Muslim99Muslim99
← Tafsir library

1. Al-Faatiha

The Opening · Meccan · 7 ayahs

سُورَةُ ٱلْفَاتِحَةِ

Reading Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir

Ayahs 1–7 of 7

1

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورہ فاتحہ کے نام:

اس سورت کا نام سورۂ «فاتحہ» ہے۔ «فاتحہ» کہتے ہیں شروع کرنے والی کو، چونکہ قرآن کریم میں سب سے پہلے یہی سورت لکھی گئی ہے، اس لئے اسے سورۂ «فاتحہ» کہتے ہیں اور اس لئے بھی کہ نمازوں میں قرأت بھی اسی سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا نام «أمُّ الْكِتَاب» بھی ہے، جمہور یہی کہتے ہیں۔

حسن اور ابن سرین رحمہ اللہ علیہم اس کے قائل نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوح محفوظ کا نام «أمُّ الْكِتَاب» ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ محکم آیتوں کو «أمُّ الْكِتَاب» کہتے ہیں۔

ترمذی کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» پوری سورت تک یہی سورت «ام القرآن» ہے اور «ام الکتاب» ہے اور «سبع مثانی» ہے اور «قرآن عظیم» ہے۔‏“ [صحیح بخاری:4804] ‏ اس سورت کا نام سورت «الحمد» اور سورۃ «الصلوٰۃ» بھی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے میں نے صلوۃ (‏یعنی سورۂ فاتحہ) کو پنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا۔ جب بندہ کہتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ، پوری حدیث تک۔ [صحیح مسلم:395] ‏

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ کا نام «صلوۃ» بھی ہے، اس لیے کہ اس سورت کا نماز میں پڑھنا شرط ہے، اس سورت کا نام سورت «الشفاء» بھی ہے۔ دارمی میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ سورت فاتحہ ہر زہر کی شفا ہے اور اس کا نام سورت «الرقیہ» بھی ہے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:2370:صحیح بالشواهد] ‏

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے جب سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر اس سورت کو پڑھ کر دم کیا، وہ اچھا ہو گیا تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ «رقیہ» ہے (‏یعنی پڑھ کر پھونکنے کی سورت ہے)؟“ [صحیح بخاری:2276] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے «اساس القرآن» کہتے تھے یعنی قرآن کے جڑ یا بنیاد اس سورت کی بنیاد آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» ہے۔

سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں۔ اس کا نام «واقیہ» ہے، یحییٰ بن کثیر کہتے ہیں اس کا نام «کافیہ» بھی ہے اس لیے کہ یہ اپنے علاوہ سب کی کفایت کرتی ہے اور دوسری سورت اس سورت کی کفایت نہیں کرتی۔ بعض مرسل حدیثوں میں بھی یہ مضمون آیا ہے کہ ام القرآن بدل ہے اس کے غیر کا مگر اس کا غیر اس کا بدل نہیں۔ [دارقطنی:322/1] ‏

اسے سورۃ «الصلوٰۃ» اور سورۃ «الکنز» بھی کہا گیا ہے زمحشری کی تفسیر کشاف دیکھئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما، قتادہ، ابوالعالیہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ یہ سورت مکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطاء بن یسار اور زہری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں، یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ایک قول ہے کہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی ایک مرتبہ مکہ میں اور دوبارہ مدینہ میں لیکن پہلا قول ہی زیادہ ٹھیک ہے اس لئے کہ دوسری آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْ‌آنَ الْعَظِيمَ» [15-الحجر:87] ‏ یعنی ” ہم نے تمہیں سبع مثانی سات آیتیں دہرائی جانے والی دی ہیں “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابواللیث سمرقندی کا ایک قول قرطبی نے بھی نقل کیا ہے کہ اس سورت کا نصف تو مکہ شریف میں نازل ہوا اور آخری نصف حصہ مدینہ شریف میں نازل ہوا لیکن یہ قول بالکل غریب ہے۔ ان آیتوں کی نسبت اتفاق ہے کہ سات ہیں لیکن عمرو بن عبید نے آٹھ اور حسین جعفی نے چھ بھی کہا ہے اور یہ دونوں قول شاذ ہیں۔

