Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 128

81

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلْجِبَالِ أَكْنَٰنًۭا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلْحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

اب مضمون ، اللہ کی تخلیقات کے اسرار و رموز بیان کرتے ہوئے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے۔ اللہ کی قدرت کے مزید نشانات اور اللہ کے انعامات کے کچھ مزید نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کے گھر اور ان کی مسرتیں ، گھروں کا ماحول سازوسامان اور پناہ گاہیں۔

گھر اور پرسکون گھر کس قدر عظیم نعمت ہے ، اس کی قدر وہ جانیں جو مہاجر ہیں ، جو گھروں سے نکال دئیے گئے ہیں اور مارے مارے پھر رہے ہیں۔ نہ ان کا گھر ہے اور نہ سکون ہے۔ یہاں گھروں اور سایوں کا ذکر غیب کے ذکر کے بعد آتا ہے۔ ربط یوں ہے کہ ایک سایہ بھی کسی چیز کو ڈھانپ لیتا ہے اور غیب بھی ان امور کو ڈھانپ لیتا ہے جو غیب میں ہوتے ہیں۔ دونوں میں ستر اور پوشیدگی ہے۔ گھروں کی تعبیر جائے سکون سے کرنے سے ایک حساس شخص ہی لطف اندوز ہوسکتا ہے ، غافل لوگ اس سے کما حقہ لطف نہیں لے سکتے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہ بتا دیا جائے کہ گھر کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے ۔ قرآن کریم نے گھر کی تعبیر یوں کی ہے۔

واللہ جعل لکم من بیوتک سکنا (61 : 08) ” اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا ہے “۔ اسلام چاہتا ہے کہ ایک گھر نفسیاتی اطمینان ، شعوری ٹھہرائو اور جذباتی سکون کی جگہ ہو۔ یہ خوشی کی جگہ ہو ، انسان وہاں آکر خوش ہوں۔ اور اس میں انسان کے لئے مادی اور روحانی سکون کا انتظام ہو۔ اس میں جو لوگ رہتے ہوں وہ ایک دوسرے کے لئے باعث اطمینان اور خوشی ہوں ، اور ان میں سے ہر ایک شخص دوسرے کے لئے سامان سکون ہو۔ اسلام کسی بھی گھر کو نزاع ، جھگڑے ، بےاتفاقی اور مخاصمت کی جگہ بنانا نہیں چاہتا کیونکہ وہ اس کے نزدیک ٹھہرنے ، سکون ، امن اور اطمینان و سلامتی کی جگہ ہونا چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام گھر کے احترام کی ضمانت دیتا ہے تاکہ گھر کے امن و سکون اور سلامتی کی ضمانت دی جاسکے۔ مثلاً کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہو۔ کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں بس گھس جائے۔ بغیر حق کے اور بغیر اجازت کے۔ اسی طرح کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ گھروالوں کی اجازت کے بغیر کسی بھی وجہ سے کسی کی پرائیویسی میں دخل انداز ہو ، نہ کسی کو گھر کے خلاف تجسس کی اجازت ہے اور نہ کسی کی غیبت کی اجازت ہے کیونکہ ان امور سے کسی بھی گھر کا امن و سکون اور خوشی اور اطمینان ختم سکتا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے ایک گھر کو جائے سکون قرار دیا ہے۔

یہ منظر چونکہ گھر ، پناہ گاہ اور لباس سے متعلق تھا ، اس لئے یہاں جانوروں کے بھی اس پہلو کا ذکر کیا گیا ، جو ان مقاصد کے لئے مفید ہے یعنی مسکن و لباس کا پہلو۔

وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا تستخفونھا یوم ظعنکم و یوم اقامتکم و من اصوافھا واوبار ھا واشعار ھا اثاثا ومتاعا الی حین (61 : 08) ” اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کیے جنہیں تم سفر اور قیام ، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں “۔ یہاں بھی جانوروں کے مفادات میں سے ضروریات کا ذکر کیا اور ان چیزوں کا ذکر بھی کیا جو حسن اور شوق کا سامان کرتی ہیں۔ متاع اور ثاث السیت میں یہی فرق ہے۔ متاع سے مراد فرش ، قالین اور دوسرا سامان آرائش ہے لیکن اس میں وہ سب چیزیں شامل ہیں جو تمتع کی تعریف میں آتی ہیں اور فرحت بخشش ہوتی ہیں۔

سکون اطمینان کی فضا میں اب انداز تعبیر لطیف ہوجاتا ہے۔ سایوں ، پناہ گاہوں ، پہاڑوں اور گرمی سردی اور جنگی پوشاکوں کی بات چلتی ہے۔

