Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 81–90 of 128

81

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلْجِبَالِ أَكْنَٰنًۭا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلْحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

چھت کا اور دوسری چیزوں کا سایہ کتنی اہمیت رکھتا ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آدمی اپنے آپ کوکسی ایسے صحرا میں پائے جہاں کسی قسم کا کوئی سایہ نہ ہو۔ سورج کی حد درجہ حسابی حرارت کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک معمولی آڑ بھی ہمیں سایہ دے دیتي ہے۔ حالاں کہ اگر سورج کی حرارت موجودہ حرارت سے زیادہ ہوتی، جو یقینی طورپر ممکن تھی، تو ہمارے تمام سایہ دار گھر آگ کی بھٹی میں تبدیل ہوجاتے۔ پہاڑ جیسی سخت چٹانوں میں ایسے شگاف ہونا جہاں آدمی اپنی پناہ گاہیں بنا سکے۔ دنیا میں ایسی چیزیں موجود ہونا جو باریک ریشوں میں ڈھل کر آدمی کو اس کے جسم کے بچاؤ کے لیے لباس دیں۔ اس قسم کی چیزیں آدمی جیسی مخلوق کے لیے اتنی اہم ہیںکہ اگر وہ نہ ہوتیں تو زمین پر نہ انسان کا وجود ہوتا اور نہ کسی انسانی تہذیب کا۔

یہ معرفت بیک وقت آدمی کے اندر دو چیزیں پیدا کرتی ہے۔ ایک، خدا کے لیے احسان مندی کا جذبہ، کیوں کہ وہی ہے جس نے آدمی کو ایسی قیمتی نعمتیں دیں، دوسري، اندیشہ کا جذبہ، کیوںکہ خدا اگر اپنی نعمتوں کو واپس لے لے تو اس کے بعد آدمی کے پاس ان کی تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ یہ احساسات جب آدمی کے اندرون کو اس طرح جگا دیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے گر پڑے تو اسی کا نام عبادت ہے۔

82

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے

جو شخص بھی کائنات کا مطالعہ کرتا ہے ، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک سائنس داں ، اس پر ایسے لمحات گذرتے ہیں، جب کہ مخلوقات پر غورکرتے ہوئے اس کا ذہن خالق کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ حیرت ناک چیز یں نہ تو اپنے آپ بن گئی ہیں اور نہ مفروضہ معبودوں نے ان کو بنایا ہے ۔ ان کا بنانے والا یقیناً خدائے بزرگ و برتر ہے۔

مگر خدا کو ماننا لازمی طورپر آدمی کی اپنی زندگی میں تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ آدمی سے اس کی آزادی چھین لیتا ہے ۔ اس ليے آدمی پر جب یہ تجربہ گزرتا ہے تو وقتی تاثر کے بعد وہ اپنے ذہن کو اس طرف سے ہٹا دیتا ہے۔ وہ خدا کو پاکر بھی خدا کو چھوڑ دیتا ہے۔

83

يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں

جو شخص بھی کائنات کا مطالعہ کرتا ہے ، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک سائنس داں ، اس پر ایسے لمحات گذرتے ہیں، جب کہ مخلوقات پر غورکرتے ہوئے اس کا ذہن خالق کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ حیرت ناک چیز یں نہ تو اپنے آپ بن گئی ہیں اور نہ مفروضہ معبودوں نے ان کو بنایا ہے ۔ ان کا بنانے والا یقیناً خدائے بزرگ و برتر ہے۔

مگر خدا کو ماننا لازمی طورپر آدمی کی اپنی زندگی میں تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ آدمی سے اس کی آزادی چھین لیتا ہے ۔ اس ليے آدمی پر جب یہ تجربہ گزرتا ہے تو وقتی تاثر کے بعد وہ اپنے ذہن کو اس طرف سے ہٹا دیتا ہے۔ وہ خدا کو پاکر بھی خدا کو چھوڑ دیتا ہے۔

