Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 71–80 of 111

71

يَوْمَ نَدْعُوا۟ كُلَّ أُنَاسٍۭ بِإِمَٰمِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِىَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًۭا

جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا

روز محشر امام کون ہوگا ؟- قول باری ہے (یوم ندعوا کل اناس بامامھم ۔ پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے) ایک قول کے مطابق یہ اعلا ن ہوگا کہ ابراہیم کے پیروکاروں کو لائو، موسیٰ کے پیروکاروں کو لائو، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیروکاروں کو لائو، یہ اعلا سن کر انبیاء (علیہم السلام) کے تمام پیروکار ایک ایک کر کے کھڑے ہوجائیں گے اور اپنے اپنے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑ لیں گے پھر پیشوا یان ضلال کے پیروکاروں کو نام بنام اسی طریقے سے پکارا جائے گا۔ مجاہد اور قتادہ کا قول کہ امام سے مراد نبی ہے۔ حضرت ابن عباس ، حسن اور ضحاک کا قول ہے کہ امام سے مراد نامہ اعمال ہے ابوعبیدہ کے قول کے مطابق ہر گروہ کو اس شخص کے ساتھ بلایا جائے گا جس کی دنیا میں یہ اقتدا ر کرتے تھے۔ ایک قول کے مطابق امام سے مراد وہ کتاب ہے جس میں حلال و حرام اور فرائض کا ذکر ہے۔

Al-Israa 17:71Listen in Qur'an →
72

وَمَن كَانَ فِى هَٰذِهِۦٓ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًۭا

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) رستے سے بہت دور

قول باری ہے (ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جو شخص اس دنیا کے اندر حق کے اعتقاد سے اندھا رہا جو اس دنیا کا متقضی ہے اس لئے کہ یہ دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ بچشم خود اس کے انتظام، اس کی گردش اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں کی لگاتار آمد و رفت کا مشاہدہ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود حق سے بےبہرہ ہے تو ایسا شخص آخرت میں بھی جو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے اندھا ہی رہے گا اور راہ ہدایت پانے میں زیادہ ناکام ہوگا۔

Al-Israa 17:72Listen in Qur'an →
73

وَإِن كَادُوا۟ لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ لِتَفْتَرِىَ عَلَيْنَا غَيْرَهُۥ ۖ وَإِذًۭا لَّٱتَّخَذُوكَ خَلِيلًۭا

اور اے پیغمبر جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے

Explained together with ayah 72

Al-Israa 17:73Listen in Qur'an →
74

وَلَوْلَآ أَن ثَبَّتْنَٰكَ لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْـًۭٔا قَلِيلًا

اور اگر تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے

Explained together with ayah 72

Al-Israa 17:74Listen in Qur'an →
75

إِذًۭا لَّأَذَقْنَٰكَ ضِعْفَ ٱلْحَيَوٰةِ وَضِعْفَ ٱلْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًۭا

اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا مزا چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے

Explained together with ayah 72

Al-Israa 17:75Listen in Qur'an →
76

وَإِن كَادُوا۟ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًۭا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَٰفَكَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلاوطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم

Explained together with ayah 72

Al-Israa 17:76Listen in Qur'an →
77

سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا

جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے

Explained together with ayah 72

Al-Israa 17:77Listen in Qur'an →
78

أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّيْلِ وَقُرْءَانَ ٱلْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْءَانَ ٱلْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًۭا

(اے محمدﷺ) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشا کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیوں صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے

نمازوں کے اوقات کا ذکر - قول باری ہے (اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل ۔ نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک) حضرت ابن مسعود اور ابو عبدالرحمٰن تسلمی سے مروی ہے کہ دلوک شمس سے غروب آفتاب مراد ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوبرزہ، سلمی، حضرت جابر اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ دلوک شمس سے زوال آفتاب مراد ہے۔ تابعین کی ایک جماعت سے بھی یہی معنی مروی ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان صحابہ کرام کا قول ہے کہ دلوک، میلان اور جھکائو کو کہتے ہیں۔ اس بارے میں ان کی رائے قابل قبول ہے اس لئے کہ یہ تمام تمام اہل زبان تھے ۔ جب بات اس طرح ہے تو یہ درست ہے کہ دلوک سے وہ جھکائو مراد لیا جائے جو زوال آفتاب کے وقت ہوتا ہے اور وہ جھکائو بھی جو غروب آفتاب کے موقع پر ہوتا ہے۔ اگر اس سے زوال آفتاب مراد لیا جائے تو آیت ظہر، عصر، مغرب اور عشاء چاروں نمازوں کو متضمن ہوگی اس لئے کہ ان اوقات کا تعلق مذکورہ بالا فرض نمازوں کے ساتھ ہے ، اس صورت میں غسق اللیل ان نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنے کی انتہا قرار پائے گا۔ ابوجعفر سے مروی ہے کہ آدھی رات کو غسق اللیل، کہتے ہیں اس سے یہ دلالت ہوگی کہ نصف شب، عشاء کی نماز کے مستحب وقت کی انتہا ہے اور اسکے بعد تک عشاء کو مئوخر کرنا مکروہ ہوگا اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے غروب آفتاب مراد لیا جائے اس صورت میں آیت مغرب کی نماز کے وقت کے لئے بیان ہوگی کہ اس کا وقت غروب آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک رہتا ہے۔ - غسق اللیل کی تشریح - غسق اللیل کی تشریح میں اختلاف رائے ہے۔ امام مالک نے دائود بن الحصین سے روایت کی ہے، انہوں نے ایک راوی سے اور اس راوی نے حضرت ابن عباس سے کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔ ” غسق اللیل رات کی تاریکی اور اس کے چھا جانے کو کہتے ہیں۔ “ لیث بن سعد نے مجاہد سے اور انہوںں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آپ فرماتے تھے۔ ” دلوک شمس جب سورج ڈھل جائے تا غسق اللیل جب سورج غروب ہوجائے۔ “ مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کہا کرتے تھے۔ ” دلوک شمس جب سورج غروب ہوجائے تو غسق اللیل جب شفق غائب ہوجائے۔ “ حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہ بھی مروی ہے کہ جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے کہا۔” یہ غسق اللیل ہے۔ “ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے۔ ” سورج کے غائب ہوجانے کو غسق اللیل کہتے ہیں۔ “ حسن بصری سے مروی ہے کہ غسق اللیل مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ غسق اللیل عشاء کی نماز کا نام ہے ابوجعفر کا قول ہے کہ نصف شب کا نام غسق اللیل ہے۔ - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جن حضرات نے دلوک شمس کے معنی غروب آفتاب لئے ہیں ان کے نزدیک غسق اللیل کے معنی غروب آفتاب ہونا درست نہیں ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دلوک شمس کو ابتدا قرار دے کر غسق اللیل کو اس کی انتہا بنادیا اور یہ بات درست نہیں کہ ایک چیز خود اپنی ذات کی انتہا بھی قرار دی جائے اور اس طرح ایک ہی چیز ابتدا بھی ہوجائے اور انتہا بھی ۔ اس لئے اگر دلوک سے غروب آفتاب مراد لیا جائے گا تو اس صورت میں غسق اللیل یا تو شفق ہوگا جو مغرب کی نماز کا وقت آخر ہوتا ہے۔ یا اجتماع ظلمت یعنی رات کا اندھیرا ہوگا اور اجتماع ظلمت خود شفق کے غائب ہونے کا نام ہے اس لئے رتا کا اندھیرا اس وقت چھا جاتا ہے جب سفیدی غائب ہوجاتی ہے یا غسق اللیل عشاء کی نماز کے مستحب وقت کی انتہا ہوگا یعنی آدھی رات۔ اس صورت میں غسق اللیل دو نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو متضمن ہوگا۔- قول باری ہے (وقرآن الفجر ان قران الفجر کان مشھوداً اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ فقرہ قول باری (اقم الصلوۃ لدلوک الشمس) پر معطوف ہے۔ ترتیب کلام اس طرح ہے ”(قم قرآن الفجر (قرآن فجر کو قائم کرو) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ نماز فجر میں قرأت واجب ہے اس لئے کہ امر کا …

Al-Israa 17:78Listen in Qur'an →
79

وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِۦ نَافِلَةًۭ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًۭا مَّحْمُودًۭا

اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو) ۔ (یہ شب خیزی) تمہاری لئے (سبب) زیادت ہے (ثواب اور نماز تہجد تم کو نفل) ہے قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے

نماز تہجد - قول باری ہے (ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک اور رات کو تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی حضرت حجاج بن عمرو انصاری سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ ” تم میں سے جب کوئی شخص رات کی ابتداء سے آخر شب تک قیام کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس نے تہجد کی نماز ادا ک رلی ہے۔ نہیں اس نے تہجد کی نماز ادا نہیں کی۔ تہجد وہ نماز ہے جو تھوڑی دیر سونے کے بعد اٹھ کر ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز تہجد کی نماز اس طرح ہوتی تھی۔ “ اسود اور علقمہ کا قول ہے کہ تہجد کی نماز سو کر اٹھنے کے بعد ہوتی ہے۔ لغت میں نما ز تہجد کے لئے یا اللہ کے ذکر کے لئے بیدار ہونے کو کہتے ہیں۔ ہجود نیند کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ تہجد اس بیداری کا نام ہے جو نیند کی نفی کرنے والے عمل کے ساتھ کی جائے۔ قول باری (نافلۃ لک) کی تفسیر میں مجاہد کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے یہ نماز اس لئے نفل قرار دی گئی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے گئے تھے اس لئے آپ کی طاعات بیاں معنی نفل تھیں کہ ان کے ذریعے آپ کے ثواب میں اضافہ ہوتا تھا جبکہ دوسروں کے لئے یہ گناہوں کا کفارہ بنتی تھیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ نافلۃ بمعنی تطوع اور فضیلت ہے۔ سلیمان بن حیان نے روایت بیان کی، انہیں ابو غالب نے اور انہیں حضرت امامہ نے کہ ” جب تم درست طریقے سے وضو کرلو تمہارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور اگر اس کے بعد کھڑے ہو کر نماز ادا کرلو تو یہ چیز تمہارے لئے اجر اور فضیلت کا ذریعہ بن جائے گی۔ “ ایک شخص نے پوچھا۔” ابو امامہ، آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اٹھ کر نماز پڑھ لے تو آیا یہ نماز اس کے لئے نافلہ بن جائے گی ؟ “ حضرت ابوا امہ نے جواب میں فرمایا نہیں۔ یہ نماز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے نفل تھی، دوسرے انسان کے لئے یہ کس طرح نفل بن سکتی ہے جبکہ وہ گناہ کرنے اور غلطیوں کے ارتکاب میں کوشاں رہتاے۔ البتہ یہ اس کے لئے اجر اور فضیلت کا ذریعہب ن جائے گی۔ “ اسی طرح حضرت ابوامامہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا دوسروں کے لئے اس کو نفل قرار دینے سے انکار کردیا۔- عبداللہ بن الصامت نے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوذر سے فرمایا : ابوذر تمہاری کیفیت اس وقت کیا ہوگی جب کہ تم پر ایسے لوگ حاکم ہوں گے جو فرض نمازیں مئوخر کر کے پڑھیں گے ؟ “ حضرت ابوذر نے عرض کیا :” اللہ کے رسول، پھر ایسے وقت میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ “ آپ نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، اس کے بعد اگر حاکموں کو نماز کی حالت میں پائو تو تم بھی دوبارہ ان کے ساتھ نماز ادا کرلینا، یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ “ قتادہ نے شہر بن حوشب سے اور انہوں نے حضرت ابوامامہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔” وضو اپنے ماقبل کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور اس کے بعد اگر نماز پڑھی جائے تو وہ نفل بن جاتی ہے۔ “ لوگوں نے حضرت ابو امامہ سے دریافت کیا کہ آپ نے خود یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا :” ہاں، ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں، چار دفعہ نہیں، پانچ دفعہ نہیں۔ “ ان دونوں روایتوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسروں کے لئے نافلہ کا اثبات کردیا۔ نافلہ فرض سے زائد کو کہتے ہیں یہ تطوع اور فضیلت ہے۔ اسی سے مال غنیمت میں نفل کا لفظ نکلا ہے۔ نفل اس زائد حصے کو کہتے ہیں جو امام المسلمین لشکر اسلام کے بعض افراد کے لئے ان کے اصل حصوں سے زائد یہ کہہ کر مقرر کردیتا ہے کہ ” جو شخص دشمن کے کسی آدمی کو قتل کرے گا اسے اس کا سارا سامان مل جائے گا “ یا ” …

Al-Israa 17:79Listen in Qur'an →
80

وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِى مُدْخَلَ صِدْقٍۢ وَأَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍۢ وَٱجْعَل لِّى مِن لَّدُنكَ سُلْطَٰنًۭا نَّصِيرًۭا

اور کہو کہ اے پروردگار مجھے (مدینے میں) اچھی طرح داخل کیجیو اور (مکے سے) اچھی طرح نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور وقوت کو میرا مددگار بنائیو

Explained together with ayah 79

Al-Israa 17:80Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.