Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 61–70 of 128

61

وَلَوْ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَآبَّةٍۢ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں

Explained together with ayah 14

62

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ ٱلْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلْحُسْنَىٰ ۖ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفْرَطُونَ

اور یہ خدا کے لیے ایسی چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے

Explained together with ayah 14

63

تَٱللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے عذاب الیم ہے

Explained together with ayah 14

64

وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِى ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۙ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لیے جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تم اس کا فیصلہ کردو۔ اور (یہ) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

Explained together with ayah 14

65

وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَسْمَعُونَ

اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بےشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانی ہے

Explained together with ayah 14

66

وَإِنَّ لَكُمْ فِى ٱلْأَنْعَٰمِ لَعِبْرَةًۭ ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِى بُطُونِهِۦ مِنۢ بَيْنِ فَرْثٍۢ وَدَمٍۢ لَّبَنًا خَالِصًۭا سَآئِغًۭا لِّلشَّٰرِبِينَ

اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے

جانوروں کے دودھ کے بارے میں - قول باری ہے (نسقیکم مما فی بطونہ من بین فرس ودم لبنا خالصا سائقا للثاربین۔ ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں یعنی خالص دودھ جو پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے) آیت میں مردہ بکری سے نکالے ہوئے دودھ کی طہارت پر دو وجوہ سے دلالت موجود ہے۔ اول دودھ کی اباحت میں لفظ کا عموم جس میں زندہ حالت میں جانور سے نکالے ہوئے دودھ اور مردہ حالت میں نکالے ہوئے دودھ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس دودھ کی طہارت کا حکم لگا دیا حالانکہ دودھ پیدا ہونے کی جگہ وہی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پیدا ہونے کی جگہ کی نجاست کی وجہ سے دودھ نجس نہیں ہوتا۔ مردہ جانور کا تھن اس کی جائے پیدائش ہے۔ اس کی وجہ سے دودھ اسی طرح نجس نہیں ہوتا جس طرح گوبر اور خون کی مجاورت اور پڑوس کی بنا پر نجس نہیں ہوتا۔

67

وَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلْأَعْنَٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًۭا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

سکر یعنی نشہ آور مشروب - قول باری ہے (ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکراو رزقا حسنا) ۔- اسی طرح کھجور کے درختوں اور انگور کے بیلوں سے بھی جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی) آیت میں وارد لفظ سکر کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حسن اور سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ دونوں نے فرمایا کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں میں سے حاصل ہونے والا رس اور شیرہ اگر حرام ہے تو وہ سکر کہلائے گا اور اگر حلال ہے تو وہ رزق حسن ہوگا۔ ابراہیم نخعی، شعبی اور ابو رزین سے مروی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں۔ جریر نے مغیرہ سے انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں۔ ابن شرمہ نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے روایت کی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں لیکن یہ شراب کھجور کی ہوتی ہے۔ ان حضرات کا قول ہے کہ شراب کی تحریم کی بنا پر اس کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد الوسطی نے روایت بیان کی۔ انہوں نے جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابو عبیدہ نے۔ انہیں عبد الرحمن نے سفیان سے، انہوں نے اسود بن قیس سے، انہوں نے عمرو بن سفیان سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ آپ نے فرمایا اس سے مراد ان دونوں درختوں کے پھلوں کی وہ صورت ہے جو حرام کردی گئی ہے اور پھلوں کی وہ صورت جو حلال ہے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ قول بھی پہلے حضرات کے قول کی طرح ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبیہ نے، انہیں حجاج نے ابن جریح اور عثمان بن عطاء خراسانی سے اور ان دونوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ آپ نے قول باری (تتخذون منہ سکرا) کی تفسیر میں فرمایا۔ ” سکر نبیذ کو کہتے ہیں اور رزق حسن زبیب یعنی متقی کو “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب سلف نے سکر کی تفسیر شراب، نبی د اور حرام مشروب سے کی تو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سکر کا اسم ان تمام پر واقع ہوتا ہے۔ پھر سلف کا یہ کہنا کہ تحریم خمر کے حکم کی بنا پر اس کا حکم منسوخ ہوچکا ہے اس پر دلالت کرتا ہے آیت سکر کی اباحت کی مقتضی ہے جس میں شراب اور نبیذ دونوں داخل ہیں۔ البتہ ان دونوں میں سے شراب کی حرمت ثابت ہوگئی ہے لیکن نبیذ کی تحریم ثابت نہیں ہے۔ اس لئے ظاہر آیت کی بنا پر نبیذ کی حلت واجب ہے۔ اس لئے کہ اس حکم کا نسخ ثابت نہیں ہے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تحریم خمر کے حکم کی بنا پر نبیذ کی حلت کا حکم بھی منسوخ ہوچکا ہے اس کا یہ دعویٰ دلالت شرعیہ کے بغیر درست نہیں ہوسکتا اس لئے کہ خمرہ اسم نبیذ کو شامل نہیں ہوتا۔ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ” سکر عجمیوں کی شرابوں کا نام ہے اور رزق حسن اس مشروب کا نام ہے جسے لوگ نبیذ کی صورت میں بناتے ہیں نیز سرکے کا نام ہے جسے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یہ آیت نازل ہوئی اور شراب حرام نہیں ہوئی۔ شراب کی حرمت کا حکم تو سورة مائدہ میں آیا ہے۔ “ امام ابو یوسف نے روایت بیان کی ہے۔ انہیں ایوب بن جابر الحنفی نے اشعث بن سلیمان سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل (رض) سے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ لوگوں کو نشہ آور مشروب یعنی سکر سے روکیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اس حرام سکر سے نقیع تم مراد ہے یعنی خشک کھجور کی شراب جو پانی میں بھگو کر بنائی جاتی ہے۔

68

وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى ٱلنَّحْلِ أَنِ ٱتَّخِذِى مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًۭا وَمِنَ ٱلشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا

Explained together with ayah 67

69

ثُمَّ كُلِى مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسْلُكِى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًۭا ۚ يَخْرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٌۭ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٌۭ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے

شہد شفا ہے - قول باری ہے (یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ فی شفا للناس۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے) اس میں شہد کی طہارت کا بیان ہے جب کہ یہ بات واضح ہے کہ شہد میں مردہ مکھیاں اور ان کے انڈے بچے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی طہارت کا حکم لگا دیا نیز یہ بتادیا کہ اس میں لوگوں کے لئے شفا کا سامان ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہر ایسا جانور جس کے اندرخون نہ ہو اگر وہ پاک چیز میں مرجائے تو اس سے وہ چیز خراب اور ناپاک نہیں ہوتی۔

70

وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّىٰكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرْذَلِ ٱلْعُمُرِ لِكَىْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍۢ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۭ قَدِيرٌۭ

اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

Explained together with ayah 69

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.