Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 81–90 of 128

81

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلْجِبَالِ أَكْنَٰنًۭا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلْحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

اور اللہ نے بنائے تمھارے لیے تمھارے گھر جائے سکونت اور اسی نے بنائے تمھارے لیے چمڑوں سے چوپایوں کے ایک قسم کے گھر (خیمے) کہ تم ہلکا سمجھتے ہو ان کو اپنے کوچ کے دن اور اپنی اقامت کے دن اور(بنایا) ان (بھیڑوں ) کی اون سےاور ان (اونٹوں ) کی پشم سےاور ان (بکریوں ) کے بالوں سے، گھر کا سامان اور کئی فائدے (کی چیزیں )، ایک وقت تک (80) اور اللہ ہی نے بنائے تمھارے لیے، ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کیں ، سائے اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں (غاریں) اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے قمیصیں ، وہ بچاتی ہیں تمھیں گرمی (اور سردی) سےاور قمیصیں (زر ہیں )، وہ بچاتی ہیں تمھیں تمھاری لڑائی میں ، اسی طرح اللہ پوری کرتا ہے نعمت اپنی تم پرتاکہ تم مطیع ہو جاؤ (81) پھر اگر وہ منہ پھیریں (اسلام سے) تو یقینا آپ تو صرف پہنچا دینا ہے صریح طور پر (82) وہ پہچانتے ہیں اللہ کی نعمت کو ، پھر وہ انکار کرتے ہیں اس کااور اکثر ان کے کافر ہیں (83)

[80] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۢۡ بُيُوۡتِكُمۡ سَكَنًا ﴾ ’’اور اللہ ہی نے تمھارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے گھر اور بڑے بڑے محل بنائے جو تمھیں گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ، تمھیں ، تمھاری اولاد اور تمھارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرتے ہیں ۔ تم ان گھروں میں ، اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لیے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمھارے مال و متاع اور تمھاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے چو پاؤں کی کھالوں سے‘‘ یعنی یا تو خود ان چوپایوں کی کھال سے یا اس کھال پر اگنے والے بالوں اور اون سے ﴿ بُيُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَهَا ﴾ ’’ڈیرے، جو ہلکے رہتے ہیں تم پر‘‘ یعنی جن کے بوجھ کو اٹھانا تمھارے لیے بہت آسان ہوتا ہے ﴿ يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ اِقَامَتِكُمۡ﴾’’سفر اور حضر میں ۔‘‘ یعنی وہ سفر اور ان منزلوں میں تمھارے ساتھ ہوتے ہیں جہاں گھر بنانا تمھارا مقصد نہیں ہوتا۔ پس یہ خیمے تمھیں گرمی، سردی اور بارش سے بچاتے ہیں اور تمھارے مال و متاع کو بھی بارشوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے بنائے ﴿ مِنۡ اَصۡوَافِهَا ﴾ ’’ان کی اون سے۔‘‘ یعنی ان چوپایوں کی پشم سے ﴿ وَاَوۡبَارِهَا وَاَشۡعَارِهَاۤ اَثَاثًا ﴾ ’’اور اونٹوں کی پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب‘‘ (اثاث) کا لفظ برتنوں ، خرجیوں ، بچھونوں ، لباس اور اوپر اوڑھنے والے کپڑوں وغیرہ سب کو شامل ہے ﴿ وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی ان چیزوں کو اس دنیا میں استعمال کرتے ہو اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ پس یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی صنعت و حرفت کے لیے اللہ نے بندوں کو مقرر کر دیا ہے۔

[81]﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ﴾ ’’اور بنا دیے اللہ نے تمھارے واسطے ان میں سے جن کو پیدا کیا‘‘ یعنی جن میں تمھارے لیے کوئی صنعت نہیں ہے۔ ﴿ظِلٰلًا﴾ ’’سائے‘‘ ، مثلاً: درختوں پہاڑوں اور ٹیلوں کے سائے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَكۡنَانًا ﴾ ’’اور بنا دیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ‘‘ یعنی غار اور کھوہ بنائے جہاں تم گرمی، سردی، بارش اور اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے پناہ لیتے ہو ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے کرتے‘‘ یعنی لباس اور کپڑے ﴿ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ ﴾ ’’وہ تمھیں گرمی سے بچاتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سردی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی ابتداء …