«بسم الله الرحمن الرحيم» مختلف اقوال اور سورہ فاتحہ :

«بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» یہ سورت کی مستقل آیت ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ تمام کوفی قاری اور صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعین رحمہ اللہ کی ایک جماعت اور پچھلے بہت سے بزرگ تو اسے سورہ فاتحہ کے اول کی …

Al-Faatiha 1:1Listen in Qur'an →
2

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے

الحمد اللہ کی تفسیر ٭٭

ساتوں قاری «الْحَمْدُ» کو دال پر پیش سے پڑھتے ہیں اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کو مبتدا خبر مانتے ہیں۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور روبہ بن عجاج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ «دال» پر زبر کے ساتھ ہے اور فعل یہاں مقدر ہے۔

ابن ابی عبلہ رحمہ اللہ «الْحَمْدُ» کی «دال» کو اور «الله» کے پہلے «لام» دونوں کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس «لام» کو پہلے کے تابع کرتے ہیں اگرچہ اس کی شہادت عربی زبان میں ملتی ہے، مگر شاذ ہے۔

حسن رحمہ اللہ اور زید بن علی رحمہ اللہ ان دونوں حرفوں کو زیر سے پڑھتے ہیں اور «لام» کے تابع «دال» کو کرتے ہیں۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے سوا کوئی اس کے لائق نہیں، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو اس وجہ سے کہ تمام نعمتیں جنہیں ہم گن بھی نہیں سکتے، اس مالک کے سوا اور کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا اسی کی طرف سے ہیں۔ اسی نے اپنی اطاعت کرنے کے تمام اساب ہمیں عطا فرمائے۔ اسی نے اپنے فرائض پورے کرنے کے لیے تمام جسمانی نعمتیں ہمیں بخشیں۔ پھر بےشمار دنیاوی نعمتیں اور زندگی کی تمام ضروریات ہمارے کسی حق بغیر ہمیں بن مانگے بخشیں۔ اس کی لازوال نعمتیں، اس کے تیار کردہ پاکیزہ مقام جنت کو ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ بھی اس نے ہمیں سکھا دیا پس ہم تو کہتے ہیں کہ اول آخر اسی مالک کی پاک ذات ہر طرح کی تعریف اور حمد و شکر کے لائق ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:125/1] ‏

صفحہ نمبر26

«الْحَمْدُ لِلَّهِ» یہ ثنا کا کلمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ثنا و خود آپ کی ہے اور اسی ضمن میں گویا یہ فرما دیا ہے کہ تم کہو «الْحَمْدُ لِلَّهِ» بعض نے کہا کہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہنا اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں سے اس کی ثنا کرنا ہے۔ اور «الشُّكْرُ لِلَّهِ» کہنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:138/1] ‏ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ عربی زبان کو جاننے والے علماء کا اتفاق ہے۔ کہ شکر کی جگہ حمد کا لفظ اور حمد کی جگہ شکر کا لفظ بولتے ہیں۔ جعفر صادق رحمہ اللہ، ابن عطا صوفی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہر شکر کرنے والے کا کلمہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ہے۔

قرطبی رحمہ اللہ نے ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کو معتبر کرنے کے لیے یہ دلیل بھی بیان کی ہے کہ اگر کوئی «الْحَمْدُ لِلَّهِ شُكْرًا» کہے تو جائز ہے۔

دراصل علامہ ابن جریر رحمہ اللہ کے اس دعویٰ میں اختلاف ہے، پچھلے علماء میں مشہور ہے کہ «حَمْدَ» کہتے ہیں زبانی تعریف بیان کرنے کو خواہ جس کی حمد کی جاتی ہو اس کی لازم صفتوں پر ہو یا متعدی صفتوں پر اور شکر صرف متعدی صفتوں پر ہوتا ہے اور وہ دل زبان اور جملہ ارکان سے ہوتا ہے۔ عرب شاعروں کے اشعار بھی اس پر دلیل ہیں۔

