وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا۟ ٱلْأَيْمَٰنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ ٱللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے
عہد و پیمان کی حفاظت ٭٭
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ «وَلَا تَجْعَلُوا اللَّـهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا» [2-البقرۃ:224] ” اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ “۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ «ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ» [5-المائدہ:89] ” قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو “۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے، اور بخاری و مسلم کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واللہ میں جس چیز پر قسم کھالوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو ان شاءاللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔ [صحیح بخاری:6623]
تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بے حد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لیے زبان سے نکل جائیں، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اسلام میں دو جماعتوں کی آپس میں ایک رہنے کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آپس میں ہوچکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2530]
اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری والوں سے عہد و پیمان کریں کہ ہم تم ایک ہیں، راحت و رنج میں شریک ہیں وغیرہ۔ کیونکہ رشتہ اسلام تمام مسلمانوں کو ایک برادری کا حکم دیتا دیتا ہے۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں۔ بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں ۔ [صحیح بخاری:6083]
اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہو گیا۔
صفحہ نمبر4514
کہتے ہیں اس فرمان الٰہی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام کی پابندی کا اقرار کرتے تھے۔ تو انہیں فرماتا ہے کہ ایسی تاکیدی قسم اور پورے عہد کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21871:]
مسند احمد میں ہے کہ ”جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے امابعد کہہ کر فرمایا ”ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر غدار کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا ۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے۔“ [مسند احمد:48/2:صحیح]
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے …