Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 21–30 of 111

21

ٱنظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ وَلَلْءَاخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَٰتٍۢ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًۭا

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

Explained together with ayah 20

Al-Israa 17:21Listen in Qur'an →
22

لَّا تَجْعَلْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًۭا مَّخْذُولًۭا

اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بےکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے

Explained together with ayah 20

Al-Israa 17:22Listen in Qur'an →
23

۞ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّۢ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًۭا كَرِيمًۭا

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا

والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان - قول باری ہے (وقصی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احساناً تمہارے رب نے فیصلہ دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو۔ مگر صرف اس کی اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو) قول باری (اقضی ربک) کے معنی ہیں ” امر ربک تمہارے رب نے حکم دیا ہے ) اسی طرح تمہارے رب نے والدین کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیا ہے۔ “ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ ” و اوصی بالوالدین احساناً (اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دونوں ہم معنی ہیں اس لئے کہ وصیت کے معنی بھی امر اور حکم کے ہیں۔ اللہ نے اپنی کتاب میں والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کی متعدد مقامات پر وصیت فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے) نیز فرمایا : (ان اشکرلی ولوالذیک الی المصیر، وان جاھدک علی ان تشرک بی ما لیس بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفاً کہ تم میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کرو میری ہی طرف واپسی ہے اور اگر یہ دونوں تم پر دبائو ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو تم ان کا کہا نہ مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی سے گزارہ کرو) اللہ تعالیٰ مشرک والدین کے ساتھ خوبی سے گزارہ کرنے کا حکم اور ساتھ ہی ساتھ شرک کے معاملہ میں ان کی فرمانبرداری سے منع بھی فرما دیا اس لئے کہ کسی مخلوق کی ایسی طاعت ممنوع ہے جس سے خالق کی نافرمانی لازم آتی ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ (ان من الکبائر عقوق الوالدین والدین کی نافرمانی کبائر یعنی بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔ )- والدین کو اف تک نہ کہو - قول باری ہے (اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ۔ ) اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ” اگر تم بڑے ہو جائو یعنی بالغ ہو کر احکام الٰہی کے مکلف بن جائو اور اس وقت تمہارے والدین میں سے دونوں یا ایک زندہ ہوں اور تمہارے پاس رہتے ہوں تو انہیں اف تک نہ کہو “ لیث بن سعد نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ جب والدین بڑھاپے کی اس لاچاری کی حالت کو پہنچ جائیں جو حالت کم سنی میں تم کو لاحق تھی اور وہ تمہاری دیکھ بھال کرتے تھے تو انہیں اف تک نہ کہو۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت کا لفظ دونوں معنوں کا احتمال رکھتا ہے اس لئے اسے ان دونوں معنوں پر محمو لکیا جائے گا ۔ اس لئے کہ بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دینے کی شرط یہ ہے کہ وہ بالغ ہو کیونکہ نابالغ کو مکلف بنانا اور اسے کسی حکم کا پابند کرنا سرے سے درست ہی نہیں ہے۔ جب لڑکا بلوغت کی حد میں داخل ہوجائے اور دوسری طرف اس کے والدین بڑھاپے اور ضعف کی سرحد پار کر جائیں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں ان کے ساتھ حسن سلوک اس پر واجب ہے۔ اسے اف کا کلمہ کہنے سے روکا گیا ہے اس لئے کہ یہ کلمہ بیزاری اور اکتاہٹ کی حالت پر دلالت کرتا جو آیت میں مخاطب شخص یعنی بیٹے کے دل میں اپنے والدین کے سلسلے میں پیدا ہوجاتی ہے۔- والدین سے توہین آمیز رویہ منع ہے ۔- قول باری ہے (ولا تتھوھما نہ انہیں جھڑک کر جواب دو ) اس کے معنی ہیں۔” ان پر سختی کرتے ہوئے نیز ا ن کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کر کے انہیں ڈانٹ نہ پلائو۔ “- والدین سے احترام کے ساتھ بات کرو - قول باری ہے (وقل لھما قولاً کریماً بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو) قتادہ کا قول ہے کہ ” ان کے ساتھ نرمی سے بات کرو۔ “

