Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 101–110 of 111

101

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ ءَايَٰتٍۭ بَيِّنَٰتٍۢ ۖ فَسْـَٔلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهُۥ فِرْعَوْنُ إِنِّى لَأَظُنُّكَ يَٰمُوسَىٰ مَسْحُورًۭا

اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے

Explained together with ayah 88

Al-Israa 17:101Listen in Qur'an →
102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّى لَأَظُنُّكَ يَٰفِرْعَوْنُ مَثْبُورًۭا

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے

Explained together with ayah 88

Al-Israa 17:102Listen in Qur'an →
103

فَأَرَادَ أَن يَسْتَفِزَّهُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ فَأَغْرَقْنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ جَمِيعًۭا

تو اس نے چاہا کہ ان کو سر زمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا

Explained together with ayah 88

Al-Israa 17:103Listen in Qur'an →
104

وَقُلْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ لِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱسْكُنُوا۟ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْءَاخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًۭا

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے

Explained together with ayah 88

Al-Israa 17:104Listen in Qur'an →
105

وَبِٱلْحَقِّ أَنزَلْنَٰهُ وَبِٱلْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرًۭا وَنَذِيرًۭا

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے

Explained together with ayah 88

Al-Israa 17:105Listen in Qur'an →
106

وَقُرْءَانًۭا فَرَقْنَٰهُ لِتَقْرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍۢ وَنَزَّلْنَٰهُ تَنزِيلًۭا

اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اُتارا ہے

قرآن تدریجاً نازل ہوا - قول باری ہے (وقراناً فوقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر ک را سے لوگوں کو سنائو) قول باری (فرقناہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے حق کو باطل سے الگ بیان کر کے اسے جدا جدا کر رکھا ہے۔ قول باری (لتقراہ علی الناس علی مکث ) کا مفہوم ہے کہ آپ ٹھہر ٹھہر کر اور توقف کے ساتھ لوگوں کو اسے سنائیں تاکہ لوگ اسے اچھی طرح سمجھ لیں اور انہیں ان کے معانی پر غور و فکر کا موقع مل جائے نیز وہ اس قابل ہوجائیں کہ اپنی سمجھ سے کام لے کر اس میں موجود حکمت کی باتوں اور علوم عالیہ کا استخراج کرسکیں۔ ایک قول کے مطابق قرآن ک کچھ حصہ نازل ہوجاتا۔ جب صحابہ کرام کو اس پر پورا عبور ہوجاتا تو پھر کوئی اور حصہ نازل ہوتا ۔ یہی اس قول باری کا بھی مفہوم ہے (ورتل القرآن ترتیلاً ) اور قرآن ٹھہر ٹھہر کر عمدہ طریقے سے پڑھو) سفیان نے عبید الملکتب سے روایت کی ہے کہ مجاہد نے کسی سے پوچھا کہ دو شخصوں میں سے ایک نے نماز میں سوئرہ بقرہ اور سورة آل عمران کی تلاوت کی جبکہ دوسرے نے صرف سورة بقرہ کی قرأت کی ۔ دونوں کی نماز، رکوع، سجود اور قعود کے لحاظ سے یکساں تھی۔ ان میں سے کونسا شخص افضل ہے، مجاہد نے جواب میں فرمایا کہ جس نے صرف سورة بقرہ کی قرأت کی تھی۔ پھر انہوں نے اپنے قول کی تائید میں یہ آیت تلاوت کی (وقراناً فرقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث)- قرآن ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ کر پڑھنا چاہیے - معاویہ بن قرہ نے حضرت عبید اللہ بن مغفل سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا : میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر سوار دیکھا تھا اس وقت آپ سورة فتح یا سورة فتح کی آیتیں تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ کی تلاوت بڑی واضح اور صاف تھی۔ حماد بن سلمہ نے ابوحمزہ الضبعی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے فرمایا :” میں اگر ترتیل کے ساتھ اور سوچ سمجھ کر قرآن کی تلاوت کروں تو یہ مجھے قرآن کی صرف تلاوت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ “ اعمش نے عمارہ سے، انہوں نے ابوالاحوص سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا : تین دنوں سے کم میں پورے قرآن کی تلاوت نہ کرو بلکہ پورا قرآن سات دنوں میں تلاوت کرو۔ “ اعمش نے ابراہیم نخعی سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی ہے کہ وہ سات دنوں میں قرآن مجید ختم کرلیتے تھے جبکہ اسود چھے دنوں میں اور علقمہ پانچ دنوں میں ختم کرلیتے تھے۔ حضرت عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ آپ نے ایک رات میں قرآن مجید ختم کرلیا تھا۔- نماز بھی سمجھ کر پڑھنی چاہیے - قاضی ابن ابی لیلیٰ نے صدقہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مسجد نبوی میں ایک کمرہ نما جگہ بنادی گئی اور آپ نے رمضان کے آخری عشرہ میں وہاں اعتکاف کیا۔ آپ اسی کمرہ نما جگہ میں نمازیں پڑھتے تھے۔ آپ نے باہر سر نکالا اور دیکھا کہ لوگ نماز میں مصروف ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نمازی نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے۔ اس لئے تم میں سے ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کس قسم کی سرگوشی کر رہا ہے۔ “ اس روایت میں یہ دلیل موجود ہے کہ تلاوت میں ترتیل مستحب ہے اس لئے کہ ترتیل کے ذریعے ہی پتہ چل سکے گا کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کیا سرگوشی کر رہا ہے اور جو کچھ پڑھے گا اسے خود بھی سمجھنے کے قابل ہوگا۔

