وَيَدْعُ ٱلْإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلْخَيْرِ ۖ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ عَجُولًۭا
اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے
Explained together with ayah 7
سُورَةُ الإِسۡرَاءِ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 11–20 of 111
وَيَدْعُ ٱلْإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلْخَيْرِ ۖ وَكَانَ ٱلْإِنسَٰنُ عَجُولًۭا
اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے
Explained together with ayah 7
وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ ءَايَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَآ ءَايَةَ ٱلَّيْلِ وَجَعَلْنَآ ءَايَةَ ٱلنَّهَارِ مُبْصِرَةًۭ لِّتَبْتَغُوا۟ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍۢ فَصَّلْنَٰهُ تَفْصِيلًۭا
اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن۔ تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو۔ اور ہم نے ہر چیز کو (بخوبی) تفصیل کردی ہے
قول باری ہے (فمحونا ایۃ اللیل رات کی نشانی کو ہم نے نور بنادیا) یعنی ہم نے اسے اس طرح کردیا کہ وہ بےنور ہوگئی جس طرح کتاب کے لئے ہوئے الفاظ بےنور ہوتے ہیں، فقرے میں بلاغت اپنے انتہا کر پہنچی ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ ” ہم نے رات کی نشانی یعنی اس تاریکی کو مٹا دینا جو چاند کے اندر ہے۔ “
وَكُلَّ إِنسَٰنٍ أَلْزَمْنَٰهُ طَٰٓئِرَهُۥ فِى عُنُقِهِۦ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ كِتَٰبًۭا يَلْقَىٰهُ مَنشُورًا
اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بہ صورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا
قول باری ہے (وکل انسان الزمناہ طائرۃ فی عنقہ ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے) ایک قول کے مطابق طائر سے مراد ایک انسان کے اپنے عمال خیر و شر میں جس طرح عربوں کا دستور تھا کہ اگر پرندہ دائیں جانب سے آ جاتا تو اسے بربرکت سمجھتے اور نیک شگون قرار دیتے جبکہ بائیں جانب سے آنے والے پرندے کو نحوست قرار دیتے اور اس سے بدشگونی لیتے۔ اس بناء پر طائر کو خیر و شر کے لئے اسم قرار دیا گیا اور ان دونوں کے ذکر کی بجائے صرف پرندے کے ذکر پر اکتفا کیا گیا اس لئے کہ یہ لفظ دونوں باتوں پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ ہر انسان کا شگون اس کے گلے میں اس طرح آویزاں ہے جس طرح طوق اس کے گلے میں آویزاں ہا ہے اور کبھی اس سے الگ نہیں ہوتا دراصل یہ طرز بیان کسی کو نصیحت کرنے خدا کے عذاب سے ڈرانے صلاح کی دعوت دینے اور گناہ روکنے کے لئے انتہائی بلیغ ہے۔
ٱقْرَأْ كِتَٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ ٱلْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًۭا
(کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے۔ تو آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے
Explained together with ayah 13
مَّنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًۭا
جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا۔ اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے
سمعی حجت ضروری ہے - قول باری ہے (وما کنا معذبین حتی نبعت رسولاً اور ہم عذاب دینے والے نہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لئے ایک پیغام بر نہ بھیج دیں) اس کی تقیہ میں دو قول ہیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ان امور کی بنا پر جن کے اثبات کا تعلق سمعی دلائل سے ہے، عقل نسائی سے نہیں ہے اس وقت تک عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا جب تک رسول کے ذریعے سمعی حجت قائم نہ ہوجائے یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اہل حرب میں سے کوئی شخص مسلمان ہوجائے لیکن نماز، روزہ اور زکوۃ وغیرہ کے بارے میں وہ سمعی احکامات سے آگاہ نہ ہو سکے تو ان احکامات کے بارے میں علم ہوجانے کے بعد اس پر ان کی قضا لازم نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ ان عبادت کا اس پر لزوم سمعی حجت کے قیام کے بعد ہی ہوا۔- اہل قبا کے واقعہ میں سنت کا درود بھی اس کے مطابق ہے اہل قبانماز کے اندر تھے کسی نے آ کر اضلاع دی کہ قبلہ بدل گیا ہے، وہ لوگ نماز کے اندر ہی بیت اللہ کی طرف مڑ گئے لیکن انہوں نے نئے سرے سے نماز نہیں شروع کی اس لئے کہ فسخ قبلہ کی سمعی حجت سے وہ ابھی آگاہ نہیں ہوئے تھے اس لئے ان کی نماز کا وہ حصہ درست رہا جو انہوں نے پہلے ادا کرلیا تھا۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے کہ جو شخص دار الحرب میں مسلمان ہوگیا ہو لیکن اسے وجوب صلوۃ کا کوئی علم نہ ہ وتو ان نمازوں کی اس پر قضا لازم نہیں ہوگی۔- ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص دارالاسلام میں مسلمان ہوگیا ہو لیکن کسی وجہ سے نماز کی فرضیت کا علم نہ ہو سکے تو استحسان کے طور پر ان نمازوں کی قضا اس پر لازم ہوگی جبکہ قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ اس صورت کا بھی نہ ہی حکم ہونا چاہیے جو پہلی صورت کا تھا اس لئے کہ علت یعنی سمعی حجت سے عدم واقفیت یہاں بھی موجود ہے ، استحسان کی د لیل یہ ہے کہ اس نو مسلم نے مسلمانوں کو اذان و قا امت کے ساتھ مساجد میں نماز ادا کرتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا یہی چیز اسے نماز کی طرف بلانے کا سبب ہے اس لئے اس کی حیثیت یہ ہوگی کہ گویا اس کے لئے وجوب صلوۃ کی دلیل قائم ہوگئی اور مسلمانوں نے اسے اس کی فرضیت کے لزوم سے آگاہ کردیا اس لئے اس دلیل سے کام نہ لینے کی بنا پر ان نمازوں کی فرضیت اس سے ساقط نہیں ہوگی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک لوگوں کو ان کی جڑ کاٹ دینے والے عذاب میں مبتلا نہیں کرتا جب تک رسول کے ذریعے ان پر سمعی حجت قائم نہیں ہوجاتی۔ نیز یہ کہ عقل انسانی کے رو سے واجب ہونے والے احکامات کی خلاف ورزی کی بنا پر اللہ کے حکم میں جڑ کاٹ ڈالنے والا عذاب واجب نہیں ہوتا جب تک رسول کے ذریعے سمعی حجت قائم نہیں ہوجاتی۔
وَإِذَآ أَرَدْنَآ أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا۟ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا ٱلْقَوْلُ فَدَمَّرْنَٰهَا تَدْمِيرًۭا
اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے۔ پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا۔ اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا
راہنمائوں کی اکثریت فاسق ہوجائے تو عذاب الٰہی آتا ہے - قول باری (واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا متردیھا فصسقوا فیھا جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، سعید کا قول ہے کہ انہیں طاعت کا حکم ملتا ہے لیکن وہ نافرمانیوں پر اتر آتے ہیں عبداللہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی قبیلہ کے افراد کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے تو ہم کہتے کہ اب اس کی شامت آنے والی ہے حسن، ابن سیرین اور ابو العالیہ نیز عکرمہ اور مجاہد سے (امرنا) بمنی اکثرناً (ہم نے تعداد بڑھا دی) مروی ہے۔ اس تفسیر کی بنا پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ” جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بستی والوں کی نافرمانیوں سے پہلے انہیں ہلاک کرنے کا ارادہ الٰہی وجود میں آ جاتا ہے۔ اس لئے کہ کسی بستی کو ہلاک کرنا دراصل اللہ کی طرف سے دی جانے والی سزا کی ایک صورت ہوتی ہے اور نافرمانی نہ کرنے والوں کو ہلاک کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔- اس کی مثال یہ قول باری ہے (جداراً یرید ان ینقض ایک دیوار جو گراہی چاہتی تھی ، اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ گرنے کا ارادہ وجود میں آگیا تھا بلکہ مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ جلد ہی گر جانے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش حالی لوگوں کا خصوصیت سے اس لئے ذکر فرمایا کہ یہی لوگ سرداران قوم ہوتے ہیں اور باقی ماندہ لوگ ان کے پیروکاروں کا درجہ رکھتے ہیں جس طرح فرعنہ مصر میں سے ہر فرعون اپنی قوم کا سردار ہوتا اور قوم اس کی پیروکار ہوتی یا جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیصر روم کو دعوت نامہ تحریر کرتے ہوئے لکھا تھا (العلم والا فعلیک اثم الاریسین) اسلام لے آئو ورنہ تم پر تمام کاشتکاروں کا گناہ لازم آئے گا ) اسی طرح آپ نے کسریٰ کو نامہ تحریر فرمایا (فان لم تسلم فعلیک اثم الا کارین۔ اگر تم اسلام نہ لائے تو تمام کسانوں کا گناہ تمہارے سر ہوگا)
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ ٱلْقُرُونِ مِنۢ بَعْدِ نُوحٍۢ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًۢا بَصِيرًۭا
اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی اُمتوں کو ہلاک کر ڈالا۔ اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے
قرن کسے کہتے ہیں ؟- قول باری ہے (وکم اھلکنا من اقرون من بعد نوح دیکھ لو کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوح کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں) حضرت عبداللہ بن ابی ادنٰی سے مروی ہے کہ قرن ایک سو بیس برس کو کہتے ہیں۔ محمد بن القاسم المازنی کا قول ہے کہ سو سال کو ایک قرن کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق دن چالیس برسوں کا ہوتا ہے۔
مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصْلَىٰهَا مَذْمُومًۭا مَّدْحُورًۭا
جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا
خد ا اپنی مرضی سے جتنا چاہے طالبان دنیا کو نوازتا ہے - قول باری ہے (من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشاء لمن نرید جو عاجلہ کا خواہشمند ہو اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں) عاجلہ سے مراد دنیا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (کلا بل تحبون العاجلۃ وتذرون الاخرۃ) ہرگز ایسا نہیں، اصل یہ ہے کہ تم دنیا سے تو محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑے ہوئے ہو) اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ جس شخص کی ساری تگ و دو دنیا کی طلب تک محدود ہو اور اس کے دل میں آخرت کی نہ کوئی فکر ہو اور نہ چاہت اسے یہیں جتنا وہ چاہے مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سے دینے کو دو باتوں کے ساتھ معلق کردیا ہے۔ ایک پر یہ قول دلالت کرتا ہے (عجلنا لہ فیھا ھا نشآء) اسی بنا پر دی جانے والی چیز میں (ما نساء) کے ذریعے استثناء کردیا جو اس چیز کی مقدار، اس کی جنس اور اس کے دوام یا انقطاع کو متضمن ہے پھر اس پر ایک اور استثنا داخل کرتی ہوئے فرمایا (لمن نرید) یعنی حصول دنیا کی کوششیں کرنے والے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ دنیا نہیں دیتا بلکہ ان میں سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے، اسی لئے درج بالا قول کے ذریعے دنیا پانے والوں کے اندر بھی استثناء کردیا ۔- اس طرح طالبان دنیا کو دنیا دینے کے سلسلے میں دو استثنائوں کا ذکر فرمایا تاکہ دنیا کے طلبگار اس بھروسے پر نہ بیٹھے رہیں کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں انہیں ضرور بالضرور دنیا مل کر ہی رہے گی۔ پھر فرمایا (ومن ادادا الآخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مرمن فاولئک کان سعیھم مشکوراً اور جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لئے سعی کرے جیسی کہ اس کے لئے سعی کرنی چاہیے اور ہو وہ مومن تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کوئی استثناء نہیں کیا۔ درست طریقے سے سعی کرنے کے بعد طالبان آخرت کی جزاء کے لئے کسی اسثناء نہیں کیا۔ درست طریقے سے سعی کرنے کے بعد طالبان آخرت کی جزاء کے لئے کسی استثناء کی ضرورت نہیں رہی تاہم آخرت کی سعی کے لئے یہ شرط ضرور لگا دی گئی کہ سعی کرنے والا مومن ہو اور اس کے پیش نظر آخرت کا ثواب ہو۔- جنت میں داخلہ تین باتوں سے مشروط ہے - محمد بن عجلان کا قول ہے کہ جس شخص کے اندر تین باتیں نہیں ہوں گی وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا اول درست نیت، دوم سچا ایمان اور سوم صحیح عمل۔ “ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ تینوں باتیں کہاں سے اخذ کی ہیں۔ انہوں نے جواب میں فرمایا، اللہ کی کتاب سے، ارشاد ربانی ہے (ومن ارادا الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن) اللہ تعالیٰ نے ثواب کے استحقاق کے سلسلے میں آخرت کے لئے سعی کو چند اوصاف کے ساتھ معلق کردیا اور مقصود کے اندر کسی چیز کا استثناء نہیں کیا دوسری طرف طلب دنیا کو کسی وصف کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ اسے مطلق رہنے دیا لیکن دنیا میں سے حاصل ہونے والی چیز اور دنیا حاصل کرنے والوں کے سلسلے میں دو استثنائوں کا ذکر فرمایا۔
وَمَنْ أَرَادَ ٱلْءَاخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَأُو۟لَٰٓئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًۭا
اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہوا اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے
Explained together with ayah 18
كُلًّۭا نُّمِدُّ هَٰٓؤُلَآءِ وَهَٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا
ہم اُن کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں
دنیا میں سامان زیست مومن و کافر سب کو نصیب ہے - قول باری ہے (کلا نمد ھولآء وھو لاء من عطاء ربک ان کو بھی اور انکو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیئے جا رہے ہیں یہ تیرے رب کا عطیہ ہے) دنیا کے خواہشمند اور آخرت کے طلبگار کا ذکر پہلے گزر چکا اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے ارادہ اور قصد کے نتیجے میں جو کچھ ملنے والا ہے اس کا حکم بھی بیان ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا کہ دنیا میں اس کی نعمتیں نیکو کار اور بدکار دونوں تک پھیلی ہوئی ہیں البتہ آخرت میں یہ نعمتیں صرف نیکو کاروں کے لئے مخصوص ہوں گی ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ شمس و قمر ، ارض و سماء اور ان کے فوائد، آب و ہوا ، نباتات و حیوانات، غذائیں و دوائیں، جسمانی صحت و دعا فیت غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں کا دائرہ نیکو کاروں اور بدکاروں سب تک وسیع ہے۔
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.