وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلْجِبَالِ أَكْنَٰنًۭا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلْحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو
اور اللہ نے بنائے تمھارے لیے تمھارے گھر جائے سکونت اور اسی نے بنائے تمھارے لیے چمڑوں سے چوپایوں کے ایک قسم کے گھر (خیمے) کہ تم ہلکا سمجھتے ہو ان کو اپنے کوچ کے دن اور اپنی اقامت کے دن اور(بنایا) ان (بھیڑوں ) کی اون سےاور ان (اونٹوں ) کی پشم سےاور ان (بکریوں ) کے بالوں سے، گھر کا سامان اور کئی فائدے (کی چیزیں )، ایک وقت تک (80) اور اللہ ہی نے بنائے تمھارے لیے، ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کیں ، سائے اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں (غاریں) اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے قمیصیں ، وہ بچاتی ہیں تمھیں گرمی (اور سردی) سےاور قمیصیں (زر ہیں )، وہ بچاتی ہیں تمھیں تمھاری لڑائی میں ، اسی طرح اللہ پوری کرتا ہے نعمت اپنی تم پرتاکہ تم مطیع ہو جاؤ (81) پھر اگر وہ منہ پھیریں (اسلام سے) تو یقینا آپ تو صرف پہنچا دینا ہے صریح طور پر (82) وہ پہچانتے ہیں اللہ کی نعمت کو ، پھر وہ انکار کرتے ہیں اس کااور اکثر ان کے کافر ہیں (83)
[80] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۢۡ بُيُوۡتِكُمۡ سَكَنًا ﴾ ’’اور اللہ ہی نے تمھارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے گھر اور بڑے بڑے محل بنائے جو تمھیں گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ، تمھیں ، تمھاری اولاد اور تمھارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرتے ہیں ۔ تم ان گھروں میں ، اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لیے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمھارے مال و متاع اور تمھاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے چو پاؤں کی کھالوں سے‘‘ یعنی یا تو خود ان چوپایوں کی کھال سے یا اس کھال پر اگنے والے بالوں اور اون سے ﴿ بُيُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَهَا ﴾ ’’ڈیرے، جو ہلکے رہتے ہیں تم پر‘‘ یعنی جن کے بوجھ کو اٹھانا تمھارے لیے بہت آسان ہوتا ہے ﴿ يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ اِقَامَتِكُمۡ﴾’’سفر اور حضر میں ۔‘‘ یعنی وہ سفر اور ان منزلوں میں تمھارے ساتھ ہوتے ہیں جہاں گھر بنانا تمھارا مقصد نہیں ہوتا۔ پس یہ خیمے تمھیں گرمی، سردی اور بارش سے بچاتے ہیں اور تمھارے مال و متاع کو بھی بارشوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے بنائے ﴿ مِنۡ اَصۡوَافِهَا ﴾ ’’ان کی اون سے۔‘‘ یعنی ان چوپایوں کی پشم سے ﴿ وَاَوۡبَارِهَا وَاَشۡعَارِهَاۤ اَثَاثًا ﴾ ’’اور اونٹوں کی پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب‘‘ (اثاث) کا لفظ برتنوں ، خرجیوں ، بچھونوں ، لباس اور اوپر اوڑھنے والے کپڑوں وغیرہ سب کو شامل ہے ﴿ وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی ان چیزوں کو اس دنیا میں استعمال کرتے ہو اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ پس یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی صنعت و حرفت کے لیے اللہ نے بندوں کو مقرر کر دیا ہے۔
[81]﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ﴾ ’’اور بنا دیے اللہ نے تمھارے واسطے ان میں سے جن کو پیدا کیا‘‘ یعنی جن میں تمھارے لیے کوئی صنعت نہیں ہے۔ ﴿ظِلٰلًا﴾ ’’سائے‘‘ ، مثلاً: درختوں پہاڑوں اور ٹیلوں کے سائے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَكۡنَانًا ﴾ ’’اور بنا دیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ‘‘ یعنی غار اور کھوہ بنائے جہاں تم گرمی، سردی، بارش اور اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے پناہ لیتے ہو ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے کرتے‘‘ یعنی لباس اور کپڑے ﴿ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ ﴾ ’’وہ تمھیں گرمی سے بچاتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سردی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی ابتداء …