Al-Israa 17:23Listen in Qur'an →
24

وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًۭا

اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما

قول باری ہے (واخضض لھما جناح الذل من الرحمۃ اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے بھک کر رہو) اس کی تفسیر میں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ جس چیز کے وہ خواہشمند ہوں ان سے وہ چیز نہ روکو۔ “ ہشام نے حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ والدین کے ساتھ نیکی کا کیا مفہوم ہے۔ حسن نے جواب میں فرمایا۔” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ان کے لئے خرچ کر ڈالو اور ان کے حکموں کی فرمانبرداری کرو بشرطیکہ کوئی حکم خدا کی نافرمانی کو مستلزم نہ ہو۔ “ عمرو بن عثما ن نے واصل بن سانب سے آیت زیر بحث کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ ” اپنا ہاتھ بھی ان کے سامنے نہ جھاڑو۔ “ عروہ بن الزبیر کا قول ہے کہ جس شخص نے تیز نظروں سے اپنے والدین کو دیکھا اس نے ان کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی۔ “ ابوالہیاج سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے سعید بن المسیب سے (قولاً کریماً ) کا مفہوم دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا :” ایک عاجز غلام کا طرز تکلم جو وہ اپنے درشت خو اور سخت مزاج آقا کے سامنے اختیار کرے۔ “ عبداللہ الرصافی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے عطاء نے آیت زیر بحث کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔” اپنے ماں باپ پر کبھی ہاتھ نہ اٹھائو اور ان کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے کبھی تیز نظروں سے ان کی طرف نہ گھورو۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ) مجاز پر مبنی ہے اس لئے کہ ذلت یعنی نرمی کے پر نہیں ہوتے اور نہ ہی اسے اس وصف سے متصف کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تذلل یعنی عاجزی اور تواضع میں مبالغہ مراد ہے جسے ایک بیٹے کو والدین کے لئے اختیار کرنا چاہیے ۔ رات کی کیفیت بیان کرتے ہوئے امرئو القیس نے کہا ہے :- فقلت لہ لما تمطی بصلبہ واردف اعجازاً وناء بکلکل - جب رات نے اپنی پشت بچھا دی، اپنی سرینیں پھیلا دیں اور اپنا سینہ دراز کردیا تو میں نے اس سے کہا۔- حالانکہ رات کی نہ پشت ہوتی ہے نہ سرینیں اور نہ ہی سینہ اس لئے یہ انداز بیان مجاز پر مبنی ہے دراصل شاعر یہاں رات کی یکسانیت اور اس کی طوالت بیان کرنا چاہتا ہے۔- والدین کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا کرنی چاہیے - قول باری ہے (وقل رب ارحمھما کما ریبا صغیراً اور دعا کیا کرو کہ ” پروردگار ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے شفقت و رحمت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا “ ) آی ت میں والدین کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا مانگنے کا حکم ہے بشرطیکہ دونوں مسلمان ہوں اس لئے کہ ایک مقام پر قول باری ہے۔ (ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ زیبا نہیں کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں) اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ والدین کے لئے دعا کا حکم مومن والدین کے ساتھ مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم کو توحید کے حکم ساتھ مقرون کر کے گویا والدین کے حقوق کو اور مئوکد بنادیا ہے چناچہ ارشاد ہے (وقضی ربک الاتعبدوالا ایاہ و بالوالدین احساناً ) پھر ان کے ساتھ حسن سلوک کی کیفیت بیان فرمائی کہ قول و فعل کے ذریعہ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا جائے اور عاجزی اور تواضع کے ساتھ ان سے گفتگو کی جائے اور ان سے بیزاری اور اکتاہٹ کے اظہار سے منع کیا گیا چناچہ ارشاد ہوا (ولا تقل لھما اف) نیز ان پر سختی کرنے اور انہیں جھڑکنے سے بھی روکا گیا ۔ فرمایا (ولا تنھرھما) بیٹے کو ان کے ساتھ نرم گفتگو کرنے اور ان کے حکموں کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا بشرطیکہ ان کا کوئی حکم خدا کی نافرمانی کو مستلزم نہ ہوتا ہو۔- اس کے بعد پھر یہ حکم دیا گیا کہ ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد ان کے لئے دعا مانگی جائے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باپ کے حق پر ماں کے حق کو فائق قرار دیا ہے۔ ابوزرعہ بن عمرو …

