خلاصہ تفسیر :- اور (یہودی ایسے بےعقل ہیں کہ) انہوں نے (کتاب اللہ کا تو اتباع نہ کیا اور) ایسی چیز کا (یعنی سحر وجادو کا) اتباع (اختیار) کیا جس کا چرچا کیا کرتے تھے شیاطین (یعنی خبیث جن) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے (عہد) سلطنت میں اور (بعضے بیوقوف جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر گمان سحر رکھتے ہیں بالکل ہی لغو بات ہے کیونکہ سحر تو اعتقادا یا عملا کفر ہے اور) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے (نعوذ باللہ کبھی) کفر نہیں کیا (ہاں) شیاطین (یعنی خبیث جن بیشک) کفر (کی باتیں اور کام یعنی سحر) کیا کرتے تھے اور حالت یہ تھی کہ (خود تو کرتے ہی اور) آدمیوں کی بھی (اس) سحر کی تعلیم کیا کرتے تھے (سو وہی سحر متوارث چلا آرہا ہے اس کا اتباع یہ یہودی کرتے ہیں) اور اسی طرح اس (سحر) کا بھی (یہ لوگ اتباع کرتے ہیں) جو کہ ان دونوں فرشتوں پر (ایک خاص حکمت کے واسطے) نازل کیا گیا تھا (جو شہر) بابل میں (رہتے تھے) جن کا نام ہاروت وماروت تھا اور وہ دونوں (وہ سحر) کسی کو نہ بتلاتے جس تک جب تک (احتیاطا پہلے) یہ (نہ) کہہ دیتے کہ ہمارا وجود بھی (لوگوں کے لئے) ایک امتحان (خداوندی) ہے کہ (ہماری زبان سے سحر پر مطلع ہو کر کون پھنستا ہے اور کون بچتا ہے) سو تو (اس پر مطلع ہوکر) کہیں کافر مت بن جائیو (کہ اس میں پھنس جاؤ) سو بعضے لوگ ان دونوں (فرشتوں) سے اس قسم کا سحر سیکھ لیتے تھے جس کے ذریعہ سے (عمل کرکے) کسی مرد اور اس کی بیوی میں تفریق پیدا کردیتے تھے اور (اس سے کوئی وہم اور خوف میں نہ پھنس جاوے کہ جادوگر جو چاہے کرسکتا ہے کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ) یہ (ساحر) لوگ اس (سحر) کے ذریعے سے کسی کو (ذرہ برابر) بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے مگر خدا ہی کے ( تقدیری) حکم سے اور (ایسا سحر حاصل کرکے بس) ایسی چیزیں سیکھ لیتے ہیں جو (خود) ان کو (بوجہ گناہ کے) ضرر رساں ہیں اور (کسی معتدبہ درجہ میں) ان کو نافع نہیں ہیں ( تو یہودی بھی اتباع سحر سے بڑے ضرر میں ہوں گے) اور یہ (بات کچھ ہمارے ہی کہنے کی نہیں بلکہ) ضرور یہ (یہودی) کوئی اتنا جانتے ہیں کہ جو شخص اس (سحر) کو (کتاب اللہ کے عوض) اختیار کرے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ (باقی) نہیں اور بیشک بری ہے وہ چیز (یعنی جادو و کفر) جس میں وہ لوگ اپنی جان دے رہے ہیں کاش ان کو (اتنی) عقل ہوتی اور اگر وہ لوگ (بجائے اس کفر و بدعملی کے) ایمان اور تقوے ٰ (اختیار) کرتے تو خدا تعالیٰ کے یہاں کا معاوضہ (اس کفر وبد عملی سے ہزار درجے) بہتر تھا کاش اتنی عقل ہوتی، - معارف و مسائل :- آیت مذکورہ کی تفسیر اور شان نزول میں نقل کی ہوئی اسرائیلی روایات سے بہت سے لوگوں کو مختلف قسم کے شبہات پیش آتے ہیں ان شبہات کا حل سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے نہایت واضح اور سہل انداز میں فرمایا ہے اس جگہ اس کو بعینہ نقل کردینا کافی ہے وہ یہ ہے،- ١۔ یہ بیوقوف لوگ جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جادو کی نسبت کرتے تھے، یہودی تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے درمیان آیت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی براءت بھی ظاہر فرمادی،- ان آیتوں میں یہودیوں کی برائی کرنا مقصود ہے کیونکہ ان میں جادو کا چرچا تھا ان آیتوں کے متعلق زہرہ کا ایک لمبا چوڑا قصہ بھی مشہور ہے جو کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں، جن علماء نے اس قصہ کو قواعد شرعیہ کے خلاف سمجھا ہے رد کردیا ہے اور جنہوں نے اس میں تاویل کو خلاف شرع نہیں سمجھا ہے رد نہیں کیا ہمیں یہاں فی الوقت اس کے صحیح یا غلط ہونے سے بحث نہیں البتہ اتنا ضرور ہے ان آیات کی تفسیر اس قصہ پر موقوف نہیں جیسے کہ ناظرین کو معارف و مسائل کے اس زیر عنوان مضمون سے اندازہ ہوجائے گا،- اور یہودی سب باتوں کے جاننے کے باوجود چونکہ عمل علم کے خلاف کرتے تھے اور تدبر سے کام نہ لیتے تھے اس لئے اول تو ان کے جاننے کی خبر دی اور پھر آخر میں یہ کہہ کر اس کی نفی بھی کردی کہ کاش ان کو …