Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 91–100 of 286

91

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ نُؤْمِنُ بِمَآ أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَآءَهُۥ وَهُوَ ٱلْحَقُّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَهُمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنۢبِيَآءَ ٱللَّهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

لاصہ تفسیر :- اور جب ان (یہودیوں) سے کہا جاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ ان تمام کتابوں پر جو اللہ تعالیٰ نے (متعدد پیغمبروں پر) نازل فرمائی ہیں (اور ان تمام کتابوں میں قرآن بھی ہے) تو (جواب میں) کہتے ہیں کہ ہم (تو صرف) اس (ہی) کتاب پر ایمان لاویں گے جو ہم (لوگوں) پر (بواسطہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے) نازل کی گئی ہے (یعنی توراۃ) اور (باقی) جتنی (کتابیں) اس کے علاوہ ہیں جیسے انجیل اور قرآن ان سب کا وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ توراۃ کے ماسوا کتابیں بھی (فی نفسہ) حق (اور واقعی) ہیں اور (فی نفسہ حق ہونے کے علاوہ) تصدیق کرنے والی بھی ہیں اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے (یعنی توراۃ کی) آپ (یہ بھی) کہئے کہ (اچھا تو) پھر کیوں قتل کیا کرتے تھے اللہ کے پیغمبروں کو اس کے پہلے زمانہ میں اگر تم (توراۃ پر) ایمان رکھنے والے تھے،- فائدہ : یہود نے جو یہ کہا کہ ہم صرف توراۃ پر ایمان لاویں گے دوسری کتب پر ایمان نہ لاویں گے تو ان کا یہ قول صریحی کفر ہے اور اس کے ساتھ جو یہ کہا کہ (توراۃ) جو ہم پر نازل کی گئی ہے اس سے حسد مترشح ہوتا ہے اس کا مفہوم صاف یہ ہے کہ اور کتابیں چونکہ ہم پر نازل نہیں کی گئیں اس لئے ان پر ایمان نہیں لائیں گے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو تین طرح رد فرمایا ہے ،- اول یہ کہ جب اور کتابوں کی حقیت اور واقعیت بھی دلیل قطعی سے ثابت ہے تو پھر اس کے انکار کی کیا وجہ ہے ؟ ہاں اگر اس دلیل میں کوئی کلام تھا تو اس کو پیش کرکے تشفی کرلیتے انکار محض کی آخر کیا وجہ ؟- دوسرے اور کتابیں مثلاً قرآن مجید جو توراۃ کا مصدق ہے تو اس کے انکار سے تو خود توراۃ کی تکذیب و انکار لازم آتا ہے،- تیسرے یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرنا تمام آسمانی کتابوں کی رو سے کفر ہے پھر تمہارے گروہ کے لوگوں نے جو کئی نبیوں کو قتل کیا جن کی تعلیم بھی توراۃ ہی کے احکام کے ساتھ خاص تھی اور تم ان قاتلین کو اپنا پیشوا اور مقتدا سمجھتے ہو تو براہ راست توراۃ کے ساتھ کفر کرتے ہو اس سے تو تمہارا توراۃ پر ایمان کا دعویٰ بھی غلط ٹھہرتا ہے غرض کسی بھی پہلو سے تمہارا قول وفعل صحیح اور درست نہیں، - آگے بعض اور وجوہ و دلائل سے ان یہودیوں کا رد فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Al-Baqara 2:91Listen in Qur'an →
92

۞ وَلَقَدْ جَآءَكُم مُّوسَىٰ بِٱلْبَيِّنَٰتِ ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَٰلِمُونَ

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے (کوہِ طور جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے

خلاصہ تفسیر :- اور (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) تم لوگوں کے پاس صاف صاف دلیلیں (توحید و رسالت کی) لائے (مگر) اس پر بھی تم لوگوں نے گوسالہ کو (معبود) بنالیا، موسیٰ (علیہ السلام) کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم (اس تجویز میں) ستم ڈھا رہے تھے،- فائدہ : بینات سے وہ دلائل مراد ہیں جو اس قصہ سے پہلے جبکہ توراۃ نہ ملی تھی موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی برحق ہونے پر قائم ہوچکی تھیں مثلاً عصاء اور یدبیضاء دریا کا پھٹنا وغیرہ،- رد کی تقریر کا حاصل ظاہر ہے کہ تم دعویٰ تو ایمان کا کرتے ہو اور صریح شرک میں مبتلا ہو جس سے موسیٰ (علیہ السلام) بلکہ خدا تعالیٰ کی صریح تکذیب بھی لازم آتی ہے گوسالہ کو معبود بنانے کا معاملہ اگرچہ ان یہودیوں کے ساتھ پیش نہیں آیا تھا جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں نزول قرآن کے وقت موجود تھے مگر چونکہ یہ لوگ اپنے اجداد کے حامی اور طرفدار رہتے تھے اس لئے فی الجملہ یہ بھی رد میں شامل ہیں، - اور اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جن کے اسلاف نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے کفر کیا وہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انکار کے مرتکب ہوں تو چنداں عجیب نہیں ،

