Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 31–40 of 111

31

وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْـًۭٔا كَبِيرًۭا

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

قتل اولاد کی ممانعت - قول باری ہے (ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق۔ اور اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو) اس کلام میں اس سبب کا بھی ذکر موجود ہے جو اس کے نزول کا پس منظر ہے۔ وہ اس طرح کہ عرب کے اندر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو افلاس کے اندیشے سے اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے تاکہ ان کے اخراجات کا بوجھ ان پر نہ پڑے اور اس طرح بچ رہنے والی رقم ان کی ذات اور اہل و عیال کے کام آ جائے۔ عربوں میں اس کا عام رواج تھا اور اس بری رسم کا دائرہ بڑا وسیع تھا۔ ایسی لڑکیاں موئودۃ کہلاتی تھیں۔ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے (واذا الموودۃ سئلت بای ذنب قتلت اور جب زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم کی بنا پر قتل کردیا گیا تھا) موئودہ اس لڑکی کو کہتے ہیں جسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا عرب کے لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ حضرت ابن مسعود نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک مرتبہ دریافت کیا تھا کہ بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں ارشاد فرمایا تھا (ان تجعل للہ ندا وھو خلقک وان تقتل ولدک خشیۃ ان تاکل معک وان تزنی بحلیلۃ جارک یہ کہ تم کسی کو اللہ کا مدمقابل ٹھہرائو۔ حالانکہ اس نے ہی تمہیں پیدا کیا، نیز یہ کہ اس اندیشے کی بنا پر اپنی لڑکی کو قتل کر دو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوجائے اور یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرو)- قول باری ہے (نحن نرزقھم و ایاکم ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام مخلوقات کے رزق کی ذمہ داری اللہ پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے اسباب پید اکر دے گا جن کی بنا پر وہ اپنی ذات اور اولاد کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو جاندار بھی پیدا کیا ہے اسے اس کی زندگی بھر رزق مہیا کرتا رہے گا۔ اس کے رزق کا سلسلہ صرف اس کی موت کے ساتھ منقطع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے بیان کردیا تاکہ حصول رزق کے سلسلے میں کوئی شخص کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرے نہ ہی کسی کال مال ہتھیائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے رزق کے ایسے اسباب پیدا کردیئے ہیں جن کی بنا پر اسے دوسروں کے مال پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

Al-Israa 17:31Listen in Qur'an →
32

وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلزِّنَىٰٓ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةًۭ وَسَآءَ سَبِيلًۭا

اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

زنا کے قریب نہ پھٹکو - قول باری ہے (ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سجیلاً ۔ زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہ براہ راستہ) اس میں زنا کی تحریم کی خبر دی گئی ہے نیز یہ کہ یہ بہت قبیح فعل ہے۔ اس لئے کہ فاحشہ اس فعل کو کہتے ہیں جس کی قباحت بڑی زبردست اور بڑی واضح ہو۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ سمعی حجت کے ورود سے پہلے ہی زنا عقل انسانی کے نزدیک ایک قبیح فعل تھا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو فاحشہ کا نام دیا، سمعی حجت کے ورود سے قبل یا اس کے بعد کی حالت کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ عقلی طور پر زنا ایک قبیح فعل ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ زانی عورت پیدا ہونے والے بچے کا نسب اس بچے کے باپ کی نسبت سے بیان نہیں کرسکتی اس لئے کہ اس کے ساتھ منہ کالا کرنے والے مرد ایک دوسرے سے بڑھ کر اس بچے کے نسب کے حق دار نہیں ہوتے۔ اس طرح زنا کے فعل قبیح کی وجہ سے نسب کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے اور مواریث، مناکحات صلہ رحمی کے سلسلے میں نسب سے متعلقہ حرمتوں کی مخالفت ہوجاتی ہے۔ ولد پر والد کا حق باطل ہوجاتا ہے اور اسی طرح کے بہت سے دوسرے حقوق بھی اس فعل قبیح کی بنا پر پامال ہوجاتے۔- عقل انسانی کے نزدیک یہ ایک گھنائونا فعل ہے اور عادۃ لوگ اسے قبیح سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (الولد للفراش وللعاھرا لحجر بچے کے نسب کا تعلق بچھونے کے ساتھ ہے اور منہ کالا کرنے والے کے لئے پتھر ہے ) اس لئے کہ اگر نسب کو بچھونے کے اندر محدود نہ کردیا جاتا یعنی نسب کے اجرا کو صرف نکاح اور نکاح جیسی صورت مثلاً ملک یمین کے اندر محدود نہ کردیا جاتا تو پھر صاحب فرا ش یعنی شوہر، زانی سے بڑھ کر بچے کے نسب کا حق دار قرار نہ پاتا جس کے نتیجے میں اکتساب کا ابطال لازم آتا اور انساب سے تعلق رکھنے والے تمام حقوق و مراعات ساقط ہوجاتے ہیں۔