Al-Israa 17:106Listen in Qur'an →
107

قُلْ ءَامِنُوا۟ بِهِۦٓ أَوْ لَا تُؤْمِنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهِۦٓ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًۭا

کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا ہے۔ جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ تھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں

چہرے کے بل سجدہ کرنا - قول باری ہے (ان الذین اوتوا العلم من قبلہ اذا یتلیٰ علیھم یخرون للاذقان سجداً جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ چہروں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔ معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ ” چہروں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔ “ معمر نے کہا حسن کا قول ہے ۔ جبڑے کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔ “ ابن سیرین سے ناک کے بل سجدے کے متعلق پوچھا گیا ، تو انہوں نے جواب میں درج بالا آیت تلاوت کردی۔- سجدہ سات اعضاء پر کرنا چاہیے، نماز میں بالوں کو اکٹھا کیا جائے نہ کپڑوں کو - طائوس نے حضرت ابن عباس سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (امرت ان اسجد علی سبعۃ اعظم ولا اکف شعراً ولا ثوباً مجھے سات ہڈیوں کے بل سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے نیز یہ کہ میں نہ بالوں کو سمیٹوں اور نہ کپڑے کو) طائوس نے مزید کہا کہ آپ نے پیشانی اور ناک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دونوں ایک ہڈی ہیں۔ عامر بن سعد نے حضرت عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ” جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے ساتھ اعضاء بھی سجدہ ریز ہوتے ہیں اس کا چہرہ ، اس کے دونوں کف دست ، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنی پیشانی اور ناک اچھی طرح زمین پر جما دو ۔ “- سجدہ میں ناک زمین پر لگنی چاہیے - حضرت وائل بن حجر نے روایت کرتے ہوئے فرمایا :” میں نے دیکھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب سجدہ کیا تو اپنی پیشانی اور اپنی ناک زمین پر رکھ دی۔ “ ابو سلمہ بن عبدالرحمٓن نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناک اور ناک کے بانسے پر سجدے کے نشان کے طور پر مٹی لگی ہوئی دیکھی تھی۔ اس رات بارش ہوئی تھی۔ عاصم احوال نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سجدے میں دیکھ کر فرمایا : اس وقت تک نماز قبول نہیں ہوگی جب تک زمین پر ناک اس طرح نہ لگے جس طرح پیشانی لگتی ہے۔ یہ تمام روایات اس پر دال ہیں کہ سجدہ کی جگہ پیشانی اور ناک دونوں ہیں۔- عبدالعزیز بن عبداللہ نے روایت کرتے ہوئے کہا : میں نے وہب بن کیسان سے پوچھا۔” ابونعیم، کیا بات ہے کہ آپ سجدہ کرتے وقت پیشانی اور ناک کو پوری طرح زمین پر نہیں جماتے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہا۔” اس لئے کہ میں نے حضرت جابر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیشانی کے بل سر کے بالوں کے منتہی کے ساتھ سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ابو الشعثاء نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ آپ نے سجدہ کرتے وقت اپنی ناک زمین پر نہیں رکھی تھی۔ آپ سے جب اسکی وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا : میری ناک میرے چہرے کا عمدہ اور خالص حصہ ہے اور میں اس حصے کو بدنما کرنا پسند نہیں کرتا۔ “ قاسم اور سالم سے مروی ہے کہ یہ دونوں اپنی پیشانیوں پر سجدہ کرتے تھے اور ان کی ناک زمین پر نہیں لگتی تھی۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جہاں تک حضرت جابر کی روایت کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی عذر کی بنا پر سر کے بالوں کے منتہی کے بل سجدہ کیا ہو اور اس عذر کی وجہ سے ناک کے بل سجدہ کرنا مشکل ہوگیا ہو جن حضرات نے وجوہ یعنی چہروں کی تاویل جبڑے سے کی ہے ان کی یہ تاویل اس پر دلالت کرتی ہے کہ پیشانی کی بجائے صرف ناک کے بل سجدے پر اکتفا کرنا جائز ہے اگرچہ مستحب یہ ہے کہ پیشانی اور ناک دونوں کے بل سجدہ کیا جائے۔ اس جواز کی وجہ یہ ہے کہ ایک بات واضح ہے کہ تاویل کرنے والے …

