بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
صحیح احادیث میں اس کا نام ” فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ ، اَلصَّلَاۃُ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، سُوْرَۃُ الْحَمْدِ ، اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ ، اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ ، اُمُّ الْقُرْآنِ “ اور ” اُمُّ الْکِتَابِ “ آیا ہے، جیسا کہ فاتحہ کے فضائل کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسماء کی کثرت سورت کے معانی و مطالب کی کثرت کی دلیل ہے۔- سورۂ فاتحہ کے فضائل : 1 ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے اوپر زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو سر اٹھایا اور فرمایا : ” یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ تو اس سے ایک فرشتہ اترا، پھر فرمایا : ” یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ “ اس فرشتے نے سلام کہا اور کہا : ” آپ کو دو نوروں کی خوش خبری ہو، جو آپ کو دیے گئے ہیں، آپ سے پہلے وہ کسی نبی کو عطا نہیں ہوئے، فاتحۃ الکتاب اور سورة بقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے وہ چیز آپ کو ضرور عطا کردی جائے گی۔ “ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ۔۔ ٨٠٦ ]- 2 ابوسعید بن معلی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے، میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے مجھے بلایا، میں نہ آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھی، پھر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارے آنے میں کیا رکاوٹ بنی ؟ “ میں نے عرض کیا : ” میں نماز پڑھ رہا تھا۔ “ فرمایا : ” کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو۔ “ پھر فرمایا : ” کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟ “ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا تو آپ نے فرمایا : ” الحمد للہ رب العالمین ہی ” سبع مثانی “ ہے، (یعنی وہ سات آیتیں ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں) اور یہی القرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : ( ولقد آتیناک سبعا۔۔ ) : ٤٧٠٣ ]- 3 ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اپنے ایک سفر میں تھے، راستے میں اترے تو ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی : ” قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے لوگ غائب ہیں تو کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ “ چناچہ اس کے ساتھ ایک آدمی گیا جس کے متعلق ہمیں دم کرنے کا گمان نہیں تھا، اس نے اسے دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا۔ سردار نے اسے تیس بکریاں دینے کو کہا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس سے پوچھا : ” کیا تم اچھی طرح دم کرلیا کرتے تھے ؟ “ اس نے کہا : ” نہیں، میں نے صرف ام الکتاب کے ساتھ دم کیا ہے۔ “ ہم نے کہا : ” جب تک ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ پہنچیں کچھ نہ کرو۔ “ جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اسے کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے ؟ (بکریاں) تقسیم کرلو اور میرا حصہ بھی رکھو۔ “ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل فاتحۃ الکتاب : ٥٠٠٧ ] بخاری کی ایک روایت (٥٧٣٦) میں ہے کہ ان لوگوں نے ابوسعید (رض) اور ان کے ساتھیوں کی مہمان نوازی سے انکار کردیا تھا، جب انھوں نے دم کی درخواست کی تو صحابہ (رض) نے یہ کہہ کر کہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی تیس بکریوں کی شرط طے کی تھی۔ مسلم (٢٢٠١) میں ہے کہ یہ دم کرنے والے ابوسعید خدری (رض) ہی تھے۔ - 4 خارجہ بن صلت کے چچا (علاقہ بن صحار تمیمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہو کر اسلام لے آئے، پھر واپس گئے تو ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے پاس ایک پاگل آدمی لوہے کی …