Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 1–10 of 286

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓمٓ

الم

یہ حروف مقطعاتّ ہیں جن کے بارے میں یہ جان لیجیے کہ ان کے حقیقی ‘ حتمی اور یقینی مفہوم کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ اور اس کے رسول کے۔ یہ ایک راز ہے اللہ اور اس کے رسول کے مابین۔ حروف مقطعات کے بارے میں اگرچہ بہت سی آراء ظاہر کی گئی ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی شے رسول اللہ سے منقول نہیں ہے۔ البتہ یہ بات ثابت ہے کہ اس طرح کے حروف مقطعات کا کلام میں استعمال عرب میں معروف تھا ‘ اس لیے کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔ قرآن مجید کی 114 میں سے 29 سورتیں ایسی ہیں جن کا آغاز حروف مقطعات سے ہوا ہے۔ سورة قٓ‘ سورة القلم اور سورة صٓ کے آغاز میں ایک ایک حرف ہے۔ حٰمٓ‘ طٰہٰ اور یٰسٓ دو دو حرف ہیں۔ ا ل م اور ا ل ر تین تین حروف ہیں جو کئی سورتوں کے آغاز میں آئے ہیں۔ الم اور الر چار چار حروف ہیں۔ حروف مقطعات میں زیادہ سے زیادہ پانچ حروف یکجا آتے ہیں۔ چناچہ کٓھٰیٰعٓصٓ سورة مریم کے آغاز میں اور حٰمٓ عٓسٓقٓ سورة الشوریٰ کے آغاز میں آئے ہیں۔ ان کے بارے میں اس وقت مجھے اس سے زائد کچھ عرض نہیں کرنا ہے۔ اپنے مفصل درس قرآن میں میں نے ان پر تفصیل سے بحثیں کی ہیں۔

2

ذَٰلِكَ ٱلْكِتَٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًۭى لِّلْمُتَّقِينَ