84

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے

پیغمبر اور پیغمبر کے سچے پیروؤں کا قوموں کے سامنے حق کا داعی بن کر اٹھنا بظاہر ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتاہے۔ دنیا نے عام طورپر ان واقعات کو اتنا کم اہم سمجھا ہے کہ ایک پیغمبر آخر الزماں کو چھوڑ کر کوئی بھی دوسرا پیغمبر نہیں جس کا کام اس کي معاصر تاریخوں میں قابل ذکر قرار پایاہو۔

مگر یہ کام اس وقت بے حد اہم اور بے حد سنگین بن جاتا ہے جب کہ اس کو آخرت سے جوڑ کر دیکھا جائے۔ کیوں کہ آخرت کی عظیم عدالت میں یہی پیغمبر اور داعی خدا کے گواہ ہوں گے اور انھیں کی گواہی پر لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جن افراد کے بارے میں گواہ یہ کہیں گے کہ انھوںنے حق کو مانا اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دیا وہ وہاں کی ابدی دنیا میں جنتی قرار پائیں گے۔ اور جن کے بارے میں خدا کے یہ گواہ بتائیں گے کہ انھوںنے حق کا انکار کیا اور اس کی اطاعت پر راضی نہیں ہوئے وہ ابدی جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔

کسی قوم میں خدا کے سچے داعی اٹھیں اور وہ قوم ان کی بات نہ مانے تو یہ اس کے مجرم ہونے کا قطعی ثبوت ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ قوم یہ کہنے کا حق کھو دیتی ہے کہ ہم کو قیامت اور جنت دوزخ کی خبر نہ تھی، اس لیے ہم کو آج کے دن سزا سے معاف رکھا جائے۔

85

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی

پیغمبر اور پیغمبر کے سچے پیروؤں کا قوموں کے سامنے حق کا داعی بن کر اٹھنا بظاہر ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتاہے۔ دنیا نے عام طورپر ان واقعات کو اتنا کم اہم سمجھا ہے کہ ایک پیغمبر آخر الزماں کو چھوڑ کر کوئی بھی دوسرا پیغمبر نہیں جس کا کام اس کي معاصر تاریخوں میں قابل ذکر قرار پایاہو۔

مگر یہ کام اس وقت بے حد اہم اور بے حد سنگین بن جاتا ہے جب کہ اس کو آخرت سے جوڑ کر دیکھا جائے۔ کیوں کہ آخرت کی عظیم عدالت میں یہی پیغمبر اور داعی خدا کے گواہ ہوں گے اور انھیں کی گواہی پر لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جن افراد کے بارے میں گواہ یہ کہیں گے کہ انھوںنے حق کو مانا اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دیا وہ وہاں کی ابدی دنیا میں جنتی قرار پائیں گے۔ اور جن کے بارے میں خدا کے یہ گواہ بتائیں گے کہ انھوںنے حق کا انکار کیا اور اس کی اطاعت پر راضی نہیں ہوئے وہ ابدی جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔

کسی قوم میں خدا کے سچے داعی اٹھیں اور وہ قوم ان کی بات نہ مانے تو یہ اس کے مجرم ہونے کا قطعی ثبوت ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ قوم یہ کہنے کا حق کھو دیتی ہے کہ ہم کو قیامت اور جنت دوزخ کی خبر نہ تھی، اس لیے ہم کو آج کے دن سزا سے معاف رکھا جائے۔

86

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ شُرَكَآءَهُمْ قَالُوا۟ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوا۟ مِن دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا۟ إِلَيْهِمُ ٱلْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَٰذِبُونَ

اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

قیامت میں یہ حقیقت آخری حد تک کھل جائے گی کہ اس کائنات میںایک خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ اس وقت جب پوجنے والے اپنے ان معبودوں کو دیکھیں گے جن کو وہ پوجتے تھے تو وہ ایسی باتیںکہیں گے جن سے ان کی برأت ثابت ہوتی ہو۔ گویا کہ یہ جھوٹے معبود دھوکا دے کر ان سے غیر خدا کی پرستش کراتے رہے۔ مگر وہ معبود فوراً اس کی تردید کریںگے اور کہیں گے کہ یہ تمھاری اپنی سرکشی تھی۔ تم نے خدا کی تابعداری سے بچنے کے لیے بطور خود جھوٹے معبود گھڑے اور ان کے نام پر اپنے خواہش پرستانہ مذہب کو جائز ثابت کرتے رہے۔

