Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 61–70 of 111

61

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ قَالَ ءَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًۭا

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے

Explained together with ayah 60

Al-Israa 17:61Listen in Qur'an →
62

قَالَ أَرَءَيْتَكَ هَٰذَا ٱلَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلًۭا

(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا

Explained together with ayah 60

Al-Israa 17:62Listen in Qur'an →
63

قَالَ ٱذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءًۭ مَّوْفُورًۭا

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) پوری سزا (ہے)

Explained together with ayah 60

Al-Israa 17:63Listen in Qur'an →
64

وَٱسْتَفْزِزْ مَنِ ٱسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَوْلَٰدِ وَعِدْهُمْ ۚ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے

شیطان کے وار سب پر کارگر نہیں ہوتے - قول باری ہے (واستفززمن استطعت منھم بصوتک اور تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھیلا سکتا ہے پھسلا لے) جسے یہ بات کہی جا رہی ہے یعنی شیطان کو یہ دھمکی ہے اور اسے خربدار کیا جا رہا ہے کہ اس کی کارستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے نیز یہ کہ وہ اس کی سزا ضرور پا کر رہ یگا اور اس سے ضرور اس کا اتنقا ملیا جائے گا۔ اس کی مثال کا یہ قول ہے ۔ ” تم اپنا پورا زور لگا لو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا کیا بنتا ہے۔ “ استفزز کے معنی استزل ، کے ہیں یعنی پھسلا دے۔ محاورہ میں استفزہ اور استنزلہ ہم معنی فعل ہیں۔- قول باری (بصوتک) کی تفسیر میں مجاہد سے مروی ہے کہ یہ غناء اور لہو یعنی گانا بجانا ہے۔ ان دونوں باتوں کی ممانعت ہے اور ان کا تعلق شیطان کی آواز سے ہے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ وہ آواز ہے جس کے ذریعے شیطان لوگوں کو معصیت کی طرف بلاتا ہے۔ ہر وہ آواز جس کے ذریعے فساد کی دعوت دی جائے شیطانی آواز ہوتی ہے۔- قول باری ہے (واحلب علیھم اور ان پر چڑھالا) اجلاب ہانکنے کو کہتے ہیں جس میں ہانکنے والے کا شور و غل شامل ہوتا ہے۔ جلبہ زبردست شور و غل کو کہتے ہیں۔- قول باری ہے (بخیلک و رجلک اپنے سوار اور پیادے) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جن و انس میں سے اللہ کی معصیت کی طرف جانے والا ہر سوار اور پیادہ شیطان کا سوار اور پیادہ ہتا ہے۔ رجل راجل کی جمع ہے جس طرح تجرتا جد کی اور رکب راکب کی جمع ہے۔- قول باری ہے (وشارکھم فی الاموال و الاولاد اور مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ” ان چیزوں میں تو ان کا شریک بن جا، ان میں سے کچھ وہ چیزیں ہیں جن کی لوگوں کو طلب ان کی اپنی نفسانی خواہشات کی بنا پر ہوگی اور کچھ چیزوں کو وہ تیرے اکسانے کی بنا پر طلب کریں گے۔ “ مجاہد اور ضحاک کا قول ہے۔ ” اولاد میں ان کے ساتھ سا جھا لگا ، یعنی اولاد زنا “ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مئو و وہ یعنی زندہ درگور کی جانے والی لڑکی مراد ہے۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو یہودی اور نصرانی ہوگئے تھے۔ حضرت ابن عباس سے ایک روایت کے مطابق اس سے لوگوں کا عبدالحارث اور عبدشمس نام رکھنا مراد ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں جب ان تمام وجوہ کا احتمال ہے تو اسے ان تمام وجوہ پر محمو لکیا جائے اور یہ تمام معانی مراد ہوں گے۔ اس لئے کہ یہ تمام چیزیں وہ ہیں جن میں شیطان لوگوں کو اکسا کر اور ان کی دعوت دے کر اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

Al-Israa 17:64Listen in Qur'an →
65

إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌۭ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًۭا

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے

Explained together with ayah 64

Al-Israa 17:65Listen in Qur'an →
66

رَّبُّكُمُ ٱلَّذِى يُزْجِى لَكُمُ ٱلْفُلْكَ فِى ٱلْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بےشک وہ تم پر مہربان ہے

Explained together with ayah 64

Al-Israa 17:66Listen in Qur'an →
67

وَإِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فِى ٱلْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّآ إِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا نَجَّىٰكُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ كَفُورًا

اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا

Explained together with ayah 64

Al-Israa 17:67Listen in Qur'an →
68

أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ ٱلْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًۭا ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمْ وَكِيلًا

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ

Explained together with ayah 64

Al-Israa 17:68Listen in Qur'an →
69

أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًۭا مِّنَ ٱلرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِۦ تَبِيعًۭا

یا (اس سے) بےخوف ہو کر تم دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا نہ پاؤ

Explained together with ayah 64

Al-Israa 17:69Listen in Qur'an →
70

۞ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىٓ ءَادَمَ وَحَمَلْنَٰهُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ وَرَزَقْنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلْنَٰهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍۢ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًۭا

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی

اولاد آدم کی تکریم - قول باری ہے (ولقد کرمنا بنی ادم اور ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی) جنس بنی آدم پر اس کا اطلاق کیا گیا حالانکہ اس جنس میں ذلیل کافر بھی داخل ہے۔ اس کی دو توجیہیں ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعلایٰ نے بنی آدم پر انعام کر کے انہیں بزرگی عطا کی اور ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جو انعام و اکرا م سے نوازے جانے والے انسان کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کے ذریعے اکرام کی صفت میں مبالغہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری توجیہہ یہ ہے کہ بنی آدم میں بزرگی کی اس صفت سے متصف لوگوں کی موجودگی کی بنا پر پوری جماعت پر اس کا اطلاق کردیا گیا۔ جس طرح یہ قول باری ہے (کنتم خیر امۃ اخرجت للناس اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے) جب مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو اس صفت سے متصف قرار دیئے گئے تھے تو ان کی پوری جماعت پر اس کا اطلاق کردیا گیا ۔

Al-Israa 17:70Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.