Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 128

91

وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا۟ ٱلْأَيْمَٰنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ ٱللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے

واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم ولا تنقضوا الایمان بعد تو کیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا ان اللہ یعلم یا تفعلون (61 : 19) ” اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو ، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو۔ جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہیں۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے “۔

اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد میں مسلمانوں کی طرف سے نبی ﷺ کے ساتھ کیا ہوا عہد بھی شامل ہے ، اور وہ عہد بھی شامل ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ نیز کسی بھی انسانی سوسائٹی میں تعلقات کا قیام صرف اسی وجہ سے ہے کہ لوگ عہد کا احترام کریں۔ اس کے بغیر تو کوئی معاشرہ قائم ہی نہیں رہ سکتا۔ نہ انسانیت قائم رہ سکتی ہے۔ یہ آیت لوگوں کو اس بات پر ملامت کرتی ہے کہ وہ عہد کو پختہ باندھنے کے بعد اسے توڑیں ، حالانکہ انہوں نے اس عہد کا گواہ اور ضامن صرف اللہ کو ٹھہرایا ہے اور اللہ کے نام سے یہ عہد ہوا ، ذرا ہلکی سی تنبیہ بھی۔

ان اللہ یعلم ما تفعلون (61 : 19) ” اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے “۔

اسلام نے وفائے عہد میں بہت ہی سختی کی ہے۔ اس میں کسی بھی وقت چشم پوشی کی اجازت نہیں دی۔ اس لئے کہ وفائے عہد وہ بنیاد ہے جس پر پورا اجتماعی نظام قائم ہوتا ہے ، اس کے سوا اجتماعی نظام منہدم ہوجاتا ہے۔ اسلامی نصوص قرآن وسنت نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا کہ وفائے عہد کا حکم دے دیا جائے اور نقص عہد کے خلاف محض و عید کردی جائے بلکہ اس کی بار بار تاکید کی ہے ، اور نقص عہد کی قباحتیں بیان کی ہیں۔ ان تمام اسباب وجوہات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی وقت نقص عہد کا باعث بنیں۔

92

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّتِى نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَٰثًۭا تَتَّخِذُونَ أَيْمَٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِىَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ ۚ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ ٱللَّهُ بِهِۦ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا

قرآن کہتا ہے :

ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ انما یبلوکم اللہ بہ ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 19) ” تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہوتا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔ حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔

جو شخص عہد توڑتا ہے وہ اس بیوقوف عورت کی طرح ہے جو کمزور ہے اور ہر وقت رائے اور عزم بدل دینے والی ہے۔ بار بار سوت کا تتی ہے اور پھر اسے توڑ دیتی ہے اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھر اسے سوت بنا دیتی ہے۔ اس تمثیل کا ہر جز تعجب اور حقارت کا اظہار کرتا ہے۔ اور اس عورت کے فعل کو فعل شنیع اور قابل نفرت بناتا ہے۔ یہی اصل مقصود ہے اس تشبیہ سے۔ کوئی بھی شریف النفس انسان اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ اس صعیف الارادہ ، احمق عورت کی طرح ہوجائے جو ایسا کرتی ہو جس میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہ ہو۔

ان میں سے بعض لوگ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے کیے ہوئے عہد کو اس لئے توڑنے کی سوچ رہے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی جمعیت قلیل ہے اور وہ کمزور ہے جبکہ ان کے مقابلہ میں قریش کی جمعیت کثیر ہے۔ چناچہ ایسے لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ یہ ان کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ ایسے قسمیہ معاہدوں کو دھوکہ اور بےایمانی کا ذریعہ بنائیں اور کسی بھی وقت گردن سے اتار پھینکیں۔

تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار نہ بنائو اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر ہے “۔ یعنی اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے تعداد میں زیادہ ہے اور تمہاری مصلحت زیادہ تعداد والی امت سے وابستہ ہے۔

