Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 111–120 of 286

111

وَقَالُوا۟ لَن يَدْخُلَ ٱلْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَٰرَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو

خلاصہ تفسیر :- اور یہود نصاریٰ (یوں) کہتے ہیں کہ بہشت میں ہرگز کوئی نہ جانے پاوے گا بجز ان لوگوں کے جو یہودی ہوں (یہ تو یہود کا قول ہے) یا ان لوگوں کے جو نصرانی ہوں (یہ نصاریٰ کا قول ہے حق تعالیٰ ان کی تردید فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ) یہ (خالی) دل بہلانے کی باتیں ہیں (اور حقیقت کچھ بھی نہیں) آپ (ان سے یہ تو) کہیے کہ (اچھا) اپنی دلیل لاؤ اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو (سو وہ تو کیا دلیل لاویں گے کیونکہ کوئی دلیل ہے ہی نہیں اب ہم اس کے خلاف پہلے تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ) ضرور دوسرے لوگ (بھی جنت میں) جاویں گے (پھر اس پر دلیل لاتے ہیں کہ ہمارا قانون جو باتفاق سماوی ملتوں کے ماننے والوں کے پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے یہ ہے کہ) جو کوئی شخص بھی اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دے (یعنی اعمال و عقائد میں فرمانبرداری اختیار کرے) اور (اس کے ساتھ) وہ مخلص بھی ہو (کہ فرمانبرداری دلی طور پر اختیار کی ہو محض مصلحت سے ظاہر داری نہ ہو) تو ایسے شخص کو اس (کی فرمانبرداری) کا عوض ملتا ہے پروردگار کے پاس پہنچ کر اور ایسے لوگوں پر (قیامت میں) نہ کوئی اندیشہ (ناک واقعہ پڑنے والا) ہے اور نہ ایسے لوگ (اس روز) مغموم ہونے والے ہیں (کیونکہ فرشتے ان کو بشارتیں سنا کر بےفکر کردیں گے) حاصل استدلال کا یہ ہوا کہ جب یہ قانون مسلم ہے تو اب صرف یہ دیکھ لو کہ یہ بات کس پر صادق آتی ہے ؟ سو ظاہر ہے کہ کسی حکم سابق کے منسوخ ہوجانے کے بعد اس پر عمل کرنے والا کسی بھی طور پر فرمانبردار نہیں کہلا سکتا لہذا یہود و نصاریٰ فرمانبردار نہ ہوئے بلکہ حکم ثانی پر عمل کرنا فرمانبرداری سمجھی جائے گی اور یہ شان مسلمانوں کی ہے کہ نبوت و شریعت محمدیہ کو قبول کرلیا چناچہ یہی جنت میں داخل ہونے والے شمار ہوئے،- اور مخلصین کی قید سے منافقین نکل گئے (کیونکہ وہ بھی شرعاً کفار ہی میں داخل اور مستحق جہنم ہیں) اور (ایک بار کچھ یہودی اور کچھ نصرانی جمع ہو کر مذہبی مباحثہ کرنے لگے تو یہود تو اپنے عقیدہ کے موافق نصاریٰ کے دین کو باطل بتاتے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور انجیل کے کتاب اللہ ہونے کا انکار کرتے تھے مگر نصاریٰ بھی ضد وتعصب میں آکر دین یہود کو بےاصل و باطل کہنے لگے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور توریت کے کتاب اللہ ہونے کا انکار کرنے لگے اللہ تعالیٰ اس قصہ کو نقل فرما کر بطور تردید فرماتے ہیں کہ) یہود کہنے لگے کہ نصاریٰ (کا مذہب) کسی بنیاد پر (قائم) نہیں (یعنی سرے سے غلط ہے) اور اسی طرح نصاریٰ کہنے لگے کہ یہود (کا مذہب) کسی بنیاد پر (قائم) نہیں (یعنی سرے سے غلط ہے) حالانکہ یہ سب (فریقین کے لوگ آسمانی) کتابیں بھی پڑھتے (پڑھاتے) ہیں (یعنی یہودی توریت کو اور عیسائی انجیل کو پڑہتے اور دیکھتے ہیں اور دونوں کتابوں میں دونوں رسولوں اور دونوں کتابوں کی تصدیق موجود ہے جو کہ دونوں مذہبوں کی اصل بنیاد ہے گو منسوخ ہوجانے کی بنا پر قابل عمل نہ ہو یہ اور بات ہے) - (اور اہل کتاب تو ایسے دعوے کرتے ہی تھے ان کی دیکھا دیکھی مشرکین کو بھی جوش آیا اور) اسی طرح سے یہ لوگ (بھی) جو کہ (محض) بےعلم ہیں ان (ہی اہل کتاب) کا سا قول دھرانے لگے (کہ ان یہود و نصاریٰ سب کا دین بےبنیاد ہے حق پر بس ہم ہی ہیں) سو (یہاں سب اپنی اپنی ہانک لیں) اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان (عملی) فیصلہ کردیں گے قیامت کے دن ان تمام مقدمات میں جن میں وہ باہم اختلاف کررہے تھے (اور وہ عملی فیصلہ یہ ہوگا کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا عملی فیصلہ کی قید اس لئے لگائی کہ قولی اور برہانی فیصلہ تو عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعہ دنیا میں بھی ہوچکا ہے) - معارف و مسائل :- ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر رد کا ذکر فرما کر ان کی نادانی اور اس اختلاف کے مضر اثرات کا بیان …

