Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 81–90 of 111

81

وَقُلْ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَزَهَقَ ٱلْبَٰطِلُ ۚ إِنَّ ٱلْبَٰطِلَ كَانَ زَهُوقًۭا

اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بےشک باطل نابود ہونے والا ہے

Explained together with ayah 79

Al-Israa 17:81Listen in Qur'an →
82

وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌۭ وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارًۭا

اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے

Explained together with ayah 79

Al-Israa 17:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذَآ أَنْعَمْنَا عَلَى ٱلْإِنسَٰنِ أَعْرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ كَانَ يَـُٔوسًۭا

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو ردگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے

Explained together with ayah 79

Al-Israa 17:83Listen in Qur'an →
84

قُلْ كُلٌّۭ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًۭا

کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے

ہر ایک کا طریق عمل اپنا ہے - قول باری ہے (قل کل یعمل علی نشاکلتہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے کہہ دو کہ ” ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے “ ) مجاہد کا قہلے کہ ” اپنی طبیعت کے مطابق “ ایک قول ہے اپنی عادت پر جس سے وہ مانوس ہے۔ “ آیت میں ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے جو فساد کے عادی ہوگئے ہوں اور انہیں اس میں سکون ملتا ہو نیز وہ اس پر برقرار رہنا چاہتے ہوں۔ ایک قول کے مطابق ” ہر شخص اپنے اخلاق و کردار کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ (شاکلتہ ) سے مراد وہ طریقہ ہے جو ایک شخص کے مناسب اور لائق ہوتا ہے اور اس سے اس کی مشابہت ہوتی ہے۔ خیر صلاح کی مناسبت و مشکلات بھلے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے اور شر و فساد کی مناسبت شریر لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (الخبیثت للخبیثین) یعنی خبیث باتیں خبیث لوگ کرتے ہیں اور صوالطیبت للطیبین) پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگ کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گزر لوگوں کے ایک گروہ کے پاس سے ہوا، انہوں نے آپ کو برے الفاظ سے خطاب کیا۔ آپ نے اچھے الفاظ میں اس کا جواب دیا، جب آپ سے اس پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا تو آپ نے فرمایا :” ہر انسان ویہ کچھ خرچ کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے۔

Al-Israa 17:84Listen in Qur'an →
85

وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِ ۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّى وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے

روح کی کیفیت - قول باری ہے (ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی۔ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہو ” یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے۔ “ لوگوں نے کس روح کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا ؟ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ یہ ایک فرشتہ تھا جس کے ستر ہزار چہرے ہیں اور ہر چہرے میں ستر ہزار زبانیں ہیں جن سے وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے جاندار کی روح مراد ہے۔ کلام سے بھی یہی بات ظاہر ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ یہود کے ایک گروہ نے روح کے متعلق سوال کیا تھا۔ جاندار کی روح اس جسم لطیف کا نام ہے جو حیوانی ڈھانچہ رکھتا ہے اور اس کے ہر جز میں زندگی ہوتی ہے۔ تاہم اس کے متعلق اہل علم کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ ہر جاندار ایک روح سے البتہ بعض جاندار ایسے ہیں کہ ان میں روح غالب ہوتی ہے اور بعض میں بدن غالب ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس لئے کہ مصلحت اسی میں تھی کہ انہیں ان کی عقل و فہم کی اس دلالت کے حوالے کردیا جائے جو روح کے متعلق ان کے ادراک میں موجود تھی تاکہ انہیں اپنی عقل و فہمسے کام لے کر نتائج اخذ کرنے اور فوائد معلوم کرنے کی مہارت پیدا ہوجائے۔ یہود کی کتاب میں ایک روایت تھی کہ اگر وہ یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روح کے متعلق سوال کا جواب دے دیں تو پیغمبر نہیں ہوں گے اس لئے اللہ نے ان کے اس سوال کا جواب نہیں دیا تاکہ یہ صورت ان کی کتاب میں مذکورہ بات کے مطابق ہوجائے۔- روح کا اطلاق کئی چیزوں پر ہوتا ہے، قرآن کو روح کہا گیا ہے چناچہ ارشاد ہے صوکذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی یعنی اپنا حکم بھیجا) قرآن کو روح کا نام دیا گیا اس میں اسے جاندار کی روح کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کی وجہ سے ایک جاندار زندہ رہتا ہے۔ اسی طرح حضرت جبرئیل امین اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی تشبیہ کی بنا پر روح کہا گیا ہے جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ قول باری اقل الروح من امر ربی ) کا مفہوم یہ ہے کہ روح ایک ایسا امر ہے جس کا علم میرے رب کو ہے۔- قول باری ہے (وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے) یعنی تمہیں اس علم سے بہت کم حصہ ملا ہے جو منصوص طریقے سے لوگوں کے لئے بیان کردیا گیا ہے، تمہیں صرف اتنا ہی حصہ دیا گیا ہے جس سے تمہارا کام چل جائے۔ رہ گیا روح کا معاملہ تو اس کا تعلق اس علم سے ہے جسے نصاً بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ مصلحت کی خاطر اسے بیان کے بغیر رہنے دیا گیا ہے۔ آیت کی اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ اگر کوئی سائل کسی مسئلے کے متعلق کوئی سوال پوچھے تو اس مصلحت کی خاطر کہ وہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے اپنی سوچ اور تدبر سے کام لے کر مسئلے کا خود ہی اسخراج کرے، اسے جواب نہ دینا جائز ہے۔ بشرطیکہ سائل میں غور و فکر اور استخراج کی اہلیت موجود ہو۔ لیکن اگر سائل پیش آمدہ کسی مسئلے کا حکم معلوم کرنے کے لئے فتویٰ پوچھے اور وہ صاحب نظر نہ ہو تو اس صورت میں اس کے حکم کا علم رکھنے والے عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں اللہ کے حکم سے اسے آگا ہ کرے۔