Al-Baqara 2:92Listen in Qur'an →
93

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱسْمَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا۟ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِۦٓ إِيمَٰنُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے تمہارا قول وقرار لیا تھا اور (اس قول وقرار لینے کے لئے) طور کو تمہارے (سروں کے) اوپر لاکھڑا کیا تھا ( اور اس وقت حکم دیا تھا کہ) لو جو کچھ (احکام) ہم تم کو دیتے ہیں ہمت (اور پختگی) کے ساتھ لے لو اور (ان احکام کو دل سے) سنو (اس وقت) انہوں نے (ڈر کے مارے زبان سے تو) کہہ دیا کہ ہم نے (قبول کرلیا اور) سن لیا اور (چونکہ واقع میں یہ بات دل سے نہ تھی، اس لئے گویا بزبان حال یوں بھی کہہ رہے تھے کہ) ہم سے عمل نہ ہوگا اور (وجہ ان کی اس بددلی کی یہ تھی کہ) ان کے قلوب (کے ریشہ ریشہ) میں وہی گوسالہ پیوست ہوگیا تھا ان کے کفر (سابق) کی وجہ سے (جبکہ دریائے شور سے اتر کر انہوں نے ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے کوئی ایسا ہی مجسم معبود تجویز کردیا جائے) - آپ فرما دیجئے کہ (دیکھ لیا تم نے اپنے ایمان مزعوم کے افعال کو سو) یہ افعال تو بہت برے ہیں جن کی تعلیم تمہارا ایمان تم کو کر رہا ہے اگر تم (بزعم خود اب بھی) اہل ایمان ہو (یعنی یہ ایمان نہیں ہے) - فائدہ : اس آیت میں جو اسباب اور مسببات مذکور ہیں ان کی ترتیب کا حاصل یہ ہے کہ دریائے شور سے پار ہو کر ان سے ایک کلمہ کفر کا صدور ہوا ہرچند موسیٰ (علیہ السلام) کی ڈانٹ ڈپٹ سے توبہ کرلی لیکن توبہ کے مراتب بھی مختلف ہوتے ہیں اعلیٰ درجہ کی توبہ نہ ہونے کے سبب اس کی ظلمت قلب میں کچھ باقی رہ گئی تھی وہ ترقی پاکر گوسالہ پرستی کا سبب بن گئی پھر اس کی توبہ میں بعضوں کو قتل ہونا پڑا اور بعض کو غالباً بلاقتل معافی ہوگئی ہو جیسا کہ بعض مفسرین نے ذکر بھی کیا ہے ان کی توبہ بھی کچھ ضعیف ہوئی ہوگی اور جو گوسالہ پرستی سے محفوظ رہے تھے ان کو بھی گوسالہ پرستوں سے جس قدر نفرت واجب تھی اس میں کوتاہی ہونے سے ایک گونہ اثر اس معصیت شرکیہ کا ان کے قلب میں باقی تھا بہرحال ضعف توبہ یا کفر سے نفرت نہ ہونے کے آثار باقی رہنے نے دلوں میں دین سے سستی پیدا کردی جس سے اخذ میثاق میں کوہ طور کو ان پر معلق کرنے کی نوبت آئی ،

Al-Baqara 2:93Listen in Qur'an →
94

قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ ٱلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ عِندَ ٱللَّهِ خَالِصَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُا۟ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لیے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لیے مخصوص ہے تو اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو

خلاصہ تفسیر :- (بعض یہودی یہ دعویٰ کرتے تھے کہ آخرت کی نعمتیں خالص ہمارا ہی حق ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس دعوے کو باطل کرنے کے لئے فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (ان لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ اگر (بقول تمہارے) عالم آخرت محض تمہارے ہی لئے نافع ہے بلا شرکت غیرے تو تم (اس کی تصدیق کے لئے ذرا) موت کی تمنا کرکے دکھلا دو اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو اور (ہم ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ) یہ لوگ ہرگز کبھی اس (موت) کی تمنا نہ کریں گے بوجہ (خوف سزا) ان اعمال (کفریہ) کے جو اپنے ہاتھوں سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو خوب اطلاع ہے ان ظالموں کے حال کی (جب مقدمہ کی تاریخ آئے گی فرد قرارداد جرم سنا کر سزا کا حکم کردیا جائیگا) - فائدہ : قرآن کی بعض اور آیات سے بھی ان کے اس دعویٰ کا مفہوم نکلتا ہے جیسا کہ وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً (٨٠: ٢) وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى (١١١: ٢) وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤ ُ ا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤ ُ ه (١٨: ٥) وغیرہا،- ان سب دعوؤں کا حاصل یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم دین حق پر ہیں لہذا آخرت میں ہم کو تو ضرور نجات ملے گی ہم میں سے جو تائب یا مرحوم ہیں ان کو تو ابتداء ہی سے جنت میں داخلہ مل جائے گا اور جو گنہگار ہیں وہ چند روزہ عذاب بھگت کر نجات پاجائیں گے اور جو مطیع ہیں وہ بمثل ابناء واحباء محبوب ومقرب ہیں، - بعض عنوانات کے قبح سے قطع نظر یہ دعوے دین حق پر قائم ہونے کی صورت میں فی نفسہ تو درست وصادق ہیں لیکن چونکہ وہ لوگ اپنے دین کے منسوخ ہوجانے کی بنا پر حق پر نہ رہے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے جابجا مختلف عنوانات اور طریقوں سے ان کی تکذیب فرمائی یہاں ایک خاص طریقہ ذکر کیا گیا کہ اگر عام عادت کے مطابق بحث اور دلائل سے فیصلہ نہیں کرتے تو آؤ مافوق العادۃ طریقہ یعنی معجزے کے ذریعے اس میں نہ زیادہ علم وفہم کی ضرورت ہے نہ غائر نظر درکار صرف زبان ہلانے کی ضرورت ہے مگر ہم پیشین گوئی کرتے ہیں کہ تم زبان سے یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ ہم موت کی تمنا کرتے ہیں، - اس پیشین گوئی کے بعد ہم کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے دعوؤں میں سچے ہو تو یہ کلمہ کہہ دو نہ کہا تو پھر تمہارا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے گا،- چونکہ ان کو اپنا باطل اور کفر پر ہونا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مؤمنین کا حق پر ہونا ان پر خوب واضح و روشن تھا اس لئے یا تو ایسی ہیبت چھائی کہ زبان ہی نہ اٹھی یا وہ ڈر گئے کہ تم نے یہ کلمہ منہ سے نکالا اور موت نے آدبوچا اور پھر سیدھے جہنم رسید ہوئے ورنہ ان کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو عداوت و دشمنی تھی اس کے پیش نظر تو ان کو یہ سن کر جوش آجانا چاہئے تھا اور یہ کلمات ضرور کہہ دینے چاہئے تھے،- درحقیقت اسلام کی حقانیت کے ثبوت کے لئے یہ واقعہ بہت کافی ہے یہاں دو باتیں اور قابل ذکر ہیں، - اول تو یہ کہ یہ استدلال ان یہودیوں کے ساتھ تھا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمانے میں موجود تھے اور جنہوں نے آپ کو نبی پہچاننے کے بعد عناد و عداوت کی بناء پر آپ کا انکار کیا ہر زمانے کے یہود سے یہ خطاب نہیں،- دوسرے یہ شبہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ تمنا کرنا دل اور زبان دونوں سے ہوتا ہے ممکن ہے انہوں نے دل سے تمنا کی ہو اول تو یہ اس لئے صحیح نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اس کی صاف تردید کر رہا ہے دوسرے اگر وہ دل سے تمنا کرتے تو زبان سے ضرور اس کا اظہار کرتے، کیونکہ اس میں تو ان کی جیت تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے کا اچھا موقعہ تھا،- اور یہ شبہ بھی نہ کرنا چاہئے کہ انہوں نے تمنا کی ہو مگر اس کی شہرت نہ ہوئی ہو یہ اس لئے صحیح نہیں کہ اسلام کے ہمدرد ومعاونین کی تعداد کے …

