Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 41–50 of 128

41

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَلَأَجْرُ ٱلْءَاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے

اکثر مفسرین نے اس آیت کو ان 80 صحابہ سے متعلق مانا ہے جو مکہ میں مخالفین اسلام کی زیادتیوں کا نشانہ بن رہے تھے اور بالآخر اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے مکی دور میں پیش آیا۔

حق کے معاملہ میں ہمیشہ دو گروہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حق کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ اس کی خاطر ملی ہوئی چیزوں کو چھوڑیں یا اپنی زندگی کا نقشہ بدلیں۔ دوسرے وہ لوگ جو حق کو اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ وہی ان کے نزدیک سب سے اہم چیز بن جاتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر تکلیف کو سہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ حق کو اپنا اہم ترین مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ہر دوسری چیز کو چھوڑ سکتے ہیں مگر حق کو نہیں چھوڑ سکتے۔

ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے گروہوں کا انجام یکساں نہیںہوسکتا۔ جن لوگوں نے حق کو اپنی زندگی میں اہم ترین مقام دیا وہ خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق ٹھہریںگے۔ اور جن لوگوں نے حق کو نظر انداز کیا انھیں خدا بھی نظر انداز کردے گا۔ وہ خدا کے یہاں کوئی عزت کا مقام نہیں پاسکتے اور نہ وہ خدا کی نعمتوں میں حصہ دار بن سکتے۔

42

ٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

اکثر مفسرین نے اس آیت کو ان 80 صحابہ سے متعلق مانا ہے جو مکہ میں مخالفین اسلام کی زیادتیوں کا نشانہ بن رہے تھے اور بالآخر اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے مکی دور میں پیش آیا۔

حق کے معاملہ میں ہمیشہ دو گروہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حق کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ اس کی خاطر ملی ہوئی چیزوں کو چھوڑیں یا اپنی زندگی کا نقشہ بدلیں۔ دوسرے وہ لوگ جو حق کو اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ وہی ان کے نزدیک سب سے اہم چیز بن جاتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر تکلیف کو سہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ حق کو اپنا اہم ترین مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ہر دوسری چیز کو چھوڑ سکتے ہیں مگر حق کو نہیں چھوڑ سکتے۔

ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے گروہوں کا انجام یکساں نہیںہوسکتا۔ جن لوگوں نے حق کو اپنی زندگی میں اہم ترین مقام دیا وہ خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق ٹھہریںگے۔ اور جن لوگوں نے حق کو نظر انداز کیا انھیں خدا بھی نظر انداز کردے گا۔ وہ خدا کے یہاں کوئی عزت کا مقام نہیں پاسکتے اور نہ وہ خدا کی نعمتوں میں حصہ دار بن سکتے۔

43

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۚ فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو

’’اہل علم‘‘ سے مراد یہاں اہل کتاب ہیں۔ یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھتے ہیں۔ جو چیز ان سے پوچھنے کے لیے فرمائی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ بلکہ یہ کہ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے وہ انسان تھے یا غیر انسان۔ مکہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انسان ہونے کو اس بات کی دلیل بناتے تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر نہیں ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ جن قوموں میں اس سے پہلے پیغمبر آتے رہے ہیں (مثلاً یہود)، ان سے پوچھ کر معلوم کرلو کہ ان کے یہاں جو پیغمبر آئے وہ انسان تھے یا فرشتے۔

پیغمبر صرف ’’یاد دہانی‘‘ کے لیے آتا ہے، یہ یاد دہانی اصلاً دلائل کے ذریعہ ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اپنے آپ کو اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ثابت کرے۔ اگر ایک شخص لوگوں کو جنت اور جہنم سے باخبر کرے اور اسی کے ساتھ وہ ایسے کاموں میں مشغول ہوجو جنت اور جہنم کے معاملہ میں اس کو غیر سنجیدہ ثابت کرتے ہوں تو اس کا دعوتی کام لوگوں کی نظر میں مذاق بن کر رہ جائے گا۔

تاہم دعوت خواہ کتنے ہی اعلیٰ درجہ پر او رکتنے ہی کامل انداز میں پیش کردی جائے اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو خود بھی اس پردھیان دیں۔ جو لوگ دھیان نہ دیں وہ کسی بھی حالت میں دعوت حق سے فیض ياب نہیں ہوسکتے۔

44

بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

(اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو اور تاکہ وہ غور کریں

’’اہل علم‘‘ سے مراد یہاں اہل کتاب ہیں۔ یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھتے ہیں۔ جو چیز ان سے پوچھنے کے لیے فرمائی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ بلکہ یہ کہ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے وہ انسان تھے یا غیر انسان۔ مکہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انسان ہونے کو اس بات کی دلیل بناتے تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر نہیں ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ جن قوموں میں اس سے پہلے پیغمبر آتے رہے ہیں (مثلاً یہود)، ان سے پوچھ کر معلوم کرلو کہ ان کے یہاں جو پیغمبر آئے وہ انسان تھے یا فرشتے۔

پیغمبر صرف ’’یاد دہانی‘‘ کے لیے آتا ہے، یہ یاد دہانی اصلاً دلائل کے ذریعہ ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اپنے آپ کو اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ثابت کرے۔ اگر ایک شخص لوگوں کو جنت اور جہنم سے باخبر کرے اور اسی کے ساتھ وہ ایسے کاموں میں مشغول ہوجو جنت اور جہنم کے معاملہ میں اس کو غیر سنجیدہ ثابت کرتے ہوں تو اس کا دعوتی کام لوگوں کی نظر میں مذاق بن کر رہ جائے گا۔

تاہم دعوت خواہ کتنے ہی اعلیٰ درجہ پر او رکتنے ہی کامل انداز میں پیش کردی جائے اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو خود بھی اس پردھیان دیں۔ جو لوگ دھیان نہ دیں وہ کسی بھی حالت میں دعوت حق سے فیض ياب نہیں ہوسکتے۔

45

أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخْسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ

کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بےخوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آجائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو

یہ آیت مکی دور کے آخری زمانہ کی ہے جب کہ مکہ کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازشیں کررہے تھے۔ پیغمبر خدا کی زمین پر خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے پیغمبر کے خلاف اس قسم کی سازش کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی پکڑ سے بالکل بے خوف ہوچکے ہوں۔

حالاں کہ خدا انسان کے اوپر اتنا زیادہ قابو یافتہ ہے کہ وہ چاہے تو انسان کو زمین میں دھنسا دے یا جس مقام کو آدمی اپنے لیے محفوظ سمجھے ہوئے ہے وہیں سے اس کے لیے ایک عذاب پھٹ پڑے۔ یا خدا ایسا کرے کہ لوگوں کی سرگرمیوں کے دوران انھیں پکڑ لے، پھر وہ اپنے آپ کو اس سے بچا نہ سکیں۔ خدا یہ بھی کرسکتا ہے کہ وہ اس طرح انھیں پکڑے کہ وہ خطرے کو محسوس کررہے ہوں اور اس کے لیے پوری طرح بیدار ہوں۔

غرض خدا ہر حالت میں انسان کو پکڑ سکتاہے۔ اگر وہ لوگوں کو شرارتیں کرتے دیکھتاہے اور اس کے باوجود وہ ان کو نہیں پکڑتا تو لوگوں کو بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس کی مصلحت امتحان ہے، نہ کہ اس کا عجز۔

46

أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

یہ آیت مکی دور کے آخری زمانہ کی ہے جب کہ مکہ کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازشیں کررہے تھے۔ پیغمبر خدا کی زمین پر خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے پیغمبر کے خلاف اس قسم کی سازش کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی پکڑ سے بالکل بے خوف ہوچکے ہوں۔

حالاں کہ خدا انسان کے اوپر اتنا زیادہ قابو یافتہ ہے کہ وہ چاہے تو انسان کو زمین میں دھنسا دے یا جس مقام کو آدمی اپنے لیے محفوظ سمجھے ہوئے ہے وہیں سے اس کے لیے ایک عذاب پھٹ پڑے۔ یا خدا ایسا کرے کہ لوگوں کی سرگرمیوں کے دوران انھیں پکڑ لے، پھر وہ اپنے آپ کو اس سے بچا نہ سکیں۔ خدا یہ بھی کرسکتا ہے کہ وہ اس طرح انھیں پکڑے کہ وہ خطرے کو محسوس کررہے ہوں اور اس کے لیے پوری طرح بیدار ہوں۔

غرض خدا ہر حالت میں انسان کو پکڑ سکتاہے۔ اگر وہ لوگوں کو شرارتیں کرتے دیکھتاہے اور اس کے باوجود وہ ان کو نہیں پکڑتا تو لوگوں کو بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس کی مصلحت امتحان ہے، نہ کہ اس کا عجز۔

47

أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍۢ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌ

یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے۔ بےشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے

یہ آیت مکی دور کے آخری زمانہ کی ہے جب کہ مکہ کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازشیں کررہے تھے۔ پیغمبر خدا کی زمین پر خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے پیغمبر کے خلاف اس قسم کی سازش کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی پکڑ سے بالکل بے خوف ہوچکے ہوں۔

حالاں کہ خدا انسان کے اوپر اتنا زیادہ قابو یافتہ ہے کہ وہ چاہے تو انسان کو زمین میں دھنسا دے یا جس مقام کو آدمی اپنے لیے محفوظ سمجھے ہوئے ہے وہیں سے اس کے لیے ایک عذاب پھٹ پڑے۔ یا خدا ایسا کرے کہ لوگوں کی سرگرمیوں کے دوران انھیں پکڑ لے، پھر وہ اپنے آپ کو اس سے بچا نہ سکیں۔ خدا یہ بھی کرسکتا ہے کہ وہ اس طرح انھیں پکڑے کہ وہ خطرے کو محسوس کررہے ہوں اور اس کے لیے پوری طرح بیدار ہوں۔

غرض خدا ہر حالت میں انسان کو پکڑ سکتاہے۔ اگر وہ لوگوں کو شرارتیں کرتے دیکھتاہے اور اس کے باوجود وہ ان کو نہیں پکڑتا تو لوگوں کو بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس کی مصلحت امتحان ہے، نہ کہ اس کا عجز۔

48

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلَٰلُهُۥ عَنِ ٱلْيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدًۭا لِّلَّهِ وَهُمْ دَٰخِرُونَ

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں

انسان ایک ایسی دنیا میں سرکشی کرتاہے، جس میں اس کے چاروں طرف اس کو تابعداری کا سبق دیا جارہا ہے۔ مثال کے طورپر مادی اجسام کے سائے۔ ایک چیز جو کھڑی ہوئی ہو، اس کا سایہ زمین پر پڑ جاتا ہے۔ اس طرح وہ سجدہ کو ممثل کررہا ہے۔ وہ تمثیلی انداز میں بتاتاہے کہ انسان کو کس طرح اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے۔

فرشتے اگر چہ انسان کو نظر نہیں آتے۔ مگر عظیم کائنات کا اس قدر منظم ہو کر چلنا ثابت کرتاہے کہ اس کو چلانے کے لیے خدا نے اپنے جو کارندے مقرر کيے ہیں وہ انتہائی طاقت ور ہیں۔ یہ فرشتے غیر معمولی طاقت ور ہونے کے باوجود خدا کے حد درجہ مطیع ہیں۔ اگر وہ حد درجہ مطیع نہ ہوں تو کائنات کا نظام اس درجہ صحت اور یکسانیت کے ساتھ مسلسل چلتا ہوا نظر نہ آئے۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے صحیح رویہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی اطاعت میں دے دے، وہ مکمل طورپر اس کا فرماں بردار بن جائے۔

49

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن دَآبَّةٍۢ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے

انسان ایک ایسی دنیا میں سرکشی کرتاہے، جس میں اس کے چاروں طرف اس کو تابعداری کا سبق دیا جارہا ہے۔ مثال کے طورپر مادی اجسام کے سائے۔ ایک چیز جو کھڑی ہوئی ہو، اس کا سایہ زمین پر پڑ جاتا ہے۔ اس طرح وہ سجدہ کو ممثل کررہا ہے۔ وہ تمثیلی انداز میں بتاتاہے کہ انسان کو کس طرح اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے۔

فرشتے اگر چہ انسان کو نظر نہیں آتے۔ مگر عظیم کائنات کا اس قدر منظم ہو کر چلنا ثابت کرتاہے کہ اس کو چلانے کے لیے خدا نے اپنے جو کارندے مقرر کيے ہیں وہ انتہائی طاقت ور ہیں۔ یہ فرشتے غیر معمولی طاقت ور ہونے کے باوجود خدا کے حد درجہ مطیع ہیں۔ اگر وہ حد درجہ مطیع نہ ہوں تو کائنات کا نظام اس درجہ صحت اور یکسانیت کے ساتھ مسلسل چلتا ہوا نظر نہ آئے۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے صحیح رویہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی اطاعت میں دے دے، وہ مکمل طورپر اس کا فرماں بردار بن جائے۔

50

يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩

اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں

انسان ایک ایسی دنیا میں سرکشی کرتاہے، جس میں اس کے چاروں طرف اس کو تابعداری کا سبق دیا جارہا ہے۔ مثال کے طورپر مادی اجسام کے سائے۔ ایک چیز جو کھڑی ہوئی ہو، اس کا سایہ زمین پر پڑ جاتا ہے۔ اس طرح وہ سجدہ کو ممثل کررہا ہے۔ وہ تمثیلی انداز میں بتاتاہے کہ انسان کو کس طرح اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے۔

فرشتے اگر چہ انسان کو نظر نہیں آتے۔ مگر عظیم کائنات کا اس قدر منظم ہو کر چلنا ثابت کرتاہے کہ اس کو چلانے کے لیے خدا نے اپنے جو کارندے مقرر کيے ہیں وہ انتہائی طاقت ور ہیں۔ یہ فرشتے غیر معمولی طاقت ور ہونے کے باوجود خدا کے حد درجہ مطیع ہیں۔ اگر وہ حد درجہ مطیع نہ ہوں تو کائنات کا نظام اس درجہ صحت اور یکسانیت کے ساتھ مسلسل چلتا ہوا نظر نہ آئے۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے صحیح رویہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی اطاعت میں دے دے، وہ مکمل طورپر اس کا فرماں بردار بن جائے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.