واللہ جعل لکم مما خلق ظللا وجعل لکم من الجبال اکناناو جعل لکم سرابیل تقیکم الحر وسرابیل تقیکم باسکم (61 : 18) ” اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے سائے کا انتطام کیا ، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں ، اور …

82

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے

اب وہ بات سامنے لائی جاتی ہے جس کا آغاز کلام میں ذکر ہوا تھا ، وہ یہ کہ جب قیامت آجائے گی تو کافر کس حالت میں دو چار ہوں گے۔

83

يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں

اب وہ بات سامنے لائی جاتی ہے جس کا آغاز کلام میں ذکر ہوا تھا ، وہ یہ کہ جب قیامت آجائے گی تو کافر کس حالت میں دو چار ہوں گے۔

84

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے

تشریح : یہ قیامت کا منظر ہے۔ انبیاء کھڑے ہیں اور وہ تمام واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان جو کشمکش ہوئی وہ اسکرین پر چل رہی ہوگی۔ کفار دنگ کھڑے ہوں گے۔ اب ان کو حجت بازی کی اجازت نہ ہوگی۔ سفارشیں لانے کے اجازت نہ ہوگی۔ ان سے یہ مطالبہ بھی نہ کیا جائے گا کہ یہ یہ کام کرکے رب کو راضی کرو کیونکہ اب تو توبہ کا دروازہ بند اور عمل کا میدان ختم ہے۔ اب تو مکافات عمل کا میدان ہے۔

85

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی

واذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنھم ولا ھم ینظرون (61 : 58) ” ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ایک لمحہ بھر مہلت دی جائے گی “۔ ابمیدان حشر میں وہ لوگ نمودار ہوں گے جن کو یہ کفار و مشرکین بزعم خود خدا کا شریک سمجھتے تھے اور اللہ کے سوا ان کو خدا سمجھ کر ان کی بندگی کرتے تھے۔ تو اب مہر سکوت ٹوٹ جائے گی اور مشرکین دوڑ کر پکاریں گے۔

86

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ شُرَكَآءَهُمْ قَالُوا۟ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوا۟ مِن دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا۟ إِلَيْهِمُ ٱلْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَٰذِبُونَ

اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

ربنا ھولاء شرکادنا الذین کنا ندعوا من دونک (61 : 68) ” اے پروردگار یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے “۔ اب تو وہ اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “۔ آج وہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے شرکاء ہیں بلکہ کہتے ہیں ” یہ ہمارے شرکاء ہیں “۔ لیکن وہ تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس عظیم تمہت اور الزام کو سن کو فوراً بول اٹھیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ، تم بڑے جھوٹے ہو۔

فالقوا الیھم القول انکم الکذبون (61 : 68) ” وہ دور ہی سے ان کی طرف جواب پھینکیں گے ، بیشک تم تو بہت بڑے جھوٹے ہو “۔ اور یہ شرکاء اور صلحاء اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے نہایت ہی بندگی کی حالت میں۔

87

وَأَلْقَوْا۟ إِلَى ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ ٱلسَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا

والقوا الی اللہ مومئذ السلم (61 : 78) ” اور یہ سب اللہ کے سامنے جھک جائیں گے “۔ اور مشرکین کے ہاتھ ان کی افتراء پردازیوں میں سے کچھ بھی نہ آئے گا۔ وہ کسی دلیل پر اعتماد نہ کرسکیں گے اور ان کی تمام صحت بازیاں کافور ہوجائیں گی۔

وضل عنھم ما کانو یفترون (61 : 68) ” اور ان کی وہ سب افتراء پردازیاں ختم ہوجائیں گی “۔ اب فیصلہ یہ صادر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ لی اور دوسروں کے لئے بھی باعث گمراہی بنے ، ان کا عذاب دوگنا ہوگا کیونکہ انہوں نے دوسروں کو بھی راہ راست سے روکا۔

88

ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدْنَٰهُمْ عَذَابًۭا فَوْقَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يُفْسِدُونَ

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے

الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذابا فوقا العذاب بما کانوا یفسدون (61 : 88) ” جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا ، انہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس فساد کے بدلے جو دنیا میں وہ برپا کرتے تھے۔ بیشک کفر بذات خود ایک فساد ہے ، دوسرے کو کافر بنانا بہت بڑا فساد ہے۔ انہوں نے اپنے کفر کے جرم کا بھی ارتکاب کیا اور دوسروں کو بھی ہدایت سے روکا۔ اس لئے ان کا عذاب دگنا کردیا گیا۔ یہی ان کے جرم کا پورا بدلہ ہے۔

یہ معامہ تمام اقوام کا ہوگا لیکن رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کا معاملہ یوں ہوگا۔

