Muslim99Muslim99
← Tafsir library

1. Al-Faatiha

The Opening · Meccan · 7 ayahs

سُورَةُ ٱلْفَاتِحَةِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 1–7 of 7

1

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔- سورۂ فاتحہ کے فضائل : 1 ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے ہیں، آپ سے پہلے وہ کسی نبی کو عطا نہیں ہوئے، فاتحۃ الکتاب اور سورة بقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے وہ چیز آپ کو ضرور عطا کردی جائے گی۔ “ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ۔۔ ٨٠٦ ]- 2 ابوسعید بن معلی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے، میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے مجھے بلایا، میں نہ آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھی، پھر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارے آنے میں کیا رکاوٹ بنی ؟ “ میں نے عرض کیا : ” میں نماز پڑھ رہا تھا۔ “ فرمایا : ” کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو۔ “ پھر فرمایا : ” کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟ “ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا تو آپ نے فرمایا : ” الحمد للہ رب العالمین ہی ” سبع مثانی “ ہے، (یعنی وہ سات آیتیں ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں) اور یہی القرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : ( ولقد آتیناک سبعا۔۔ ) : ٤٧٠٣ ]- 3 ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اپنے ایک سفر میں تھے، راستے میں اترے تو ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی : ” قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے لوگ غائب ہیں تو کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ “ چناچہ اس کے ساتھ ایک آدمی گیا جس کے متعلق ہمیں دم کرنے کا گمان نہیں تھا، اس نے اسے دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا۔ سردار نے اسے تیس بکریاں دینے کو کہا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس سے پوچھا : ” کیا تم اچھی طرح دم کرلیا کرتے تھے ؟ “ اس نے کہا : ” نہیں، میں نے صرف ام الکتاب کے ساتھ دم کیا ہے۔ “ ہم نے کہا : ” جب تک ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ پہنچیں کچھ نہ کرو۔ “ جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اسے کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے ؟ (بکریاں) تقسیم کرلو اور میرا حصہ بھی رکھو۔ “ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل فاتحۃ الکتاب : ٥٠٠٧ ] بخاری کی ایک روایت (٥٧٣٦) میں ہے کہ ان لوگوں نے ابوسعید (رض) اور ان کے ساتھیوں کی مہمان نوازی سے انکار کردیا تھا، جب انھوں نے دم کی درخواست کی تو صحابہ (رض) نے یہ کہہ کر کہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی تیس بکریوں کی شرط طے کی تھی۔ مسلم (٢٢٠١) میں ہے کہ یہ دم کرنے والے ابوسعید خدری (رض) ہی تھے۔ - 4 خارجہ بن صلت کے چچا (علاقہ بن صحار تمیمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہو کر اسلام لے آئے، پھر واپس گئے تو ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے پاس ایک پاگل آدمی لوہے کی …