82

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے

اور اللہ نے بنائے تمھارے لیے تمھارے گھر جائے سکونت اور اسی نے بنائے تمھارے لیے چمڑوں سے چوپایوں کے ایک قسم کے گھر (خیمے) کہ تم ہلکا سمجھتے ہو ان کو اپنے کوچ کے دن اور اپنی اقامت کے دن اور(بنایا) ان (بھیڑوں ) کی اون سےاور ان (اونٹوں ) کی پشم سےاور ان (بکریوں ) کے بالوں سے، گھر کا سامان اور کئی فائدے (کی چیزیں )، ایک وقت تک (80) اور اللہ ہی نے بنائے تمھارے لیے، ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کیں ، سائے اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں (غاریں) اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے قمیصیں ، وہ بچاتی ہیں تمھیں گرمی (اور سردی) سےاور قمیصیں (زر ہیں )، وہ بچاتی ہیں تمھیں تمھاری لڑائی میں ، اسی طرح اللہ پوری کرتا ہے نعمت اپنی تم پرتاکہ تم مطیع ہو جاؤ (81) پھر اگر وہ منہ پھیریں (اسلام سے) تو یقینا آپ تو صرف پہنچا دینا ہے صریح طور پر (82) وہ پہچانتے ہیں اللہ کی نعمت کو ، پھر وہ انکار کرتے ہیں اس کااور اکثر ان کے کافر ہیں (83)

[80] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۢۡ بُيُوۡتِكُمۡ سَكَنًا ﴾ ’’اور اللہ ہی نے تمھارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے گھر اور بڑے بڑے محل بنائے جو تمھیں گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ، تمھیں ، تمھاری اولاد اور تمھارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرتے ہیں ۔ تم ان گھروں میں ، اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لیے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمھارے مال و متاع اور تمھاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے چو پاؤں کی کھالوں سے‘‘ یعنی یا تو خود ان چوپایوں کی کھال سے یا اس کھال پر اگنے والے بالوں اور اون سے ﴿ بُيُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَهَا ﴾ ’’ڈیرے، جو ہلکے رہتے ہیں تم پر‘‘ یعنی جن کے بوجھ کو اٹھانا تمھارے لیے بہت آسان ہوتا ہے ﴿ يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ اِقَامَتِكُمۡ﴾’’سفر اور حضر میں ۔‘‘ یعنی وہ سفر اور ان منزلوں میں تمھارے ساتھ ہوتے ہیں جہاں گھر بنانا تمھارا مقصد نہیں ہوتا۔ پس یہ خیمے تمھیں گرمی، سردی اور بارش سے بچاتے ہیں اور تمھارے مال و متاع کو بھی بارشوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے بنائے ﴿ مِنۡ اَصۡوَافِهَا ﴾ ’’ان کی اون سے۔‘‘ یعنی ان چوپایوں کی پشم سے ﴿ وَاَوۡبَارِهَا وَاَشۡعَارِهَاۤ اَثَاثًا ﴾ ’’اور اونٹوں کی پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب‘‘ (اثاث) کا لفظ برتنوں ، خرجیوں ، بچھونوں ، لباس اور اوپر اوڑھنے والے کپڑوں وغیرہ سب کو شامل ہے ﴿ وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی ان چیزوں کو اس دنیا میں استعمال کرتے ہو اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ پس یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی صنعت و حرفت کے لیے اللہ نے بندوں کو مقرر کر دیا ہے۔

[81]﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ﴾ ’’اور بنا دیے اللہ نے تمھارے واسطے ان میں سے جن کو پیدا کیا‘‘ یعنی جن میں تمھارے لیے کوئی صنعت نہیں ہے۔ ﴿ظِلٰلًا﴾ ’’سائے‘‘ ، مثلاً: درختوں پہاڑوں اور ٹیلوں کے سائے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَكۡنَانًا ﴾ ’’اور بنا دیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ‘‘ یعنی غار اور کھوہ بنائے جہاں تم گرمی، سردی، بارش اور اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے پناہ لیتے ہو ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے کرتے‘‘ یعنی لباس اور کپڑے ﴿ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ ﴾ ’’وہ تمھیں گرمی سے بچاتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سردی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی ابتداء …

83

يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں

اور اللہ نے بنائے تمھارے لیے تمھارے گھر جائے سکونت اور اسی نے بنائے تمھارے لیے چمڑوں سے چوپایوں کے ایک قسم کے گھر (خیمے) کہ تم ہلکا سمجھتے ہو ان کو اپنے کوچ کے دن اور اپنی اقامت کے دن اور(بنایا) ان (بھیڑوں ) کی اون سےاور ان (اونٹوں ) کی پشم سےاور ان (بکریوں ) کے بالوں سے، گھر کا سامان اور کئی فائدے (کی چیزیں )، ایک وقت تک (80) اور اللہ ہی نے بنائے تمھارے لیے، ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کیں ، سائے اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں (غاریں) اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے قمیصیں ، وہ بچاتی ہیں تمھیں گرمی (اور سردی) سےاور قمیصیں (زر ہیں )، وہ بچاتی ہیں تمھیں تمھاری لڑائی میں ، اسی طرح اللہ پوری کرتا ہے نعمت اپنی تم پرتاکہ تم مطیع ہو جاؤ (81) پھر اگر وہ منہ پھیریں (اسلام سے) تو یقینا آپ تو صرف پہنچا دینا ہے صریح طور پر (82) وہ پہچانتے ہیں اللہ کی نعمت کو ، پھر وہ انکار کرتے ہیں اس کااور اکثر ان کے کافر ہیں (83)

[80] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۢۡ بُيُوۡتِكُمۡ سَكَنًا ﴾ ’’اور اللہ ہی نے تمھارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے گھر اور بڑے بڑے محل بنائے جو تمھیں گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ، تمھیں ، تمھاری اولاد اور تمھارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرتے ہیں ۔ تم ان گھروں میں ، اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لیے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمھارے مال و متاع اور تمھاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے چو پاؤں کی کھالوں سے‘‘ یعنی یا تو خود ان چوپایوں کی کھال سے یا اس کھال پر اگنے والے بالوں اور اون سے ﴿ بُيُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَهَا ﴾ ’’ڈیرے، جو ہلکے رہتے ہیں تم پر‘‘ یعنی جن کے بوجھ کو اٹھانا تمھارے لیے بہت آسان ہوتا ہے ﴿ يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ اِقَامَتِكُمۡ﴾’’سفر اور حضر میں ۔‘‘ یعنی وہ سفر اور ان منزلوں میں تمھارے ساتھ ہوتے ہیں جہاں گھر بنانا تمھارا مقصد نہیں ہوتا۔ پس یہ خیمے تمھیں گرمی، سردی اور بارش سے بچاتے ہیں اور تمھارے مال و متاع کو بھی بارشوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے بنائے ﴿ مِنۡ اَصۡوَافِهَا ﴾ ’’ان کی اون سے۔‘‘ یعنی ان چوپایوں کی پشم سے ﴿ وَاَوۡبَارِهَا وَاَشۡعَارِهَاۤ اَثَاثًا ﴾ ’’اور اونٹوں کی پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب‘‘ (اثاث) کا لفظ برتنوں ، خرجیوں ، بچھونوں ، لباس اور اوپر اوڑھنے والے کپڑوں وغیرہ سب کو شامل ہے ﴿ وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی ان چیزوں کو اس دنیا میں استعمال کرتے ہو اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ پس یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی صنعت و حرفت کے لیے اللہ نے بندوں کو مقرر کر دیا ہے۔

[81]﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ﴾ ’’اور بنا دیے اللہ نے تمھارے واسطے ان میں سے جن کو پیدا کیا‘‘ یعنی جن میں تمھارے لیے کوئی صنعت نہیں ہے۔ ﴿ظِلٰلًا﴾ ’’سائے‘‘ ، مثلاً: درختوں پہاڑوں اور ٹیلوں کے سائے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَكۡنَانًا ﴾ ’’اور بنا دیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ‘‘ یعنی غار اور کھوہ بنائے جہاں تم گرمی، سردی، بارش اور اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے پناہ لیتے ہو ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے کرتے‘‘ یعنی لباس اور کپڑے ﴿ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ ﴾ ’’وہ تمھیں گرمی سے بچاتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سردی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی ابتداء …