Al-Israa 17:85Listen in Qur'an →
86

وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَيْنَا وَكِيلًا

اور اگر ہم چاہیں تو جو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے (دلوں سے) محو کردیں۔ پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ

Explained together with ayah 85

Al-Israa 17:86Listen in Qur'an →
87

إِلَّا رَحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ ۚ إِنَّ فَضْلَهُۥ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًۭا

مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اس کا بڑا فضل ہے

Explained together with ayah 85

Al-Israa 17:87Listen in Qur'an →
88

قُل لَّئِنِ ٱجْتَمَعَتِ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأْتُوا۟ بِمِثْلِ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِۦ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍۢ ظَهِيرًۭا

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کو مددگار ہوں

اعجاز قرآن - قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے نابلد ہونے کی بنا پر نظم قرآنی یعنی الفاظ کے متعلق چیلنج نہیں دیا جاسکتا اس لئے ضروری ہے کہ انہیں قرآن کے معانی اور ان کی ترتیب و تنسیق کی جہت سے چیلنج کیا جائے، الفاظ کی ترتیب و نظم کی جہت سے چیلنج نہ کیا جائے۔ بعض حضرات قرآن کے اعجاز کو صرف نظم الفاظ کی جہت سے تسلیم کرتے ہیں یعنی الفاظ کی ترتیب اور عبارت کی فصاحت و بلاغت میں اعجاز کا ظہور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعجاز قرآن کے کئی وجوہ ہیں۔ جن میں سے نظم الفاظ کی خوبصورتی عبارت کی اعلیٰ فصاحت و بلاغت اور اس کا اختصار نیز قلیل الفاظ کے اندر معانی کثیرہ کا وجود وغیرہ ہیں۔ - دوسری طرف پورے قرآن مجید میں ایک لفظ ایسا نہیں ہے جو معیار سے گرا ہوا ہو یا بھرتی کے طور پر لایا گیا ہو یا الفاظ و معانی میں کوئی تناقض یا اختلاف و تضاد ہو۔ ان تمام وجوہ کے لحاظ سے پورا قرآن ایک ہی منہاج اور معیار پر برقرار ہے۔ اس کے برعکس مخلوق کے کلام کی یہ خصویت ہے کہ طویل ہونے کی صورت میں یہ کلام غیر معیاری الفاظ ، گھٹیا معانی اور معانی میں تناقض سے پاک نہیں رہ سکتا۔ دنیا کی تمام زبانوں میں اہل زبان کے کلام کے اندر مذکورہ بالا عیوب و نقائص موجود ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق صرف عربی زبان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ اہل عجم کو درج بالا معانی جیسے معانی پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہو جو ہمارے مذکورہ ان تمام عیوب و نقائص سے پاک ہو جن کی بنا پر ایک کلام غیر معیاری قرار دیا جاتا ہے۔ ایک اور جہت سے اسے دیکھیے ، فصاحت و بلاغت کا تعلق صرف عربی زبان کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس کا وجود دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی ہے اگرچہ عربی زبان دنیا کی فصیح و بلیغ ترین زبان ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قرآن فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین مقام پر جاگزیں ہے اس لئے ممکن ہے کہ اہل عجم کو اس بات کا چیلنج دیا گیا ہو کہ وہ ایسا کلام پیش کریں جو ان کی اپنی زبان میں فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین درجے پر پہنچا ہوا ہو۔

Al-Israa 17:88Listen in Qur'an →
89

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍۢ فَأَبَىٰٓ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورًۭا

اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں۔ مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا

Explained together with ayah 88

Al-Israa 17:89Listen in Qur'an →
90

وَقَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ ٱلْأَرْضِ يَنۢبُوعًا

اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (عجیب وغریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کردو

Explained together with ayah 88

Al-Israa 17:90Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.