Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 81–90 of 128

81

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلْجِبَالِ أَكْنَٰنًۭا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلْحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

Explained together with ayah 80

82

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے

Explained together with ayah 80

83

يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں

Explained together with ayah 80

84

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے

Explained together with ayah 80

85

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی

Explained together with ayah 80

86

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ شُرَكَآءَهُمْ قَالُوا۟ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوا۟ مِن دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا۟ إِلَيْهِمُ ٱلْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَٰذِبُونَ

اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

Explained together with ayah 80

87

وَأَلْقَوْا۟ إِلَى ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ ٱلسَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا

Explained together with ayah 80

88

ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدْنَٰهُمْ عَذَابًۭا فَوْقَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يُفْسِدُونَ

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے

Explained together with ayah 80

89

وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ تِبْيَٰنًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے

قرآن ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرتا ہے - قول باری ہے (ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شی۔ ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کردی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے) اس سے مراد…واللہ اعلم… یہ ہے کہ یہ کتاب امور دین میں سے ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے یہ وضاحت یا تو نص کے ذریعے ہوئی ہے یا دلالت کے ذریعے۔ کوئی بڑا یا چھوٹا واقعہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق اللہ کا کوئی نہ کوئی حکم نص یا دلیل کے طور پر اس کی کتاب میں بیان نہ کردیا گیا ہو۔ جو احکامات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان کئے ہیں وہ بھی کتاب اللہ سے صادر ہوئے ہیں اس لئے کہ قول باری ہے (وما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ وفانتھوا جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے تمہیں روکیں اس سے رک جائو) نیز ارشاد باری ہے (وانک تھدی الی صراط مستقیم صراط اللہ اور یقیناً تم سیدھے راستے یعنی اللہ کے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو) نیز فرمایا (من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جس شخص نے رسول کی فرمانبرداری کی اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی) اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ بیان کریں وہ منجانب اللہ ہوگا اور کتاب اللہ کی تشریح اور توضیح میں شمار ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری اور ان کے حکم کی اتباع کا امر فرمایا ہے۔ اسی طرح جس چیز پر اجماع کا انعقادہو جائے اس کا مصدر بھی کتاب اللہ ہوگا اس لئے کہ اجماع کی حجیت کی صحت پر کتاب اللہ کی دلالت موجود ہے نیز یہ کہ امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوسکتی۔ قیاس اور اجتہاد رائے کی بنا پر نیز استدلال کی دوسری تمام صورتوں مثلاً استحسان اور قبول خبر واحد کی وجہ سے واجب ہونے والے احکام بھی کتاب اللہ کی تبیان اور اس کی وضاحت کی صورتیں ہیں اس لئے کہ کتاب اللہ ان تمام پر دلالت کرتی ہے۔ دین سے تعلق رکھنے والے ہر حکم کا وجود کتاب اللہ کے اندر ہے جس کی وضاحت ان صورتوں میں ہوتی ہے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ یہ آیت قیاس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے وہ اس طرح کہ جب ہمیں پیدا شدہ نئے مسئلے کے بارے میں کتاب اللہ کے اندر کوئی منصوص حکم نہیں ملے گا، نہ سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اندر اور نہ ہی اجماع کے اندر اور دوسری طرف اللہ نے یہ فرما دیا ہے کہ کتاب اللہ کے اندر دین کے ہر معاملے کی وضاحت موجود ہے تو سا سے یہ بات ثابت ہوجائے گی اس نئے مسئلے کے متعلق حکم معلوم کرنے کا طریقہ نظر یعنی اجتہاد رائے اور قیاس کے ذریعے استدلال ہے۔ اس لئے کہ اس طریقے کے سوا اس نئے مسئلے کا حکم معلوم کرنے کا اور کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا ہے جو لوگ نص خفی یا استدلال کے ذریعے حکم معلوم کرنے کے قائل ہیں وہ بھی غیر شعوری طور پر اجتہاد رائے نیز نظر و قیاس سے کام لیتے ہیں ان کا یہ قول لفظی طور پر قیاس کے قائلین کے خلاف ہے لیکن منوی طور پر ان کے موافق ہے۔

90

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

عدل، قول و فعل میں مطلوب ہے - قول باری ہے (ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایاء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی۔ اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے) عدل، انصاف کو کہتے ہیں۔ سمعی دلالت کے ورد سے قبل ہی عقل کی نظروں میں یہ ایک واجب اور ضروری امر تھا۔ سمعی دلیل کے ورود سے اس کے وجوب کی اور تاکید ہوگئی۔- عدل فرض اور احسان مستحب ہے - اس مقام پر احسان تفضل یعنی مہربانی کا مفہوم ادا کر رہا ہے۔ یہ ایک مستحب امر ہے جبکہ عدل فرض ہے۔ رشتہ داروں کے دینے لینے میں دراصل صلہ رحمی کا حکم ہے۔ قول باری ہے (یامر بالعدل) قول اور فعل دونوں کے اندر عدل کرنے کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ چناچہ ارشاد ہے (واذا قلتم فاعدلوا اور جب تم کہو تو انصاف کی بات کہو) اللہ تعالیٰ نے قول کے اندر بھی انصاف کرنے کا حکم دیا۔ اس آیت میں یہ دونوں باتیں موجود ہیں۔- فحش، منکر اور بغی کی تشریح - قول باری ہے اوینھی عن الفحشاء و المنکر والبغی) میں تمام امور قبیحہ نیز ممنوع اقوال و افعال اور خیالات داخل ہیں۔ فحشاء یعنی بدی اور برائی کبھی تو انسان اپنے دل میں کرتا ہے اور اس کا یہ معاملہ لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتا اس کی قباحت بھی بہت عظیم ہوتی ہے اور کبھی کھلی برائی اور بےحیائی کی صورت میں اس کا ظہور ہوجاتا ہے، کبھی عقیدہ کی خرابی اور بخل کی بنا پر ایسا ہوتا ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ بخیل انسان کو فاحش کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ منکر اس بےحیائی اور برائی کو کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائے تو اس کی تردید واجب ہو۔ منکر کا وجود اعتقادات اور پوشیدہ تصورات و خیالات کے اندر بھی ہوتا ہے۔ عقل انسانی منکر کو ناپسند کرتی اور اس سے ابا کرتی ہے۔ بغی اس ظلم و زیادتی کا نام ہے جس کا دائرہ دوسروں تک وسیع کردیا جائے۔ ان تینوں امور میں سے ہر ایک کے اندر مخصوص معانی ہیں جن کی بنا پر ہر ایک دوسرے سے الگ اور منفرد قرار پاتا ہے۔

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.