اس آیت کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کوئی محض اس لئے عہد کو توڑے کہ کسی ملک کے مصالح اس کا تقاضا کرتا ہوں۔ مثلاً پہلے ایک حکومت دوسری حکومت کے ساتھ یا دوسری حکومتوں کے مجموعے کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور پھر اس کو محض اس لئے توڑ دے کسی دوسری طرف اقوام کا بڑا جتھہ ہے اور اس حکومت کے مصالح اس دوسرے مجموعے کے ساتھ وابستہ ہوں۔ اسلام اس قسم کی مصلحتوں کو خاطر میں ہیں لاتا۔ اسلا چاہتا ہے کہ ہر حالت میں عہد کو وفا کیا جائے اور کسی بھی عہد کو دھوکے اور مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ شرط اس کے علاوہ ہے کہ کوئی عہد صرف نیکی اور خدا خوفی کی اساس پر ہو ، کسی غیر مستحسن اور خدا کی نافرمانی کے مقاصد کے لئے کوئی عہد سرے سے کیا ہی نہ جائے۔ اثم ، فسوق اور نافرمانی کی بنیاد پر کوئی عہد نہ کیا جائے۔ یہ بات تو ناقابل تصور ہے کہ اقوام و ملل کو لوٹنے کے لئے کوئی عہد کیا جائے۔ یہ ہے وہ اصول جس پر اسلامی جماعت کی تشکیل ہوئی اور اسلامی مملکت کی یہی پالیسی رہی۔ اس کے نتیجے میں پوری دنیا اطمینان ، اعتماد اور پاکیزگی کی دولت سے مالا مال ہوگئی۔ اسی پر مسلمان ، افراد اور امم سے معاملہ کرتے رہے جب تک کہ مسلمان جہاں کے قائد تھے۔

قرآن کریم کی یہ آیت مسلمانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کو وجہ جواز بنا کر معاہدات کو پس پشت نہ ڈالیں اور یہ کہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ کوئی شخص یا حکو مت معاہدے کو توڑنے کے لئے مجبور ہوجائے۔

ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے زیادہ ہے “۔ یہ ایک آزمائش ہے اور اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ اس طرح اللہ ان کی قوت ارادی ، ان کے جذبہ وفائے عہد اور ان کی عزت نفس کی اس ذات کے احترام کرنے میں آزمائش کرتا ہے جس کے نام پر انہوں نے یہ عہد کیا تھا۔ یعنی اس پر انہوں نے اللہ …

93

وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَلَٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَلَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا

قرآن کہتا ہے :

ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ انما یبلوکم اللہ بہ ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 19) ” تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہوتا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔ حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔

جو شخص عہد توڑتا ہے وہ اس بیوقوف عورت کی طرح ہے جو کمزور ہے اور ہر وقت رائے اور عزم بدل دینے والی ہے۔ بار بار سوت کا تتی ہے اور پھر اسے توڑ دیتی ہے اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھر اسے سوت بنا دیتی ہے۔ اس تمثیل کا ہر جز تعجب اور حقارت کا اظہار کرتا ہے۔ اور اس عورت کے فعل کو فعل شنیع اور قابل نفرت بناتا ہے۔ یہی اصل مقصود ہے اس تشبیہ سے۔ کوئی بھی شریف النفس انسان اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ اس صعیف الارادہ ، احمق عورت کی طرح ہوجائے جو ایسا کرتی ہو جس میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہ ہو۔

ان میں سے بعض لوگ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے کیے ہوئے عہد کو اس لئے توڑنے کی سوچ رہے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی جمعیت قلیل ہے اور وہ کمزور ہے جبکہ ان کے مقابلہ میں قریش کی جمعیت کثیر ہے۔ چناچہ ایسے لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ یہ ان کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ ایسے قسمیہ معاہدوں کو دھوکہ اور بےایمانی کا ذریعہ بنائیں اور کسی بھی وقت گردن سے اتار پھینکیں۔

تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار نہ بنائو اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر ہے “۔ یعنی اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے تعداد میں زیادہ ہے اور تمہاری مصلحت زیادہ تعداد والی امت سے وابستہ ہے۔

اس آیت کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کوئی محض اس لئے عہد کو توڑے کہ کسی ملک کے مصالح اس کا تقاضا کرتا ہوں۔ مثلاً پہلے ایک حکومت دوسری حکومت کے ساتھ یا دوسری حکومتوں کے مجموعے کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور پھر اس کو محض اس لئے توڑ دے کسی دوسری طرف اقوام کا بڑا جتھہ ہے اور اس حکومت کے مصالح اس دوسرے مجموعے کے ساتھ وابستہ ہوں۔ اسلام اس قسم کی مصلحتوں کو خاطر میں ہیں لاتا۔ اسلا چاہتا ہے کہ ہر حالت میں عہد کو وفا کیا جائے اور کسی بھی عہد کو دھوکے اور مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ شرط اس کے علاوہ ہے کہ کوئی عہد صرف نیکی اور خدا خوفی کی اساس پر ہو ، کسی غیر مستحسن اور خدا کی نافرمانی کے مقاصد کے لئے کوئی عہد سرے سے کیا ہی نہ جائے۔ اثم ، فسوق اور نافرمانی کی بنیاد پر کوئی عہد نہ کیا جائے۔ یہ بات تو ناقابل تصور ہے کہ اقوام و ملل کو لوٹنے کے لئے کوئی عہد کیا جائے۔ یہ ہے وہ اصول جس پر اسلامی جماعت کی تشکیل ہوئی اور اسلامی مملکت کی یہی پالیسی رہی۔ اس کے نتیجے میں پوری دنیا اطمینان ، اعتماد اور پاکیزگی کی دولت سے مالا مال ہوگئی۔ اسی پر مسلمان ، افراد اور امم سے معاملہ کرتے رہے جب تک کہ مسلمان جہاں کے قائد تھے۔