Al-Israa 17:32Listen in Qur'an →
33

وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًۭا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِۦ سُلْطَٰنًۭا فَلَا يُسْرِف فِّى ٱلْقَتْلِ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ مَنصُورًۭا

اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت) ۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے

قتل کی ممانعت - قول باری ہے (ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق اور قتل کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ) اللہ تعالیٰ نے (الا بالحق) فرمایا اس لئے کہ قتل نفس حق نہ ہونے کے باوجود بھ یبعض دفعہ حق بن جاتا ہے جس کی صورتیں یہ ہیں۔ قصاص اور ارتداد کی بنا پر قتل اسی طرح غیر مسلموں سے قتال اور محاربت کی وجہ سے قتل، نیز محصن زانی کا رجم۔- مقتول کے قصاص کا حکم - قول باری ہے (ومن قتل مظلوماً فقد جعلنا لولیہ سلطاناً اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے) حضرت ابن عباس ، سعید بن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ سلطان حجت کو کہتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے (اولیا تینی بسلطن مبین یا میرے سامنے کوئی واضح حجت اور دلیل پیش کرے) ضحاک کا قول ہے کہ سلطان سے مراد یہ ہے کہ مقتول کے ولی کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ چاہے تو قاتل کو قتل کر دے اور چاہے تو دیت قبول کرلے۔ نیز سلطان یعنی حاکم وقت کا یہ فرض ہے کہ وہ قاتل کو پکڑ کر ولی کے حوالے کر دے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلطان ایک مجمل لفظ ہے اور معنی، مراد کو واضح کرنے کے لئے خود کفیل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ ایک مشترک لفظ ہے جس کا کئی معانی پر اطلاق ہوتا ہے۔ - اس کا ایک مفہوم حجت اور دلیل ہے، دوسرا مفہوم وہ سلطان اور حاکم ہے جو صاحب بست و کشاد ہوتا ہے تاہم سب کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت میں اس سے قصاص مراد ہے اس طرح اس آیت کے ذریعہ قصاص ایک منطوق حکم قرار پا گیا۔ آیت کا مفہوم یہ ہوگا ہم نے مقتول کے ولی کو سلطان یعنی قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے۔ “ یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ آیت میں دیت مراد ہے۔ اس لئے ہم نے دیت کا اثبات نہیں کیا۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ قصاص مراد ہے تو ظاہر آیت اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء ہیں کچھ بالغ ہوں اور کچھ نابالغ تو بالغ ورثاء نابالغ ورثاء کے بالغ ہونے سے پہلے قصاص لے سکتے ہیں اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک ولی ہوتا ہے جبکہ نابالغ ورثاء میں سے کوئی بھی ولی نہیں بن سکتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر نابالغ ولی قاتل کو معاف کر دے تو اس کا یہ اقدام جائز نہیں ہوتا۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک جب تک نابالغ ورثاء بالغ نہ ہوجائیں اس وقت تک بالغ ورثاء قاتل سے قصاص نہیں لے سکتے۔ جب وہ بالغ ہوجائیں تو پھر بالغ ورثاء کے ساتھ مل کر قاتل سے قصاص لیں گے یا معاف کردیں گے۔ ایک روایت کے مطابق امام محمد نے امام ابوحنیفہ کے قول کی طرف رجوع کرلیا تھا۔- قتل میں حد سے نہ گزرنا چاہیے - قول باری ہے (فلا یسرف فی القتل۔ پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے) عطاء حسن مجاہد، سعید بن جبیر، ضحاک اور طلق بن جلیب سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ مقتول کا ولی، قاتل کے سوا کسی اور کو قتل نہ کرے نیز قاتل کا مثلہ بھی نہ کرے۔ اس لئے کہ عرب کے لوگ قاتل ہاتھ نہ آنے پر اس کے دوستوں اور رشتہ داروں میں سے جو بھی ہاتھ آ جاتا اسے قتل کردیتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ولی کو قصاص لینے کا حق عطا کردیا تو اسے قتل میں حد سے گزرنے سے منع فرما دیا۔ انہی معنوں پر قول باری (کتب علیکم القصاص فی انقتلی الحر بالحر والعبد بالعبد والا نثی بالانثی مقتولین کا قصاص لنیا تم پر فرض کردیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور مئونث کے بدلے مئونث) بھی محمول ہے اس لئے کہ زمانہ جاہلیت میں بعض قبائل کو بعض پر فوقیت حاصل تھی اگر ان کا کوئی غلام قتل ہوجاتا وہ اس کے بدلے میں قاتل کے قبیلے کا آزاد آدمی قتل کردیتے، اس کے سوا وہ کسی اور بات پر رضا مند نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرما دیا کہ ولی قاتل کو قتل کرنے میں بایں معنی حد سے نہ گزرے کہ وہ قاتل کے سوا کسی اور کو قتل نہ کرے۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ آیت زیر بحث میں بعض نے نہی کی …

