Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 101–110 of 286

101

وَلَمَّا جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٌۭ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌۭ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں

Explained together with ayah 99

Al-Baqara 2:101Listen in Qur'an →
102

وَٱتَّبَعُوا۟ مَا تَتْلُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَٰنَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُوا۟ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحْرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌۭ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا۟ لَمَنِ ٱشْتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنْ خَلَٰقٍۢ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ

اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے

خلاصہ تفسیر :- اور (یہودی ایسے بےعقل ہیں کہ) انہوں نے (کتاب اللہ کا تو اتباع نہ کیا اور) ایسی چیز کا (یعنی سحر وجادو کا) اتباع (اختیار) کیا جس کا چرچا کیا کرتے تھے شیاطین (یعنی خبیث جن) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے (عہد) سلطنت میں اور (بعضے بیوقوف جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر گمان سحر رکھتے ہیں بالکل ہی لغو بات ہے کیونکہ سحر تو اعتقادا یا عملا کفر ہے اور) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے (نعوذ باللہ کبھی) کفر نہیں کیا (ہاں) شیاطین (یعنی خبیث جن بیشک) کفر (کی باتیں اور کام یعنی سحر) کیا کرتے تھے اور حالت یہ تھی کہ (خود تو کرتے ہی اور) آدمیوں کی بھی (اس) سحر کی تعلیم کیا کرتے تھے (سو وہی سحر متوارث چلا آرہا ہے اس کا اتباع یہ یہودی کرتے ہیں) اور اسی طرح اس (سحر) کا بھی (یہ لوگ اتباع کرتے ہیں) جو کہ ان دونوں فرشتوں پر (ایک خاص حکمت کے واسطے) نازل کیا گیا تھا (جو شہر) بابل میں (رہتے تھے) جن کا نام ہاروت وماروت تھا اور وہ دونوں (وہ سحر) کسی کو نہ بتلاتے جس تک جب تک (احتیاطا پہلے) یہ (نہ) کہہ دیتے کہ ہمارا وجود بھی (لوگوں کے لئے) ایک امتحان (خداوندی) ہے کہ (ہماری زبان سے سحر پر مطلع ہو کر کون پھنستا ہے اور کون بچتا ہے) سو تو (اس پر مطلع ہوکر) کہیں کافر مت بن جائیو (کہ اس میں پھنس جاؤ) سو بعضے لوگ ان دونوں (فرشتوں) سے اس قسم کا سحر سیکھ لیتے تھے جس کے ذریعہ سے (عمل کرکے) کسی مرد اور اس کی بیوی میں تفریق پیدا کردیتے تھے اور (اس سے کوئی وہم اور خوف میں نہ پھنس جاوے کہ جادوگر جو چاہے کرسکتا ہے کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ) یہ (ساحر) لوگ اس (سحر) کے ذریعے سے کسی کو (ذرہ برابر) بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے مگر خدا ہی کے ( تقدیری) حکم سے اور (ایسا سحر حاصل کرکے بس) ایسی چیزیں سیکھ لیتے ہیں جو (خود) ان کو (بوجہ گناہ کے) ضرر رساں ہیں اور (کسی معتدبہ درجہ میں) ان کو نافع نہیں ہیں ( تو یہودی بھی اتباع سحر سے بڑے ضرر میں ہوں گے) اور یہ (بات کچھ ہمارے ہی کہنے کی نہیں بلکہ) ضرور یہ (یہودی) کوئی اتنا جانتے ہیں کہ جو شخص اس (سحر) کو (کتاب اللہ کے عوض) اختیار کرے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ (باقی) نہیں اور بیشک بری ہے وہ چیز (یعنی جادو و کفر) جس میں وہ لوگ اپنی جان دے رہے ہیں کاش ان کو (اتنی) عقل ہوتی اور اگر وہ لوگ (بجائے اس کفر و بدعملی کے) ایمان اور تقوے ٰ (اختیار) کرتے تو خدا تعالیٰ کے یہاں کا معاوضہ (اس کفر وبد عملی سے ہزار درجے) بہتر تھا کاش اتنی عقل ہوتی، - معارف و مسائل :- آیت مذکورہ کی تفسیر اور شان نزول میں نقل کی ہوئی اسرائیلی روایات سے بہت سے لوگوں کو مختلف قسم کے شبہات پیش آتے ہیں ان شبہات کا حل سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے نہایت واضح اور سہل انداز میں فرمایا ہے اس جگہ اس کو بعینہ نقل کردینا کافی ہے وہ یہ ہے،- ١۔ یہ بیوقوف لوگ جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جادو کی نسبت کرتے تھے، یہودی تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے درمیان آیت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی براءت بھی ظاہر فرمادی،- ان آیتوں میں یہودیوں کی برائی کرنا مقصود ہے کیونکہ ان میں جادو کا چرچا تھا ان آیتوں کے متعلق زہرہ کا ایک لمبا چوڑا قصہ بھی مشہور ہے جو کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں، جن علماء نے اس قصہ کو قواعد شرعیہ کے خلاف سمجھا ہے رد کردیا ہے اور جنہوں نے اس میں تاویل کو خلاف شرع نہیں سمجھا ہے رد نہیں کیا ہمیں یہاں فی الوقت اس کے صحیح یا غلط ہونے سے بحث نہیں البتہ اتنا ضرور ہے ان آیات کی تفسیر اس قصہ پر موقوف نہیں جیسے کہ ناظرین کو معارف و مسائل کے اس زیر عنوان مضمون سے اندازہ ہوجائے گا،- اور یہودی سب باتوں کے جاننے کے باوجود چونکہ عمل علم کے خلاف کرتے تھے اور تدبر سے کام نہ لیتے تھے اس لئے اول تو ان کے جاننے کی خبر دی اور پھر آخر میں یہ کہہ کر اس کی نفی بھی کردی کہ کاش ان کو …

