسی وقت ہورہا ہے ۔ ایک زندہ اور متحرک منظر سامنے ہے جس کے کردار مشخص کھڑے ہیں ۔ حسین و جمیل تعبیر اور انداز گفتگو قرآن مجید کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ قرآن مجید ازمنہ سابقہ کے کسی بھی منظر کو اسی طرح بیان کرتا ہے کہ وہ بالکل اسکرین پر چلتا ہوا نظر آتا ہے ۔ زندگی سے بھرپور ، متحرک اور شخصی تصویر کشی اور منظر نگاری کی یہ ایسی خصوصیت ہے جو اللہ کی اس دائمی کتاب ہی کو زیب دیتی ہے اور ہے بھی معجزانہ ۔

اور اس دعا کے اندر کیا ہے ؟ نبوت کی نیاز مندانہ ادا ، نبوت کا پختہ یقین اور اس کائنات میں نظریہ اور عقیدے کا پیغمبرانہ شعور ۔ یہی ادا اور یقین اور یہی شعور اللہ تعالیٰ وارثان انبیاء کو سکھانا چاہتے ہیں ۔ قرآن مجید کی یہ کوشش ہے کہ اس القاء کے ذریعہ یہ شعور وارثان انبیاء کے دل و دماغ میں عمیق تر ہوجائے ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (127) ” اے ہمارے رب ، قبول فرما ، بیشک آپ ہی سننے والے ہیں اور جاننے والے ہیں ۔ “ یہ دعائے اجابت ہے ۔ اور یہی منتہائے مراد ہے ۔ اس لئے کہ یہ عمل خالص اللہ کے لئے ہے ۔ خشوع اور خضوع کے ساتھ ۔ اس کے ذریعہ وہ دونوں اللہ کی جانب متوجہ ہوں ۔ اور اس سب کاروائی اور عمل کے پیچھے صرف رضائے الٰہی اور مقبولیت دعا کا جذبہ کار فرما ہے ۔ اور امید کی کرن یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس پکار کے پیچھے جو جذبہ کارفرماہوتا ہے اور پکارنے والے کا جو شعور ہوتا ہے وہ اس کے علم میں ہوتا ہے ۔

Al-Baqara 2:127Listen in Qur'an →
128

رَبَّنَا وَٱجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةًۭ مُّسْلِمَةًۭ لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع فرمان بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مطیع ہو ۔ ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما ، بیشک تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “

یہ اس معاونت کی امید ہے جو یہ دونوں اسلام کی طرف ہدایت پانے کے سلسلے میں اللہ سے رکھتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں یہ پختہ شعور تھا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں ہیں ، یہ کہ ہدایت صرف اس کی ہدایت ہے ، اس کی معاونت وتوفیق کے بغیر کوئی نہیں جو ہدایت پاسکے ۔ اس لئے وہ دونوں ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ اور اس کی طرف راغب اور مائل ہیں اور اللہ تو بہترین مددگار ہے۔

امت مسلمہ کا یہ مزاج کہ وہ باہم معاون و مددگار ہوتی ہے ۔ اس کے افراد نسلاً بعد نسل نظریاتی طور پر باہم پیوست ہوتے ہیں ، اس لئے دعا کی جاتی ہے وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ ” اور ہماری نسل سے بھی تیری مسلم امت پیدا ہو۔ “

یہ ایک ایسی دعا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل مومن کی پہلی تمنا کیا ہوتی ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہی ایک مومن کا محبوب ، مشغلہ ہوتا ہے ۔ وہ اس کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے سامنے اس دولت کی اہمیت واضح تھی جو انہیں دی گئی تھی یعنی دولت ایمان اور ثروت عقیدہ ۔ یہ اہمیت اور خواہش انہیں مجبور کرتی ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی اس دولت کے بارے میں التجا کریں ۔ اس لئے وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کی اولاد کو بھی اس دولت ثروت سے محروم نہ رکھیں جس کی قدر و قیمت کے برابر کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ اس سے قبل انہوں نے دعا کی تھی کہ وہ ان کی اولاد کو وسائل رزق فراوانی سے دیں۔ اس لئے انہوں نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ ان کی اولاد دولت ایمان سے محروم نہ ہو ۔ انہوں نے یہ بھی دعا کی کہ وہ ان کی اولاد کو تعلیم مناسک بھی دے ۔ ان کو طریقہ عبادت بھی سکھائے ، ان کی مغفرت کرنے والا غفور الرحیم ہے ۔

