Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 111–120 of 128

111

۞ يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍۢ تُجَٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا

انسانوں کی کوئی آبادی اطمینان کی حالت میں ہو اور اس کے درمیان رزق کی فراوانی ہو۔ پھر خدا اپنے کسی بندے کو ان کے درمیان کھڑا کرے جوان کو حق کی طرف بلائے تو ایسی حالت میں ہمیشہ دو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یاتو یہ آبادی حق کو قبول کرکے مزید خدائی انعامات کی مستحق بنے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر یہ ہوتا کہ اس پر طرح طرح کے حادثات گزرتے ہیں۔ یہ حادثات اس کے حق میں خدائی عذاب نہیں ہوتے بلکہ خدائی تنبیہات ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ چوکنے ہوجائیں۔ ان کی حساسیت جاگے اور وہ خدا کے داعی کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

اگر اس قسم کی تنبیہات کار گر نہ ہوں تو دعوت کی تکمیل کے بعد دوسرا مرحلہ یہ آتا ہے کہ اس قوم کو ہلاک کردیا جائے تاکہ وہ آخرت کے عالم میں پہنچ کر اپنے ابدی انجام کو بھگتے۔

An-Nahl 16:111Listen in Qur'an →
112

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا قَرْيَةًۭ كَانَتْ ءَامِنَةًۭ مُّطْمَئِنَّةًۭ يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًۭا مِّن كُلِّ مَكَانٍۢ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا

انسانوں کی کوئی آبادی اطمینان کی حالت میں ہو اور اس کے درمیان رزق کی فراوانی ہو۔ پھر خدا اپنے کسی بندے کو ان کے درمیان کھڑا کرے جوان کو حق کی طرف بلائے تو ایسی حالت میں ہمیشہ دو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یاتو یہ آبادی حق کو قبول کرکے مزید خدائی انعامات کی مستحق بنے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر یہ ہوتا کہ اس پر طرح طرح کے حادثات گزرتے ہیں۔ یہ حادثات اس کے حق میں خدائی عذاب نہیں ہوتے بلکہ خدائی تنبیہات ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ چوکنے ہوجائیں۔ ان کی حساسیت جاگے اور وہ خدا کے داعی کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

اگر اس قسم کی تنبیہات کار گر نہ ہوں تو دعوت کی تکمیل کے بعد دوسرا مرحلہ یہ آتا ہے کہ اس قوم کو ہلاک کردیا جائے تاکہ وہ آخرت کے عالم میں پہنچ کر اپنے ابدی انجام کو بھگتے۔

An-Nahl 16:112Listen in Qur'an →
113

وَلَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَهُمْ ظَٰلِمُونَ

اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

انسانوں کی کوئی آبادی اطمینان کی حالت میں ہو اور اس کے درمیان رزق کی فراوانی ہو۔ پھر خدا اپنے کسی بندے کو ان کے درمیان کھڑا کرے جوان کو حق کی طرف بلائے تو ایسی حالت میں ہمیشہ دو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یاتو یہ آبادی حق کو قبول کرکے مزید خدائی انعامات کی مستحق بنے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر یہ ہوتا کہ اس پر طرح طرح کے حادثات گزرتے ہیں۔ یہ حادثات اس کے حق میں خدائی عذاب نہیں ہوتے بلکہ خدائی تنبیہات ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ چوکنے ہوجائیں۔ ان کی حساسیت جاگے اور وہ خدا کے داعی کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

اگر اس قسم کی تنبیہات کار گر نہ ہوں تو دعوت کی تکمیل کے بعد دوسرا مرحلہ یہ آتا ہے کہ اس قوم کو ہلاک کردیا جائے تاکہ وہ آخرت کے عالم میں پہنچ کر اپنے ابدی انجام کو بھگتے۔

An-Nahl 16:113Listen in Qur'an →
114

فَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا وَٱشْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو

اس آیت کا تعلق روز مرّہ کھانے والی چیزوں سے ہے۔ خدا نے جو قابلِ خوراک چیزیں پیدا کی ہیں، ان میں چند متعین چیزوں کو چھوڑ کر بقیہ سب انسان کے لیے حلال ہیں۔ تاہم قدیم مشرک انسان نے یہ کیا کہ خدا کی حلال کی ہوئی بہت سی غذاؤں کو بطور خود اپنے لیے حرام کرلیا۔ جدید ملحد انسان نے اس کے برعکس یہ کیا ہے کہ خدا کی حرام کی ہوئی بہت سی غذاؤں کو بطور خود اپنے لیے حلال ٹھہرا لیا۔ یہ دونوں چیزیں اس روح کی قاتل ہیں جس کو غذائی نعمتوں کے ذریعے انسان کے اندر پیدا کرنا مقصود ہے۔

غذا انسان کی تمام ضرورتوں میں سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے جس کا ہر انسان کو صبح وشام تجربہ ہوتا ہے۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ آدمی جب غذا کا استعمال کرے تو وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر کھائے اور اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔ مگر انسان نے پورے معاملہ کو الٹ دیا۔

قدیم مشرکانہ دور میں اس نے ان غذاؤں کو دیوتاؤں کے ساتھ منسوب کیا اور اس طرح ان کو خدا کے بجائے دیوتاؤں کی یاد کا ذریعہ بنا دیا۔ جدید ملحدانہ زمانہ میں یہ ہوا ہے کہ انسان نے سارے معاملہ کو اپنی لذتِ نفس کے تابع کردیا۔ اس نے خدا کی حرام غذاؤں کو بھی اپنے لیے حلال ٹھہرالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی پیداکی ہوئی چیزیں اس کے لیے صرف اپنی لذت کا دسترخوان بن کر رہ گئیں۔

مجبوری کی حالت میں اگر کوئی شخص خداکے غذائی قانون کو بدلے تو وہ ندامت کے جذبے کے تحت ایسا کرے گا، نہ کہ سرکشی کے جذبہ کہ تحت۔ اس لیے اس سے نفسیاتِ انسانی میں کوئی خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں۔

An-Nahl 16:114Listen in Qur'an →
115

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

اس آیت کا تعلق روز مرّہ کھانے والی چیزوں سے ہے۔ خدا نے جو قابلِ خوراک چیزیں پیدا کی ہیں، ان میں چند متعین چیزوں کو چھوڑ کر بقیہ سب انسان کے لیے حلال ہیں۔ تاہم قدیم مشرک انسان نے یہ کیا کہ خدا کی حلال کی ہوئی بہت سی غذاؤں کو بطور خود اپنے لیے حرام کرلیا۔ جدید ملحد انسان نے اس کے برعکس یہ کیا ہے کہ خدا کی حرام کی ہوئی بہت سی غذاؤں کو بطور خود اپنے لیے حلال ٹھہرا لیا۔ یہ دونوں چیزیں اس روح کی قاتل ہیں جس کو غذائی نعمتوں کے ذریعے انسان کے اندر پیدا کرنا مقصود ہے۔

غذا انسان کی تمام ضرورتوں میں سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے جس کا ہر انسان کو صبح وشام تجربہ ہوتا ہے۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ آدمی جب غذا کا استعمال کرے تو وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر کھائے اور اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔ مگر انسان نے پورے معاملہ کو الٹ دیا۔

قدیم مشرکانہ دور میں اس نے ان غذاؤں کو دیوتاؤں کے ساتھ منسوب کیا اور اس طرح ان کو خدا کے بجائے دیوتاؤں کی یاد کا ذریعہ بنا دیا۔ جدید ملحدانہ زمانہ میں یہ ہوا ہے کہ انسان نے سارے معاملہ کو اپنی لذتِ نفس کے تابع کردیا۔ اس نے خدا کی حرام غذاؤں کو بھی اپنے لیے حلال ٹھہرالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی پیداکی ہوئی چیزیں اس کے لیے صرف اپنی لذت کا دسترخوان بن کر رہ گئیں۔

مجبوری کی حالت میں اگر کوئی شخص خداکے غذائی قانون کو بدلے تو وہ ندامت کے جذبے کے تحت ایسا کرے گا، نہ کہ سرکشی کے جذبہ کہ تحت۔ اس لیے اس سے نفسیاتِ انسانی میں کوئی خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں۔