Al-Faatiha 1:1Listen in Qur'an →
2

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ : حمد کا معنی کسی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ اس پر الف لام استغراق کا ہے جس سے مراد حمد کے تمام افراد ہیں، یعنی جو تعریف بھی ہے اللہ ہی کی ہے، نہ کسی دوسرے خود ساختہ معبود کی نہ کسی مخلوق کی، کیونکہ مخلوق میں اگر تعریف کے لائق کوئی خوبی ہے تو وہ اسی کی پیدا کردہ ہے۔- لفظ ” اللہ “ چونکہ ذاتی نام ہے، اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات آجاتے ہیں، وہ ننانوے اسماء وصفات بھی جن کا ذکر حدیث میں ہے اور وہ بھی جو ان کے علاوہ ہیں، خواہ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھائے ہیں یا ان کا علم صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ جس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مراد وہ ذات گرامی ہے جو نبی بھی ہے رسول بھی، شاہد، مبشر اور نذیر بھی، داعی الی اللہ اور سراج منیر بھی، ماحی اور عاقب بھی، خاتم النّبیین اور سید ولد آدم بھی، غرض اسم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ذاتی نام) میں آپ کے تمام نام اور تمام صفات آجاتی ہیں، اسی طرح لفظ ” اللہ “ علم (ذاتی نام) ہونے کی وجہ سے تمام اسماء وصفات کا جامع ہے، اس لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ دعویٰ بھی ہے اور دلیل بھی، یعنی سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ تمام صفات کمال کا جامع ہے اور ہر صفت پر اس کی حمد لازم ہے۔ - 3 ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ میں کئی عموم ہیں اور ایک خصوص ہے۔ ” اَلْحَمْدُ “ میں الف لام استغراق کا ہونے کی وجہ سے کئی قسم کا عموم ہے اور ” لِلّٰهِ “ میں ایک خصوص ہے، وہ یہ کہ اس میں لام اختصاص کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حمد اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ حمد کے عموم میں فاعل کا بھی عموم ہے کہ ہر حمد کرنے والا درحقیقت اللہ ہی کی تعریف کرتا ہے، خواہ وہ خود رب العالمین ہو یا انسان یا جن یا فرشتہ یا کوئی بھی مخلوق ہو۔ ایک مقام پر فرمایا : (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ ) [ بنی إسرائیل : ٤٤ ] ” جو بھی شے ہے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ “ اسی طرح حمد کے عموم میں مکان (جگہ) کا بھی عموم ہے، یعنی وہ کسی بھی جگہ میں ہو، زمین میں ہو یا آسمان میں، یا ان کے درمیان ہو یا عرش پر، فرمایا : (وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) [ الروم : ١٨ ] یعنی آسمانوں اور زمین میں اسی کی حمد ہے۔ اسی طرح زمان کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد دن میں ہو یا رات میں، ماضی میں ہو یا حال میں یا مستقبل میں، دنیا میں ہو یا آخرت میں، سب کی سب اللہ کے لیے خاص ہے، فرمایا : (وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۡ) [ القصص : ٧٠ ] ” اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے دنیا اور آخرت میں سب تعریف ہے۔ “ اس طرح ” اَلْحَمْدُ “ میں خود حمد کا بھی عموم ہے، یعنی وہ حمد کسی بھی لفظ کے ساتھ ہو یا کسی بھی زبان میں، بلند آواز سے ہو یا آہستہ، دل سے ہو یا زبان سے یا دوسرے اعضاء کے ساتھ، غرض تعریف کوئی بھی ہو صرف اکیلے اللہ کے لیے خاص ہے، کسی دوسرے میں کوئی خوبی یا قابل تعریف بات ہے تو وہ اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے، اس لیے اس کی وجہ سے اس کی تعریف بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے۔ - 3 بعض اہل علم نے قرآن مجید کے چار حصے کیے ہیں، ہر حصہ ” اَلْحَمْدُ “ سے شروع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) ” سورة فاتحہ “ سے شروع ہوتا ہے، دوسرا ( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ) سورة انعام سے، تیسرا (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ ) سورة کہف سے اور چوتھا (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ) سورة سبا سے۔- 3 ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ ایسا مبارک کلمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ …

Al-Faatiha 1:2Listen in Qur'an →
3

ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

بڑا مہربان نہایت رحم والا

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. یہ دوسری اور تیسری صفت ہے۔ جب سارے جہانوں کی ربوبیت کا ذکر ہوا تو ساتھ ہی اللہ کی بیحد و حساب رحمت کا ذکر ہوا، کیونکہ رحمت کے بغیر ربوبیت ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ دونوں رحم میں سے مبالغے کے صیغے ہیں۔ معنی دونوں کا بہت زیادہ رحم والا ہے، مگر اس پر اتفاق ہے کہ ” الرَّحْمٰنِ “ میں مبالغہ زیادہ ہے، کیونکہ اس کے حروف ” الرَّحِيْمِ “ سے زیادہ ہیں (اور حروف کی زیادتی سے معنی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے) اور اس لیے بھی کہ لفظ ” اللہ “ کی طرح ” رحمان “ بھی صرف باری تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے، جب کہ ” رحیم “ بعض اوقات مخلوق پر بھی آجاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا : (بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيم) [ التوبۃ : ١٢٨ ] ” مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہاں رحم میں مبالغے کا اظہار کرنے کے لیے دو لفظ کیوں ذکر فرمائے ؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ تاکید کے لیے ہے، مگر اکثر علماء ایک مادے (رحم) سے مشتق ہونے کے باوجود ان دونوں کے درمیان فرق مانتے ہیں۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ ” الرَّحْمٰنِ “ کا معنی بڑی بڑی نعمتیں عطا کرنے والا اور ” الرَّحِيْمِ “ کا معنی دقیق اور باریک نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت سب کے لیے عام ہے، مسلم ہوں یا کافر، جب کہ رحیم وہ ہے جو خاص طور پر مومنوں کو رحمت سے نوازنے والا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ رحمٰن وہ ہے جس کی رحمت دنیا میں مسلم و کافر سب کے لیے اور آخرت میں صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور رحیم وہ جو آخرت میں خاص مسلمانوں پر رحم کرنے والا ہے۔ مگر ان تینوں اقوال کی پختہ دلیل، جس پر اعتراض نہ ہو، مجھے معلوم نہیں ہوسکی۔ مفسر قاسمی نے شیخ محمد عبدہ مصری (رض) سے ایک مدلل و مضبوط فرق نقل کیا ہے، میں اسے تھوڑی سی وضاحت اور اضافے سے نقل کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ رحمٰن ” فَعْلَانُ “ کے وزن پر ہے، جو معنی کی کثرت پر دلالت کرتا ہے، مثلاً ” عَطْشَانُ “ بہت زیادہ پیاسا، ” غَرْثَانُ “ بہت زیادہ بھوکا اور ” غَضْبَانُ “ غصے سے بھرا ہوا۔ اس وزن میں معنی کی کثرت تو ہوتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے، بلکہ وہ ختم بھی ہوسکتی ہے، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) طور سے لوٹے تو ” غَضْبَانُ “ (غصے سے بھرے ہوئے) تھے، مگر ہارون (علیہ السلام) کا عذر سن کر غصہ ختم ہوگیا، بلکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ گویا رحمٰن کا معنی وہ ذات ہے جس میں بہت ہی زیادہ رحمت ہے، جو بیحد و بےحساب ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اس کتاب میں لکھ دیا جو اس کے پاس عرش پر ہے کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ “ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : ( ویحذرکم اللہ نفسہ ) : ٧٤٠٤، عن أبی ہریرہ (رض) ] ” فَعِیْلٌ“ کا وزن کسی چیز میں مفہوم کے لزوم، دوام اور ہمیشگی کے لیے آتا ہے، وہ صفت اس سے جدا نہیں ہوسکتی، مثلاً علیم، حلیم، عظیم، خبیر، بصیر، سمیع، رؤف اور رحیم۔ یعنی وہ ذات جس کی رحمت دائمی ہے، کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ دونوں صفتوں کے ملنے سے صفت رحمت کی وسعت بھی ثابت ہوئی اور اس کا دوام بھی۔ اگر اس کی رحمت میں وسعت و کثرت نہ ہو تو بعض مخلوق محروم رہ جائے اور اگر اس میں دوام نہ ہو تو کوئی چیز نہ پایۂ تکمیل تک پہنچے، نہ باقی رہ سکے۔- 3 قرآن مجید میں ثنائے الٰہی پر مشتمل تمام آیات ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کی تفصیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان نماز کی تقسیم والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرے بندے نے میری ثنا کی۔ “ [ مسلم، الصلوۃ، وجوب قراء ۃ الفاتحۃ ۔۔ : ٣٩٥ ]