Al-Israa 17:24Listen in Qur'an →
25

رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُوا۟ صَٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلْأَوَّٰبِينَ غَفُورًۭا

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

اوابین کی تشریح - قول باری ہے (فانہ کان للاوابین غفوراً وہ ایسے سب لوگوں کو درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں) سعید بن المسیب کا قول ہے کہ اواب اس شخص کو کہتے ہیں جو بار بار توبہ کرتا ہے اور اگر اس سے کوئی نافرمانی ہوجاتی ہے تو فوراً توبہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ سعید بن جبیر اور مجاہد کا قول ہے کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنے گناہ سے توبہ کے ذریعے رجوع کرے منصور نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ اداب اس شخص کو کہتے ہیں جو تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ سے بخشش کا طلبگار ہوجائے۔ قتادہ نے قاسم بن عوف الشیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبا میں رہنے والوں کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ لوگ چاشت کے نوافل میں مشغول تھے۔ آپ نے فرمایا (ان صلوۃ الاوابین اذا رمضت الفصال من الضحی اوا بین یعنی اللہ کی طرف توبہ کے ذریعے رجوع کرنے والوں کی نماز چاشت کے وقت ہوتی ہے جب گرمی کی شدت کی بنا پر اونٹنیوں اور گایوں کے بچوں کے تلوے گرم ریت پر جلنے لگتے ہیں۔

Al-Israa 17:25Listen in Qur'an →
26

وَءَاتِ ذَا ٱلْقُرْبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلْمِسْكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ

رشتہ داروں کے حق کو ادا کیا جائے - قول باری ہے (وات ذالقربی حقہ اور رشتہ دار کو اس کا حق دو ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں جس حق کا ذکر ہے وہ مجمل ہے اور اسے بیان و تفصیل کی ضرور ت ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (وفی امرالھم حق للسائل والحزوم ان کے اموال میں سائل اور محروم کا بھی حق ہوتا ہے) اسی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالا الہ الا اللہ فاذا قالوھا عصموا منی دماء ھم دامرالھم الابحقھا مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں اس وقت تک میں ا ن کے خلاف برسر پیکار ہوں لیکن جب وہ اس کلمہ کا اقرار کرلیں گے تو وہ میرے ہاتھوں سے اپنی جان و مال کو محفوظ کرلیں گے الایہ کہ کسی حق کی بنا پر ان کی جان یا مال پر ہاتھ ڈالا جائے ) آیت میں مذکور حق کے معنی واضح نہیں ہیں بلکہ اس کے معنی شریعت کی طرف سے آمدہ بیان اور وضاحت پر موقوف ہیں۔ اگر قرابت سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرابت دار مراد ہوں تو ہوسکتا ہے کہ حق سے مراد ان کا وہ حق ہے جو انہیں مال غنیمت کے خمس میں سے ملتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حق سے صلہ رحمی کا حق مراد ہو۔ آیت زیر بحث میں مذکور رشتہ داروں کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس اور حسن بصری کا قول ہے کہ اس سے ہر انسا ن کے رشتہ دار مراد ہیں۔ علی بن الحسین سے مروی ہے کہ اس سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتہ دار مراد ہیں۔ ایک قول کے مطابق پہلی تفسیر ہی درست ہے اس لئے کہ والدین کے ذکر کے ساتھ قربات داروں کا ذکر متصلاً ہوا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم تمام لوگوں کے لئے عام ہے اسی طرح اس پر عطف ہونے والا حکم یعنی رشتہ داروں کو ان کا حق دینا بھی تمام لوگوں کے لئے عام ہوگا۔- مسکین اور مسافر کا حق - قول باری ہے (والمسکین وابن السبیل اور مسکین کو اور مسافر کو) ہوسکتا ہے کہ اس سے صدقات واجبہ مراد ہوں جن کا ذکر اس قول باری میں آیا ہے (انما الصدقات للفقرآء والمساکین) تا آخر آیت اور یہ بھی ہوسکتا ہے اس سے مراد وہ حق ہے جس کی بوقت ضرورت ادائیگی لازمی ہوتی ہے۔ ابن حمزہ نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (فی المال حق سوی الزکوۃ مال میں زکوۃ نے علاوہ بھی حق ہوتا ہے) اس موقعہ پر آپ نے یہ آیت بھی تلاوت فرمائی (لیس البر ان تولوادجو ھکم) تا آخر آیت، سفیان نے ابو الزہیم سے انہوں نے حضرت جابر سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔” ان میں بھی ایک حق ہے۔ “ صحابہ نے اس کی وضاحت چاہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (اطراق مخلھا و اعادۃ دلوھا دمنیحۃ سمیعنھا سانڈ کے ساتھ جفتی کی اجازت دینا۔ پانی لانے کے لئے اونٹ مع ڈول عاریت کے طور پر دینا اور پلا ہوا اونٹ سواری کے لئے عطا کرنا۔- فضول خرچی پر پابندی - قول باری ہے (ولا تبذر تبذیراً اور فضول خرچی نہ کرو) حضرت عبداللہ مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس نیز قتادہ سے مروی ہے کہ بےجا مال خرچ کرنے کو تبذیر کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اگر بلاوجہ ایک مد (ایک پیمانے کا نام جس کی مقدار دو یا اڑھائی رطل ہوتی ہے) بھی صرف کیا جائے تو وہ تبذیر کہلائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جو لوگ تبذیر کرنے والے پر پابندی لگانے کے قائل ہیں وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ آیت میں تبذیر کی ممانعت ہے اس لئے امام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تبذیر کرنے والے پر پابندی لگا کر اس کے مال کو ضائع ہونے سے بچا لے اور صرف اسے اتنا ہی دے جس سے اس کا خرچ پورا ہوجائے۔ امام ابوحنیفہ پابندی کے قائل نہیں ہیں اگرچہ متعلقہ شخص تبذیر کرنے والا کیوں نہ ہو۔ ان …