قرآن کریم کی یہ آیت مسلمانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کو وجہ جواز بنا کر معاہدات کو پس پشت نہ ڈالیں اور یہ کہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ کوئی شخص یا حکو مت معاہدے کو توڑنے کے لئے مجبور ہوجائے۔

ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے زیادہ ہے “۔ یہ ایک آزمائش ہے اور اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ اس طرح اللہ ان کی قوت ارادی ، ان کے جذبہ وفائے عہد اور ان کی عزت نفس کی اس ذات کے احترام کرنے میں آزمائش کرتا ہے جس کے نام پر انہوں نے یہ عہد کیا تھا۔ یعنی اس پر انہوں نے اللہ …

94

وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے

تشریح : قسموں کو دھوکے اور فریب کے لئے استعمال کرنے کے نتیجے میں انسانی ضمیر سے عقیدہ مر جاتا ہے اور دوسروں کے ضمیر میں اس کی صورت بگڑ جاتی ہے۔ جو شخص قسم اٹھاتا ہے اور یہ جانے ہوئے اٹھاتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ، ایسے شخص کے دل میں کوئی عقیدہ قرار نہیں پکڑ سکتا۔ نہ ایسا شخص کسی راستے پر ثابت قدمی سے چل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جن کے خلاف قسم اٹھاتا ہے ان کی نظروں میں بھی اپنے دین و ایمان کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ دوسرا فریق جان لیتا ہے کہ اس کی یہ قسمیں دھوکے کے لئے تھیں۔ یوں یہ شخص ان لوگوں کو دین اسلام سے متنفر کرکے ان کی گمرالی کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ دوسرے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے ایک بری مثال قائم کرتا ہے۔

جب لوگوں نے دیکھا کہ اہل اسلام اپنے وعدے کے بہت پکے ہیں ، عہدے کے پابند ہیں ، معاملات میں صاف ہیں اور ایمان میں مخلص ہیں تو کفار جماعتوں اور اقوام کی شکل میں اسلام میں داخل ہوگئے کیونکہ وفائے عہد اور ایفائے میثاق کے نتیجے میں ان کو جو خسارہ ہوتا تھا ، اس سے فائدہ بہت زیادہ تھا۔

قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ نے مسلمانوں کا کردار تعمیر کرتے ہوئے اس پہلو سے ان کی زندگیوں پر بہت ہی اچھے نقوش چھوڑے اور انہی نقوش کے مطابق مسلمان انفرادی طور اور حکومتی سطح پر لوگوں سے معاملات کرتے رہے۔ ان کا یہ طرز عمل نہایت ہی امتیازی تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت معاویہ اور شاہ روم کے درمیان معاہدہ امن کا ایک وقت مقرر تھا۔ حضرت معاویہ نے اختتام اجل سے پہلے ہی شاہ شام کے خلاف لشکر کشی کردی جبکہ ان کو معلوم ہی نہ تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر ابن عتبہ نے فرمایا اللہ اکبر ، یا معاویہ ، وعدے کی وفا کرو ، غداری مت کرو ، میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے ” جس شخص اور کسی قوم کے درمیان ایک میعاد امن مقرر ہو ، تو وہ اپنے اس عہد کو ہر گز حلال نہ کرے جب تک وقت گزر نہ جائے۔ چناچہ حضرت معاویہ لشکر لے کر واپس ہوگئے۔ اسلامی تاریخ ایسی روایات سے بھری پڑی ہے کہ مسلمانوں نے نقص عہد میں صریح فائدے کے باوجود عہد کا پاس رکھا اور ظاہری مصلحتوں کو چھوڑ دیا۔