An-Nahl 16:115Listen in Qur'an →
116

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ ٱلْكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٌۭ وَهَٰذَا حَرَامٌۭ لِّتَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ

اور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا

اس آیت کا تعلق عام قانون سازی سے نہیں ہے بلکہ غذائی چیزوں میں حرام وحلال مقرر کرنے سے ہے۔ انسان ہمیشہ یہ کرتارہا ہے کہ وہ کھانے کی چیزوں میں بعض کو جائز اور بعض کو ناجائز ٹھہراتا ہے۔ ایسا یا تو توہمات کے تحت ہوتا ہے یا خواہشات کے تحت۔ مگر اس کو کرنے والے اس کو مذہب کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔

مذکورہ قسم کی تحریم وتحلیل کا یہ نقصان ہے کہ اس سے لوگوں میں توہم پرستی اور خواہش پرستی کا مزاج پیدا ہوتا ہے ۔ جب کہ آدمی کے لیے صحیح بات یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا پرست بن کر رہے۔

موجودہ زندگی میں امتحان کی وجہ سے انسان کو آزادی حاصل ہے۔ توہمات اور خواہشات کو اپنا دین بنانے کا موقع ملنے کی وجہ یہی آزادی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو اچانک انسان پائے گا کہ اس کے لیے ایک ہی ممکن راستہ تھا۔ یعنی خدا پرستی کو اپنا دین بنانا۔ اس کے علاوہ جن چیزوں کو اس نے اپنایا، وہ صرف امتحانی آزادی کا غلط استعمال تھا، نہ کہ اس کا کوئی جائز حق۔ اس وقت اس کو وہی سزا بھگتنی پڑے گی، جو امتحان میں ناکام ہونے والوں کے لیے مقدر ہے۔

An-Nahl 16:116Listen in Qur'an →
117

مَتَٰعٌۭ قَلِيلٌۭ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اس کے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا

اس آیت کا تعلق عام قانون سازی سے نہیں ہے بلکہ غذائی چیزوں میں حرام وحلال مقرر کرنے سے ہے۔ انسان ہمیشہ یہ کرتارہا ہے کہ وہ کھانے کی چیزوں میں بعض کو جائز اور بعض کو ناجائز ٹھہراتا ہے۔ ایسا یا تو توہمات کے تحت ہوتا ہے یا خواہشات کے تحت۔ مگر اس کو کرنے والے اس کو مذہب کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔

مذکورہ قسم کی تحریم وتحلیل کا یہ نقصان ہے کہ اس سے لوگوں میں توہم پرستی اور خواہش پرستی کا مزاج پیدا ہوتا ہے ۔ جب کہ آدمی کے لیے صحیح بات یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا پرست بن کر رہے۔

موجودہ زندگی میں امتحان کی وجہ سے انسان کو آزادی حاصل ہے۔ توہمات اور خواہشات کو اپنا دین بنانے کا موقع ملنے کی وجہ یہی آزادی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو اچانک انسان پائے گا کہ اس کے لیے ایک ہی ممکن راستہ تھا۔ یعنی خدا پرستی کو اپنا دین بنانا۔ اس کے علاوہ جن چیزوں کو اس نے اپنایا، وہ صرف امتحانی آزادی کا غلط استعمال تھا، نہ کہ اس کا کوئی جائز حق۔ اس وقت اس کو وہی سزا بھگتنی پڑے گی، جو امتحان میں ناکام ہونے والوں کے لیے مقدر ہے۔

An-Nahl 16:117Listen in Qur'an →
118

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

یہود کی مذہبی کتابوں میں بعض ایسی کھانے کی چیزیں حرام ہیں جو اسلام کی شریعت میں حرام نہیں کی گئی ہیں (النساء، 4:160 )۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ خود خدا نے دو قسم کے احکام دئے ہیں۔ یہود پر بھی اصلاً وہی غذائی چیزیں حرام ٹھیرائی گئی تھیں جو یہاں (النحل، آیت 115 ) میں مذکور ہیں۔ مگر بعد کو یہود نے خود ساختہ تصورات کے تحت کچھ جائز چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا۔ پیغمبروں کی فہمائش کے باوجود وہ اپنے اس خود ساختہ دین کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے۔