صفحہ نمبر27

ہاں اس میں اختلاف ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ عام ہے یا «شُّكْر» کا اور صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عموم اس حیثیت سے خصوص ہے کہ «حَمْدَ» کا لفظ جس پر واقع ہو وہ عام طور پر «شُّكْر» کے معنوں میں آتا ہے۔ اس لیے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں اوصاف پر آتا ہے شہ سواری اور کرم دونوں پر «حَمِدْتُهُ» کہہ سکتے ہیں لیکن اس حیثیت سے وہ صرف زبان سے ادا ہو سکتا ہے یہ لفظ خاص اور «شُّكْر» کا لفظ عام ہے کیونکہ وہ قول، فعل اور نیت تینوں پر بولا جاتا ہے اور صرف متعدی صفتوں پر بولے جانے کے اعتبار سے «شُّكْر» کا لفظ خاص ہے۔ شہ سواری کے حصول پر «شَكَرْتُهُ» نہیں کہہ سکتے البتہ «شَكَرْتُهُ عَلَى كَرَمِهِ وَإِحْسَانِهِ إِلَيَّ» کہہ سکتے ہیں۔ یہ تھا خلاصہ متاخرین کے قول کا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر28

ابونصر اسماعیل بن حماد جوہری کہتے ہیں «حمد» مقابل ہے «ذم» کے۔ لہٰذا یوں کہتے ہیں کہ …

Al-Faatiha 1:2Listen in Qur'an →
3

ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

بڑا مہربان نہایت رحم والا

بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان ٭٭

اس کی تفسیر پہلے پوری گزر چکی ہے اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «رَبِّ الْعَالَمِينَ» کے وصف کے بعد آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا وصف ترہیب یعنی ڈراوے کے بعد ترغیب یعنی امید ہے۔

جیسے فرمایا: «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [15-الحجر:49] ‏ الخ یعنی ”میرے بندوں کو خبر دو کہ میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں اور میرے عذاب بھی درد ناک عذاب ہیں“۔

اور فرمایا «إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» [6-الأنعام:165] ‏ الخ یعنی ”تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور مہربان اور بخشش بھی کرنے والا ہے“۔ «رب» کے لفظ میں ڈراوا ہے اور «رحمن» اور «رحیم» کے لفظ میں امید ہے۔

صحیح مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایماندار اللہ کے غضب و غصہ سے اور اس کے سخت عذاب سے پورا وقف ہوتا (‏تو اس وقت)‏ اس کے دل سے جنت کی طمع ہٹ جاتی اور اگر کافر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی رحمتوں کو پوری طرح جان لیتا تو کبھی ناامید نہ ہوتا“ ۔ [صحیح مسلم:2755] ‏

صفحہ نمبر38

Al-Faatiha 1:3Listen in Qur'an →
4

مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ

انصاف کے دن کا حاکم

حقیقی وارث مالک کون ہے؟ ٭٭

بعض قاریوں نے «مَلِكِ» پڑھا ہے اور باقی سب نے «مَالِكِ» اور دونوں قراتیں صحیح اور متواتر ہیں اور سات قراتوں میں سے ہیں اور «مَالِكِ» کے «لام» کے زیر اور اس کے سکون کے ساتھ۔ اور «مَلِيكٌ» اور «مَلَكِي» بھی پڑھا گیا ہے پہلے کی دونوں قراتیں معانی کی رو ترجیح ہیں اور دونوں صحیح ہیں اور اچھی بھی۔

زمخشری نے «مَلِكِ» کو ترجیح دی ہے اس لیے کہ حرمین والوں کی یہ قرأت ہے۔ اور قرآن میں بھی «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» [40-غافر:16] ‏ اور «قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ» [6-الأنعام:73] ‏ ہے۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی حکایت بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے «مَلِكِ» پڑھا اس بنا پر کہ «فِعْلٌ» اور «فَاعِلٌ» اور «مَفْعُولٌ» آتا ہے لیکن یہ شاذ اور بےحد غریب ہے۔