Al-Baqara 2:102Listen in Qur'an →
103

وَلَوْ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَمَثُوبَةٌۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ ۖ لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ

اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے

Explained together with ayah 102

Al-Baqara 2:103Listen in Qur'an →
104

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقُولُوا۟ رَٰعِنَا وَقُولُوا۟ ٱنظُرْنَا وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَلِلْكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

خلاصہ تفسیر :- (بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور میں آکر لفظ راعنا سے آپ کو خطاب کرتے جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں ایک بدعا کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے تھے مگر عربی زبان میں اسکے معنی ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے کے ہیں اس لئے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکتے تھے اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعضے مسلمان بھی حضور کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے اس سے ان شریروں کو گنجائش ملی آپس میں بیٹھ کر ہنستے تھے کہ اب تک تو ہم ان کو خفیہ ہی برا کہتے تھے اب علانیہ کہنے کی تدبیر ایسی ہاتھ آگئی کہ مسلمان بھی اس میں شریک ہوگئے حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کو مسلمانوں کو حکم دیا کہ) اے ایمان والو تم (لفظ) راعنا مت کہا کرو اور (اس کی جگہ لفظ) انظرنا کہہ دیا کرو (کیونکہ اس لفظ کے معنی اور راعنا کے معنی عربی زبان میں ایک ہی ہیں راعنا کہنے میں یہودیوں کی شرارت چلتی ہے اس لئے اس کو ترک کرکے دوسرا لفظ استعمال کرو) اور (اس حکم کو اچھی طرح) سن لیجئو (اور یاد رکھیو) اور (ان کافروں کو تو سزائے دردناک ہو (ہی) گی جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں ایسی گستاخی اور وہ بھی چالاکی کے ساتھ کرتے ہیں) - مسئلہ : اس آیت سے یہ بات ہوئی کہ اگر اپنے کسی جائز فعل سے دوسروں کی ناجائز کاموں کی گنجائش ملتی معلوم ہو تو یہ جائز فعل بھی اس کے لئے جائز نہیں رہتا جیسے اگر کسی عالم کے جائز فعل سے جاہلوں کو مغالطہ میں پڑنے اور ناجائز کاموں میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو اس عالم کا جائز فعل بھی ممنوع ہوجائے گا بشرطیکہ یہ فعل شرعا ضروری اور مقاصد شرعیہ میں سے نہ ہو اس کی مثالیں قرآن وسنت میں بہت ہیں اسی کی ایک دلیل وہ حدیث ہے جس میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیت اللہ کی تعمیر جو قریش نے زمانہ جاہلیت میں کی تھی اس میں کئی چیزیں بناء ابراہیمی کے خلاف کردی ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ اس کو منہدم کرکے ازسر نو بناء ابراہیمی کے مطابق بنادوں لیکن اس سے ناواقف عوام کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہے اس لئے بالفعل ایسا نہیں کرتا ایسے احکام کو اصول فقہ کی اصطلاح میں سد ذرائع سے تعبیر کیا جاتا ہے جو سبھی فقہاء کے نزدیک معتبر ہے خصوصاً حضرات حنابلہ اس کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں (قرطبی)