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ یا ”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔“آیت کے اس ٹکڑے کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں۔ پہلے ترجمے کی رو سے یہ ہے وہ کتاب موعود جس کی خبر دی گئی تھی کہ نبی آخر الزماں آئیں گے اور ان کو ہم ایک کتاب دیں گے۔ یہ گویا حوالہ ہے محمد رسول اللہ کے بارے میں پیشین گوئیوں کی طرف کہ جو تورات میں موجود تھیں۔ آج بھی ”کتاب مقدس“ کی کتاب استثناء Deuteronomy کے اٹھارہویں باب کی اٹھارہویں آیت کے اندر یہ الفاظ موجود ہیں کہ : ”میں ان بنی اسرائیل کے لیے ان کے بھائیوں بنی اسماعیل میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا“۔ تو یہ بائبل میں حضرت محمد کی پیشین گوئیاں تھیں۔ آگے چل کر سورة الاعراف میں ہم اسے تفصیل سے پڑھ بھی لیں گے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ یہی وہ کتاب موعود ہے کہ جو نازل کردی گئی ہے محمد رسول اللہ پر۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس میں ہر شے اپنی جگہ پر یقینی ہے ‘ حتمی ہے ‘ اٹل ہے ‘ اور یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو یہ دعویٰ لے کر اٹھی ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جو کتابیں آسمانی کہلائی جاتی ہیں ان کے اندر بھی یہ دعویٰ کہیں موجود نہیں ہے ‘ انسانی کتابوں میں تو اس کا سوال ہی نہیں ہے۔ علامہ اقبال جیسے نابغہ عصر فلسفی بھی اپنے لیکچرز کی تمہید میں لکھتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ سب صحیح ہے ‘ ہوسکتا ہے جیسے جیسے علم آگے بڑھے مزید نئی باتیں سامنے آئیں۔ لیکن قرآن کا دعویٰ ہے کہ لَا رَیْبَ فِیْہِ ”اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے“۔ پہلے ترجمہ کی رو سے ”ذٰلِکَ الْکِتٰبُ“ ایک جملہ مکمل ہوگیا اور ”لَا رَیْبَ فِیْہِ“ دوسرا جملہ ہے۔ جبکہ دوسرے ترجمہ کی رو سے ”ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ“ مکمل جملہ ہے۔ یعنی ”یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔“ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ”یعنی ان لوگوں کے لیے جو بچنا چاہیں۔ تقویٰ کا لفظی معنی ہے بچنا۔ ”وَقٰی۔ یَقِی“ کا مفہوم ہے ”کسی کو بچانا“ جبکہ تقویٰ کا معنی ہے خود بچنا۔ یعنی کج روی سے بچنا ‘ غلط روی سے بچنا اور افراط وتفریط کے دھکوں سے بچنا۔ جن لوگوں کے اندر فطرت سلیمہ ہوتی ہے ان کے اندر یہ اخلاقی حس موجود ہوتی ہے کہ وہ بھلائی کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہر بری چیز سے بچنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو قرآن مجید کے اصل مخاطبین ہیں۔ گویا جس کے اندر بھی بچنے کی خواہش ہے اس کے لیے یہ کتاب ہدایت ہے۔ سورة الفاتحہ میں ہماری فطرت کی ترجمانی کی گئی تھی اور ہم سے یہ کہلوایا گیا تھا : اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ”اے پروردگار ! ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت بخش“۔ آیت زیر مطالعہ گویا اس کا جواب ہے : ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَج فِیْہِج ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ لو وہ کتاب موجود ہے کہ جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور یہ ان تمام لوگوں کے لیے ہدایت کے تقاضوں کے اعتبار سے کفایت کرتی ہے جن میں غلط روی سے بچنے کی خواہش موجود ہے۔وہ لوگ کون ہیں ؟ اب یہاں دیکھئے تاویل خاص کا معاملہ آجائے گا کہ اس وقت رسول اللہ کی تیرہ برس کی محنت کے نتیجہ میں مہاجرین و انصار کی ایک جماعت وجود میں آگئی تھی ‘ جس میں حضرات ابوبکر ‘ عمر ‘ عثمان ‘ علی ‘ طلحہ ‘ زبیر ‘ سعد بن عبادہ اور سعد ابن معاذ جیسے نفوس قدسیہ شامل تھے۔ تو گویا اشارہ کر کے دکھایا جا رہا ہے کہ دیکھو یہ وہ لوگ ہیں ‘ دیکھ لو ان میں کیا اوصاف ہیں۔

3

ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

آیت 3 الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ ”یہ متقین کے اوصاف میں سے پہلا وصف ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بس جو کچھ ہماری آنکھوں سے نظر آ رہا ہے ‘ حواس خمسہ کی زد میں ہے بس وہی کل حقیقت ہے۔ نہیں ! اصل حقیقت تو ہمارے حواس کی سرحدوں سے بہت پرے واقع ہوئی ہے۔ہدایت قرآنی کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ انسان یہ سمجھ لے کہ جو اصل حقیقت ہے وہ اس کی نگاہوں سے مستور ہے۔ انگلستان کے بہت بڑے فلسفی بریڈلے Bradley کی کتاب کا عنوان ہے : ”Appearance and Reality“۔ اس نے لکھا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہے یہ حقیقت نہیں ہے ‘ حقیقت اس کے پیچھے ہے ‘ کنفیوشس 551 تا 479 ق م چین کا بہت بڑا حکیم اور فلسفی تھا ‘ اس کی تعلیمات میں اخلاقی رنگ بہت نمایاں ہے۔ اس کا ایک جملہ ہے :There is nothing more real than what can not be seen ; and there is nothing more certain than what can not be heard.یعنی وہ حقائق جو آنکھوں سے دیکھے نہیں جاسکتے اور کانوں سے سنے نہیں جاسکتے ان سے زیادہ یقینی اور واقعی حقائق کوئی اور نہیں ہیں۔ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ”اللہ کے ساتھ اپنا ایک ذہنی و قلبی اور روحانی رشتہ استوار کرنے کے لیے نماز قائم کرتے ہیں۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ’ یعنی خیر میں ‘ بھلائی میں ‘ نیکی میں ‘ لوگوں کی تکالیف دور کرنے میں اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ‘ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔

4

وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِٱلْءَاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