ابوبکر بن داؤد رحمہ اللہ نے اس بارے میں ایک غریب روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تینوں خلفاء اور معاویہ رضی اللہ عنہم اور ان کے لڑکے «مَالِكِ» پڑھتے تھے۔

ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مروان نے «مَالِكِ» پڑھا۔ میں کہتا ہوں مروان کو اپنی اس قرأت کی صحت کا علم تھا راوی راوی حدیث ابن شہاب رحمہ اللہ کو علم نہ تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر39

ابن مردویہ نے کئی سندوں سے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «مَالِكِ» پڑھتے تھے۔ «مَالِكِ» کا لفظ «مَلِكِ» سے ماخوذ ہے جیسے کہ قرآن میں ہے: «إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ» [19-مريم:40] ‏ الخ یعنی ”زمین اور اس کے اوپر کی تمام مخلوق کے مالک ہم ہی ہیں اور ہماری ہی طرف سب لوٹا کر لائے جائیں گے“۔

اور فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ * مَلِكِ النَّاسِ» [114-الناس:1-2] ‏ الخ یعنی ”کہہ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب اور لوگوں کے مالک کی“۔ اور «مَلِكِ» کا لفظ «مُلْكُ» سے ماخوذ ہے،

جیسے فرمایا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ‏ الخ یعنی ”آج ملک کس کا ہے صرف اللہ واحد غلبہ والے کا“۔

صفحہ نمبر40

اور فرمایا: «قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ» [6-الأنعام:73] ‏ الخ یعنی ”اسی کا فرمان ہے اور اسی کا سب ملک ہے“۔

اور فرمایا: «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» [25-الفرقان:26] ‏ یعنی ”آج ملک رحمن ہی کا ہے اور آج کا دن کافروں پر بہت سخت ہے“۔

اس فرمان میں قیامت کے دن ساتھ ملکیت کی تخصیص کرنے سے یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے، اس لیے کہ پہلے اپنا وصف «رَبُّ الْعَالَمِينَ» ہونا بیان کر چکا ہے دنیا اور آخرت دونوں کو شامل ہے۔ قیامت کے دن کے ساتھ اس کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس دن تو کوئی ملکیت کا دعویدار بھی نہ ہو گا۔ بلکہ بغیر اس حقیقی مالک کی اجازت کے زبان تک نہ ہلا سکے گا۔

جیسے فرمایا: «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [78-النبأ:38] ‏ یعنی ”جس دن روح القدس اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی کلام نہ کر سکے گا۔ یہاں تک کہ رحمن اسے اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا“۔

دوسری جگہ ارشاد ہے: «وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَـٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا» [20-طه:108] ‏ الخ یعنی ”سب آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوں گی اور گنگناہٹ کے سوا کچھ نہ سنائی دے گا“،

اور فرمایا: «يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» [11-هود:105] ‏ یعنی ”جب قیامت آئے گی اس دن بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اجازت کے کوئی شخص نہ بول سکے گا۔ بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض سعادت مند“۔

صفحہ نمبر41

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں …

Al-Faatiha 1:4Listen in Qur'an →
5

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

عبادت کا مفہوم ٭٭

ساتوں قاریوں اور جمہور نے اسے «إِيَّاكَ» پڑھا ہے۔ عمرو بن فائد نے «اِیَاکَ» پڑھا ہے۔ لیکن یہ قراۃ شاذ اور مردود ہے۔ اس لیے کہ «اِیاَ» کے معنی سورج کی روشنی کے ہیں اور بعض نے «أَيَّاكَ» پڑھا ہے اور بعض نے «هَيَّاكَ» پڑھا ہے۔ عرب شاعروں کے شعر میں بھی «َھیَّاکَ» ہے۔ «نَسْتَعِينُ» کی یہی قرأت تمام کی ہے۔ سوائے یحییٰ بن وثاب اور اعمش کے۔ یہ دونوں پہلے نون کو زیر سے پڑھتے ہیں۔ قبیلہ بنو اسد، ربیعہ بنت تمیم کی لغت اسی طرح پر ہے۔