84

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے

اور (یاد کرو!) جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر امت میں سے ایک گواہ، پھر نہ اجازت دی جائے گی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفرکیااورنہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (84) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، عذاب کو تو نہ کم کیا جائے گا ان سے اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے (85) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، اپنے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنھیں تھے ہم پکارتے تیرے سوا، پس وہ پھینک ماریں گے ان کی طرف یہ بات (اور کہیں گے) بلاشبہ تم یقینا جھوٹے ہو (86) اور وہ پیش کریں گے اللہ کی بارگاہ میں ، اس دن فرماں برداری (عاجزی) اور گم ہو جائے گا ان سے وہ جو تھے وہ افترا باندھتے (87)

[85,84] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افترا پردازی کیا کرتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا‘‘ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انھوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لیے کھڑا کرے گا، وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہو گا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں گے۔ جب وہ گواہی دیں گے تو لوگوں کے خلاف فیصلہ مکمل ہو جائے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ یعنی کفار کو معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کو اپنے موقف کے بطلان کے معلوم ہونے کے بعد ان کا عذر، محض جھوٹا عذر ہو گا، جو ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اگر وہ دنیا میں واپس جانا چاہیں گے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی تلافی کر سکیں تو انھیں واپس جانے کی اجازت ملے گی نہ ان سے ناراضی کو دور کیا جائے گا بلکہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو ان کو جلدی سے عذاب میں دھکیل دیا جائے گا، وہ عذاب جس میں کوئی تخفیف کی جائے گی نہ ان کو کوئی ڈھیل دی جائے گی اور نہ مہلت کیونکہ ان کے دامن میں کوئی نیکی نہ ہو گی۔ ان کے اعمال کوشمار کر کے ان کے سامنے کیا جائے گا وہ اس کا اقرار کریں گے اور شرمسار ہوں گے۔

[86]﴿ وَاِذَا رَاَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا شُرَؔكَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے شریکوں کو‘‘ یعنی قیامت کے روز جب وہ اپنے خود ساختہ شریکوں کو دیکھیں گے اور ان کا بطلان ان پر واضح ہو جائے گا اور ان کے لیے انکار ممکن نہیں رہے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَؔكَآؤُنَا الَّذِيۡنَ كُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِكَ﴾’’تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے تھے۔‘‘ یہ کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ سفارش کر سکتے ہیں ۔ وہ خود پکار پکار کر ان خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا اعلان کر کے ان کا انکار کریں گے اور ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان عداوت ظاہر ہو جائے گی۔﴿ فَاَلۡقَوۡا اِلَيۡهِمُ الۡقَوۡلَ ﴾ ’’پس ڈالیں گے وہ ان کی طرف بات‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ اِنَّـكُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’بے شک تم جھوٹے ہو‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری بھی عبادت کیا کرتے تھے۔ پس ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے کبھی الوہیت کے استحقاق کا دعویٰ کیا تھا، اس لیے اپنے آپ کو کوسو۔

[87] تب اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شرک کو تسلیم کر لیں گے اور اس کے فیصلے کے سامنے جھک جائیں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’اور ان …

85

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی

اور (یاد کرو!) جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر امت میں سے ایک گواہ، پھر نہ اجازت دی جائے گی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفرکیااورنہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (84) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، عذاب کو تو نہ کم کیا جائے گا ان سے اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے (85) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، اپنے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنھیں تھے ہم پکارتے تیرے سوا، پس وہ پھینک ماریں گے ان کی طرف یہ بات (اور کہیں گے) بلاشبہ تم یقینا جھوٹے ہو (86) اور وہ پیش کریں گے اللہ کی بارگاہ میں ، اس دن فرماں برداری (عاجزی) اور گم ہو جائے گا ان سے وہ جو تھے وہ افترا باندھتے (87)

[85,84] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افترا پردازی کیا کرتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا‘‘ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انھوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لیے کھڑا کرے گا، وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہو گا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں گے۔ جب وہ گواہی دیں گے تو لوگوں کے خلاف فیصلہ مکمل ہو جائے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ یعنی کفار کو معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کو اپنے موقف کے بطلان کے معلوم ہونے کے بعد ان کا عذر، محض جھوٹا عذر ہو گا، جو ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اگر وہ دنیا میں واپس جانا چاہیں گے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی تلافی کر سکیں تو انھیں واپس جانے کی اجازت ملے گی نہ ان سے ناراضی کو دور کیا جائے گا بلکہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو ان کو جلدی سے عذاب میں دھکیل دیا جائے گا، وہ عذاب جس میں کوئی تخفیف کی جائے گی نہ ان کو کوئی ڈھیل دی جائے گی اور نہ مہلت کیونکہ ان کے دامن میں کوئی نیکی نہ ہو گی۔ ان کے اعمال کوشمار کر کے ان کے سامنے کیا جائے گا وہ اس کا اقرار کریں گے اور شرمسار ہوں گے۔