مزید یہ کہ اولاًانھوں نے خدا کے حلال کو حرام کیا اور اس طرح اپنے آپ کو ناحق مصیبتوں میں ڈالا۔ اور پھر جب وہ اس حرام پر قائم نہ رہ سکے تو عقیدۃً اس کو حرام سمجھتے ہوئے عملاً اس کواپنے لیے جائز بنالیا۔ اس طرح وہ دہرے مجرم بن گئے۔

آدمی اگر کسی خود ساختہ نظریہ کے تحت ایک جائز چیز کو اپنے لیے ناجائز بنالے اور اس کی خاطر قربانیاں دینا شروع کردے، تو یہ محض اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا، نہ کہ خدا کے راستے ميں قربانی پیش کرنا۔

An-Nahl 16:118Listen in Qur'an →
119

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے

جب برائی کے ساتھ سرکشی اور تعصب کے جذبات اكٹھا ہوجائیں تو آدمی اس سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، خواہ اس کے عمل کو غلط ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی دلائل دئے جائیں۔ مگر برائی کی دوسری قسم وہ هے جو محض نادانی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ آدمی بے خبری میں یا نفس سے مغلوب ہو کر کوئی غلطی کربیٹھتا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر عام طورپر ڈھٹائی نہیں ہوتی۔ جب دلیل سے اس پر اس کی غلطی واضح ہوجائے تو وہ فوراً پلٹ آتاہے اور دوبارہ اپنے کو صحیح رویہ پر قائم کرلیتا ہے۔

پہلی قسم کے لوگوں کے لیے معافی کا کوئی سوال نہیں۔ مگر دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ بشارت ہے کہ خداانھیں اپنی رحمتوں کے سایہ میں لے لے گا کیوں کہ وہ اپنے بندوں پر بہت زیادہ مہربان ہے۔

An-Nahl 16:119Listen in Qur'an →
120

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةًۭ قَانِتًۭا لِّلَّهِ حَنِيفًۭا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

حضرت ابراہیم کو قرآن میں خداکے مطلوب انسان کے نمونہ کے طورپر پیش کیا گیاہے۔ وہ انسانوں كے ليے نمونہ كيسے بنے۔ اس لیے کہ وہ ماحول کے بگاڑ کے علی الرغم تنہا ایمان پر قائم ہونے والے انسان تھے۔ وہ اکیلے خداکے لیے کھڑے ہوئے جب کہ اس راہ میں کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ تھا۔

حضرت ابراہیم پوری طرح اپنے آپ کو خدا کی پابندی میں دئے ہوئے تھے۔ انھوںنے عالم گیر مشرکانہ ماحول میں اپنے آپ کو توحید کے لیے یکسو کرلیا تھا۔ وہ تمام چیزوں کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھتے تھے اور ان کے لیے ان کا دل خدا کے شکر کے جذبہ سے بھرا رہتاتھا۔ حضرت ابراہیم کے اس کمالِ ایمان کی وجہ سے خدا نے ان پر اپنی ہدایت کی راہیں کھول دیں اور ان کو پیغمبری کے لیے چن لیا تاکہ وہ دنیا والوں کو خدا کے دین سے آگاہ کریں۔

حضرت ابراہیم کو دنیا کا حسنہ (بہتری) دی گئی اور آخرت کی بہتری بھی۔ یہ معلوم ہے کہ دنیا میں حضرت ابراہیم کو نہ عوام کی بھیڑ ملی، نہ اقتدار کا تخت، اور نہ اور کوئی دنیوی رونق کی چیز۔ اس کے باوجود قرآن کی یہ گواہی ہے کہ ان کو خدا کی طرف سے دنیا کی بہتری ملی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی نظر میں دنیا کی بہتری نہ عوامی مقبولیت کا نام ہے اور نہ دولت وحکومت کا۔ بلکہ دنیا کی بہتری خدا کی نظر میں اصلاً وہی چیزیں ہیں جن کو یہاں حضرت ابراہیم کی خصوصیات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

An-Nahl 16:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.