لغت میں عبادت کہتے ہیں ذلت اور پستی کو طریق معبد اس راستے کو کہتے ہیں جو ذلیل ہو۔ اسی طرح «بَعِيرٌ مُعَبَّدٌ» اس اونٹ کو کہتے ہیں جو بہت دبا اور جھکا ہوا ہو اور شریعت میں عبادت نام ہے محبت، خشوع، خضوع اور خوف کے مجموعے کا۔ لفظ «اِیَّاکَ» کو جو مفعول ہے پہلے لائے اور پھر اسی کو دہرایا تاکہ اس کی اہمیت ہو جائے اور عبادت اور طلب مدد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہو جائے تو اس جملہ کے معنی یہ ہوئے کہ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور نہ کریں گے اور تیرے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اور نہ کریں گے۔ کامل اطاعت اور پورے دین کا حاصل صرف یہی دو چیزیں ہیں۔

صفحہ نمبر44

بعض سلف کا فرمان ہے کہ سارے قرآن کا راز سورۃ فاتحہ میں ہے اور پوری سورت کا راز اس آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» میں ہے۔ آیت کے پہلے حصہ میں شرک سے بیزاری کا اعلان ہے اور دوسرے جملہ میں اپنی طاقتوں اور قوتوں کے کمال کا انکار ہے اور اللہ عزوجل کی طرف اپنے تمام کاموں کی سپردگی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔

جیسے فرمایا: «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ» [11-هود:123] ‏ الخ یعنی ”اللہ ہی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ کرو تمہارا رب تمہارے اعمال سے غافل نہیں“۔

فرمایا: «قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا» [67-الملك:29] ‏ الخ یعنی ”کہہ دے کہ وہی رحمان ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور اسی پر ہم نے توکل کیا“۔

فرمایا: «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ الخ یعنی ”مشرق مغرب کا رب وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ“۔

یہی مضمون اس آیۃ کریمہ میں ہے اس سے پہلے کی آیات میں تو خطاب نہ تھا لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا گیا ہے جو نہایت لطافت اور مناسبت رکھتا ہے اس لیے کہ جب بندے نے اللہ تعالیٰ کی صفت و ثنا بیان کی تو قرب الہٰی میں حاضر ہو گیا اللہ جل جلالہ کے حضور میں پہنچ گیا، اب اس مالک کو خطاب کر کے اپنی ذلت اور مسکینی کا اظہار کرنے لگا اور کہنے لگا کہ ”الہٰ“ ہم تو تیرے ذلیل غلام ہیں اور اپنے تمام کاموں میں تیرے ہی محتاج ہیں۔ اس آیت میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اس سے پہلے کے تمام جملوں میں خبر تھی۔

صفحہ نمبر45

اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین صفات پر اپنی ثناء آپ کی تھی اور بندوں کو اپنی ”ثناء“ انہی الفاظ کے ساتھ بیان کرنے کا ارشاد فرمایا تھا اسی لیے اس شخص کی نماز صحیح نہیں جو اس سورت کو پڑھنا جانتا ہو اور پھر نہ پڑھے۔

جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جو نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے“ ۔ [صحیح بخاری:756] ‏

صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان (‏نصف نصف)‏ بانٹ لیا ہے اس کا آدھا حصہ میرا ہے اور آدھا حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔ جب بندہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہتا ہے، تو …