آیت 4 وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ج ”اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا۔“یہ بہت اہم الفاظ ہیں۔ عام طور پر آج کل ہمارے ہاں یہ خیال پھیلا ہوا ہے کہ سابقہ آسمانی کتب تورات اور انجیل وغیرہ کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ‘ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ ”کوئی ضرورت نہیں“ کی حد تک تو شاید بات صحیح ہو ‘ لیکن ”کوئی فائدہ نہیں“ والی بات بالکل غلط ہے۔ دیکھئے قرآن کے آغاز ہی میں کس قدر اہتمام کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ ایمان صرف قرآن پر ہی نہیں ‘ اس پر بھی ضروری ہے جو اس سے پہلے نازل کیا گیا۔ سورة النساء کوئی چھ ہجری میں جا کر نازل ہوئی ہے ‘ اور اس کی آیت 136 کے الفاظ ملاحظہ کیجیے :یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ط ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کرچکا ہے۔“چنانچہ تورات ‘ انجیل ‘ زبور اور صحفِ ابراہیم علیہ السلام پر اجمالی ایمان کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ البتہ چونکہ ہم سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ ان کتابوں میں تحریف ہوگئی ہے لہٰذا ان کتابوں کی کوئی شے قرآن پر حجت نہیں ہوگی۔ جو چیز قرآن سے ٹکرائے گی ہم اس کو ردّ کردیں گے اور ان کتابوں کی کسی شے کو دلیل کے طور پر نہیں لائیں گے۔ لیکن جہاں قرآن مجید کی کسی بات کی نفی نہ ہو رہی ہو وہاں ان سے استفادہ میں کوئی حرج نہیں۔ بہت سے حقائق ایسے ہیں جو ہمیں ان کتابوں ہی سے ملتے ہیں۔ مثلاً انبیاء علیہ السلام کے درمیان زمانی ترتیب Chronological Order ہمیں تورات سے ملتی ہے ‘ جو قرآن میں نہیں ہے۔ قرآن میں کبھی حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر بعد میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پہلے آجاتا ہے۔ یہاں تو کسی اور پہلو سے ترتیب آتی ہے ‘ لیکن تورات میں ہمیں حضرات ابراہیم ‘ اسحاق ‘ یعقوب ‘ انبیاء بنی اسرائیل موسیٰ اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی تاریخ ملتی ہے۔ اس اعتبار سے سابقہ کتب سماویہ کی اہمیت پیش نظر رہنی چاہیے۔ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ یہاں نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ باقی سب چیزوں کے لیے تو لفظ ایمان آیا ہے جبکہ آخرت کے لیے ”ایقان“ آیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کے عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ مؤثرّ شے ایمان بالآخرۃ ہے۔ اگر انسان کو یہ یقین ہے کہ آخرت کی زندگی میں مجھے اللہ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے تو اس کا عمل صحیح ہوگا۔ لیکن اگر اس یقین میں کمی واقع ہوگئی تو توحید بھی محض ایک عقیدہ Dogma بن کر رہ جائے گی اور ایمان بالرسالت بھی بدعات کو جنم دے گا۔ پھر ایمان بالرسالت کے مظاہر یہ رہ جائیں گے کہ بس عید میلاد النبی ﷺ منا لیجیے اور نعتیہ اشعار کہہ دیجیے ‘ اللہ اللہ خیر صلا۔ انسان کا عمل تو آخرت کے یقین کے ساتھ درست ہوتا ہے۔ّ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ کے الفاظ میں یہ مفہوم بھی ہے کہ ”آخرت پر انہی کا یقین ہے“۔ یہاں گویا حصر بھی ہے۔ اس اعتبار سے کہ یہودی بھیّ مدعی تھے کہ ہم آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں تضاد contrast دکھایا جا رہا ہے کہ آخرت پر یقین رکھنے والے تو یہ لوگ ہیں ! تاویل خاص کے اعتبار سے یہ کہا جائے گا کہ یہ لوگ تمہاری نگاہوں کے سامنے موجود ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی تیرہ برس کی کمائی ہیں۔ جو انقلاب نبوی ﷺ کے اساسی منہاج یعنی تلاوت آیات ‘ تزکیہ اور تعلیم کتاب و حکمت کا نتیجہ ہیں۔

