بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
[١] تلاوت سے پہلے تعوذ کا حکم :۔ قرآن کریم کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے (اَعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرّجیم) ضرور پڑھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے آیت ( فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ 98 ) 16 ۔ النحل :98) جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کیجئے - اور یہ تو ظاہر ہے کہ پناہ کسی نقصان پہنچانے والی چیز یا دشمن سے درکار ہوتی ہے اور ایسی ہستی سے پناہ طلب کی جاتی ہے جو اس نقصان پہنچانے والے دشمن سے زیادہ طاقتور ہو۔ شیطان چونکہ غیر محسوس طور پر انسان کی فکر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لہذا یہ دعا دراصل قرآن کی تلاوت کے دوران کج فکری سے بچنے اور قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کی دعا ہے۔ نیز یہ وہ دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کو سکھائی اور اسے پڑھنے کا حکم دیا۔- (1) فضائل سورة فاتحہ :۔ سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن جبرئیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے اوپر ایک زور دار آواز سنی انہوں نے اپنا سر اٹھایا۔ پھر فرمایا : یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھلا پھر فرمایا : یہ ایک فرشتہ ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نازل نہیں ہوا۔ پھر اس فرشتے نے آپ کو سلام کیا اور دو نوروں کی خوشخبری دی اور کہا : یہ دو نور آپ ہی کو دیے جا رہے ہیں۔ آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے۔ ایک سورة فاتحہ اور دوسرا سورة البقرہ کی آخری دو آیات۔ آپ جب کبھی ان دونوں میں سے کوئی کلمہ تلاوت کریں گے تو آپ کو طلب کردہ چیز ضرور عطا کی جائے گی (صحیح مسلم۔ کتاب فضائل القرآن۔ باب فضل الفاتحہ)- (٢) سورة فاتحہ کے مختلف نام :۔ سیدنا ابو سعید بن معلی (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے فرمایا : میں تجھے قرآن کی ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھ کر ہے اور وہ ہے آیت ( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) وہی (سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ ) اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا (بخاری : کتاب التفسیر، ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 24 ) 8 ۔ الانفال :24) نیز تفسیر سورة فاتحہ)- (٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سورة الحمد ہی ام القرآن، ام الکتاب اور دہرائی ہوئی سات آیتیں ہیں۔ (ترمذی : ابواب التفسیر، تفسیر سورة محمد)- اس سورة کا سب سے زیادہ مشہور نام الفاتحہ ہے جس کے معنی ہیں کھولنے والی یعنی دیباچہ، مقدمہ یا پیش لفظ۔ اس کے متعلق علماء کی دو آرا ہیں : ایک یہ کہ یہ سورة ایک دعا ہے جو بندوں کو سکھائی گئی ہے کہ وہ اس انداز سے اللہ سے ہدایت طلب کیا کریں اور باقی سارا قرآن اس دعا کا جواب ہے۔ ان حضرات کی توجیہ یہ ہے کہ اس سورة کا ایک نام سورة الدعاء بھی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ سورة سارے مضامین قرآن کا اجمالی خلاصہ ہے۔ پھر اس سورة کا خلاصہ آیت ( اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۭ ) 1 ۔ الفاتحة :5) ہے۔ ہمارے نزدیک دوسری رائے ہی راجح ہے اور اس کی مندرجہ ذیل دو وجوہ ہیں :- 1 ۔ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورة کو قرآن عظیم، ام الکتاب اور ام القرآن فرمایا ہے جس کا مفہوم یہی ہے کہ یہ سورة سارے قرآن کا خلاصہ ہے۔- ٢۔ اس سورة کی آیات پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی از خود یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس میں پورے قرآن کا خلاصہ یا اجمالی ذکر کیا گیا ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ علمائے تفسیر نے قرآن کے مضامین کو پانچ اقسام میں تقسیم کیا ہے جو یہ ہیں :- (1) تذکیر بالآء اللہ : یعنی اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا بیان جو انسانی …