Al-Baqara 2:111Listen in Qur'an →
112

بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌۭ فَلَهُۥٓ أَجْرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

Explained together with ayah 111

Al-Baqara 2:112Listen in Qur'an →
113

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ لَيْسَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ لَيْسَتِ ٱلْيَهُودُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَهُمْ يَتْلُونَ ٱلْكِتَٰبَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا

Explained together with ayah 111

Al-Baqara 2:113Listen in Qur'an →
114

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا ٱسْمُهُۥ وَسَعَىٰ فِى خَرَابِهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب

خلاصہ تفسیر :- (یہود تو قبلہ کا حکم بدلنے کے وقت طرح طرح کے اعتراض کرکے کم سمجھ لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرتے تھے اگر وہ شبہات عام طور پر قلوب میں اثر کرتے تو ان کا لازمی نتیجہ انکار رسالت اور ترک نماز نکلتا اور ترک نماز سے مسجد کی ویرانی لازم ہے تو گویا یہ یہودی اس طور سے ترک نماز اور ویرانی مساجد خصوصاً مسجد نبوی میں بھی کوشاں تھے اور روم کے بعض سلاطین جو نصاریٰ ان کے افعال کا انکار بھی نہ کرتے تھے گو وہ نصرانی نہ ہوں کسی زمانے میں یہود وشام پر چڑھ آئے تھے قتل و قتال بھی ہوا اور اس وقت بعض جہلاء کے ہاتھ سے مسجد بیت المقدس کی بےحرمتی بھی ہوئی اور بدامنی کی وجہ سے اس میں نماز وغیرہ کا اہتمام بھی نہ ہوا اس طور پر نصاری کے اسلاف ترک نماز اور ویرانی مسجد کے بانی ہوئے اور نصاریٰ پر بوجہ عدم انکار اس کا الزام دیا گیا اس بادشاہ کا نام طیطس تھا اور نصاریٰ کو یہ قصہ اس لئے ناگوار نہ تھا کہ اس میں یہودیوں کی تذلیل ہوئی تھی اور یہود سے عداوت رکھتے تھے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ سے پہلے جب مکہ معظمہ میں داخل ہو کر مسجد الحرام کا طواف اور نماز ادا فرمانی چاہی تو مشرکین مکہ نے آپ کو نہ جانے دیا یہاں تک کہ آپ اس سال واپس تشریف لے آئے تو اس طرح یہ مشرکین بھی مسجد حرام کی ویرانی میں کوشاں ہوئے اس لئے حق تعالیٰ نے صیغہ عموم سے اس کی قباحت اور برائی ظاہر فرمائی یعنی) اور اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو خدا تعالیٰ کی مسجدوں میں (جس میں مکہ کی مسجد حرام، مدینہ کی مسجد بیت المقدس کی مسجد