Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 91–100 of 128

91

وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا۟ ٱلْأَيْمَٰنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ ٱللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے

عہد کو پورا کرنے کا بیان - قول باری ہے (واوفوا بعھم اللہ اذا عاھد تم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا ) اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ عہد کے کئی معانی ہیں۔ عہد کبھی امر کے معنوں میں آتا ہے ۔ چناچہ قول باری ہے (ولد عدنا الی ادم من قبل اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو امر کیا تھا) نیز ارشاد ہے (الم اعھد الیکم یا بنی ادم اے اولاد آدم کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا) مراد یہ ہے کہ ” میں نے امر کیا تھا۔ “ کبھی یمین اور قسم کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آیت زیر بحث واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ اس مقام پر عہد سے یمین مراد ہے۔ اس لئے کہ ارشاد باری ہے صولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا) اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ” علی عھد اللہ ان فعلت کذا) وہ گویا قسم کھا لیتا ہے۔- حضرت حذیفہ کی روایت میں ذکر ہے کہ جب مشرکین نے انہیں اور ان کے والد کو گرفتار کرلیا اور پھر ان دونوں سے اللہ کے نام پر یہ عہد لے لیا کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ پھر ان دونوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ ” تم مشرکین کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرو گے اور ان کے خلاف اللہ سے استعانت کے طلبگار نہیں بنو گے۔ “ عطاء بن ابی رباح حسن بصری، ابن یسرین، عامر، ابراہیم نخعی اور مجاہد سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے ” علی عہد اللہ ان فعلت کذا تو یہ قسم ہوگی۔

92

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّتِى نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَٰثًۭا تَتَّخِذُونَ أَيْمَٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِىَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ ۚ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ ٱللَّهُ بِهِۦ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا

قول باری ہے (ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قو ۃ انکاتاً تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا) آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو تقرب الٰہی کی نیت سے اپنے اوپر کوئی نیکی اور عبادت لازم کرلے اور پھر اسے فسخ کر کے پورا نہ کرے اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اون یا کسی قسم کی کوئی اور شے کات کر دھاگا بنائے اور پھر اسے اچھی طرح کات لینے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کو ڈالے۔ قول باری (من بعد قوۃ) کا یہی مفہوم ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ مضبوطی کے ساتھ سوت یا اون کاتنے کا نام دیتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرے یا کوئی عبادت واجب کرلے یا اسے شروع کرلے اور پھر اسے مکمل نہ کرے تو اس کی حالت اس عورت کی طرح ہوجائے گی جو محنت اور مضبوطی سے سوت یا اون کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی ہے۔ یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ جو شخص نفل نماز یا نفلی روزہ یا اسی قسم کی کوئی عبادت شروع کردے تو اسے مکمل کرنے سے پہلے اسے چھوڑ دینا جائز نہیں ہوگا ورنہ اس کی حیثیت اس عورت جیسی ہوجائے گی جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

93

وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَلَٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَلَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا

Explained together with ayah 92

94

وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا۟ ٱلسُّوٓءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے

Explained together with ayah 92

95

وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۚ إِنَّمَا عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو۔ (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے

Explained together with ayah 92

96

مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍۢ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

Explained together with ayah 92

97

مَنْ عَمِلَ صَٰلِحًۭا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةًۭ طَيِّبَةًۭ ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے

Explained together with ayah 92

98

فَإِذَا قَرَأْتَ ٱلْقُرْءَانَ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