Al-Israa 17:107Listen in Qur'an →
108

وَيَقُولُونَ سُبْحَٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًۭا

اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہا

سجدے میں کیا پڑھا جائے - قول باری ہے (ویقولون سبحان ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولاً اور پکار اٹھتے ہیں ” پاک ہے ہمارا رب، اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔ “) سجدے میں یہ فقرہ کہنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ا ن کی تعریف کی جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ سجدے کی حالت میں مسنون ذکر تسبیح ہے۔ موسیٰ بن ایوب نے اپنے چچا سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کی ہے کہ جب آیت (فسبح باسم ربک العظیم اپنے رب عظیم کی تسبیح کر) نازل ہوئی تو حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں کہا کرو، جب آیت (سبح اسم ربک الاعلی۔ اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح کرو) تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اسے اپنے سجدے میں کہا کرو۔ “) ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے ، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور انہوں نے حضرت خذیفہ سے روایت کی ہے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ تینتین مرتبہ پڑھا کرتے تھے۔ قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن اشخیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع اور سجود میں سبوح قدوس رب الملائکۃ و الروح پڑھا کرتے تھے۔ ابن ابی ذئب نے اسحاق بن یزید سے، انہوں نے عون بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا صاذا رکع احد کم فلیقل فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلاثا فاذا فعل ذلک فقد تم رکوعہ جب تم میں سے کوئی رکوع میں جائے تو رکوع کے اندر تین دفعہ سبحان ربی العظیم پڑھے جب وہ یہ پڑھ لے گا اس کا رکوع مکمل ہوجائے گا) آپ نے سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ تین مرتبہ پڑھنے کا ذکر کیا۔- سجدہ میں قبولیت دعا - حضرت ابن عباس سے روایت ہے ، انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (اما الرکوع فعظموا فیہ الرب و اما السجود فاکثر وافیہ الدعاء فانہ اخق ان یستجاب الکم رکوع میں رب کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدے میں زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگو اس لئے کہ سجدے میں دعائیں قبولیت کی زیادہ لائق ہوتی ہیں) حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یہ دعا پڑھتے تھے (اللھم لک سجدت وبک امنت اے اللہ میں نے تیرے ہی لئے سجدہ کیا اور تجھ پر ہی ایمان لایا) اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایتیں ہیں۔ ممکن ہے کہ حضرت علی اور حضرت ابن عباس نے جن دعائوں کی روایت کی ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعائیں آیت (سبح اسم ربک الاعلی ) کے نزول سے قبل پڑھتے ہوں اور پھر جب یہ آیت نازل ہوئی ہو تو آپ نے سجدے میں اس ی پڑھنے کا حکم دے دیا ہو جیسا کہ حضرت عتبہ بن عامر کی روایت سے ظاہر ہے۔ ہمارے اصحاب ، سفیان ثوری اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ نمازی رکوع کے اندر تین دفعہ سبحان ربی العظیم اور سجدے کے اندر تین دفعہ سبحان ربی الاعلی کی تسبیح کرے گا۔ سفیان ثوری کا قول ہے کہ امام کے لئے مستحب ہے کہ رکوع اور سجدے میں پانچ پانچ مرتبہ یہ تسبیحات پڑھے تاکہ مقتدی آسانی سے تین تین مرتبہ یہ تسبیحات پڑھ لیں۔ ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ اگر نمازی کے لئے رکوع اور سجود میں تسبیحات پڑھنا ممکن ہول یکن وہ تسبیحات نہ پڑھے تو بھی اس کا رکوع اور سجدہ ادا ہوجائے گا۔ امام مالک تسبیحات کے لئے کوئی خاص تسبیح مقرر نہیں کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ لوگ رکوع اور سجدے کے اندر سبحان بری اعلظیم اور سبحان ربی الاعلی کی جو تسبیح کرتے ہیں اسے میں نہیں جانتا۔ اس طرح امام مالک نے ان تسبیحات کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی رکوع اور سجدے کے لئے کوئی خاص تسبیح مقرر کی ۔ رکوع اور سجدے کی کیفیت کے متعلق ان کا قول ہے کہ نمازی رکوع کے اندر اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھنٹوں پر پوری طرح جما دے گا اور سجدے میں اپنی پیشانی پوری طر …