قرآن کریم نے مسلمانوں کے دلوں پر یہی اسلامی رنگ چڑھا دیا تھا۔ قرآن نے وفائے عہد کی ترغیب دی ، عہد شکنی سے ڈرایا۔ حضور ﷺ نے لوگوں کو ڈرایا اور یہ قرار دیا ہے کہ فریقین ہی معاہدے کے فریق نہیں ہوتے بلکہ اللہ بھی فریق ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے یہ قرار دیا کہ عہد شکنی کی صورت میں جو نفع ہوتا ہے وہ نہایت ہی معمولی اور حقیر ہوتا ہے اور اللہ وفائے عہد پر جو اجر اور انعام دے گا وہ بہت ہی بڑا انعام ہوگا۔

95

وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۚ إِنَّمَا عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو۔ (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے

ولا تشروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا انما عند اللہ ھو خیر لکم ان کنتم تعلمون (61 : 59) ” اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے بیچ نہ ڈالو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ، اگر تم جانو “۔ پھر قرآن کریم یاد دلاتا ہے کہ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے ، اگرچہ وہ ان کی ملکیت ہو ، وہ زائل ہونے والا ہے اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔

96

مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍۢ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق (61 : 59) ” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہی باقی رہنے والا ہے “۔ قرآن کریم وفائے عہد کے لئے لوگوں کے عزم کو قوت دیتا ہے اور وفائے عہد کی راہ میں تکالیف اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے اور ان تکالیف پر صبر کرنے والوں کے ساتھ اجر حسن کا وعدہ کرتا ہے۔

ولنجرزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون (61 : 69) ” اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر ، ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے “ ۔ اور اس سلسلے میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں ان کو معاف کردیں گے۔ پس جزاء میں صرف اعمال کا اچھا پہلو ملحوظ رہے گا۔

عمل اور جزاء کی مناسبت سے یہاں عمومی ضابطہ بتا دیا جاتا ہے۔

97

مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًۭا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةًۭ طَيِّبَةًۭ ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے

چناچہ اس آیت سے درج ذیل اصول وضع ہوتے ہیں :

(1) جزاء و سزا میں انسان کے دونوں جنس مرد اور عورت ایک ہی حکم رکھتے ہیں۔ دونوں اس معاملے میں بالکل مساوی ہیں اور دونوں کی سزا وجزاء برابر ہے۔ اللہ کے ہاں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لفظ (من) اگرچہ مرد اور عورت دونوں کے لئے آتا ہے لیکن من ذکر اونثی (61 : 79) ” کا لفظ زیادہ تاکید اور وضاحت کے لئے اضافہ کردیا۔ اس سورة میں اس لفظ کو بالخصوص اس لئے بھی لایا گیا کہ اس میں عورت کے بارے میں اہل جاہلیت کے برے خیالات کی تردید بھی کی گئی تھی۔ مثلاً یہ کہ عورتوں کے بارے میں اس سوسائٹی کی رائے اچھی نہ تھی اور جس شخص کو یہ خبر ملتی کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو وہ بدررنگ ہوجاتا اور لوگوں سے چھپتا پھرتا۔ پریشانی ، شرمندگی اور عار میں مبتلا ہوتا۔

(2) ہر عمل کے لئے کسی اساس کا ہونا ضروری ہے۔ اسلام میں اعمال کے لئے ایک ہی اساس ہے ، وہ یہ کہ وھو مومن (61 : 79) ” بشرطیکہ وہ مومن ہو “ یہ ایمان کسی بھی اخلاقی عمارت کے لئے ایک پختہ اساس ہے ، اس کے بغیر کوئی عمارت تعمیر نہیں ہوسکتی۔ اس کے بغیر اعمال یونہی ہوں گے جس طرح ریت کا ڈھیر کہ جب اسے کوئی سخت آندھی لے تو ہوا میں بکھر جائے۔ عقیدہ اور نظریہ وہ چیز ہے جس کے ساتھ اعمال کی تاریں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر اعمال کے تارو پود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جاتے ہیں۔ عقیدہ اعمال صالحہ کا سبب بنتا ہے اور ان کو مقصدیت عطا کرتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ اعمال خیر یہ کو ایک ایسی اساس عطا کرتا ہے جس کی اوپر وہ سب ٹھہرے ہوتے ہیں ، مضبوط ہوتے ہیں۔ ان میں عارضی پن اور تزلزل نہیں ہوتا اور نہ مفادات اور خواہشات کے مطابق بدلتے رہے ہیں۔