[86]﴿ وَاِذَا رَاَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا شُرَؔكَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے شریکوں کو‘‘ یعنی قیامت کے روز جب وہ اپنے خود ساختہ شریکوں کو دیکھیں گے اور ان کا بطلان ان پر واضح ہو جائے گا اور ان کے لیے انکار ممکن نہیں رہے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَؔكَآؤُنَا الَّذِيۡنَ كُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِكَ﴾’’تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے تھے۔‘‘ یہ کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ سفارش کر سکتے ہیں ۔ وہ خود پکار پکار کر ان خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا اعلان کر کے ان کا انکار کریں گے اور ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان عداوت ظاہر ہو جائے گی۔﴿ فَاَلۡقَوۡا اِلَيۡهِمُ الۡقَوۡلَ ﴾ ’’پس ڈالیں گے وہ ان کی طرف بات‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ اِنَّـكُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’بے شک تم جھوٹے ہو‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری بھی عبادت کیا کرتے تھے۔ پس ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے کبھی الوہیت کے استحقاق کا دعویٰ کیا تھا، اس لیے اپنے آپ کو کوسو۔

[87] تب اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شرک کو تسلیم کر لیں گے اور اس کے فیصلے کے سامنے جھک جائیں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’اور ان …

86

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ شُرَكَآءَهُمْ قَالُوا۟ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوا۟ مِن دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا۟ إِلَيْهِمُ ٱلْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَٰذِبُونَ

اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

اور (یاد کرو!) جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر امت میں سے ایک گواہ، پھر نہ اجازت دی جائے گی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفرکیااورنہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (84) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، عذاب کو تو نہ کم کیا جائے گا ان سے اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے (85) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، اپنے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنھیں تھے ہم پکارتے تیرے سوا، پس وہ پھینک ماریں گے ان کی طرف یہ بات (اور کہیں گے) بلاشبہ تم یقینا جھوٹے ہو (86) اور وہ پیش کریں گے اللہ کی بارگاہ میں ، اس دن فرماں برداری (عاجزی) اور گم ہو جائے گا ان سے وہ جو تھے وہ افترا باندھتے (87)

[85,84] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افترا پردازی کیا کرتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا‘‘ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انھوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لیے کھڑا کرے گا، وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہو گا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں گے۔ جب وہ گواہی دیں گے تو لوگوں کے خلاف فیصلہ مکمل ہو جائے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ یعنی کفار کو معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کو اپنے موقف کے بطلان کے معلوم ہونے کے بعد ان کا عذر، محض جھوٹا عذر ہو گا، جو ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اگر وہ دنیا میں واپس جانا چاہیں گے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی تلافی کر سکیں تو انھیں واپس جانے کی اجازت ملے گی نہ ان سے ناراضی کو دور کیا جائے گا بلکہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو ان کو جلدی سے عذاب میں دھکیل دیا جائے گا، وہ عذاب جس میں کوئی تخفیف کی جائے گی نہ ان کو کوئی ڈھیل دی جائے گی اور نہ مہلت کیونکہ ان کے دامن میں کوئی نیکی نہ ہو گی۔ ان کے اعمال کوشمار کر کے ان کے سامنے کیا جائے گا وہ اس کا اقرار کریں گے اور شرمسار ہوں گے۔

[86]﴿ وَاِذَا رَاَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا شُرَؔكَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے شریکوں کو‘‘ یعنی قیامت کے روز جب وہ اپنے خود ساختہ شریکوں کو دیکھیں گے اور ان کا بطلان ان پر واضح ہو جائے گا اور ان کے لیے انکار ممکن نہیں رہے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَؔكَآؤُنَا الَّذِيۡنَ كُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِكَ﴾’’تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے تھے۔‘‘ یہ کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ سفارش کر سکتے ہیں ۔ وہ خود پکار پکار کر ان خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا اعلان کر کے ان کا انکار کریں گے اور ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان عداوت ظاہر ہو جائے گی۔﴿ فَاَلۡقَوۡا اِلَيۡهِمُ الۡقَوۡلَ ﴾ ’’پس ڈالیں گے وہ ان کی طرف بات‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ اِنَّـكُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’بے شک تم جھوٹے ہو‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری بھی عبادت کیا کرتے تھے۔ پس ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے کبھی الوہیت کے استحقاق کا دعویٰ کیا تھا، اس لیے اپنے آپ کو کوسو۔