Al-Israa 17:108Listen in Qur'an →
109

وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًۭا ۩

اور وہ تھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے

نماز کی حالت میں گریہ کا بیان - قول باری ہے (ویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوعاً اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گرجاتے ہیں اور اسے سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے) اسی طرح یہ قول باری ہے (خروا سجداً ویکیاً وہ روتے ہوئے سجدے میں گرپڑے) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ نماز کے اندر خشیت الٰہی کی بنا پر گریہ کرنے سے نماز منقطع نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکور لوگوں کی اس بنا پر تعریف فرمائی ہے کہ وہ سجدے میں جا کر روتے ہیں۔ اللہ نے سجدئہ صلوۃ سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کے درمیان اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا ہے۔- سفیان بن عینیہ نے روایت بیان کی ہے، انہیں اسماعیل بن محمد بن سعد نے، انہیں حضرت عبداللہ بن شداد نے، وہ کہتے ہیں کہ ایک متربہ میں نے باجماعت نماز ادا کی۔ میں آخری صف میں تھا ۔ حضرت عمر نماز پڑھا رہے تھے، مجھے حضرت عمر کی ہچکیوں کی آواز آئی۔ ایک دفعہ آپ نے صبح کی نماز میں سورة یوسف کی قرأت شروع کی جب آیت (انما اشکو ابنی وحزنی الی اللہ) پر پہنچے تو آپ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ آپ کی اقتدا میں صحابہ کرام نماز ادا کر رہے تھے لیکن کسی نے آپ کو اس پر نہیں ٹوکا۔ اس طرح اس مسئلے پر گویا صحابہ کرام کا اجماع ہوگیا۔ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مروی ہے کہ آپ نماز پڑھتے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ایسی آواز نکلتی جیسی چولہے پر رکھی ہوئی دیگ سے۔ قول باری صویزیدھم خشوعاً ) س ے مراد یہ ہے کہ نماز کے اندر یہ جس قدر خشوع کرتے ہیں سجدے میں جا کر گریہ کرنے کی وجہ سے ان کے اس خشوع میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں میں موجود خوف خدا پر دلالت کرتی ہے۔ یہی خوف انہیں گریہ و زاری کی منزل تک پہنچا دیتا ہے اور اللہ کی اطاعت کا سبب بن جاتا ہے نیز اسی خوف خدا کی بن اپر ا ن کے اندر عبادت میں اس طرح کا اخلاص پیدا ہو جات ا ہے جیسا اخلاص اللہ تعالیٰ ٰکی دی ہوئی نعمتوں کا کما حقہ، شکر بجا لانے کے سلسلے میں عبادت کے اندر ہونا چاہیے۔