قرآن کہتا ہے کہ اگر اعمال صالحہ ایمان کی اساس پر استوار ہوں تو نتائج یہ ہوں گے کہ ایسے لوگوں کو اس جہاں میں بھی حیات طیبہ عطا ہوگی۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حیات عیاشی ، خوشحالی اور دولتمندی کی زندگی ہو ، کبھی یہ بھی ہوگا کہ ایک مومن کو یہ چیزیں بھی دستیاب ہوں گی۔ اور کبھی نہ ہوں گے۔ لیکن یاد رہے کہ بعض اوقات بقدر کفایت مال کے ساتھ بھی انسان کی زندگی نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ گزرتی ہے بشرطیکہ تعلق باللہ قائم ہو ، اطمینان قلبی نصیب ہو اور اللہ پر بھروسہ اور اللہ کی رضا حاصل ہو۔ انسان کو جسمانی صحت نصیب ہو ، اس کی خواہشات میں ٹھہرائو اور اس کی ہر چیز میں برکت ہو۔ گھر کا ماحول اچھا ہو ، اور افراد خانہ کے دلوں میں محبت ہو۔ ماحول ایسا ہو کہ اس میں اعمال صالحہ ہو رہے ہوں اور ان اعمال کی وجہ سے ہر طرف زندگی میں طمانیت اور ضمیر میں سکون ہو۔ مال تو امن و سکون کا ایک معمولی عنصر ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مال بقدر کفایت ہو ورنہ وبال بن جاتا ہے۔ لیکن یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے کہ انسان کا دل پاکیزہ ، برگزیدہ اور اعلیٰ مقاصد کے ساتھ لگا ہوا ہے کہ جو اللہ کے ہاں قیمتی ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا کی حیات طیبہ آخرت کے اجر میں کوئی کمی نہیں لاتی۔ آخرت کا اجر تو ان اچھے اعمال پر ہوگا جو اہل دین نے سرانجام دئیے اور باحسن ما کانوا یعملون (61 : 79) ” سے ضمناً یہ بات نکلتی ہے کہ برے اعمال قلم زدہوجائیں گے۔ کیا اچھا سلوک ہے اور کس قدر کرم نوازی ہے ذات باری کی۔

جس کتاب کے ذریعہ مذکورہ بالا تعلیمات دی گئیں اب اس کتاب کے بارے میں چند کلمات اس کے ، آداب تلاوت اور اس کے بارے میں مشرکین کے تبصروں پر تنقید۔

98

فَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

تلاوت سے قبول اعوذ باللہ من الشطین الرجیم پڑھنا اس لئے ضروری ہے کہ تلاوت قرآن مجید سے قبل ایسی فضا تیار ہو جس میں کوئی شیطانی وسوسہ نہ ہو ، اور انسانی شعور سب کا سب اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے۔ اس میں کوئی گندہ جذبہ کارفرما نہ ہو۔ اور شیطانی شر اس سے دور ہو۔

شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔

99

إِنَّهُۥ لَيْسَ لَهُۥ سُلْطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

کہ جو مومن ہیں اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اُن پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا

انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلیٰ ربھن یتوکلون (61 : 99) ” اسے ان لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ لہٰذا جو لوگ اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ان کے دل اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں۔ شیطان ان پر غالب نہیں آسکتا اگرچہ وہ ان پر ڈورے ڈالے کیونکہ ان کا تعلق خدا کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ ان کو اس مطعون کے دام سے بچاتا ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ ساتھ ہوتے اور اللہ کے پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان سے کبھی غلطی سرزد ہوتی ہے لیکن وہ شیطان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتے۔ لہٰذا وہ تعوذ کے ذریعے شیطان کو بھگاتے رہتے ہیں اور اللہ کی طرف لوٹتے رہتے ہیں۔

100

إِنَّمَا سُلْطَٰنُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُۥ وَٱلَّذِينَ هُم بِهِۦ مُشْرِكُونَ

اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں

انما سلطنۃ علی الذین یتولونہ (61 : 001) ” اس کا زور تو انہی لوگو پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں “۔ وہ اس کو اپنا دوست بناتے ہیں ، وہ اس کے سامنے جھکتے ہیں اور اس کی خواہشات و میلانات کو پورا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ شرک کرتے ہیں۔ آج بھی بعض اقوام میں شیطان کی بندگی اور ” اللہ شر “ کی بندگی کا رواج موجود ہے۔ محض شیطان کی اتباع کرنا اور اس سے دوستی کرنا بھی ایک نوع کا شرک ہے۔

اب قرآن کے بارے میں مشرکین کے اقاویل اور جواب۔

An-Nahl 16:100Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.