Al-Faatiha 1:5Listen in Qur'an →
6

ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ

ہم کو سیدھے رستے چلا

حصول مقصد کا بہترین طریقہ ٭٭

جمہور نے «صِّرَاطَ» پڑھا ہے۔ بعض نے «ِسرَاطَ» کہا ہے اور «زے» کی بھی ایک قراۃ ہے۔ فراء کہتے ہیں بنی عذرہ اور بنی کلب کی قراۃ یہی ہے چونکہ پہلے ثنا و صفت بیان کی تو اب مناسب تھا کہ اپنی حاجت طلب کرے۔

جیسے کہ پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔ خیال کیجئے کہ اس میں کس قدر لطافت اور عمدگی ہے کہ پہلے پروردگار عالم کی تعریف و توصیف کی، پھر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حاجت طلب کی۔ یہ وہ لطیف انداز ہے جو مقصود کو حاصل کرنے اور مراد کو پا لینے کے لیے تیر بہدف ہے، اس کامل طریقہ کو پسند فرما کر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی ہدایت کی۔ کبھی سوال اس طرح ہوتا ہے کہ سائل اپنی حالت اور حاجت کو ظاہر کر دیتا ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: «رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ» [28-القصص:24] ‏ الخ یعنی ”پروردگار جو بھلائیاں تو میری طرف نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں“۔

یونس علیہ السلام نے بھی اپنی دعا میں کہا: «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:87] ‏ الخ یعنی ”الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ظالموں میں سے ہوں“۔

کبھی سوال اس طرح بھی ہوتا ہے کہ سائل صرف تعریف اور بزرگی بیان کر کے چپ ہو جاتا ہے جیسے کسی شاعر کا قول ہے «أَأَذْكُرُ حَاجَتِي أَمْ قَدْ كَفَانِي ... حَيَاؤُكَ إِنَّ شِيمَتَكَ الْحَيَاءُ ... إِذَا أَثْنَى عَلَيْكَ الْمَرْءُ يَوْمًا ... كَفَاهُ مِنْ تَعَرُّضِهِ الثَّنَاءُ» کہ مجھے اپنی حاجت کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تیری مہربانیوں بھری بخشش مجھے کافی ہے میں جانتا ہوں کہ داد و دہش تیری پاک عادتوں میں داخل ہے لیکن تیری پاکیزگی بیان کر دینا، تیری حمد و ثنا کرنا ہی مجھے اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہدایت کے معنی یہاں پر ارشاد اور توفیق کے ہیں۔

کبھی تو ہدایت بنفسہ متعدی ہوتی ہے جیسے یہاں ہے تو معنی «أَلْهِمْنَا، وَفِّقْنَا، ارْزُقْنَا» اور «اعْطِنَا» یعنی ہمیں عطا فرمائے ہوں گے

اور جگہ ہے: «وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90-البلد:10] ‏ الخ یعنی ”ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دئیے“ بھلائی اور برائی دونوں کے۔

اور کبھی ہدایت «الیٰ» کے ساتھ متعدی ہوتی ہے، جیسے فرمایا: «اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» [16-النحل:121] ‏

اور فرمایا: «فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:23] ‏

یہاں ہدایت ارشاد اور دلالت کے معنی میں ہے۔ اسی طرح فرمان ہے: «وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [42-الشورى:52] ‏ الخ یعنی ”تو البتہ سیدھی راہ دکھاتا ہے“،

اور کبھی ہدایت «لام» کے ساتھ متعدی ہوتی ہے جیسے جنتیوں کا قول قرآن کریم میں ہے: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا» [7-الأعراف:43] ‏ الخ یعنی ”اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی یعنی توفیق دی اور ہدایت والا بنایا“۔

«صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کے معنی سنئے۔ امام ابو جعفر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے واضح اور صاف راستہ ہے جو کہیں سے ٹیڑھا نہ ہو۔ عرب کی لغت میں اور شاعروں کے شعر میں یہ معنی صاف طور پر پائے جاتے ہیں اور اس پر بےشمار شواہد موجود ہیں۔