Al-Baqara 2:128Listen in Qur'an →
129

رَبَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْهُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے

اس کے بعد وہ مزید التجا کرتے ہیں کہ ازمنہ بعیدہ میں بھی وہ ان کی ہدایت کے لئے مستقل بندوبست فرمائیں۔

وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (129) ” اے اللہ ! ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول مبعوث فرما جو تیری آیات تلاوت کرے ، ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیوں کو پاک کردے ۔ بیشک تو غالب و حکیم ہے ۔ “

حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کی اس دعا کی قبولیت کے نتیجے میں اب اس رسول کریم کی بعثت ہوئی اور کئی صدیاں گزرنے کے بعد ، اور آپ کی بعثت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوئی جواب انہیں آیات سناتے ہیں ۔ انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور انہیں ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک کرتے ہیں ۔ اللہ کے ہاں مخلصانہ دعا ہمیشہ قبول ہوتی ہے لیکن وہ اپنے اس وقت میں ظاہر ہوتی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت نے اس کے لئے مقرر کردیا ہوتا ہے ۔ عام لوگوں کی عادت یہ ہے کہ وہ جلد بازی کرتے ہیں اور جو لوگ منزل مراد نہیں پاتے وہ مایوس وپریشان ہوتے ہیں۔

سورة بقرہ کی اس دعا کے نزول کے وقت مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ایک ہمہ گیر کشمکش جاری تھی ، ان حالات میں اس دعا کے اندر بعض اشارات بھی پنہاں ہیں اور اس کی خاص اہمیت ہے ۔ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جن کو اس گھر کی تعمیر وتطہیر اور عبادت گزاروں ، زیارت کنندگان اور وہاں ٹھہرنے والوں کے سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ وہ دونوں موجودہ مجاورین یعنی قریش کے آباء اجداد جن کے ہاتھ میں آج خانہ کعبہ کا انتظام ہے ۔ اور ان کا واضح فرمان ہے ۔” ہمیں اپنا مطیع فرمان بنا “ اور ” ہماری اولاد سے بھی ایک امت مسلمہ اٹھا “ جس طرح انہوں نے یہ بھی کہا ” اے ہمارے رب ان میں خود ان سے ایک رسول مبعوث فرما ، جو انہیں آیات پڑھ کر سنائے ، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیوں کو پاکیزہ بنادے ۔ “ گویا حضرت ابراہیم واسماعیل (علیہما السلام) کی اپنی اس دعا سے اس بات کا تقرر کرتے ہیں کہ امت مسلمہ حضرت ابراہیم واسماعیل (علیہما السلام) کی جانشین وخلیفہ ہے ۔ اور اس بات کی حق دار ہے کہ اب خانہ کعبہ کا انتظام اس کے ہاتھ میں ہو۔ گویا خانہ کعبہ امت مسلمہ کا مرکز ہے ۔ اور مشرکین کے مقابلہ میں یہ امت اس خانہ خدا کے انتظام وانصرام کی زیادہ حق دار ہے اور یہ کہ یہود ونصاریٰ کے مقابلے میں اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ امت مسلمہ کا اپنا قبلہ ہو۔

جو لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں اور اپنے دین کا جوڑ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ملت ابراہیمی کے وارثو جانشین ہیں اور قریش کے جو لوگ اپنا نسب نامہ حضرت اسماعیل سے ملاتے ہیں انہیں کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی اولاد کی نسبت اس جانشینی اور امامت وسلطنت کا سوال کیا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب یہ تھا۔

لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ

” میرا وعدہ ظالموں کی بابت نہیں ہے ۔ “

اور اس کے بعد جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل مکہ کے لئے برکت وفراوانی رزق کی استدعا کی تو آپ نے فرمایا مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ” جو اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئے ۔ “

اور یہ کہ جب یہ حضرات تعمیر کعبہ کے لئے اٹھے تو انہوں نے یہ دعا کی کہ اے رب ! ہمیں اپنا مطیع فرمان بنا اور یہ کہ ہماری اولاد میں سے ایک امت مسلمہ اٹھاتے رہیو ! اور یہ کہ ہماری اولاد میں سے نبی آخرالزمان کو مبعوث فرمائیے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور حضرت محمد بن عبداللہ کو مبعوث فرمایا اور ان کے ذریعہ امت مسلمہ کو ازسر نو قائم …

Al-Baqara 2:129Listen in Qur'an →
130

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَٰهِۦمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُۥ ۚ وَلَقَدِ ٱصْطَفَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے

یہ ہے ملت ابراہیم (علیہ السلام) ، یعنی خالص اور واضح اسلام اور فرمان برداری ۔ اور اس سے کنارہ کش صرف وہی ہوگا جو اپنے اوپر ظلم کرے گا ۔ اس سے دور وہی ہوگا جو دراصل احمق ہوگا ۔ اور اپنے آپ کو برباد کرنے والا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جسے رب ذوالجلال نے دنیا کی امت کے لئے چنا اور جن کے بارے میں اللہ نے گواہی دی کہ وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے ۔ انہوں نے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ جب ان سے ان کے رب نے کہا ” مسلم ہوجا “ تو انہوں نے بغیر ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی تردد اور انحراف کے فوراً سر تسلیم خم کردیا اور فوراً کہا قَالَ اَسلَمتُ لِرَبِّ العَالَمِینَ ” میں رب العالمین کا فرماں بردار ہوگیا ہوں۔ “

یہ ہے ملت ابراہیمی ، خالص اسلام اور واضح دین۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے صرف اپنی ذات تک محدود نہیں چھوڑا بلکہ اسے اپنی اولاد کے لئے بھی پسند کیا ۔

اپنی اولاد کو وصیت کی کہ وہ اسے اپنائے رکھیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی اور یاد رہے کہ حضرت یعقوب ہی وہ اسرائیل ہیں جن کی طرف یہ لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ۔ لیکن اس کی وصیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اپنے جد امجد کی وصیت کی تسلیم نہیں کرتے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) دونوں نے اپنی اولاد کو یہ یاد دہانی کرائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس دین کو پسند کیا ہے ۔ یٰبَنَیَّ اِنَّ اللہَ اصطَفٰی لَکُمُ الدِّینَ ” میرے بچو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے ۔ “

یہ اللہ کی پسند ہے لہٰذا اللہ کی پسند کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ اسے پسند کریں اور اللہ کے اس فضل وکرم اور خصوصی عنایت کا کم ازکم تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس پسند اور اس کی عطا پر اس کا بےحد شکر ادا کریں اور ہر وقت یہ سعی کرتے رہیں کہ کسی دور اور کسی زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ سرزمین امت مسلمہ سے خالی نہ ہو اور اس زمین پر اللہ پرستی کی یہ تحریک ہر وقت جاری وساری رہے فَلَا تَمُوتُنَّ اِلَّا وَاَنتُم مُسلِمُونَ ” تم صرف اس حال میں مرو کہ تم مسلم ہو۔ “

یہ تھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وصیت جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو کی تھی ۔ اور یہ وصیت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات اور سکرات الموت میں بھی وہ اسے بھلانہ سکے ۔ بنی اسرائیل کو چاہئے کہ وہ اس پر خوب غور کریں۔

Al-Baqara 2:130Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.