استعاذہ کا بیان - قرآن پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے - قول باری ہے (فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو) عمرو بن مرہ نے عباد بن عاصم سے، انہوں نے نافع بن جبیربن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز شروع کرتے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنا تھا (اللھم اعوذ بک من الشیطان من ھمزہ و نفخہ و نفشہ اے اللہ میں شیطان سے ، اس کے خطرات سے ، اس کی پھونک سے اور اس کے وسوسے سے تیری پناہ میں آتا ہوں) حضرت ابو سعید خدری نے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے اندر قرأت سے پہلے تعوذ پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عمر اور حضرت ابن عمر سے قرأت سے پہلے تعوذ پڑھنا مروی ہے۔ ابن جریج نے عطاء سے روایت کی ہے کہ نماز اور غیر نماز میں قرآن کی قرأت سے پہلے تعوذ پڑھنا واجب ہے۔ محمد بن سیرین کا قول ہے کہ جب تم ایک مرتبہ تعوذ پڑھ لو یا ایک مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لو تو یہ تمہارے لئے کافی ہوگا۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ حسن بصری نماز شروع کرتے وقت سورة فاتحہ کی قرأت سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھا کرتے تھے۔- ابن سیرین سے ایک اور روایت کے مطابق منقول ہے کہ ” جب کبھی تم سورة فاتحہ پڑھو اور آمین کہو اس وقت اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بھی پڑھو۔ “ ہمارے اصحاب، سفیان ثوری، اوزاعی اور امام شافعی کا قول ہے کہ نمازی قرأت سے قبل ت عوذ پڑھے گا۔ امام مالک کا قول ہے کہ نمازی فرض نمازوں میں تعوذ نہیں پڑھے گا البتہ رمضان کے اندر قیام اللیل یعنی تراویح اور تہجد میں قرأت کرتے وقت تعوذ پڑھے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری افاذا فرأت القران فاستعذ باللہ) ظاہری طور پر اس امر کا مقتضی ہے کہ استعاذہ قرأت کے بعد وقوع پذیر ہو جس طرح یہ قول باری ہے (فاذا قضیتم الصلوۃ فازکرواللہ قیاماً و قعوداً جب تم نماز ختم کرو تو قیام وقعود کی حالت میں اللہ کا ذکر کیا کرو) لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیز سلف کے ان حضرات سے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے قرأت سے پہلے تعوذ پڑھنا ثابت ہے۔ محاورے میں اس قسم کے فقرے کا عام اطلاق ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ مفہوم ہوتا ہے ۔” اذا اروت ذلک (جب تم قرأت قرآن کا ارادہ کرو) جس طرح یہ قول باری ہے (واذا قلم فاعدلوا جب تم کہو تو انصاف کی بات کہو) یعنی جب تم کوئی بات کہنا چاہو تو انصاف کی بات کہو۔- اسی طرح یہ قول باری ہے (فاذا اسالتموھن متاعاً فاسئلوھن من وراء حجاب جب تم ازواج مطہرات سے کوئی سامان طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے مانگو) یہاں یہ مراد نہیں ہے کہ پہلی دفعہ طلب کرنے کے بعد پھر پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (اذا ناجیتم الرسول فقد مواب ین یدی نجوا کم صدقۃ جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے قبل کچھ خیرات دے دیا کرو) درج بالا آیات کی طرح یہ قول باری بھی ہے (فاذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ) اس کے معنی ہیں ” جب تم قرأت کرنے لگو تو قرأت پر تعوذ پر مقدم کرو۔ “ اس کے حقیقی معنی یہ ہیں ” جب تم قرأت قرآن کا ارادہ کرو تو تعوذ پڑھ لو۔ “ جس طرح قائل کا یہ قول ہے ” اذا قلت فاصدق “ (جب بات کرو تو سچ بولو) یا ” اذا حرمت فاغتسل (جب تم احرام باندھنے لگو تو غسل کرو) یعنی احرام باندھنے سے پہلے ان تمام فقرات کا مفہوم یہ ہے کہ ” جب تم اس کا ارادہ کرو۔ “- اسی طرح قول باری (فاذا قرأت القرآن) کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو۔ جن حضرات کا یہ قول ہے کہ قرأت سے فراغت کے بعد اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھا جائے ان کا یہ قول شاذ ہے۔ استعاذہ قرأت سے پہلے ہونا چاہیے تاکہ اس کے ذریعے قرأت کے وقت شیطانی وسواس کی نفی ہوجائے۔ ارشاد باری ہے (وما …

99

إِنَّهُۥ لَيْسَ لَهُۥ سُلْطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

کہ جو مومن ہیں اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اُن پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا

Explained together with ayah 98

100

إِنَّمَا سُلْطَٰنُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُۥ وَٱلَّذِينَ هُم بِهِۦ مُشْرِكُونَ

اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں

Explained together with ayah 98

An-Nahl 16:100Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.