Al-Baqara 2:104Listen in Qur'an →
105

مَّا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ وَلَا ٱلْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

خلاصہ تفسیر :- رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہود کا جو برتاؤ تھا وہ اوپر کی آیت میں بیان کیا گیا اب اس آیت میں یہود کا برتاؤ مسلمان کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے کہ (بعضے یہودی بعض مسلمانوں سے کہنے لگے کہ بخدا ہم دل سے تمہارے خیرخواہ ہیں، اور ہزار جان سے پسند کرتے ہیں کہ تم کو دینی احکام ہمارے دینی احکام سے بہتر عنایت ہوں تو ہم بھی ان کو قبول کریں مگر کیا کیا جائے کہ تمہارا دین ہمارے دین سے اچھا ثابت نہیں ہوا، حق تعالیٰ اس دعویٰ خیرخواہی کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) ذرا بھی پسند نہیں کرتے کافر لوگ (خواہ) ان اہل کتاب میں سے (ہوں) اور (خواہ) مشرکین میں سے اس امر کو کہ تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے کسی طرح کی بہتری (بھی) نصیب ہو اور (ان کے حسد سے کچھ بھی نہیں ہوتا کیونکہ) اللہ تعالیٰ اپنی رحمت (و عنایت) کے ساتھ جس کو منظور ہوتا ہے مخصوص فرما لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل (کرنے) والے ہیں،- فائدہ : ان یہودیوں کے دو دعوے تھے اول یہودیت کا بہتر ہونا اسلام سے دوسرے ان کا خیرخواہ ہونا تو اول دعوے کو تو یہ ثابت نہیں کرسکے نرے دعوے سے کیا ہوتا ہے اور پھر دعویٰ ہے بھی فضول سی بات کیونکہ جب ناسخ آتا ہے تو منسوخ ترک کردیا جاتا ہے، افضل غیر افضل کے فرق پر موقوف نہیں لہذا بوجہ ظاہر اور کھلی ہوئی بات ہونے کے اس کا جواب یہاں ذکر نہیں کیا گیا،- صرف دوسرے دعویٰ خیر خواہی ہی پر کلام کیا گیا ہے اور اہل کتاب کے ساتھ مشرکین کا ذکر مضمون کو قوی اور مؤ کد کرنے کے لئے کیا گیا کہ جس طرح مشرکین یقیناً تمہارے خیرخواہ نہیں اسی طرح ان کو بھی سمجھو،

Al-Baqara 2:105Listen in Qur'an →
106

۞ مَا نَنسَخْ مِنْ ءَايَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍۢ مِّنْهَآ أَوْ مِثْلِهَآ ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے

خلاصہ تفسیر :- (تبدیل قبلہ کا واقعہ جب ہوا تو یہود نے اس پر طعن کیا اور مشرکین بھی بعض احکام کی منسوخی پر زبان طعن دراز کرتے تھے حق تعالیٰ ان کے طعن اور اعتراض کا جواب دیتے ہیں کہ) ہم کسی آیت کا جو حکم موقوف کردیتے ہیں (گو آیت قرآن میں یا ذہنوں میں باقی رہے) یا اس آیت (ہی) کی (ذہنوں سے) فراموش کردیتے ہیں تو (یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں کیونکہ اس میں بھی مصلحت ہوتی ہے چنانچہ) ہم اس آیت سے بہتر یا اس آیت ہی کے مثل (بجائے اس کے دوسری چیز) لے آتے ہیں (اے معترض) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتے ہیں (پس ایسے قادر کو مصالح کی رعایت کیا مشکل ہے اور) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ ایسے ہیں کہ خاص انہی کی سلطنت آسمانوں اور زمین پر ہے (جب ان کی اس قدرت و سلطنت میں کوئی شریک وسہیم نہیں ہے تو ان مصلحتوں کی رعایت کرکے دوسرا حکم دے دینے میں کون مزاحمت کرسکتا ہے غرض حکم ثانی کی تجویز سے بھی مانع نہیں اور اس حکم کے جاری کردینے میں بھی کوئی مانع نہیں) اور (یہ بھی سمجھ رکھو کہ) تمہارا حق تعالیٰ کے سوا کوئی یار و مددگار بھی نہیں پس جب وہ پار ہیں تو احکام میں مصلحت کی ضرور رعایت کریں گے اور جب مددگار ہیں تو ان احکام پر عمل کرنے کے وقت تمہارے مخالفین کی مزاحمت سے بھی ضرور محفوظ رکھیں گے، البتہ اگر اس ضرر سے بڑھ کر کوئی نفع اخروی ملنے والا ہو تو ظاہراً مخالف کا مسلط ہوجانا اور بات ہے،- معارف و مسائل :- مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا اس آیت میں کسی آیت قرآن کے منسوخ ہونے کی جتنی صورتیں ہوسکتی ہیں سب کو جمع کردیا ہے نسخ کے معنی لغت میں زائل کرنے اور لکھنے کے آتے ہیں اس پر تمام مفسرین امت کا اتفاق ہے کہ اس آیت میں نسخ سے مراد کسی حکم کا زائل کرنا یعنی منسوخ کرنا ہے اور اسی لئے اصطلاح کتاب وسنت میں نسخ ایک حکم کے بجائے کوئی دوسرا حکم جاری کرنے کو کہا جاتا ہے خواہ وہ دوسرا حکم یہی ہو کہ سابق حکم بالکل ختم کردیا جائے یا یہ ہو کہ اس کی جگہ دوسرا عمل بتلایا جائے،- احکام الہیہ میں نسخ کی حقیقت :- دنیا کی حکومتوں اور اداروں میں کسی حکم کو منسوخ کرکے دوسرا حکم جاری کردینا مشہور و معروف ہے لیکن انسانوں کے احکام میں نسخ کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ پہلے کسی غلط فہمی سے ایک حکم جاری کردیا بعد میں حقیقت معلوم ہوئی تو حکم بدل دیا کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ جس وقت یہ حکم جاری کیا گیا اس وقت کے حالات کے مناسب تھا اور آگے آنے والے واقعات و حالات کا اندازہ نہ تھا جب حالات بدلے تو حکم بھی بدلنا پڑا یہ دونوں صورتیں احکام خداوندی میں نہیں ہوسکتی،- ایک تیسری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ حکم دینے والے کو اول ہی سے یہ بھی معلوم تھا کہ حالات بدلیں گے اور اس وقت یہ حکم مناسب نہیں ہوگا دوسرا حکم دینا ہوگا یہ جانتے ہوئے آج ایک حکم دے دیا اور جب اپنے علم کے مطابق حالات بدلے تو اپنی قرارداد سابق کے مطابق حکم بھی بدل دیا اس کی مثال ایسی ہے کہ مریض کے موجودہ حالات کو دیکھ کر حکیم یا ڈاکٹر ایک دوا تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ دو روز اس دوا کے استعمال کرنے کے بعد مریض کا حال بدلے گا اس وقت مجھے دوسری دوا تجویز کرنا ہوگی یہ سب جانتے ہوئے وہ پہلے دن ایک دوا تجویز کرتا ہے جو اس دن کے مناسب ہے دو دن کے بعد حالات بدلنے پر دوسری دوا تجویز کرتا ہے،- ماہر حکیم ڈاکٹر یہ بھی کرسکتا ہے کہ پہلے ہی دن پورے علاج کا نظام لکھ کر دیدے کہ دو روز تک یہ دوا استعمال کرو پھر تین روز فلاں دوا پھر ایک ہفتہ فلاں دوا لیکن یہ مریض کی طبیعت پر بےوجہ کا ایک بار بھی ڈالنا ہے اس میں غلط فہمی کی وجہ سے عملی خلل کا بھی خطرہ ہے اس لئے وہ پہلے ہی سے سب تفصیلات نہیں بتلاتا،- اللہ جل شانہ کے احکام میں اور اس کی نازل کی ہوئی کتابوں میں صرف یہی آخری صورت نسخ کی ہوسکتی ہے اور ہوتی رہی ہے ہر آنے والی …

Al-Baqara 2:106Listen in Qur'an →
107

أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍ

تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں

Explained together with ayah 106

Al-Baqara 2:107Listen in Qur'an →
108

أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْـَٔلُوا۟ رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ ٱلْكُفْرَ بِٱلْإِيمَٰنِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