اور سب مسجدیں آگئیں) ان کا ذکر (اور عبادت) کئے جانے سے بندش کرے اور ان (مساجد) کے ویران (اور معطل) ہونے (کے بارے) میں کوشش کرے ان لوگوں کو تو کبھی بےہیبت ( اور بیباک) ہو کر ان (مساجد) میں قدم بھی نہ رکھنا چاہئے تھا (بلکہ جب جاتے تو نہایت عظمت و حرمت وادب سے جاتے جب بیباک ہو کر اندر جانے تک کا استحقاق نہیں تو اس کی ہتک حرمت کا حق کب حاصل ہے اسی کو ظلم فرمایا گیا) ان لوگوں کو دنیا میں بھی رسوائی (نصیب) ہوگی اور ان کو آخرت میں بھی سزائے عظیم ہوگی،- (یہود نے تبدیل قبلہ کے حکم پر اعتراض کیا تھا کہ مسلمان اس جہت سے دوسری جہت کی طرف کیوں پھرگئے اس کا جواب حق تعالیٰ دیتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی) اور اللہ ہی کی مملوک ہیں (سب جہتیں) مشرق بھی اور مغرب بھی (اور وہ اس کا مکان نہیں) - (پس جب وہ مالک ہیں جس کو چاہیں قبلہ مقرر کردیں کیونکہ حکمت تعیین قبلہ میں مثلاً عابدین کا اتفاق ہیئت اور اجتماع خاطر ہے اور یہ حکمت ہر جہت سے حاصل ہوسکتی ہے جس کا حکم دیدیں وہی متعین ہوجائے گی ہاں البتہ اگر معبود کی ذات نعوذ باللہ کسی جہت خاص کے ساتھ مقید ہوتی تو ضرورت کی وجہ سے اسی جہت میں قبلہ عبادت بننے کا انحصار زیبا تھا لیکن وہ ذات پاک کسی جہت کے ساتھ مقید و محدود نہیں جب یہ بات ہے) تو تم لوگ جس طرف منہ کرو ادھر (ہی) اللہ تعالیٰ کی (ذات پاک) کا رخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ (خود تمام جہات اور اشیاء کو) محیط ہیں (جس طرح کا احاطہ ان کی شان کے لائق ہے لیکن باوجود محیط وغیر محدود ہونے کے پھر بھی جہت عبادت کو متعین اس لئے فرمایا کہ وہ) کامل العلم ہیں (کہ ہر شے کے مصالح کو خوب جانتے ہیں چونکہ ان کے علم میں یہ تعیین بعض مصالح سے تھی اس لئے اس کا حکم دیدیا) - فوائد از بیان القرآن :- ١۔ ویرانی مساجد میں کوشاں گروہ کی دنیا میں تو یہ رسوائی ہوئی کہ یہ ساری قومیں اسلامی سلطنت کی رعایا اور باج گذار ہوئیں اور عذاب آخرت تو کافر ہونے کی وجہ سے ظاہر ہے ہی اور ویرانی مساجد میں کوشش کے سبب یہ عذاب اور بھی سخت وشدید ہوجائے گا، اور اوپر کی آیت میں جو ان تینوں فرقوں کے حق پر ہونے کا دعویٰ مذکور ہوا تھا اس قصہ سے اس کی تردید کا ایک گونہ مفہوم بھی نکل آیا کہ ایسے ایسے افعال کرکے صاحب حق ہونے کا …

Al-Baqara 2:114Listen in Qur'an →
115

وَلِلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجْهُ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے

تحویل قبلہ کی بحث :- دوسری آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو تسلی دی گئی ہے کہ مشرکین مکہ نے اگرچہ آپ کو مکہ اور بیت اللہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا اور مدینہ پہنچ کر ابتدائی زمانہ میں سولہ سترہ مہینہ تک آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا لیکن اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں نہ آپ کے لئے غمگین ہونے کی کوئی وجہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کسی خاص سمت میں نہیں وہ ہر جگہ ہے اس کے لئے مشرق ومغرب یکساں ہیں کعبہ کو قبلہ نماز بنائیں یا بیت المقدس کو دونوں میں کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ امر الہی کی تعمیل ہی دونوں جگہ سبب فضیلت ہے،- داد حق را قابلیت شرط نیست - بلکہ شرط قابلیت داد ہست - اس لئے جب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا اس میں فضیلت تھی اور جب بیت المقدس کا استقبال کرنے کا حکم ہوگیا تو اس میں فضیلت ہے آپ دل گیر نہ ہوں اللہ تعالیٰ کی توجہ دونوں حالتوں میں یکساں ہے جبکہ بندہ اس کے حکم کی تعمیل کررہا ہو،- چند مہینوں کے لئے بیت المقدس کو قبلہ قرار دینے کا حکم دے کر عملاً اور آپ نے قولاً اس بات کو واضح کردیا کہ کسی خاص مکان یا سمت کو قبلہ قرار دینا اس وجہ سے نہیں کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ اس مکان یا اس سمت میں ہے دوسری جگہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر سمت میں یکساں توجہ کے ساتھ موجود ہے کسی خاص سمت کو قبلہ عالم قرار دینا دوسری حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کی توجہ کسی خاص سمت یا جگہ کے ساتھ مقید نہیں تو اب عمل کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ ہر شخص کو اختیار دے دیا جائے کہ جس طرف چاہے رخ کرکے نماز پڑھے دوسرے یہ کہ سب کے لئے کوئی خاص سمت وجہت معین کردی جائے ظاہر ہے کہ پہلی صورت میں ایک تشتت وافتراق کا منظر سامنے آئے گا کہ دس آدمی نماز پڑھ رہے ہیں اور ہر ایک کا رخ الگ الگ اور ہر ایک کا قبلہ جدا جدا ہے اور دوسری صورت میں تنظیم و اتحاد کا عملی سبق ملتا ہے ان حکمتوں کی بناء پر سارے عالم کا قبلہ ایک ہی چیز کو بنانا زیادہ مناسب ہے اب وہ بیت المقدس ہو یا کعبہ دونوں مقدس اور متبرک مقامات ہیں ہر قوم اور ہر زمانہ کے مناسب اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام آتے ہیں ایک زمانے تک بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کی دلی خواہش کے مطابق اس حکم کو منسوخ کرکے کعبہ کو قبلہ عالم بنادیا گیا ارشاد ہوا :- قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَ آفَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭوَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ (١٤٤: ٢) - ترجمہ : (یعنی کعبہ کو قبلہ بنادینے کی دلی رغبت کی وجہ سے) بار بار آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھتے ہیں کہ (شاید فرشتہ حکم لے آئے) ہم یہ سب دیکھ رہے ہیں اس لئے اب ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف متوجہ کردیں گے جس کو آپ چاہتے ہیں اس لئے اب سے آپ اپنا چہرہ نماز میں مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور (یہ حکم کچھ آپ ہی کے لئے مخصوس نہیں بلکہ تمام امت کے لئے یہی حکم دے دیا گیا کہ) تم جہاں کہیں بھی موجود ہو یہاں تک کہ خود بیت المقدس کے اندر بھی ہو تو نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کیا کرو،- الغرض آیت مذکورہ وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ نے استقبال قبلہ کی پوری حقیقت کو واضح کردیا کہ اس کا منشاء بیت اللہ یا بیت المقدس کی معاذ اللہ پرستش نہیں اور نہ ان دونوں مکانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک مخصوص ہے بلکہ اس کی ذات سارے عالم پر محیط اور ہر سمت میں اس کی توجہ یکساں ہے پھر کسی خاص مکان یا سمت کو مخصوص کیا جاتا ہے اس میں دوسری حکمتیں ہیں، - آیت مذکورہ کے اس مضمون کو واضح اور دل نشین کرنے ہی کے لئے شاید آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام …

Al-Baqara 2:115Listen in Qur'an →
116

وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًۭا ۗ سُبْحَٰنَهُۥ ۖ بَل لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ كُلٌّۭ لَّهُۥ قَٰنِتُونَ

اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں

خلاصہ تفسیر :- (بعض یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور مشرکین عرب ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں جیسا مختلف آیات میں ان اقوال کی خبر دی گئی ہے حق تعالیٰ اس قول کی قباحت اور بطلان کا بیان فرماتے ہیں، یعنی) اور یہ لوگ (مختلف عنوان سے) کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد رکھتا ہے سبحان اللہ (کیا مہمل بات ہے) بلکہ (ان کے تو اولاد ہونا عقلاً ممکن نہیں کیونکہ دو حال سے خالی نہیں یا تو اولاد غیر جنس ہوگی اور یا ہم جنس ہوگی اگر غیر جنس ہو تب تو ناجنس اولاد ہونا عیب ہے اور حق تعالیٰ عیب پاک ہیں عقلا بھی جیسا مسلم ہے اور نقلاً بھی جیسا سبحانہ مذکور کا بھی مدلول ہے اور اگر ہم جنس ہو تو اس لئے باطل ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی ہم جنس نہیں کیونکہ جو صفات کمال لوازم ذات واجبہ سے ہیں وہ اللہ کے ساتھ مخصوص اور غیر اللہ میں معدوم ہیں اور لازم کی نفی ملزوم کی نفی کی دلیل ہے اس لئے غیر اللہ ذات واجب نہ ہوگا اور وجوب خود عین حقیقت یا لازم حقیقت ہے پس کوئی غیر اللہ اللہ کے ساتھ حقیقت میں شریک نہ ہوا لہذا ہم جنس ہونا بھی باطل ہوگیا اب صفات کمال صرف حق تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہونے کی دلیلیں مذکور ہوتی ہیں اول یہ کہ) خاص اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں (موجودات) ہیں ( اور دوسرے یہ کہ مملوک ہونے کے ساتھ) سب ان کے محکوم (بھی) ہیں (بایں معنی کہ ان کے تصرفات قدرت جیسے مارنا جلانا وغیرہ کو کوئی نہیں ہٹا سکتا گو احکام شرعیہ کو کوئی ٹال دے اور تیسرے یہ کہ حق تعالیٰ ) موجد (بھی) ہیں آسمانوں اور زمین کے اور (چوتھے یہ ایجاد کی بھی قدرت ایسی عظیم وعجیب ہے کہ) جب کسی کام کا (مثلا پیدا ہی کرنا ہے) پورا کرنا چاہتے ہیں تو بس (اتنی بات ہے کہ) اس کو (اتنا) فرما دیتے ہیں کہ ہوجا بس وہ (اسی طرح) ہوجاتا ہے (ان کو آلات و اسباب اور صناعوں اور معینوں کی ضرورت نہیں پڑتی اور یہ چاروں امر بجز حق تعالیٰ کے کسی میں نہیں پائے جاتے اور یہ مدعیان اولاد کے بھی مسلمات سے تھا پس دلیل سے مقدمہ اختصاص بھی ثابت ہو کر حجت تمام ہوگئی) - فوائد : - ١۔ خاص خاص کاموں پر خاص خاص ملائکہ کو مقرر کرنا مثلاً بارش، رزق وغیرہ اور اسی طرح اسباب اور مواد اور قوی سے کام لینا یہ سب کسی حکمت خداوندی پر مبنی ہوتا ہے اس لئے نہیں کہ لوگ انہیں اسباب وقوات کو حاجت روا مان کر استعانت ومدد کے طبگار ہوں،- ٢۔ بیضاوی نے کہا ہے کہ پہلی شرائع میں اللہ تعالیٰ کو سبب اول ہونے کی وجہ سے باپ کہا کرتے تھے جاہلوں نے ولادت کے معنی سمجھ لئے اس لئے یہ عقیدہ رکھنا یا ایسا کہنا کفر قرار دیا گیا دفع فساد کی مصلحت سے اب ایسے لفظ کے استعمال کی بالکل اجازت نہیں۔