Al-Faatiha 1:3Listen in Qur'an →
4

مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ

انصاف کے دن کا حاکم

مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ” الدِّيْنِ “ ” دَانَ یَدِیْنُ “ کا مصدر ہے، بدلہ دینا، جزا دینا۔ رحمن و رحیم کے بعد جزا کے دن کا مالک ہونے کی صفت بیان فرمائی۔ ایک قراءت (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) ہے یعنی روز جزا کا مالک اور دوسری ” مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ “ ہے، یعنی روز جزا کا بادشاہ۔ قرآن مجید کے رسم الخط میں ” مٰلِكِ “ لکھا ہے، اسے ” مَالِکِ “ اور ” مَلِکِ “ دونوں طرح پڑھا جاسکتا ہے اور دونوں قراءتیں متواتر طور پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک بھی ہے اور بادشاہ بھی۔ ” الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ کے ساتھ قیامت کے دن کے مالک اور بادشاہ ہونے کی مناسبت یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی بہت رحم کرنے والا ہوتا ہے مگر اس کی ملکیت میں کچھ نہیں ہوتا، اس لیے وہ چاہتے ہوئے بھی رحم نہیں کرسکتا، پھر کوئی شخص بہت سی ملکیت کا مالک ہوتا ہے مگر اس کا بادشاہ کوئی اور ہوتا ہے، وہ مالک ہوتے ہوئے بھی پورا اختیار نہیں رکھتا۔ ” يَوْمِ الدِّيْنِ “ کے معنی یوم جزا کے ہیں۔ اس دنیا میں بھی مکافات یعنی اعمال کی جزا کا سلسلہ جاری رہتا ہے، مگر اس جزا کا مکمل ظہور چونکہ قیامت کے دن ہوگا اس لیے قیامت کے دن کو خاص طور پر ” يَوْمِ الدِّيْنِ “ (بدلے کا دن) کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس دن کے ” مَالِک “ اور ” مَلِک “ (بادشاہ) ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس روز ظاہری طور پر بھی مالکیت اور ملوکیت کا یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا، فرمایا : (يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا ۭ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ) [ الانفطار : ١٩ ] ” جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کی مالک نہیں ہوگی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہوگا۔ “ اور فرمایا : (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) [ المؤمن : ١٦ ] ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، دبدبے والا ہے۔ “ اس دن مالک بھی اللہ تعالیٰ ہوگا، بادشاہ بھی وہی ہوگا، صرف اسی کا حکم چلے گا۔ صفت رحمت اور بدلے کے دن کی ملکیت میں مناسبت اس حدیث سے واضح ہوتی ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں، جن میں سے اس نے ایک رحمت جن و انس، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانویں رحمتیں مؤخر کر رکھی ہیں، جن کے ساتھ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ “ [ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی۔۔ : ١٩؍٢٧٥٢۔ بخاری :- ٦٠٠٠، عن أبی ہریرہ (رض) ]- 3 تقسیم صلاۃ والی حدیث قدسی کے مطابق بندہ جب (مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ) کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ( مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ ) ” میرے بندے نے میری تمجید (بزرگی بیان) کی۔ “ ایک روایت کے مطابق فرماتا ہے : ( فَوَّضَ اِلَیَّ عَبْدِیْ )” میرے بندے نے اپنا سب کچھ میرے سپرد کردیا۔ “ [ مسلم، الصلوۃ، باب وجوب قراءۃ الفاتحۃ ۔۔ : ٣٩٥ ] قرآن مجید میں تمجید الٰہی اور تفویض و توکل پر مشتمل تمام آیات ” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “ کی تفصیل ہیں۔

Al-Faatiha 1:4Listen in Qur'an →
5

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

اِيَّاكَ نَعْبُدُ : سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمد غائب کے صیغے کے ساتھ کی گئی ہے، ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ اور اس کے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرلیا گیا ہے، اسے التفات کہتے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اسے اس کا قرب اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوجاتا ہے، اب وہ براہ راست خطاب کے صیغے سے اپنی درخواست پیش کرتا ہے۔ - 2 عربی زبان میں جملہ فعلیہ کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے فعل، پھر فاعل اور اس کے بعد مفعول ہوتا ہے۔ اگر بعد والے لفظ کو پہلے لایا جائے تو اس سے کلام میں تخصیص یا حصر پیدا ہوجاتا ہے۔ ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ اصل میں ” نَعْبُدُکَ “ (ہم تیری عبادت کرتے ہیں) تھا۔ مفعول ” کاف ضمیر “ کو ” نَعْبُدُ “ سے پہلے لایا گیا تو ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ ہوگیا، جس سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی ہم تیری عبادت کرتے ہیں، کسی اور کی نہیں کرتے۔ اس مفہوم کو ” ہم صرف تیری عبادت “ یا ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں “ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ بعینہ ” لا الٰہ الا اللہ “ کا مفہوم ہے، یعنی عبادت کے لائق اللہ تعالیٰ ہی ہے، دوسرا کوئی نہیں۔- 3 عبادت کا معنی کسی کو غیبی طاقتوں کا مالک سمجھ کر اس سے انتہائی درجے کی محبت کے ساتھ اس کے سامنے انتہائی درجے کی عاجزی، ذلت اور خوف ہے۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اسلام نے بندوں کو ایسی ہر غلامی سے آزادی دلا کر صرف ایک ذات پاک کا بندہ اور عبد بنادیا جو انھیں پیدا کرنے والی اور ان کی پرورش کرنے والی ہے۔ عبادت صرف اس کی ہے، اس کے ساتھ کسی کو نہ شریک کرنا جائز ہے نہ اس کی محبت جیسی محبت یا اس کے خوف جیسا خوف کسی سے جائز ہے۔ افسوس کہ بعض مسلمان اللہ کے گھر میں داخل ہوتے یا نکلتے وقت اتنے خوف زدہ اور لرزہ براندام نہیں ہوتے جتنے وہ کسی قبر پر یا کسی پیر کے پاس جاتے یا واپس آتے وقت ہوتے ہیں۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ کے عہد و اقرار کے بعد کسی دوسرے کی بندگی اللہ تعالیٰ سے سب سے بڑی غداری ہے، جسے وہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔ دیکھیے سورة نساء (١١٦) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تین جگہ فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدر اس طرح نہیں کی جیسے اس کی قدر کا حق ہے۔ دیکھیے سورة انعام (٩١) ، حج ( ٧٤) اور زمر (٦٧) ۔- وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ” نَسْتَعِيْنُ “ ” عَوْنٌ“ میں سے باب استفعال فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے، جو اصل میں ” نَسْتَعْوِنُ “ تھا۔ اس میں بھی ” اِيَّاكَ “ پہلے آنے کی وجہ سے حصر ہے، یعنی ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، کسی دوسرے سے نہیں۔ یہاں سے بندے کی درخواست شروع ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق قبول ہوچکی۔ - 3 ” اِيَّاكَ نَعْبُدُ “ کو پہلے اور ” وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ کو بعد میں ذکر کرکے دعا کا سلیقہ سکھایا گیا ہے کہ درخواست سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا اور تمجید کے بعد اپنی بندگی اور اپنے تعلق کا حوالہ پیش کرو، یعنی اپنے عمل کے وسیلے سے درخواست کرو۔ یہ وسیلہ حق ہے، جیسا کہ فرمایا : (رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّاڰ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ) [ آل عمران : ١٩٣ ] ” اے ہمارے رب بیشک ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا، جو ایمان کے لیے آواز دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب پس ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ فوت کر۔ “ صحیح بخاری (٣٤٦٥) میں غار میں پھنسنے والے تین آدمیوں کا قصہ بھی اس کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص سے کیے ہوئے اعمال کے وسیلے سے دعا قبول ہوتی ہے۔ البتہ کسی شخص کا نام لے کر اس کی ذات یا اس کی حرمت وغیرہ کے وسیلے …