خلاصہ تفسیر :- (بعض یہود نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عناداً عرض کیا کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک ہی دفعہ توراۃ نازل ہوئی اسی طرح آپ قرآن مجموعی طور پر لائیے اس پر ارشاد ہوتا ہے کہ) ہاں کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول (وقت) سے (بیجا بیجا) درخواستیں کرو جیسا کہ اس کے قبل (تمہارے بزرگوں کی طرف سے حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی (ایسی ایسی) درخواستیں کی جا چکی ہیں (مثلا خدا تعالیٰ کو علانیہ دیکھنے کی درخواست کی تھی اور ایسی درخواستیں جن میں صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کرنا اور مصالح الہیہ میں مزاحمت کرنا ہی مقصود ہو اور ایمان لانے کا پھر بھی ارادہ نہ ہو نری کفر کی باتیں ہیں اور) جو شخص ایمان لانے کی بجائے کفر (کی باتیں) کرے بلاشک وہ شخص راہ راست سے دور جاپڑا۔- فائدہ : اس درخواست کو بیجا اس لئے فرمایا کہ ہر فعل میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور مصلحتیں جدا جدا ہوتی ہیں بندے کو اس میں تعیین طریق کا کیا حق ہے کہ وہ کہے کہ یہ بات اس طرح ہو یہ اس طرح ہو اس کا کام تو بس یہ ہونا چاہئے،- زباں تازہ کردن باقرارِ تو نینگیختنٍ علت از کار تو - ترجمہ شیخ الہند میں یہ خطاب مسلمانوں سے قرار دیا ہے اس کا حاصل مسلمانوں کو اس پر تنبیہ کرنا ہوگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بےجا سوال نہ کیا کریں،

Al-Baqara 2:108Listen in Qur'an →
109

وَدَّ كَثِيرٌۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًۭا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَٱعْفُوا۟ وَٱصْفَحُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے

خلاصہ تفسیر :- (بعض یہود شب وروز مختلف تدبیروں سے دوستی اور خیر خواہی کے پیرایہ میں مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور باوجود ناکامی کے اپنی دھن سے باز نہ آتے تھے حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس پر متبنہ فرما دیا کہ) ان اہل کتاب (یعنی یہود) میں بہتیرے دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر کافر کر ڈالیں (اور یہ چاہنا کچھ خیر خواہی سے نہیں جیسا کہ وہ اظہار کرتے ہیں بلکہ) محض حسد کی وجہ سے جو کہ (تمہاری جانب سے کسی امر کے سبب پیدا نہیں ہوا بلکہ) خود ان کے دلوں ہی سے (جوش مارتا) ہے (اور یہ بھی نہیں کہ ان کو حق واضح نہ ہوا بلکہ) حق واضح ہوئے پیچھے (یہ حالت ہے اب اس پر مسلمانوں کو ان پر غصہ آنے کا محل تھا اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ) خیر (اب تو) معاف کرو اور درگذر کرو جب تک اللہ تعالیٰ ( اس معاملہ کے متعلق) اپنا حکم (قانون جدید) بھجیں (اشارۃ بتلا دیا کہ ان کی شرارتوں کا علاج قانون انتظام امن عام یعنی قتال وجزیہ سے ہم جلد کرنے والے ہیں اس پر مسلمانوں کو اپنا ضعف اور ان کی قوت دیکھ کر اس قانون کے اجراء کے متعلق تعجب ہوسکتا تھا اس پر ارشاد ہوتا ہے کہ تم تعجب کیوں کرتے ہو) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر (خواہ وہ معمولی ہو خواہ عجیب ہو) قادر ہیں اور (سردست صرف) نمازیں پابندی سے پڑھے جاؤ اور (جن پر زکوٰۃ فرض ہے) زکوٰۃ دئیے جاؤ ( اور جب قانون آجائے گا ان اعمال صالحہ کے ساتھ اس کا بھی اضافہ کرلینا) اور یہ نہ سمجھو کہ جب تک جہاد کا حکم نہ آوے صرف نماز روزہ سے کچھ ثواب میں کمی رہے گی نہیں بلکہ جو نیک کام بھی اپنی بھلائی کے واسطے جمع کرتے رہو گے حق تعالیٰ کے پاس (پہنچ کر) اس کو (پورا پورا مع صلہ کے) پالو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کئے ہوئے کاموں کی دیکھ بھال کررہے ہیں (ان میں ایک ذرہ بھی ضائع نہ ہونے پائے گا) - فائدہ : اس وقت کی حالت کا یہی مقتضا تھا پھر حق تعالیٰ نے اس وعدے کو پورا فرمایا اور جہاد کی آیات نازل ہوئیں جس کے بعد یہود کے ساتھ بھی وہ قانون برتا گیا اور ناشائستہ لوگوں کے ساتھ حسب حیثیت ان کے فساد کے بدلے قتل یا جلا وطنی یا جزیہ پر عملدرآمد کیا گیا،

Al-Baqara 2:109Listen in Qur'an →
110

وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍۢ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

Explained together with ayah 109

Al-Baqara 2:110Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.