Al-Baqara 2:94Listen in Qur'an →
95

وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ

لیکن ان اعمال کی وجہ سے، جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے، اور خدا ظالموں سے (خوب) واقف ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (وہ لوگ موت کی تمنا کیا خاک کرتے) آپ (تو) ان کو حیات (دنیویہ) کا حریص (اور عام) آدمیوں سے (بھی) بڑھ کر پائیں گے اور (اوروں کا تو کیا ذکر حیرت تو یہ ہے کہ بعض) مشرکین سے بھی (بڑھ کر آپ ان کو حیات کا حریص دیکھیں گے اور ان کی یہ کیفیت ہے کہ) ان میں ایک ایک (شخص) اس ہوس میں ہے کہ اس کی عمر ہزار برس کی ہوجائے اور (بھلا بالفرض اگر اتنی عمر ہو بھی گئی تو کیا) یہ امر عذاب سے تو بچا نہیں سکتا کہ (کسی کی بڑی) عمر ہوجائے اور حق تعالیٰ کے سب پیش نظر ہیں ان کے اعمال (بد جس پر ان کو عذاب ہونے والا ہے) - فائدہ : اس میں حیرت استبعاد کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب تو آخرت کے منکر تھے ان کی بہار اور عیش تو جو کچھ ہے دنیا ہی ہے اس لئے وہ اگر طول عمر کی تمنا کریں تو چنداں عجیب نہیں مگر یہود تو آخرت کے قائل اور بزعم خود آخرت کی نعمتوں کا اپنے آپ ہی کو مستحق کہتے تھے پھر بھی وہ دنیا میں رہنے کی تمنا کریں یہ ہے حیرت وتعجب کی بات۔- پس باوجود اعتقاد آخرت کے طول عمر کی تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ نعمت اخروی کا اپنے آپ کو مستحق سمجھنے کا دعویٰ صرف دعویٰ ہی ہے حقیقت جو ہے اس کو یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ وہاں پہنچ کر جہنم ہی ٹھکانا بنے گا اس لئے جب تک بچے رہیں تب تک ہی سہی،

Al-Baqara 2:95Listen in Qur'an →
96

وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ ٱلنَّاسِ عَلَىٰ حَيَوٰةٍۢ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍۢ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِۦ مِنَ ٱلْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے، یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی۔ ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے، مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی۔ اور جو کام یہ کرتے ہیں، خدا ان کو دیکھ رہا ہے

خلاصہ تفسیر :- (بعض یہود نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سن کر کہ جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے ہماری قوم پر واقعات ہائلہ اور احکامات شاقہ انہی کے ذریعے آتے رہے ہیں میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رحمت ان کے متعلق ہے اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے اس پر حق تعالیٰ رد فرماتے ہیں کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (ان سے) یہ کہئے کہ جو شخص جبرئیل سے عداوت رکھے (وہ جانے لیکن اس امر کو قرآن کے نہ ماننے میں کیا دخل ؟ کیونکہ اس میں تو وہ سفیر محض ہیں) سو (سفارت کے طور پر) انہوں نے یہ قرآن پاک آپ کے قلب تک پہنچا دیا ہے خداوندی حکم سے (تو لانے والے کی خصوصیت کیوں دیکھی جاتی ہے ؟ البتہ خود قرآن کو دیکھو کہ کیسا ہے سو) اس کی (خود) یہ حالت ہے کہ تصدیق کر رہا ہے اپنے سے قبل والی (آسمانی) کتابوں کی اور رہنمائی کر رہا ہے (مصالح ضروریہ کی) اور خوشخبری سنا رہا ہے ایمان والوں کو (اور کتب سماویہ کی یہی شان ہوتی ہے پس قرآن ہر حال میں کتاب سماوی اور قابل اتباع ٹھرا پھر جبریل (علیہ السلام) کی عداوت سے اس کو نہ ماننا نری حماقت ہے اب رہا خود مسئلہ عداوت جبرئیل (علیہ السلام) کا سو اس کا فیصلہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے نزدیک خود اللہ تعالیٰ سے عداوت رکھنا یا اس کے دوسرے ملائکہ سے یا اس کے رسولوں سے یا خود میکائیل سے جن کی دوستی کا دم بھرتے ہیں ان سب سے عداوت رکھنا اور جب جبرئیل سے عداوت رکھنا یہ سب ہم پلہ شمار کئے جاتے ہیں اور ان سب عداوتوں کا قانون یہ ہے کہ) جو (کوئی) شخص خدا تعالیٰ کا دشمن ہو (تو) اور فرشتوں کا ہو (تو) اور پیغمبروں کا ہو (تو) اور جبریل کا (ہو تو) اور میکائیل کا (ہو) تو (ان سب کا وبال یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ دشمن ہے ایسے کافروں کا،