[87] تب اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شرک کو تسلیم کر لیں گے اور اس کے فیصلے کے سامنے جھک جائیں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’اور ان …

87

وَأَلْقَوْا۟ إِلَى ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ ٱلسَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا

اور (یاد کرو!) جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر امت میں سے ایک گواہ، پھر نہ اجازت دی جائے گی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفرکیااورنہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (84) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، عذاب کو تو نہ کم کیا جائے گا ان سے اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے (85) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، اپنے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنھیں تھے ہم پکارتے تیرے سوا، پس وہ پھینک ماریں گے ان کی طرف یہ بات (اور کہیں گے) بلاشبہ تم یقینا جھوٹے ہو (86) اور وہ پیش کریں گے اللہ کی بارگاہ میں ، اس دن فرماں برداری (عاجزی) اور گم ہو جائے گا ان سے وہ جو تھے وہ افترا باندھتے (87)

[85,84] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افترا پردازی کیا کرتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا‘‘ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انھوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لیے کھڑا کرے گا، وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہو گا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں گے۔ جب وہ گواہی دیں گے تو لوگوں کے خلاف فیصلہ مکمل ہو جائے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ یعنی کفار کو معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کو اپنے موقف کے بطلان کے معلوم ہونے کے بعد ان کا عذر، محض جھوٹا عذر ہو گا، جو ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اگر وہ دنیا میں واپس جانا چاہیں گے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی تلافی کر سکیں تو انھیں واپس جانے کی اجازت ملے گی نہ ان سے ناراضی کو دور کیا جائے گا بلکہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو ان کو جلدی سے عذاب میں دھکیل دیا جائے گا، وہ عذاب جس میں کوئی تخفیف کی جائے گی نہ ان کو کوئی ڈھیل دی جائے گی اور نہ مہلت کیونکہ ان کے دامن میں کوئی نیکی نہ ہو گی۔ ان کے اعمال کوشمار کر کے ان کے سامنے کیا جائے گا وہ اس کا اقرار کریں گے اور شرمسار ہوں گے۔

[86]﴿ وَاِذَا رَاَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا شُرَؔكَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے شریکوں کو‘‘ یعنی قیامت کے روز جب وہ اپنے خود ساختہ شریکوں کو دیکھیں گے اور ان کا بطلان ان پر واضح ہو جائے گا اور ان کے لیے انکار ممکن نہیں رہے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَؔكَآؤُنَا الَّذِيۡنَ كُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِكَ﴾’’تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے تھے۔‘‘ یہ کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ سفارش کر سکتے ہیں ۔ وہ خود پکار پکار کر ان خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا اعلان کر کے ان کا انکار کریں گے اور ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان عداوت ظاہر ہو جائے گی۔﴿ فَاَلۡقَوۡا اِلَيۡهِمُ الۡقَوۡلَ ﴾ ’’پس ڈالیں گے وہ ان کی طرف بات‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ اِنَّـكُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’بے شک تم جھوٹے ہو‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری بھی عبادت کیا کرتے تھے۔ پس ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے کبھی الوہیت کے استحقاق کا دعویٰ کیا تھا، اس لیے اپنے آپ کو کوسو۔

[87] تب اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شرک کو تسلیم کر لیں گے اور اس کے فیصلے کے سامنے جھک جائیں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’اور ان …

88

ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدْنَٰهُمْ عَذَابًۭا فَوْقَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يُفْسِدُونَ

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے

وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کی راہ سے، زیادہ دیں گے ہم انھیں عذاب اوپر عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ فساد کرتے (88)

[88] اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں مجرموں کے انجام کا ذکر فرماتا ہے کہ انھوں نے کفر کیا، آیات الٰہی کی تکذیب کی، انبیاء و رسل کے خلاف جنگ کی، لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا اور گمراہی کے داعی بن گئے، اس لیے وہ کئی گنا عذاب کے مستحق قرار پائے، جس طرح ان کا جرم کئی گنا ہے اور جس طرح انھوں نے اللہ کی زمین میں فساد برپا کیا۔