Al-Israa 17:26Listen in Qur'an →
27

إِنَّ ٱلْمُبَذِّرِينَ كَانُوٓا۟ إِخْوَٰنَ ٱلشَّيَٰطِينِ ۖ وَكَانَ ٱلشَّيْطَٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورًۭا

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

قول باری ہے (ان المبذرینکانوا اخوان الشیاطین، فضول خرچ لوگ شیاھین نے بھائی ہیں) اس کی تفسیر میں دو قول ہیں اول یہ کہ انہیں شیاطین کے بھائی بند اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ ایسے لوگ ان کے نقش قدم پر چلتے اور ان کے طریقوں کو اپناتے ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ جہنم کے اندر ایسے لوگوں کو شیاطین سے قریب رکھا جائے گا۔

Al-Israa 17:27Listen in Qur'an →
28

وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ٱبْتِغَآءَ رَحْمَةٍۢ مِّن رَّبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُل لَّهُمْ قَوْلًۭا مَّيْسُورًۭا

اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

سائل کو نرمی سے جواب دیا جائے - قول باری ہے (واما تعرضن عنھم ابتغآء رحمۃ من ربک ترجوھا فقل لھوق لا میسوراً اور اگر ان سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو ) اس آیت کی تفسیر میں بھی دو قول ہیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اگر ہمارے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہو اور ہم خالی ہاتھ ہوں تو ایسی حالت میں ہمیں ایک مسلمان سائل یا رشتہ دار یا مسافر کو جواب دینے کا کونسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اگر تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ تمہارے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہو اور تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے رزق کے منتظر ہو اور اس کی رحمت کے امیدوار ہو کہ اگر وہ مل جائے تو تم انہیں ضرور کچھ دو ، ایسی صورت میں تم انہیں بڑی نرمی سے جواب دے دو اور یہ کہو کہ ” اللہ رزق دے گا “ یہ تفسیر حسن بصری، مجاہد اور ابراہیم نخعی وغیرہم سے منقول ہے۔

Al-Israa 17:28Listen in Qur'an →
29

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ ٱلْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًۭا مَّحْسُورًا