Al-Baqara 2:116Listen in Qur'an →
117

بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًۭا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.

Explained together with ayah 116

Al-Baqara 2:117Listen in Qur'an →
118

وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا ٱللَّهُ أَوْ تَأْتِينَآ ءَايَةٌۭ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَٰبَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يُوقِنُونَ

اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں

خلاصہ تفسیر :- اور (بعضے) جاہل (یہود و نصاریٰ اور مشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں) یوں کہتے ہیں کہ (خود) اللہ تعالیٰ ہم سے کلام کیوں نہیں فرماتے (خواہ فرشتوں کے بغیر جیسے خود فرشتوں سے کلام فرماتے ہیں یا فرشتوں کے واسطے سے جیسے پیغمبروں سے بطور وحی بات کرتے ہیں اور اس کلام میں یا تو خود ہم کو احکام بتادیں کہ دوسرے رسول کی ہم کو ضرورت ہی نہ رہے یا کم از کم اتنا ہی کہہ دیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے رسول ہیں تو ہم ان کی ہی رسالت کے قائل ہو کر ان کی اطاعت کرنے لگیں) یا کلام نہیں کرتے تو) ہمارے پاس کوئی اور ہی دلیل (ثبوت رسالت کی) آجائے (حق تعالیٰ اولا اس بات کا جاہلانہ رسم ہونا بتلاتے ہیں کہ) اس طرح وہ (جاہل) لوگ بھی کہتے چلے آئے ہیں جو ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ان ہی کا سا (جاہلانہ) قول (سو معلوم ہوا کہ یہ قول کوئی باوقعت اور باریک بینی پر مبنی نہیں یوں ہی ہانک دیا جاتا ہے پھر ثانیاً اس قول کا منشاء اور سبب بیان فرماتے ہیں کہ) ان سب (اگلے پچھلے جاہلوں) کے قلوب (کج فہمی میں) باہم ایک دوسرے کے مشابہ ہیں (اس لئے سب سے بات بھی ایک ہی سی پیدا ہوئی پھر ثالثا اس قول کا جواب دیتے ہیں اور چونکہ اس قول کا جزو اول حماقت محض تھا کہ اپنے کو اس لیاقت پر ہم پلہ ملائکہ اور انبیاء کا بنانا چاہتے تھے جو بالکل ہی بدیہی البطلان ہے اس لئے اس احمقانہ بات کو نظر انداز کرکے صرف دوسرے جز کا جواب ارشاد ہوتا ہے کہ تم ایک دلیل کو لئے پھرتے ہو) ہم نے تو بہت سی دلیلیں (رسالت محمدیہ کے ثبوت میں) صاف صاف بیان کردی ہیں (مگر وہ) ان لوگوں کے لئے (نافع و کافی ہوسکتی ہیں) جو یقین (اور اطمینان حاصل کرنا) چاہتے ہیں اور چونکہ معترضین کو محض ضد اور کدہی مقصود ہے اس لئے حق طلبی کی نظر سے ان کو تحقیق ہی منظور نہیں سو ایسوں کی تسلی وتشفی کا کون ذمہ دار بنے) - فائدہ : یہود و نصاریٰ تو اہل کتاب تھے ان میں اہل علم بھی تھے اس کے باوجود جو ان کو اللہ تعالیٰ نے جاہل فرمایا تو اس لئے کہ باوجودیکہ قطعی اور قوی دلائل کثرت سے قائم کردئیے گئے تھے پھر بھی جو انکار کئے جارہے تھے تو جہالت نہیں تو اور کیا تھا اور یہ جاہلوں ہی کی سی بات کہلائے گی لہذا اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو جاہل فرمایا،