89

وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ تِبْيَٰنًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے

اور (یاد کرو) جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر امت میں سے ایک گواہ ان پر انھی میں سےاور لائیں گے ہم آپ کو گواہ اوپر ان لوگوں کےاور نازل کی ہم نے آپ پر یہ کتاب (قرآن)، کھول کر بیان کرنے والی ہرچیز کو، ہدایت اور رحمت اورخوش خبری واسطے مسلمانوں کے (89)

[89] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر امت میں ایک گواہ کھڑاکرے گا۔ ﴿ فِيۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا ﴾ یہاں بھی گواہ کھڑا کرنے کا ذکر کیا ہے اور رسول کریمﷺ کے گواہ ہونے کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيۡدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’اور لائیں گے ہم آپ کو ان پر گواہ‘‘ یعنی آپﷺ اپنی امت کے خیروشر پر گواہ ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کمال عدل ہے کہ ہر رسول اپنی امت پر گواہی دے گا کیونکہ وہ اپنی امت کے اعمال کے بارے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ اطلاع رکھتا ہے، وہ اتنا عادل اور اپنی امت کے بارے میں اتنا شفیق ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں صرف اسی چیز کی گواہی دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ قول ہے:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ:2؍ 143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول(ﷺ) تم پر گواہی دیں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ ﴿ فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا ۰۰يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾(النساء:4؍4 1۔42)’’اس وقت ان کا کیسا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان لوگوں پر آپ کو گواہ بنائیں گے۔ اس روز کافر اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین میں سما جائیں اور ان پر مٹی برابر کر دی جائے۔‘‘﴿ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ تِبۡيَانًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ پر کتاب، کھلا بیان ہر چیز کا‘‘ دین کے اصول و فروع، دنیا و آخرت کے احکام اور ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہیں اس کتاب میں واضح الفاظ و معانی کے ساتھ مکمل طور پر بیان کر دی گئی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کریم میں بڑے بڑے امور کو بتکرار بیان کرتا ہے جن کے بارے میں قلب کو ہر وقت اور ہر گھڑی تکرار اور بار بار دہرانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان امور کا مختلف عبارات اور متنوع دلائل کے ساتھ اعادہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ دلوں کی گہرائی میں اتر کر اچھی طرح جاگزیں ہو جائیں ۔ پس یہ دل میں جس طرح راسخ ہوتے ہیں اس کے مطابق خیروشر کی صورت میں ثمرات حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نہایت قلیل اور واضح الفاظ میں بہت سے معانی جمع کر دیتا ہے، الفاظ ان معانی کے لیے بنیاد اور اساس کا کام دیتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ کے بعد آنے والی آیت اور اس میں جو اوامرونواہی ہیں ، جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا، اس پر غور کریں تو یہ نکتہ واضح ہوجائے گا۔چونکہ یہ قرآن عظیم ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اس لیے تمام انسانوں پر حجت ہے۔ اس کے خلاف ظالموں کی حجت منقطع ہو گئی۔ مسلمانوں نے اس سے استفادہ کیا اور وہ ان کے لیے راہ نما بن گیا۔ وہ اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اس سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں ۔ وہ ان کے لیے رحمت ہے جس کے ذریعے سے وہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل کرتے ہیں ۔ اس کے ذریعے سے جو وہ علم نافع اور عمل صالح حاصل کرتے ہیں ، وہی ہدایت ہے۔ دنیا و آخرت کا جو ثواب اس پر مترتب ہوتا ہے، مثلاً:اصلاح قلب، اطمینان قلب اور نیکی وغیرہ، وہی رحمت ہے۔قرآن عظیم کے معانی کے مطابق، جو کہ بلندترین معانی ہیں … تربیت کے بغیر عقل کی تکمیل نہیں ہوتی… اس کے معانی کے مطابق تربیت کے بغیر اعمال کریمہ، اخلاق فاضلہ، …

90

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

بلاشبہ اللہ حکم دیتا ہے عدل اور احسان کرنےاور (امداد) دینے کا قرابت داروں کواور وہ روکتا ہے بے حیائی اور برے کام اور سرکشی سے، وہ نصیحت کرتا ہے تمھیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (90)