Al-Faatiha 1:5Listen in Qur'an →
6

ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ

ہم کو سیدھے رستے چلا

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ہدایت کا ایک معنی نرمی اور مہربانی کے ساتھ راستہ بتانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : (وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ) [ الشوریٰ : ٥٢ ] ” اور بیشک تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ “ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور دوسرے لوگ سبھی کرسکتے ہیں۔ ہدایت کا دوسرا معنی راستے پر چلنے کی توفیق دینا ہے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ) [ القصص : ٥٦ ] ” بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ “ ” الصِّرَاطَ “ اس کا اصل ” سِرَاطٌ“ ہے، جو ” سَرَطَ یَسْرُطُ سَرَطًا، سَرَطَانًا (ن، ع ) “ سے مشتق ہے، سین کو صاد سے بدل دیا گیا، اس کا معنی نگلنا ہے۔ ” سِرَاطٌ“ کا معنی واضح راستہ ہے، کیونکہ اس پر چلنے والا اس طرح غائب ہوجاتا ہے جیسے نگلا ہوا کھانا غائب ہوجاتا ہے۔ (القاموس) ” الْمُسْتَـقِيْمَ “ ” قَامَ یَقُوْمُ “ میں سے باب استفعال سے اسم فاعل ہے، جو اصل میں ” مُسْتَقْوِمٌ“ ہے، معنی اس کا وہی ہے جو ” قَامَ یَقُوْمُ “ کا ہے۔ حروف کی زیادتی سے معنی میں تاکید پیدا ہوگئی، بالکل سیدھا راستہ۔ - پچھلی آیت میں ” اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “ سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ کیا مدد چاہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب یہ سکھایا کہ کہو پروردگار ہمیں زندگی کے ہر لمحے میں اور اپنے ہر کام میں تیری ہدایت کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر تو نہ بتائے تو ہم ظلوم و جہول کسی چیز کے متعلق جان ہی نہیں سکتے کہ اس میں صحیح راستہ کیا ہے۔ اگر جان بھی لیں تو اپنے نفس کی کمزوریوں، شہوت، غضب، حسد، طمع، بخل اور کبر وغیرہ کی وجہ سے اور شیطان اور دوسرے دشمنوں کی وجہ سے اس صحیح راستے پر چلنا اور قائم رہنا تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ہماری درخواست ہے کہ ہر کام اور ہر لمحے میں ہمیں سیدھے راستے کو جاننے کی اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔- بعض لوگ یہاں ایک سوال ذکر کرتے ہیں کہ جب ہم پہلے ہی ہدایت پر ہیں تو پھر ہدایت کی درخواست کا کیا مطلب ؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ ہمیں ہدایت پر قائم رکھ۔ یہ مطلب بھی درست ہے، مگر آپ خود سوچ لیں کہ انسان کو ہر لمحے کسی نہ کسی کام کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مجھے اس میں کیا کرنا ہے، تھوڑی سی لغزش اسے بہت دور پہنچا سکتی ہے، اس لیے یہ کہنا کہ ہم ہر وقت اور ہر کام میں ہدایت پر ہیں، بہت بڑی دلیری کی بات ہے۔ اس لیے یہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر ہم کسی بھی قدم پر گمراہی کا شکار ہوسکتے ہیں، ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے رہنا لازم ہے۔- الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ : سے مراد دین اسلام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تک اور جنت تک پہنچانے والا یہی واضح، صاف اور سیدھا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی صراحت فرمائی : (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ. قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٦٢؀ۙلَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْن)[ الأنعام : ١٦١ تا ١٦٣ ] ” کہہ دے بیشک مجھے تو میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کردی ہے جو مضبوط دین ہے، ابراہیم کی ملت، جو ایک ہی طرف کا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔ کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا …

Al-Faatiha 1:6Listen in Qur'an →
7

صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ

ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے

(صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ) یعنی جن لوگوں پر تو نے دوسرے بیشمار انعامات کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق کا خاص انعام کیا، ان سے مراد چار قسم کے لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے، فرمایا : (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ ) [ النساء : ٦٩ ] ” اور جو کوئی اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے۔ “ قرآن مجید میں مذکور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے تمام واقعات اس مختصر جملے کی تفصیل ہیں۔ - (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ ) قرآن مجید میں ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ یہود کو کہا گیا ہے، چناچہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : ( وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ ۤ وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ) [ البقرۃ : ٦١ ] ” اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کردی گئی اور وہ اللہ کی طرف سے بھاری غضب لے کر لوٹے۔ “ اور فرمایا : (فَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍ ) [ البقرۃ : ٩٠ ] ” پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے۔ “ اور فرمایا : (قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۭ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَـنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ ) [ المائدۃ : ٦٠ ] ” کہہ دے کیا میں تمہیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتاؤں ؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر وہ غصے ہوا اور جن میں سے اس نے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں سب سے برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ “- اور ” الضَّاۗلِّيْنَ “ نصاریٰ کو کہا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ ) [ المائدۃ : ٧٧ ] ” اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہوچکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ “ اس آیت سے پہلے مسلسل نصاریٰ کا ذکر آ رہا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ اور ” الضَّاۗلِّيْنَ “ کی یہی تفسیر فرمائی۔ چناچہ عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَلْیَھُوْدُ مَغْضُوْبٌ عَلَیْھِمْ وَ النَّصَارٰی ضُلَّالٌ ) ” یہود ” مَغْضُوْبٌ عَلَیْھِمْ “ ہیں اور نصاریٰ گمراہ ہیں۔ “ - [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة فاتحۃ الکتاب : ٢٩٥٤، و صححہ الألبانی ]- 3 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تفسیر سے ثابت ہوگیا کہ ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ یہود ہیں اور ” الضَّاۗلِّيْنَ “ نصاریٰ ، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن میں وہ عادات و خصائل پائے جاتے ہیں جو یہود کے ” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “ بننے کا باعث ٹھہرے، یا جن کی وجہ سے نصاریٰ ” الضَّاۗلِّيْنَ “ (گمراہ) ٹھہرے۔ مثلاً یہود پر غضب نازل ہونے کے اسباب جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائے ہیں اختصار کے ساتھ یہ ہیں، اللہ کی کتاب میں تحریف، اللہ کی آیات کو چھپانا، اللہ کی حدود مثلاً رجم اور ہاتھ کاٹنے کو معطل کرنا، اللہ پر جھوٹ باندھنا، اپنے پاس سے مسائل بیان کرکے انھیں اللہ کا حکم قرار دینا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حسد کی وجہ سے ایمان نہ لانا اور باہمی ضد کی وجہ سے بہتر (٧٢) فرقوں میں بٹ جانا۔- شاہ ولی اللہ (رض) لکھتے ہیں : ” وَ …

Al-Faatiha 1:7Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.