5

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدًۭى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

آیت 5 اُولٰٓءِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْقوہ ابتدائی ہدایت بھی ان کے پاس تھی اور اس تکمیلی ہدایت یعنی قرآن پر بھی ان کا پورا یقین ہے ‘ اور محمد ﷺ کا اتباع بھی وہ کر رہے ہیں۔ّ وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ”فلاح“ کا لفظ بھی قرآن مجید کی بہت اہم اصطلاح ہے۔ اس کا معنی ہے منزل مراد کو پہنچ جانا ‘ کسی باطنی حقیقت کا عیاں ہوجانا۔ اس پر ان شاء اللہ سورة المؤمنون کے شروع میں گفتگو ہوگی۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ فلاح پانے والے ‘ کامیاب ہونے والے ‘ منزل مراد کو پہنچنے والے اصل میں یہی لوگ ہیں۔ تاویل خاص کے اعتبار سے یہ صحابہ کرام رض کی طرف اشارہ ہوگیا ‘ جبکہ تاویل عام کے اعتبار سے ہر شخص کو بتادیا گیا کہ اگر قرآن کی ہدایت سے مستفید ہونا ہے تو یہ اوصاف اپنے اندرپیدا کرو۔

6

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے

آیت 6 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ”اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا“ سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر پر اڑ گئے۔ اس کو ہم تاویل عام میں نہیں لے سکتے۔ اس لیے کہ اس صورت میں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص نے کسی بھی وقت کفر کیا اب وہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا ! یہاں یہ بات مراد نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مغالطہ کی بنا پر یا عدم توجہی کی بنا پر کفر میں ہے ‘ حق اس پر واضح نہیں ہوا ہے تو انذار وتبشیر سے اسے فائدہ ہوجائے گا۔ آپ اسے وعظ و نصیحت کریں تو وہ اس کا اثر قبول کرے گا۔ لیکن جو لوگ حق کو حق سمجھنے اور پہچاننے کے باوجود محض ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصبّ کی وجہ سے یا تکبرّ اور حسد کی وجہ سے کفر پر اڑے رہے تو ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ﷺ انہیں سمجھائیں یا نہ سمجھائیں ‘ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ‘ انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں ‘ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس لیے کہ سوتے کو تو جگایا جاسکتا ہے ‘ جاگتے کو آپ کیسے جگائیں گے ؟ یہ گویا مکہ کے سرداروں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ ان کے دل اور دماغ گواہی دے چکے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور قرآن ان پر اتمام حجت کرچکا ہے اور وہ مان چکے ہیں کہ قرآن کا مقابلہ ہم نہیں کرسکتے ‘ یہ محمد ﷺ کا مکمل معجزہ ہے ‘ اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے۔

7

خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌۭ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے

آیت 7 خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط ایسا کیوں ہوا ؟ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ابتدا ہی میں نہیں لگا دی گئی ‘ بلکہ جب انہوں نے حق کو پہچاننے کے بعدردّکر دیا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی اور ان کی سماعت پر بھی۔ وَعَلٰی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌز یہ مضمون سورة یٰسٓ کے شروع میں بہت شرح و بسط کے ساتھ دوبارہ آئے گا۔ وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ‘ یہ دوسرے گروہ کا تذکرہ ہوگیا۔ ایک رکوع کل سات آیات میں دو گروہوں کا ذکر سمیٹ لیا گیا۔ ایک وہ گروہ جس نے قرآن کریم کی دعوت سے صحیح صحیح استفادہ کیا ‘ ان میں طلب ہدایت کا مادہ موجود تھا ‘ ان کی فطرتیں سلیم تھیں ‘ ان کے سامنے دعوت آئی تو انہوں نے قبول کی اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ وہ گلستان محمدی ﷺ کے گل سرسبد ہیں۔ وہ شجرۂ قرآنی کے نہایت مبارک اور مقدس پھل ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے حق کو پہچان بھی لیا ‘ لیکن اپنے تعصبّ یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کو ردّ کردیا۔ ان کا ذکر بھی بہت اختصار کے ساتھ آگیا۔ ان کا تفصیلی ذکر آپ کو مکی سورتوں میں ملے گا۔ اب آگے تیسرے گروہ کا ذکر آ رہا ہے۔