[90] اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس عدل کا حکم دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں عدل اور بندوں کے حقوق کے بارے میں عدل کو شامل ہے۔ عدل یہ ہے کہ تمام حقوق کو پوری طرح ادا کیا جائے۔ بندہ مالی، بدنی اور ان دونوں پر مبنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں ۔ مخلوق کے ساتھ کامل انصاف پر مبنی معاملہ کیا جائے۔ پس ہر ولی اپنی ولایت کے تحت آنے والے ہر معاملے میں عدل و انصاف سے کام لے، خواہ یہ ولایت امامت کبریٰ (خلافت و امارت) یا ولایت قضا یا خلیفہ کی نیابت یا قاضی کی نیابت ہو، اس معاملے میں سب برابر ہیں ۔عدل وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول (ﷺ) کے توسط سے اہل ایمان پر فرض کیا ہے اور عدل کے راستے پر گامزن رہنے کا حکم دیا ہے۔ معاملات میں عدل یہ ہے کہ خرید و فروخت اور تمام معاوضات میں آپ لوگوں کے ساتھ اس طرح معاملہ کریں کہ آپ کے ذمہ جو کچھ ہے اسے پوری طرح ادا کریں ۔ آپ ان کے حق میں کمی کریں نہ دھوکہ دیں نہ ان کے ساتھ فریب کاری کریں اور نہ ان پر ظلم کریں ۔ عدل کرنا فرض ہے، احسان سے پیش آنا فضیلت اور مستحب ہے، مثلاً:لوگوں کو مال، بدن، علم اور دیگر مختلف قسم کی منفعتوں کے ذریعے سے فائدہ پہنچانا حتیٰ کہ اس جانور کے ساتھ احسان کرنا بھی اس میں داخل ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے یا نہیں کھایا جاتا۔اللہ تعالیٰ نے قرابت داروں کو عطا کرنے کا خاص طور پر ذکر کیا ہے… اگرچہ وہ (احسان کرنے کے) عمومی حکم میں داخل ہیں … کیونکہ ان کا حق موکد، ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نیکی متعین ہے اور صلہ رحمی کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس حکم میں ، قریب اور دور کے تمام رشتہ دار داخل ہیں مگر جو رشتہ میں زیادہ قریب ہے وہ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔ ﴿ وَيَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ ﴾ ’’اور وہ فحشاء سے منع کرتا ہے‘‘ (الفحشاء) ہر اس بڑے گناہ کو کہتے ہیں جس کو شریعت اور فطرت سلیم برا سمجھتی ہو، مثلاً:شرک، قتل ناحق، زنا، چوری، خودپسندی، تکبر اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آنا وغیرہ۔ (المنکر) میں ہر وہ گناہ اور معصیت داخل ہے جس کا تعلق حقوق اللہ کے ساتھ ہو۔ (البغی) سے مراد ہے لوگوں کے جان، مال اور ناموس پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنا… اس طرح یہ آیت کریمہ تمام مامورات و منہیات کی جامع ہے کوئی چیز ایسی نہیں جو اس میں داخل نہ ہو۔ یہ ایک اصول ہے جس کی طرف تمام جزئیات لوٹتی ہیں۔پس ہر مسئلہ جو عدل، احسان یا قرابت داروں کو عطا کرنے پر مشتمل ہے تو وہ ان چیزوں میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور وہ مسئلہ جو فواحش، منکرات یا ظلم اور زیادتی پر مشتمل ہے تو وہ ان چیزوں میں سے ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کے حسن و قبح کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اسی کے ذریعے سے لوگوں کے اقوال کو جانچا جاتا ہے اور اسی کی طرف تمام احوال لوٹتے ہیں ۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا، روشنی اور تمام اشیاء کو پرکھنے کے لیے فرقان بنایا۔ اسی لیے فرمایا:﴿يَعِظُكُمۡ ﴾ ’’وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان امور کے ذریعے سے تمھیں نصیحت کرتا ہے جن کو اس نے تمھارے لیے اپنی کتاب میں واضح فرمایا۔ وہ تمھیں اس چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری بھلائی ہے اور اس چیز سے روکتا ہے جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم نصیحت پکڑو‘‘ جس چیز کی تمھیں نصیحت کی گئی ہے۔ پس تم اس کو سمجھو کیونکہ جب تم اس سے نصیحت حاصل کر کے اس کو سمجھ لو گے تب تم اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرو گے اور تم …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.