Al-Israa 17:33Listen in Qur'an →
34

وَلَا تَقْرَبُوا۟ مَالَ ٱلْيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُۥ ۚ وَأَوْفُوا۟ بِٱلْعَهْدِ ۖ إِنَّ ٱلْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔولًۭا

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ ہو جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی

مال یتیم کی حفاظت کا حکم - قول باری ہے (ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن حتی یبلخ اشدہ اور مال یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے) مجاہد کا قول ہے کہ (التیھی احسن) کی صورت تجارت ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ مال یتیم کے ذریعے اللہ کا فضل تلاش کیا جائے اور تلاش کرنے والے کا اس میں کوئی حصہ نہ ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یتیم کا خصوصی طور پر ذکر ہو) اگرچہ تمام لوگوں کے اموال کے بارے میں یہی حکم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یتیم کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اس کے مال میں لوگ دندان حرص و آز زیادہ تیز کرتے ہیں۔ قول باری (الا بالتیھی احسن) یتیم کے مال میں اس کے سرپرست کے ایسے تمام تصرفات کے جواز کو متضمن ہے جن سے یتیم کو فائدہ پہنچ سکتا ہو خواہ یہ سرپرست یتیم کا وادا ہو یا یتیم کے باپ کا مقرر کردہ وصی۔ اس لئے کہ احسن طریقہ وہی ہوگا جس کے ذریعہ ایک طرف اس کے مال کی حفاظت ہوتی رہی اور دوسری طرف اس میں اضافہ ہوتا رہے۔ اس لئے یتیم کا سرپرست یتیم کے لئے ایسے طریقے سے خرید و فروخت اور کاروبار کرسکے گا جس سے یتیم کو کوئی نقصان اٹھانا نہ پڑے۔ اسی طرح وہ بازاری قیمت پر اور بازاری سے کم قیمت پر ایسے سودے کرسکتا ہے جن میں عام طور پر لوگوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ لوگوں کو ایسے سودوں میں منافع کمانے اور نفع حاصل کرنے کی امید ہوتی ہے اور جب یہ امید پوری نہیں ہوتی تو وہ اسے گھاٹا سمجھ لیتے ہیں۔ نیز نقصان کی اس مقدار کے متعلق قیمتیں لگانے والوں کی آراء باہم مختلف ہوتی ہیں اس لئے حقیقت کے لحاظ سے ایسے سودوں میں کوئی گھاٹا نہیں ہوتا لیکن سرپرست کے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ یتیم کے لئے بازاری قیمت سے زائد دے کر کوئی چیز خریدے جس میں عام طور پر لوگوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں نقصان اٹھانا نہیں پڑتا ہے۔ اس لئے کہ خریداری کی یہ صورت یتیم کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ نقصان بالکل واضح اور یقینی ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے مال کے قریب پھٹکنے سے منع فرما دیا ہے مگر یہ کہ احسن طریقہ اختیار کیا جائے۔ یتیم کے مال کو اجارہ پر دینے اور مضاربت میں لگانے کے جواز پر بھی آیت دلالت کر رہی ہے اس لئے کہ یتیم جس منافع کا حقدار بنے گا وہ منافع اسے مضارب کے عمل کے ذریعے حاصل ہوگا اس لئے اس مال کو یونہی پڑا رہنے دینے سے مضاربت میں لگانا بہتر ہوگا۔- عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے، انہوں نے عمرو کے داد اسے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ابتغوا ب اموال الایتام خیراً تاکلھا الصدقۃ یتیموں کے اموال کے ذریعے خیر یعنی منافع تلاش کرو ان اموال کو صدقہ نہ کھاجائے) ایک قول کے مطابق اس کا مفہوم یہ کہ یتیم کا نفقہ یعنی اخراجات اس کے مال کو ختم نہ کر دے اس لئے کہ نفقہ کو بھی صدقہ کہا اجتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مروی ہے کہ انسان جو کچھ اپنی ذات پر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے۔- حضرت عمر، حضرت ابن عمر، حضرت عائشہ اور تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ وصی یتیم کے مال میں تجارت کرسکتا ہے اور اسے مضاربت میں بھی لگا سکتا ہے۔ اس میں دلالت پائی جاتی ہے کہ باپ نابالغ کا مال اپنی ذات کے لئے خرید سکتا اور فروخت بھی کرسکتا ہے۔ اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ وصی یتیم کا مال خود خرید سکتا ہے بشرطیکہ اس میں یتیم کے لئے فائدہ کا پہلو موجود ہو۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام صاحب نے یہ فرمایا کہ اگر وصی یتیم کا مال پوری قیمت پر خریدے گا تو اس کی یہ خریداری جائز نہیں ہوگی۔ جواز کی صورت صرف یہ ہے کہ یتیم کو ملنے والا مال قیمت میں زیادہ ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (الا بالتیھی احسن) امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ کسی بھی صورت میں اس کا جواز نہیں …