89

وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ تِبْيَٰنًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے

تشریح : مشرکین کا منظر نظروں کے سامنے ہے۔ بہت ہی سخت حالات ہیں۔ شرکاء ان لوگوں کی تکذیب کر رہے ہیں جو انہیں شریک سمجھ رہتے تھے اور وہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر رہے اور اپنے دنیاوی متبعین کے الزامات سے براءت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے ہی حالات میں رسول اللہ ﷺ اور مشرکین مکہ اور منکرین قریش کے کیس کی بھی ایک جھلکی نظروں کے سامنے آتی ہے۔ صرف ایک جھلکی :

وجتنابک شھیدا علی ھولاء (61 : 98) ” اور ان لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لئے ہم تمہیں لائیں گے “۔ اس کے بعد متصلاً یہ بات آتی ہے کہ اے رسول تم پر جو کتاب اتاری گئی ہے وہ ایک جامع کتاب ہے۔

ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیئی وھدی ورحمہ و بشری للمسلمین (61 : 98) ” اور ہدایت و رحمت اور خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے سرتسلیم خم کردیا ہے “۔ لہٰذا جو شخص ہدایت و رحمت چاہتا ہے تو وہ قیام قیامت سے پہلے ہی اسلام قبول کرے ، کیونکہ اس دن پھر کافروں کو دوبارہ عمل کی نہ اجازت ہوگی اور نہ ان کو معذرت پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔ یوں قرآن مجید منظر کشی کے انداز میں اپنے مطالب بیان کرتا ہے خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ۔

درس نمبر 321 ایک نظر میں

سابقہ درس میں اس آیت پر ختم ہوا تھا۔

ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شئی وھدی ورحمتہ و بشری للمسلمین

(61 : 98) ” اور اے نبی ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کا بیان ہے اور ہدایت ، رحمت اور خوشخبری ہے ، مسلمانوں کے لئے “۔ چناچہ اس درس میں اس کی بعض تعلیمات بیان کی گئی ہیں یعنی وہ کیا تعلیمات ہیں جو ہدایت رحمت ، اور بشارت ہیں۔ یہ کہ اس میں عدل ، احسان ، رشتہ داروں پر خرچ کا حکم ، فحاشی کی ممانعت ، گناہ اور حد سے تجاوز کی ممانعت ہے اور نیز اس میں وعدے کے وفا کرنے کا حکم ہے اور قسموں کے توڑنے کی ممانعت ہے۔ یہ وہ اہم اور بنیادی تعلیمات ہیں کہ اس کتاب میں ان پر زور دیا گیا ہے۔

اس سبق میں نقض عہد کو جرم قرار دیا گیا ہے ، اسی طرح قسمیں کھا کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور ان کو دھوکہ دینے کو بھی بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کے لئے عذاب عظیم کی شدید وعید ہے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ صبر کرتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے کہ ان کو ان کے اچھے اعمال کا صلہ ملے گا۔

اس کے بعد کتاب عظیم کے آداب تلاوت بیان ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ تلاوت سے قبل شیطان رحیم سے اللہ کی پناہ مانگیں تاکہ یہ مردود مجلس تلاوت قرآن سے بھاگ جائے۔ نیز کتاب عظیم کے بارے میں مشرکین کی بعض خود ساختہ باتوں کا بھی ذکر ہے۔ مثلاً بعض مشرکین یہ کہتے تھے کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ خود باتیں بنا کر ناحق خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ بعض یہ کہتے تھے کہ ایک عجمی غلام ہے جو حضور ﷺ کو یہ باتیں بتاتا ہے۔

اس سبق کے آخر میں ان لوگوں کی سزا کا ذکر ہے جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں۔ نیز ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے جنہیں کفر پر مجبور کردیا جائے لیکن ان کا قلب ایمان سے مطمئن ہو۔ نیز ان برگزیدہ لوگوں کا ذکر ہے جن پر ایمان کی وجہ سے تشدد ہوا۔ اور انہوں نے ہجرت کی ، جہاد کیا اور صبر کیا۔ یہ سب باتیں اللہ کی طرف سے واضح ہدایات ہیں ، بہترین راہنمائی ہیں ۔ اللہ کی رحمت ہیں اور اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہیں۔

90

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد یہ ہے اس نظریہ کے مطابق ایک امت کو میدان میں لایا جائے ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جو ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ ایک نیا جہاں پیدا کیا جائے اور ایک نیا نظام تشکیل دیا جائے۔ ایک ایسی عالمی دعوت اور تحریک برپا کی جائے جو کسی گروہ ، قبیلے اور کسی نسل کی طرفدار نہ ہو۔ اس دعوت میں اجتماعی رابطے اور تعلق کی بنیاد کسی عصبیت اور قومیت پر نہ ہو۔