Al-Israa 17:109Listen in Qur'an →
110

قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدْعُوا۟ ٱلرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّۭا مَّا تَدْعُوا۟ فَلَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَٱبْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًۭا

کہہ دو کہ تم (خدا کو) الله (کے نام سے) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب اچھے نام ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو

نماز میں اونچی آواز سے قرأت کرنا اور دعا مانگا - قول باری ہے (ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سجیلاً اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو) حضرت ابن عباس سے ایک روایت کے مطابق، نیز حضرت عائشہ مجاہد اور عطار سے مروی ہے کہ بہت زیادہ بلند آواز سے دعائیں نہ مانگو اور نہ ہی بہت آواز سے۔ “ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اونچی آواز سے قرأت کرتے تو مشرکین آپ کو تنگ کرتے لیکن جب پست آواز سے قرأت کرتے تو مقتدیوں کو آواز سنائی نہ دیتی۔ یہ صورت حال مکہ میں تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت نازل فرمائی اور اس سے نماز کے اند رقرأت مراد لی حسن بصری نے آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :” اتنی بلند آواز سے نماز نہ پڑھیں کہ یہ آواز ان لوگوں کے کانوں میں پہنچ جائے جو آپ کو ستانے پر تلے ہوئے ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ دھیمی آواز سے نہ پڑھیں۔ “ گویا حسن بصری کے نزدیک ایک حالت میں ترک جہر مراد ہے اور دوسری حالت میں آواز پست نہ رکھنا مراد ہے۔- ایک تفسیر کے مطابق ” تمام نمازوں میں نہ آواز بلند رکھیں اور نہ پست بلکہ ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کریں وہ اس طرح کہ رات کی نماز بلند آواز سے پڑھیں اور دن کی نماز پشت آواز سے جیسا کہ ہم نے تمہیں حکم دیا ہے۔ “ عبادہ بن تسی سے مروی ہے، انہیں عفیف بن الحارث نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ آیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلند آواز سے قرآن کی قرأت کرتے تھے یا پست آواز سے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ بعض دفعہ آپ بلند آواز سے قرأت کرتے اور بعض دفعہ پست آواز سے۔ ابو خالد الوالبی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب وہ رتا کو اٹھ کر نماز پڑھتے تو کبھی بلند آوا ز سے قرأت کرتے اور کبھی پست آواز سے اور فرماتے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت بھی اسی طرح ہوتی تھی۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو آخر رمضان میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس موقعہ پر آپ نے فرمایا :” نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب سے مناجات یعنی سرگوشی کرتا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کیا سرگوشی کر رہا ہے۔ اس لئے تم ایک دوسرے سے قرأت کی آواز کو بلند نہ کرو۔ “ ابو اسحاق نے حارث سے روایت کی ہے اور انہوں نے حضرت علی سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا تھا کہ کوئی شخص عشاء کی نماز سے پہلے یا اس کے بعد بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کر کے اپنے ساتھیوں کی نماز کو غلط کرنے کا سبب بن جائے۔ رتا کے وقت ادا کی جانے والی نماز میں بلند آواز سے قرأت کے سلسلے میں کئی روایات منقول ہیں۔ کریب نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرے کے اندر قرأت کرتے اور آپ کی آواز حجرے سے باہر تک سنائی دیتی تھی۔ ابراہیم نخعی نے علقمہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے ایک رتا حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے بلند آواز سے قرات کی جس کی آواز پورے گھر والوں کو پہنچ رہی تھی۔- ایک روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) جب نماز پڑھتے تو اپنی آواز پست رکھتے اور حضرت عمر (رض) جب نماز پڑھتے تو آواز بلند رکھتے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے پوچھا کہ تم اپنی آواز پست کیوں رکھتے ہو تو انہوں نے عرض کیا :” میں اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہوں حالانکہ اسے میری حاجت کا علم ہے۔ “ یہ سن کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” مبہت خوب “ پھر آپ نے یہی سوال حضرت عمر (رض) سے کہا کہ تم اونچی آواز سے کیوں پڑھتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں عرض کیا : میں اس کے ذریعے اونگھنے والے کو جگاتا اور …

Al-Israa 17:110Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.