Al-Israa 17:34Listen in Qur'an →
35

وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا۟ بِٱلْقِسْطَاسِ ٱلْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًۭا

اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے

ناپ تول کے احکام - قول باری ہے (واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم۔ اور جب پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو) آیت میں یہ دلالت ہے کہ جو شخص کوئی چیز ناپ کر یا تول کر خریدے تو اس پر یہ امر واجب ہے کہ ناپ کر خریدی ہوئی چیز کو ناپ کرے اور تول کر خریدی ہوئی چیز کو تول کرے، نیز اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ کیل یا وزن کے ذریعے دی جانے والی چیز کو یونہی انداز سے لے لے اس مں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ مبیع اور ثمن میں جبکہ وہ ہم جنس ہوں تفاضل کی تحریم کا اعتبار کیل اور وزن کے اندر کیا جائے گا یعنی تمام مکیلات اور موزو نالت میں خواہ وہ ماکولات ہوں یا غیر ماکولات ہم جنس ہونے کی صورت میں تفاضل حرام ہوگا۔ اس لئے کہ آیت نے مکیل میں ایجاب کیل کو اور موزوں میں ایجاب وزن کو صرف ماکولات یعنی اشیائے خوردنی کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ اس حکم میں تمام مکیلات اور تمام موزونات داخل ہیں۔ اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ جب کوئی شخص مکیلا ت اور موزونات کے تحت آنے والی اشیاء کی خریداری کرے اور مبیع اور ثمن ہم جنس ہوں تو کیل کے بدلے کیل اور وزن کے بدلے وزن کی صورت میں خریداری کرے۔ اٹکل اور اندازے سے خریداری کی صورت جائز نہیں ہوگی۔ مکیلات کے تحت آنے والی اشیاء کا تعلق خواہ کو لات یعنی اشیائے خوردنی کے ساتھ ہو یا غیر ماکولات کے ساتھ مثلاً گچ، چونہ، چونے کا پتھر وغیرہ اسی طرح موزونات کے تحت آنے والی اشیاء مثلاً ، لوہا ، سیبہ اور دیگر تمام موزونات۔- ناپ تول کی طرح اجتہاد بھی ظن غالب ہے - آیت میں اجتہاد کے جواز پر نیز اس پر کہ ہر مجتہد درست رد ہوتا ہے دلالت پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ کرنا صرف اجتہاد اور ظن غالب کی بنا پر وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جب ایک شخص کسی دوسرے کو کوئی چیز ناپ کر یا تول کر دے رہا ہو تو اس کے لئے یہ دعویٰ کرنا ممکن نہیں ہوگا کہ اس نے ناپ یا تول میں ایک حبہ برابر نہ کمی کی ہے نہ بیشی۔ بلکہ خریدار کو اس کا پورا پورا حق دینے کے لئے وہ اپنے اس غلبہ ظن سے کام لے گا کہ اس نے پورا بھر کرنا چاہے یا درست ترازو سے وزن کیا ہے۔ جب ایک کیل کرنے والا یا وزن کرنے والا صرف اپنے غلبہ ظن کی بنا پر مذکورہ بالا صورت میں کیل یا وزن کر کے اللہ کے حکم کو پورا کرسکتا ہے اور اسے حقیقی مقدار کے حصول کا مکلف نہیں بنایا جاسکتا جس کا علم صرف اللہ کو ہے تو پھر اجتہادی مسائل میں مجتہد کو بھی اپنے اجتہاد اور غلبہ ظن سے کام لینے کی بنا پر مصیبت یعنی درست قرار دیا جائے گا۔- قسطاط کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ میزان اور ترازو کا نام ہے خواہ یہ چھوٹا ہو یا بڑا حسن قول ہے کہ قسطاس قبان یعنی بھاری اشیاء کو تولنے کے آلے کا نام ہے۔ ہم نے مکیل اور موزون کا جو مفہوم بیان کیا ہے اس کے پیش نظر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کسی پر مکیل اور موزون کے تحت آنے والی اشیاء میں سے کوئی شے قرض ہو تو قرض خواہ کے لئے وہ چیز یونہی اٹکل اور اندازے سے وصول کرنا جائز نہیں ہوگا خواہ اس پر طرفین کی رضا مندی کیوں نہ حاصل ہوجائے ۔ آیت میں کیل اور وزن کا ظاہری امر اس بات کا موجب ہے کہ طرفین باہمی رضا مندی کے ذریعے بھی کیل اور وزن کو ترک نہیں کرسکتے اسی طرح دو شریکوں کے درمیان ایسی اشیاء کی اندازاً تقسیم بھی اس علت کی بنا پر جائز نہیں ہوگی جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ اگر اشیاء کا تعلق تکیلات اور موزونات سے نہ ہو بلکہ کپڑوں اور سامان کی صورت ہو تو پھر باہمی رضا مندی سے اٹکل اور اندازے کے ذریعے ان کی خریداری بھی درست ہوگی اور شریکین کے درمیان تقسیم بھی اس لئے کہ دریں صورت ہم پر کیل اور وزن کو پورا کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔- قول باری ہے (ذلک خیرو احسن تاویلاً یہ اچھا طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی بہتر ہے۔ ) مفہوم یہ ہے …

Al-Israa 17:35Listen in Qur'an →
36

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۚ إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًۭا

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی

لاتقف کی تشریح - قول باری ہے (لا تقف مالیس لک بہ علم۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو) کسی نشان کا پیچھا کرنا ” القفوا “ کہلاتا ہے۔ جبکہ اس کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بصیرت کہ یہ نشان کہاں جا کر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی سے قافۃ کا لفظ بنا ہے جس کے معنی قیاذ شناس کے ہیں۔ یہ قائف کی جمع ہے۔ عرب کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو قدموں کے نشانات کا کھوج لگاتے تھے۔ (ہمارے ہاں عرف عام میں انہیں کھوجی کہا جاتا ہے) اور ایسے بھی تھے جو نسب کے سلسلہ میں قیاذ شناسی کا کام کرت ی تھے یعنی ایک شخص کے جسمانی اعضاء دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا تعلق فلاں نسب سے ہے۔ تاہم عربوں کے نزدیک یہ اسم اس خبر کے لئے وضع کیا گیا تھا جو کوئی شخص یونہی آ کر سنا دے اور اس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ جب کوئی شخص باطل یعنی غلط بات کہتا تو اس موقعہ پر یہ فقرہ استعمال ہوتا۔ ” تقوف الرجل “ جریر کا شعر ہے۔- وطال حذاری خیفۃ البین والنوی واحد وثۃ من کاشح متقوف - علیحدگی اور جدائی نیز ایک کینہ ور دروغ گو دشمن کی افواہوں سے ڈرتے ہوئے میں نے طویل عرصے تک محتاط رویہ اختیار کئے رکھا۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ جریر نے متقوف سے غلط باتیں کہنے والا مراد لیا ہے۔ ایک اور شاعر کا قول ہے :- ومثل الدمی شم العرانین ساکن بھن الحیاء لایشعن التقافیا - وہ ستواں ناک والی پتلیوں کی طرح خاموش ہیں۔ ان کے اندر حیا داری موجود ہے کہ ایک دوسرے پر کیچڑ نہیں اچھالتی ہیں۔- یہاں تفافی تفاذف یعنی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے معنوں میں ہے۔ اس اسم کو تقاذف کے معنوں میں اس لئے استعمال کیا گیا کہ اس میں اکثر باتیں بےحقیقت اور غلط ہوتی ہیں۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے قاذف یعنی زنا کی تہمت لگانے والے کو گواہ پیش نہ کرنے کی صورت میں کاذب قرار دیا ہے چناچہ ارشاد ہے (لوہ اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنات بانفسھم خیراً و قالوا ھذا افک مبین۔ جب تم لوگوں نے یہ افواہیں سنی تھی تو کیوں نہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں کے حق میں نیک گمان کیا اور یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو صریح جھوٹ ہے۔- قتادہ نے قول باری صولا تقف مالیس لک بہ علم) کی تفسیر کرتے ہوئے کہا۔” جو بات تم نے نہ سنی ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے سنی ہے۔ جو چیز تم نے نہ دیکھی ہو اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھی ہے اور جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ مجھے علم ہے۔ “ یہ چیز اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ کے احکام کے متعلق اپنے گمان اور خیال سے علم کے بغیر کوئی بات کہنے کی ممانعت ہے نیز یہ کہ لوگوں کے متعلق کسی ایسی سنی سنائی بات کو زبان پر لانا ممنوع ہے جس کی صحت کا علم نہ ہو۔ نیز اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ اگر کوئی شخص علم کے بغیر کسی بات کی خبر دے گا وہ گنہگار قرار پائے گا۔ خواہ اس کی سنائی ہوئی بات سچی ہو یا جھوٹی اس لئے کہ اس نے علم کے بغیر یہ بات کہی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا ہے۔- قول باری ہے (ان السمع والبصر والفوادکل اولئک کان عنہ مسئولاً یقینا آنکھ کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہماری آنکھ، کان اور دل پر اللہ کا حق ہے اور انسان کو اپنے ان تمام اعمال کی جوابدہی کرنی ہوگی جو اس نے ان اعضاء کے ذریعے سر انجام دیئے ہوں گے۔ اسے یہ حساب دینا ہوگا کہ اس نے کون کون سی غلط باتیں سنی تھیں، کہاں کہاں غلط نظر ڈالی تھی اور کیسی کیسی غلط اور قبیح باتیں سوچی تھیں۔- بعض لوگ قول باری (ولا تقف مالیس لک بہ علم) سے شریعت کی فروعی مسائل میں قیاس کی نفی پر استدلال کرتے ہیں نیز خبرواحد کا ابطال کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قیاس اور خبر واحد دونوں ہمیں کسی مسئلے کے متعلق علم کی منزل تک پہنچاتے ہیں اس لئے جو شخص ان دونوں باتوں کی بنیاد پر کوئی مسئلہ بیان کرے گا وہ علم کے بغیر بات …

Al-Israa 17:36Listen in Qur'an →
37

وَلَا تَمْشِ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ ٱلْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ ٱلْجِبَالَ طُولًۭا

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں (کی چوٹی) تک پہنچ جائے گا

Explained together with ayah 36

Al-Israa 17:37Listen in Qur'an →
38

كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُۥ عِندَ رَبِّكَ مَكْرُوهًۭا

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے

Explained together with ayah 36

Al-Israa 17:38Listen in Qur'an →
39

ذَٰلِكَ مِمَّآ أَوْحَىٰٓ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ ٱلْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتُلْقَىٰ فِى جَهَنَّمَ مَلُومًۭا مَّدْحُورًا

اے پیغمبر یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں۔ اور خدا کے ساتھ کوئی معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے

Explained together with ayah 36

Al-Israa 17:39Listen in Qur'an →
40

أَفَأَصْفَىٰكُمْ رَبُّكُم بِٱلْبَنِينَ وَٱتَّخَذَ مِنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنَٰثًا ۚ إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًۭا

(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو

Explained together with ayah 36

Al-Israa 17:40Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.