8

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

آیت 8 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ یہاں ایک بات سمجھ لیجیے ! اکثر و بیشتر مفسرین نے اس تیسری قسم category کے بارے میں یہی رائے قائم کی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے ‘ اگرچہ یہاں لفظ منافق یا لفظ نفاق نہیں آیا۔ لیکن مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اس کے بارے میں ایک رائے ظاہر کی ہے جو بڑی قیمتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے ‘ غور کرنے والے غور کرلیں ‘ دیکھ لیں کہ وہ کس پر چسپاں ہو رہا ہے۔ اور جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں تو ان میں شخصیات کی کردار نگاری کا یہ جو نقشہ کھینچا جا رہا ہے یہ بالفعل دو طبقات کے اوپر راست آ رہا تھا۔ ایک طبقہ علماء یہود کا تھا۔ وہ بھی کہتے تھے کہ ہم بھی اللہ کو مانتے ہیں ‘ آخرت کو بھی مانتے ہیں۔ اسی لیے یہاں رسالت کا ذکر نہیں ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر سوا لاکھ نبی آئے ہیں تو ان سوا لاکھ کو تو ہم مانتے ہیں ‘ بس ایک محمد ﷺ کو ہم نے نہیں مانا اور ایک عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانا ‘ تو ہمیں بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہاں جس انداز میں تذکرہ ہو رہا ہے اس سے ان کا کردار بھی جھلک رہا ہے اور روئے سخن بھی ان کی طرف جا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے دسویں جماعت کے زمانے میں دہلی میں میں نے جوتوں کی ایک دکان پر دیکھا تھا کہ ایک بہت بڑا جوتا لٹکایا ہوا تھا اور ساتھ لکھا تھا : Free to Whom it Fits. یعنی جس کے پاؤں میں یہ ٹھیک ٹھیک آجائے وہ اسے مفت لے جائے ! تو یہاں بھی ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ اب یہ کردار جس کے اوپر بھی فٹ بیٹھ جائے وہ اس کا مصداق شمار ہوگا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا ‘ زیادہ تر مفسرینّ کی رائے تو یہی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہ کردار بعینہٖ یہود کے علماء پر بھی منطبق ہو رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کر لیجیے کہ مدینہ منورہ میں نفاق کا پودا ‘ بلکہ صحیح تر الفاظ میں نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ جو پروان چڑھا ہے وہ یہودی علماء کے زیراثر پروان چڑھا ہے۔ جیسے جنگل کے اندر بڑے بڑے درخت بھی ہوتے ہیں اور ان کے نیچے جھاڑیاں بھی ہوتی ہیں۔ تو یہ نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ دراصل یہودی علماء کا جو بہت بڑا پودا تھا اس کے سائے میں پروان چڑھا ہے اور ان دونوں میں معنوی ربط بھی موجود ہے۔