ایک وہ شخص ہے جو حق کی دعوت کو قبول نہیں کرتا۔ د وسرا وہ ہے جو اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی طرح طرح سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلی روش اگر گمراہی ہے تو دوسری روش گمراہی کی قیادت۔ گمراہ لوگوں کو جو عذاب ہوگا، اس کا دگنا عذاب ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں گمراہی کی قیادت کرتے رہے۔

87

وَأَلْقَوْا۟ إِلَى ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ ٱلسَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا

قیامت میں یہ حقیقت آخری حد تک کھل جائے گی کہ اس کائنات میںایک خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ اس وقت جب پوجنے والے اپنے ان معبودوں کو دیکھیں گے جن کو وہ پوجتے تھے تو وہ ایسی باتیںکہیں گے جن سے ان کی برأت ثابت ہوتی ہو۔ گویا کہ یہ جھوٹے معبود دھوکا دے کر ان سے غیر خدا کی پرستش کراتے رہے۔ مگر وہ معبود فوراً اس کی تردید کریںگے اور کہیں گے کہ یہ تمھاری اپنی سرکشی تھی۔ تم نے خدا کی تابعداری سے بچنے کے لیے بطور خود جھوٹے معبود گھڑے اور ان کے نام پر اپنے خواہش پرستانہ مذہب کو جائز ثابت کرتے رہے۔

ایک وہ شخص ہے جو حق کی دعوت کو قبول نہیں کرتا۔ د وسرا وہ ہے جو اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی طرح طرح سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلی روش اگر گمراہی ہے تو دوسری روش گمراہی کی قیادت۔ گمراہ لوگوں کو جو عذاب ہوگا، اس کا دگنا عذاب ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں گمراہی کی قیادت کرتے رہے۔

88

ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدْنَٰهُمْ عَذَابًۭا فَوْقَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يُفْسِدُونَ

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے

قیامت میں یہ حقیقت آخری حد تک کھل جائے گی کہ اس کائنات میںایک خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ اس وقت جب پوجنے والے اپنے ان معبودوں کو دیکھیں گے جن کو وہ پوجتے تھے تو وہ ایسی باتیںکہیں گے جن سے ان کی برأت ثابت ہوتی ہو۔ گویا کہ یہ جھوٹے معبود دھوکا دے کر ان سے غیر خدا کی پرستش کراتے رہے۔ مگر وہ معبود فوراً اس کی تردید کریںگے اور کہیں گے کہ یہ تمھاری اپنی سرکشی تھی۔ تم نے خدا کی تابعداری سے بچنے کے لیے بطور خود جھوٹے معبود گھڑے اور ان کے نام پر اپنے خواہش پرستانہ مذہب کو جائز ثابت کرتے رہے۔

ایک وہ شخص ہے جو حق کی دعوت کو قبول نہیں کرتا۔ د وسرا وہ ہے جو اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی طرح طرح سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلی روش اگر گمراہی ہے تو دوسری روش گمراہی کی قیادت۔ گمراہ لوگوں کو جو عذاب ہوگا، اس کا دگنا عذاب ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں گمراہی کی قیادت کرتے رہے۔

89

وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ تِبْيَٰنًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے

اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ کسی قوم پر انذار و تبشیر کا کام خود اس قوم کے کسی منتخب فرد کے ذریعہ انجام دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قوم میں جو پیغمبر آئے وہ خود اسی قوم کے ایک فرد تھے۔ اب امت مسلمہ کو قیامت تک اسی طرح ہر قوم کے اندر دعوت وشہادت کی ذمہ داری انجام دینا ہے۔

یہ دنیا میں قوموں کو دعوت دینے والے آخرت میں قوموں کے اوپر خدا کے گواہ ہوں گے۔ انھیں کی گواہی پر قوم کے ہر فرد کے لیے ثواب یا عذاب کا فیصلہ کیا جائے گا۔

قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے— اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری آسمانی کتابوں میں ہر چیز کا بیان نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آسمانی کتاب جو خدا کی طرف سے آئی اس میں ہر چیز کا بیان موجودتھا۔ تاہم اس ہر چیز کا تعلق دنیا کے علوم وفنون سے نہیں ہے بلکہ آخرت کی کامیابی اور ناکامی کے علم سے ہے۔ وہ تمام چیزیں جو آخرت میں کسی کو کامیاب یا ناکام بنانے والی ہیں وہ سب اصولی طورپر قرآن میں بیان کردی گئی ہیں۔ اب جو لوگ اس سے ہدایت لیں گے، ان کے لیے وہ ایک عظیم نعمت بن جائے گی۔ اور جو لوگ اس سے ہدایت نہ لیں ان کے حصہ میں صرف یہ آئے گا کہ وه اس کا انکار کرکے اپنی ہلاکت کے لیے وجہ جواز فراہم کردیں۔

90

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

دنیا میں کوئی اللہ کا بندہ کس طرح رہے، اس کا واضح بیان اس آیت میں موجود ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس آیت کو جمعہ کے ہفتہ وار خطبہ میں شامل کیا تھا۔ (مرآۃ الزمان فی تواریخ الاعیان، جلد10، صفحہ 190)

پہلی چیز جس کا ایک شخص کو اہتمام کرنا ہے وہ عدل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کا جو حق دوسرے پر آتاہے وہ اس کو پوری طرح ادا کرے، خواہ صاحب حق کمزور ہو یا طاقت ور، اور خواہ وہ پسندیدہ شخص ہو یا نا پسندیدہ۔ حقوق کی ادائیگی میں صرف حق کا لحاظ کیا جائے نہ کہ دوسرے اعتبارات کا۔

دوسری چیز احسان ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں عالی ظرفی کا طریقہ اپنایا جائے۔ انصاف کے ساتھ مروت کو جمع کیا جائے۔ قانونی دائرہ سے آگے بڑھ کر لوگوں کے ساتھ فیاضی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ آدمی کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ حتی الامکان وہ اپنے لیے اپنے حق سے کم پر راضی ہوجائے، اور دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینے کی کوشش کرے۔

تیسری چیز ایتاء ذی القربیٰ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس طرح اپنے بیوی بچوں کی ضرورت کو دیکھ کر تڑپ اٹھتاہے اور اس کو پورا کرتاہے، اسی طرح وہ دوسرے قریبی لوگوں کی ضرورت کے بارے میں بھی حساس ہو۔ ہر صاحب استعداد شخص اپنے مال پر صرف اپنا اور اپنے گھر والوں ہی کا حق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کو بھی وہ اپنی ذمہ داری میں شامل کرے۔

اس کے بعد آیت میں تین چیزوں سے منع فرمایا گیا ہے۔

پہلی چیز فحشاء ہے۔ اس سے مراد کھلی ہوئی اخلاقی برائیاں ہیں۔ یعنی وہ برائیاں جن کا برا ہونا خود اپنے ضمیر کے تحت ہر آدمی کو معلوم ہوتا ہے۔ اور لوگ عام طورپر اس کو شرم ناک سمجھتے ہیں۔

دوسری چیز منکر ہے۔ منکر معروف کا الٹا ہے۔ معروف ان اچھی باتوں کو کہتے ہیں جن کو ہر معاشرے میں اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، منکر سے مراد وہ نامعقول کام ہیں جو عام اخلاقی معیار کے خلاف ہیں۔ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کو انسان عام طور پر برا جانتے ہیںاور جن کو قبول کرنے سے انسان کی فطرت انکار کرتی ہے۔

تیسری چیز بغی ہے۔ اس کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا۔ اس میں ہر وہ سرکشی داخل ہے جب کہ آدمی اپنی واقعی حد سے گزر کر دوسرے شخص پر دست درازی کرے۔ وہ کسی کی جان یا مال یا آبرو لینے کے لیے اس کے اوپر ناحق کارروائیاں کرے۔ وہ اپنے زور واثر کو ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کرنے لگے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.