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ

اخراجات میں میانہ روی ہونی چاہیے - قول باری ہے (ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتفعد ملوما محسوراً اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو) یعنی …… واللہ اعلم …… ان حقوق کی ادائیگی میں بخل سے کام نہ نوجوان کے لئے واجب ہیں۔ یہ بطور مجاز بیان ہوا ہے اور اس سے مراد تر ک انفاق ہے۔ جائز خرچ سے ایک شخص ہاتھ روک کر گویا اسے اپنی گردن سے باندھ لیتا ہے اور اس طرح اپنے مال میں سے کسی کو کچھ دے نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ نجیل انسان کو ہاتھ کی تنگی کے وصف سے موصوف کرتے تھے اور کہتے فلان جعد الکفین “ (فلاں شخص کے بازو بہت چھوٹے ہیں) اس کے بالمقابل سخی اور فیاض شخص کے لئے یہ فقرے کہے جاتے ” فلان رحب الذراع “ (فلاں شخص کے بازو بڑے کشادہ ہیں)” فلان طویل الیدین (فلاں شخص کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازواج مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا (اسرعکن بی لحاقاً اطوالکن یداً تم میں سب سے پہلے میرے پاس پہنچنے والی وہ ہے جس کے بازو سب سے زیادہ دراز ہیں) اس سے آپ نے صدقہ و خیرات کی کثرت مراد لی تھی۔ وہ ام المومنین حضرت زینب بنت حجش (رض) نکلیں، وہی سب سے بڑھ کر صدقہ و خیرات کرنے والی تھیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امہات المومنین میں سب سے پہلے ان کی وفات ہوئی تھی۔ شاعر کا قول ہے۔- وما ان کان اکثر ھم سواما ولکن کان ارحیھم ذراعاً- میرا ممدوح اگرچہ ہونے والے مویشیوں کا سب سے بڑھ کر مالک نہیں تھا لیکن اس کے بازو سب سے زیادہ کشادہ تھے۔ یعنی وہ سب سے بڑھ کر سخی اور فیاض تھا۔- قول باری ہے (ولا تیسطھا کل البسط اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو ) یعنی تمہارے ہاتھ میں جتنا مال ہے وہ سارے کا سارا خرچ نہ کر ڈالو کیونکہ تمہیں اور تمہارے اہل و عیال کو اس کی ضرورت رہے گی اگر ایسا کرو گے تو ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو گے یعنی جو مال تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا اس کی تمہیں حسرت رہے گی۔ یہ خطاب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا باقی ماندہ تمام لوگوں کو ہے۔ آپ آئندہ کے لئے کسی چیز کا ذخیرہ نہیں کرتے تھے۔ آپ فاقہ کرتے یہاں تک کہ بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لئے پیٹ سے پتھر باندھ لیتے۔ اسی طرح بعض جلیل القدر صحابہ کرام بھی اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے تھے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں کچھ نہ کہتے اس کی وجہ تھی کہ اللہ کی ذات پر انہیں پورا یقین ہوتا اور وہ بڑے روشن ضمیر ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے انفاق میں افراط سے کام لینے اور سارا مال دے دینے سے صرف ان لوگوں کو روکا ہے جن کے بارے میں یہ خطرہ ہو کہ مال خرچ کرلینے کے بعد انہیں ہمیشہ اس کا افسوس اور مال کی حسرت لاحق ہوجائے گی لیکن جو لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھتے ہوں اور ثواب عظیم کے امیدوار ہوں وہ اس آیت میں مراد نہیں ہیں۔- روایت ہے کہ ایک شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا۔ اس کے پاس انڈے کے برابر سونے کا ٹکڑا تھا۔ کہنے لگا :” اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے یہ ٹکڑا ایک کان سے دستیاب ہوا ہے، بخدا میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے یہ لے لیجیے۔” حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی یہ بات سن کر اپنا رخ دوسری طرف پھیرلیا۔ اس شخص نے دوسری مرتبہ یہی بات عرض کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اپنا رخ بدل لیا۔ جب اس نے تیسری مرتبہ یہ کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ہاتھ سے سونے کا وہ ٹکڑا لے کر اتنے زور سے پھینکا کہ اگر اس شخص کو لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا، پھر فرمایا : تم میں سے ایک شخص اپنا سارا مال میرے حوالے کرنے کے لئے لے آتا ہے اور پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا …

Al-Israa 17:29Listen in Qur'an →
30

إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرًۢا بَصِيرًۭا

بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

Explained together with ayah 29

Al-Israa 17:30Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.