Al-Baqara 2:96Listen in Qur'an →
97

قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّۭا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُۥ نَزَّلَهُۥ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ ٱللَّهِ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًۭى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مر جانا چاہیئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (بعض یہود نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ آپ پر کوئی ایسی دلیل واضح نازل نہ ہوئی جس کو ہم بھی جانتے پہچانتے اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ وہ تو ایک ہی واضح دلیل کو لئے پھر تے ہیں) ہم نے تو آپ کے پاس بہت سے دلائل واضحہ نازل کئے ہیں (جن کو وہ بھی خوب جانتے پہچانتے ہیں سو ان کا انکار نہ جانے کی بنا پر نہیں بلکہ یہ انکار عدول حکمی کی عادت کی وجہ سے ہے) اور (قاعدہ کلیہ ہے کہ) کوئی انکار نہیں کیا کرتا (ایسے دلائل کا) مگر صرف وہی لوگ جو عدول حکمی کے عادی ہیں ،

Al-Baqara 2:97Listen in Qur'an →
98

مَن كَانَ عَدُوًّۭا لِّلَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَىٰلَ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَدُوٌّۭ لِّلْكَٰفِرِينَ

جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے

خلاصہ تفسیر :- (بعض یہود کو جو وہ عہد یاد دلایا گیا جو ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کے باب میں توراۃ میں لیا گیا تھا تو انہوں نے خود عہد لینے ہی سے صاف انکار کردیا اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ) کیا (اس عہد لینے سے ان کو انکار ہے) اور ان کی تو یہ حالت ہے کہ انہوں نے اپنے مسلم عہدوں کو بھی کبھی پورا نہیں کیا بلکہ جب کبھی بھی ان لوگوں نے (دین کے متعلق) کوئی عہد کیا ہوگا (ضرور) اس کو ان میں سے کسی نہ کسی فریق نے نظر انداز کردیا ہوگا بلکہ ان (تعمیل عہد نہ کرنے والوں) میں زیادہ تو ایسے ہی نکلیں گے جو (سرے سے اس عہد کا) یقین ہی نہیں رکھتے (سو تعمیل نہ کرنا تو فسق تھا ہی یہ یقین نہ کرنا اس سے بڑھ کر کفر ہے) - فائدہ : اور ایک جماعت کی تخصیص اس لئے کی گئی کہ بعض ان میں ان عہود کو پورا بھی کرتے تھے حتیٰ کہ اخیر میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لے آئے،

Al-Baqara 2:98Listen in Qur'an →
99

وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ءَايَٰتٍۭ بَيِّنَٰتٍۢ ۖ وَمَا يَكْفُرُ بِهَآ إِلَّا ٱلْفَٰسِقُونَ

اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بدکار ہیں

خلاصہ تفسیر :- (اس آیت میں ایک خاص عہد شکنی کا ذکر فرماتے ہیں جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لانے میں کلام تھا ارشاد ہوتا ہے) اور جب ان کے پاس ایک (عظیم الشان) پیغمبر آئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو (رسول ہونے کے ساتھ) تصدیق بھی کر رہے ہیں اس کتاب کی جو ان لوگوں کے پاس ہے (یعنی توراۃ کی کیونکہ اس میں آپ کی نبوت کی خبر ہے تو اس حالت میں آپ پر ایمان لانا عین توراۃ پر عمل تھا جس کو وہ بھی کتاب اللہ جانتی ہیں مگر باوجود اس کے بھی) ان اہل کتاب میں کے ایک فریق نے خود اس کتاب اللہ ہی کو اس طرح پس پشت ڈال دیا جیسے ان کو (اس کے مضمون کا یا کتاب اللہ ہونے کا) گویا اصلاً علم ہی نہیں ،

Al-Baqara 2:99Listen in Qur'an →
100

أَوَكُلَّمَا عَٰهَدُوا۟ عَهْدًۭا نَّبَذَهُۥ فَرِيقٌۭ مِّنْهُم ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

ان لوگوں نے جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بے ایمان ہیں

Explained together with ayah 99

Al-Baqara 2:100Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.