«صِّرَاطَ» کا استعمال بطور استعارہ کے قول اور فعل پر بھی آتا ہے اور پھر اس کا وصف استقامت اور ٹیڑھ پن کے ساتھ بھی آتا ہے۔ سلف اور متاخرین مفسرین سے اس کی بہت سی تفسیریں منقول ہیں اور ان سب کا خلاصہ ایک ہی ہے اور وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور تابعداری ہے۔

صفحہ نمبر50

صراط مستقیم کیا ہے؟ ٭٭

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ صراط مستقیم کتاب اللہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:174:ضعیف جدا] ‏ …

Al-Faatiha 1:6Listen in Qur'an →
7

صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ

ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے

انعام یافتہ کون؟ ٭٭

اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے کہ بندے کے اس قول پر اللہ کریم فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو کچھ وہ مانگے یہ آیت «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کی تفسیر ہے اور نحویوں کے نزدیک یہ اس سے بدل ہے اور عطف بیان بھی ہو سکتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورۃ نساء میں آ چکا ہے فرمان ہے: «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا» * «ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّـهِ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ عَلِيمًا» [4-النساء:69-70] ‏ الخ یعنی ”اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہے جو نبی، صدیق، شہید، صالح لوگ ہیں، یہ بہترین ساتھی اور اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل ربانی ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہے“۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تو مجھے ان فرشتوں، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت و عبادت کی وجہ سے انعام نازل فرمایا۔ یہ آیت ٹھیک «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» [4-النساء:69] ‏ کی طرح ہے۔

ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد انبیاء ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مومن ہیں۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان مراد ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مراد ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول زیادہ معقول اور قابل تسلیم ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر57

جمہور کی قرأت میں «غَيْرِ» «رے» کے زیر کے ساتھ ہے اور صفت ہے۔ زمحشری کہتے ہیں «رے» کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور حال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قرأت یہی ہے اور ابن کثیر رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔

«عَلَيْهِمْ» میں جو ضمیر ہے وہ اس کا ذوالحال ہے اور «أَنْعَمْتَ» عامل ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ اللہ جل شانہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ جو ہدایت اور استقامت والے تھے اور اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار، اس کے حکموں پر عمل کرنے والے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک رہنے والے تھے۔

صفحہ نمبر58

مغضوب کون؟ ٭٭

ان کی راہ سے بچا، جن پر غضب و غصہ کیا گیا، جن کے ارادے فاسد ہو گئے، حق کو جان کر پھر اس سے ہٹ گئے اور گم گشتہ راہ لوگوں کے طریقے سے بھی ہمیں بچا لے جو سرے سے علم نہیں رکھتے مارے مارے پھرتے ہیں راہ سے بھٹکے ہوئے حیران و سرگرداں ہیں اور راہ حق کی طرف رہنمائی نہیں کئے جاتے «لَا» کو دوبارہ لا کر کلام کی تاکید کرنا اس لیے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ یہاں دو غلط راستے ہیں، ایک یہود کا دوسرا نصاریٰ کا۔

بعض نحوی کہتے ہیں کہ «غَيْرَ» کا لفظ یہاں پر استثناء کے لیے ہے تو استثناء منقطع ہو سکتا ہے کیونکہ جن پر انعام کیا گیا ہے ان میں سے استثناء ہونا تو درست ہے۔ مگر یہ لوگ انعام والوں میں داخل ہی نہ تھے لیکن ہم نے جو تفسیر کی ہے یہ بہت اچھی ہے۔

عرب شاعروں کے شعر میں ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ موصوف کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف صفت بیان کر دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی صفت کا بیان ہے اور موصوف محذوف ہے۔ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ» سے مراد «غَيْرِ صِرَاطِ الْمَغْضُوبِ» ہے۔ مضاف «إِلَيْهِ» کے ذکر سے کفایت کی گئی اور مضاف بیان نہ کیا گیا اس لیے کہ نشست الفاظ ہی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ پہلے دو مرتبہ یہ لفظ آ چکا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَلَا …

Al-Faatiha 1:7Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir Ibn Kathir by Hafiz Ibn Kathir. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.