Al-Baqara 2:118Listen in Qur'an →
119

إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ بَشِيرًۭا وَنَذِيرًۭا ۖ وَلَا تُسْـَٔلُ عَنْ أَصْحَٰبِ ٱلْجَحِيمِ

(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی

خلاصہ تفسیر :- (چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان رحمۃ للعالمینی کا تقاضا یہ ہوسکتا تھا کہ آپ کو اس جہالت اور عناد کی بدولت دل تنگی پیش آتی اور ان کے ایمان نہ لانے کی کوئی صورت سمجھ میں نہ آنے کے سبب آپ ملول وآزردہ خاطر ہوجاتے اس لئے اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ اے رسول) ہم نے آپ کو ایک سچا دین دے کر (خلق کی طرف) بھیجا ہے کہ (ماننے والوں کو) خوش خبری سناتے رہئے اور (نہ ماننے والوں کو سزا سے) ڈراتے رہئے اور آپ سے دوزخ میں جانے والوں کی باز پرس نہ ہوگی (کہ ان لوگوں نے کیوں نہیں قبول کیا اور کیوں دوزخ میں گئے آپ اپنا کام کرتے رہئے آپ کو کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی کوئی فکر نہیں کرنی چاہئے)

Al-Baqara 2:119Listen in Qur'an →
120

وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ ٱلْيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم بَعْدَ ٱلَّذِى جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍ

اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

خلاصہ تفسیر :- اور کبھی خوش نہ ہوں گے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جب تک کہ آپ (خدانخواستہ) ان کے مذہب کے (بالکل) پیرونہ ہوجائیں (اور یہ محال ہے پس ان کا راضی ہونا محال ہے اور اگر کبھی اس قسم کی بات ان کی زبان یا حال سے مترشح ہو تو) آپ (صاف) کہہ دیجئے کہ (بھائی) حقیقت میں ہدایت کا تو وہی راستہ ہے جس کو خدا نے (ہدایت کا راستہ) بتلایا ہے (اور دلائل سے ایسا راستہ صرف اسلام ہونا ثابت ہوچکا ہے پس راہ ہدایت وہی رہا) اور (یہ امر کہ آپ نعوذ باللہ ان کے مذہب کے پیرو ہوجائیں محال اس لئے ہے کہ اس سے ایک محال لازم آتا ہے کیونکہ) اگر آپ ان کے غلط خیالات کا اتباع کرنے لگیں (جس کو وہ اپنا مذہب سمجھتے ہیں مگر کچھ تحریف سے اور کچھ منسوخ ہوجانے سے اب وہ محض چند غلط خیالات کا مجموعہ رہ گیا ہے اور پھر اتباع بھی کیسی حالت میں کہ) علم (قطعی ثابت بالوحی) آچکنے کے بعد تو (ایسی حالت میں تو) آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار (بلکہ توبہ توبہ پنجہ قہر میں گرفتار ہوجانا لازم آوے اور یہ لازم محال ہے کیونکہ دلائل قطعیہ سے دوام رضائے حق تعالیٰ آپ سے ثابت ہے پس غضب محال ہے اور اتباع مذکور سے یہ لازم آیا تھا اس لئے اتباع مذکور بھی محال اور بدون اتباع کے ان کا راضی ہونا غیر ممکن تو ایسے امر کی امید کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے اس سے دل کو خالی کرلینا چاہئے) ۔

Al-Baqara 2:120Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.