چناچہ اس کتاب کی تعلیمات ان اصولوں پر مبنی ہیں جن کے اوپر سوسائٹی اور امت کی تشکیل ممکن ہے۔ ان تعلیمات اور اصولوں پر افراد اقوام اور امم کو پورا اطمینان حاصل ہو ، اور باہم معاملات و تعلقات ، وعدوں اور معاہدوں پر پورا بھروسہ ہو۔

اس کتاب کی تعلیمات میں سے پہلی تعلیم عدل سے متعلق ہے۔ ایسا عادالانہ نظام جس میں ایک فرد ، ایک جماعت ، ایک قوم اور اقوام سب کے حقوق محفوظ ہوں۔ یہ عدل کسی کی خواہش سے متاثر نہ ہو۔ محبت اور بغض سے متاثر نہ ہو۔ رشتہ داری اور اقربا پروری کا اس میں نام و نشان نہ ہو۔ امیر و غریب کے لئے یکساں ہو ، قوی اور ضعیب کے حقوق اس میں برابر ہوں۔ یہ عدل اپنی راہ میں سیدھا چلے اور اس میں سب کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی پیمانہ ہو۔

اس عدل کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی تعلیمات ایک دوسرے اہم اصول ، احسان پر مبنی ہیں۔ جہاں تک عدل کا تعلق ہے ، اس کی تلوار نہایت ہی تیز ، مضبوط اور بےلچک ہوتی ہے اور سیدھا کاٹتی چلی جاتی ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات نے عدل کے ساتھ ساتھ دلوں کو جیتنے کے لئے احسان کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ یہ لازم نہیں کیا کہ بےلچک عدل کے مطابق اپنے حقوق بہرحال لئے جائیں ، اگر کوئی اپنے حقوق سے دست کش ہونا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اس سے دلوں کی دشمنی دور ہوجاتی ہے اس سے زخم مند مل ہوجاتے ہیں۔ نیز فضائل اخلاق اور کریمانہ طرز عمل کا اظہار ہوتا ہے۔

احسان کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے۔ ہر چھا کام احسان ہے۔ احسان کے حکم میں ہر عمل اور ہر معاملہ آتا ہے۔ انسان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق ، انسان کا اپنے خاندان کے ساتھ تعلق ، انسان کا جماعت کے ساتھ تعلق اور انسان کا پوری انسانیت کے ساتھ تعلق۔

بعض مفسرین نے محض اس لئے کہ یہ آیت مکی ہے ، عدل کو عبادات واجبیہ اور احسان کو عبادات نفلی پر محمول کیا ہے کیونکہ مکہ میں اسلامی قوانین نازل نہ ہوئے تھے۔ لیکن عدل و احسان میں قانون کے علاوہ اخلاقی معاملات اور انفرادی طرز عمل بھی آتے ہیں اس لئے ان کو عبادات کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں ہے۔

احسان کی ایک قسم رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور ان پر خرچ ہے اور اس کا خصوصی حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اسلام میں اس کی بہت بڑی اہمیت اور عظمت ہے اور اس کی بہت بڑی تاکید ہے۔ اس میں پائے جانے والی بنیادی سوچ خاندان کی عصبیت نہیں ہے بلکہ اس سے غرض وغایت خاندانی نظام اور خاندانی نظام کے اوپر تعمیر کردہ اسلامی نظام تکافل اجتماعی ہے۔ اسلام نے اپنے اجتماعی نظام کا پہلا یونٹ خاندان کو قرار دیا ہے اور اس کے بعد وہ اسے بتدریج سوسائٹی تک عام کرتا ہے کیونکہ اجتماعی تکافل (Security) کے بارے میں اسلام کی اپنی سوچ ہے۔

وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی (61 : 09) ” اور بدی اور بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے “۔ فحشاء ہر اس بات کو کہتے ہیں جو حد سے تجاوز کرے۔ یہ زیادہ تر اس تجاوز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی کی ذاتی عزت کے خلاف ہو کیونکہ جنسی بےراہ روی بھی ایک ایسا فعل ہے جو اپنی حدود سے آگے بڑھ کر کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی زیادتی اور حدود سے تجاوز پایا جاتا ہے۔ بالعموم یہ لفظ جنسی بےراہ روی کے ساتھ مخصوص ہوگیا ہے۔ المنکر وہ فعل ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کرے اور شریعت بھی اسے اسی وجہ سے منکر سمجھتی ہے کیونکہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام ایک فطری نظام ہے۔ شرعیت اور قانون تو اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ اور فطرت انسانی بسا …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.