9

يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

یہ (اپنے پندار میں) خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں

آیت 9 یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج یُخٰدِعُوْنَباب مفاعلہ ہے۔ اس باب کا خاصہ ہے کہ اس میں ایک کشمکش اور کشاکش موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا میں نے اس کا ترجمہ کیا : ”وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔“وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ یہ بات یقینی ہے کہ اپنے آپ کو تو دھوکہ دے رہے ہیں ‘ لیکن یہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ سورة النساء کی آیت 142 میں منافقین کے بارے میں یہی بات بڑے واضح انداز میں بایں الفاظ آئی ہے : اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ج ”یقیناً منافقین اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ حالانکہ اللہ ہی انہیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔“ وَمَا یَشْعُرُوْنَ یہ بات بہت اچھی طرح نوٹ کر لیجیے کہ منافقین کی بھی اکثریت وہ تھی جنہیں اپنے نفاق کا شعور نہیں تھا۔ وہ اپنے تئیں خود کو مسلمان سمجھتے تھے۔ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ انہوں نے خواہ مخواہ اہل مکہ کے ساتھ لڑائی مول لے لی ہے ‘ اس کی کیا ضرورت ہے ؟ ہمیں امن کے ساتھ رہنا چاہیے اور امن و آشتی کے ماحول میں ان سے بات کرنی چاہیے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خیر خواہ ہیں ‘ ہم بھلی بات کہہ رہے ہیں ‘ جبکہ یہ بیوقوف لوگ ہیں۔ دیکھتے نہیں کہ کس سے ٹکرا رہے ہیں ! ہاتھ میں اسلحہ نہیں ہے اور لڑائی کے لیے جا رہے ہیں۔ چناچہ یہ تو بیوقوف ہیں۔ اپنے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو بڑے مخلص ہیں۔ جان لیجیے کہ منافقین میں یقیناً بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ جو اسلام میں داخل ہی دھوکہ دینے کی خاطر ہوتے تھے اور ان پر پہلے دن سے یہ واضح ہوتا تھا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں ‘ ہم نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اسلام کا محض لبادہ اوڑھا ہے۔ ایسے منافقین کا ذکر سورة آل عمران کی آیت 72 میں آئے گا۔ لیکن اکثر و بیشتر منافقین دوسری طرح کے تھے ‘ جنہیں اپنے نفاق کا شعور حاصل نہیں تھا۔

10

فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضًۭا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْذِبُونَ

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

آیت 10 فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یہ روگ اور بیماری کیا ہے ؟ ایک لفظ میں اس کو ”کردار کی کمزوری“ weakness of character سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ایک شخص وہ ہوتا ہے جو حق کو حق سمجھ کر قبول کرلیتا ہے اور پھر ”ہرچہ بادا باد“ جو ہو سو ہو کی کیفیت کے ساتھ اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردینے کو تیار ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو حق کو پہچان لینے کے باوجود ردّ کردیتا ہے۔ اسے ”کافر“ کہا جاتا ہے۔ جبکہ ایک شخص وہ بھی ہے جو حق کو حق پہچان کر آیا تو سہی ‘ لیکن کردار کی کمزوری کی وجہ سے اس کی قوت ارادی کمزور ہے۔ ایسے لوگ آخرت بھی چاہتے ہیں لیکن دنیا بھی ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں کا بھی کوئی نقصان نہ ہو اور آخرت کا بھی سارا بھلا ہمیں مل جائے۔ درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے دلوں میں ایک روگ ہے۔ فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ج یہ اللہ کی سنت ہے۔ آپ حق پر چلنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ حق کا راستہ آپ پر آسان کر دے گا ‘ لیکن اگر آپ برائی کی طرف جانا چاہیں تو بڑی سے بڑی برائی آپ کے لیے ہلکی ہوتی چلی جائے گی۔ آپ خیال کریں گے کہ کوئی خاص بات نہیں ‘ جب یہ کرلیا تو اب یہ بھی کر گزرو۔ اور اگر کوئی بین بین لٹکنا چاہے تو اللہ اس کو اسی راہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ ٹھیک ہے ‘ وہ سمجھتے ہیں ہم کامیاب ہو رہے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کو بھی دھوکہ دے لیا ‘ وہ ہمیں مسلمان سمجھتے ہیں اور یہودیوں کو بھی دھوکہ دے لیا ‘ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھی ہیں۔ تو ان کا یہ سمجھنا کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ‘ بالکل غلط ہے۔ حقیقت میں یہ کامیابی نہیں ہے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے وہ تباہ کن راستہ ان کے لیے آسان کردیا ہے جو انہوں نے خود منتخب کیا تھا۔ ان کے دلوں میں جو روگ موجود تھا اللہ نے اس میں اضافہ فرما دیا۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا اوپر کفار کے لیے الفاظ آئے تھے : وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ اور یہاں عَذَابٌ اَلِیْمٌ کا لفظ آیا ہے کہ ان کے لیے دردناک اور المناک عذاب ہے۔ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ

Al-Baqara 2:10Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.