Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 81–90 of 128

81

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلْجِبَالِ أَكْنَٰنًۭا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلْحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا ۔۔ : ” ظِلٰلًا “ ” ظِلٌّ“ کی جمع ہے، سائے۔ ” اَكْنَانًا “ اور ” اَکِنَّۃٌ“ دونوں ” کِنٌّ“ کی جمع ہیں، چھپاؤ کی جگہ یا چیز، جیسا کہ فرمایا : (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ ) [ حٰآ السجدۃ : ٥ ] ” اور انھوں نے کہا ہمارے دل پردے میں ہیں۔ “ ” سَرَابِیْل “ ” سِرْبَالٌ“ کی جمع ہے، قمیص یا جو لباس بھی پہنا جائے۔ ” تَقِيْكُمْ “ ” وَقٰی یَقِيْ “ سے مضارع معلوم واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ فاعل اس کا ضمیر جمع ہے، اس لیے واحد مؤنث ہے۔ چوپاؤں، مکانوں اور خیموں کے بعد گھر سے باہر سردی گرمی اور دشمن سے بچاؤ کرنے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اس آیت میں ان لوگوں کے لیے جن کے پاس مکان یا خیمہ نہیں، یا وہ سفر میں ہیں تو گرمی وغیرہ سے بچاؤ کے لیے مختلف سایوں کا ذکر کیا، مثلاً درختوں کا سایہ، مکانوں، دیواروں اور پہاڑوں کا سایہ، آبادیوں کا سایہ، چھتریوں کا سایہ، غرض یہی سائے گرمی سردی اور بارش سے بچانے کے کام آتے ہیں۔ - وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا : اس میں پہاڑوں کی قدرتی غاریں، کھود کر بنائے ہوئے مکان اور پہاڑوں میں کھود کر بنائی ہوئی لمبی سرنگیں، جن میں فوجی سامان، اسلحہ، جہاز اور فوج محفوظ رکھی جاتی ہے، سب شامل ہیں۔ - وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرَّ : وہ لباس جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں، بعض اہل علم نے فرمایا کہ قرآن کے اولین مخاطب عرب تھے، وہاں گرمی زیادہ تھی، اس لیے صرف گرمی سے بچانے والے لباس ذکر فرمائے۔ مگر اکثر مفسرین نے فرمایا کہ گرمی کا ذکر کافی سمجھ کر سردی کا الگ ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ لباس گرمی سے بچاتا ہے تو سردی سے بھی بچاتا ہے۔ رہا عرب میں گرمی کا زیادہ ہونا تو اسی سورت کے شروع میں جانوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ ) [ النحل : ٥ ]” تمہارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان ہے۔ “ معلوم ہوا عربوں کو بھی سردی سے بچنے کی ضرورت تھی، اس لیے یہ بات زیادہ قوی ہے کہ قرآن مجید نے صرف گرمی کا ذکر کرکے سردی سے بچانے کی نعمت پر غور کرنا سننے والوں پر چھوڑ دیا، یا سورت کے شروع میں ” وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ “ (تمھارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان ہے) میں سردی سے بچاؤ کا ذکر پہلے ہو چکنے کی وجہ سے یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ ” وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ “ اس میں زرہ، خود، بلٹ پروف (گولی سے محفوظ) جیکٹیں، گاڑیاں اور ٹینک وغیرہ سب شامل ہیں۔- لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ : یعنی تاکہ تم فرماں بردار اور اللہ تعالیٰ کے تابع بن جاؤ، اس لیے کہ جو شخص ان بےپایاں نعمتوں پر غور کرے گا ضروری ہے کہ وہ ایمان لا کر اس کی اطاعت اختیار کرے۔

82

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے۔ اس شرط کا جواب محذوف ہے جو بعد والے جملے سے سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی اگر وہ پھرجائیں، نہ مانیں تو آپ کا کوئی نقصان ہے نہ آپ پر کوئی ملامت، کیونکہ آپ کے ذمے صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے، آپ اپنا فریضہ ادا کرتے جائیں، ایمان کی توفیق دینا یا نہ دینا ہمارے ہاتھ میں ہے، فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ ) [ القصص : ٥٦ ] ” بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے۔ “ پھر ان کا محاسبہ بھی ہمارے ذمے ہے، فرمایا : ( فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ ) [ الرعد : ٤٠ ] ” پس تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔ “

83

يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں

يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا : یعنی خوب جانتے ہیں کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات عنایت فرما رہی ہے، مگر جب عملاً شکر گزاری کا وقت آتا ہے تو انکار کردیتے ہیں۔ ” ثُمَّ “ یہاں تعجب کے لیے ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے پھر اللہ کی نعمتوں کا انکار کردیتے ہیں، گویا دل میں نعمتوں کا اقرار اور اپنے عمل سے انکار کرتے ہیں، بلکہ پوچھنے پر اللہ کی نعمتوں کا اقرار زبان سے بھی کرتے ہیں، مثلاً تمہیں کس نے پیدا کیا ؟ جواب دیں گے اللہ نے۔ (دیکھیے زخرف : ٨٧) اسی طرح سورة مومنون (٨٤ تا ٨٩) میں ان کے اعترافات ذکر فرمائے ہیں۔ مگر وہ ایمان لانے پر تیار نہ تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ صرف ” لا الٰہ الا اللہ “ کہنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اپنی مرضی چھوڑ کر ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننا پڑے گا اور اس کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔ ہمارے ہاں بس ” لا الٰہ الا اللہ “ کہنا جنت کے لیے کافی سمجھا گیا ہے، خواہ پوری زندگی اس کے خلاف ہو۔ وجہ اس کی محض طوطے کی طرح کہنا اور مفہوم سے مکمل لاتعلقی ہے۔ بعض اہل علم نے ” نِعْمَتَ اللّٰهِ “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی لی ہے، یعنی یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کا رسول جانتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ - وَاَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ :” اَكْثَرُهُمُ “ اس لیے فرمایا کہ ان کے اکثر جانتے ہوئے کافر تھے۔ کچھ جہل کی وجہ سے بھی انکار کرتے تھے، کچھ دل میں ایمان کا ارادہ بھی رکھتے تھے، کچھ چھوٹے بچے تھے، جو فطرتاً مسلمان تھے مگر کفار کی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کا شمار دنیوی لحاظ سے کفار میں ہوتا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے انصاف کا اور انتہائی احتیاط کا ایک نمونہ ہے کہ ان سب کو نعمت پہچان کر پھر کفر کرنے والے قرار نہیں دیا، بلکہ یہ حکم ان کے اکثر پر لگایا۔

84

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًۭا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا : یعنی قیامت کے دن ہر امت کا پیغمبر اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا اور ان تک حق پہنچا دینے کی شہادت دے گا، ساتھ ہی اگر انھوں نے تصدیق کی ہوگی تو اس کی اور اگر جھٹلایا ہوگا تو اس کی بھی شہادت دے گا۔ پیغمبروں کی وفات کے بعد جن لوگوں نے حق پہنچایا وہ یہ شہادت دیں گے۔ اس میں نعمت کے منکروں کے لیے وعید ہے۔ شہادت کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٤٣) ، نساء (٤١) ، حج (٧٨) اور سورة زمر (٦٩) ۔- ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ کس چیز کی ؟ دوسری جگہ اس کی وضاحت آئی ہے، اس میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس دن نہ وہ بول سکیں گے اور نہ انھیں عذر کرنے کی اجازت دی جائے گی، جیسے فرمایا : (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙوَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ ) [ المرسلات : ٣٥، ٣٦ ] ” یہ دن ہے کہ نہ وہ بولیں گے اور نہ انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر کریں۔ “ دوسری یہ کہ جب وہ کہیں گے : ( رَبِّ ارْجِعُوْنِ 99 ۝ ۙلَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ ) [ المؤمنون : ٩٩، ١٠٠ ] (اے میرے رب مجھے واپس بھیجو، تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کرلوں) تو انھیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ واپس جانے پر بھی وہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ ( دیکھیے انعام : ٢٨) قرآن کی بلاغت دیکھیے، یہ فرمایا کہ اجازت نہیں دی جائے گی، یہ ذکر نہیں کیا کہ کس چیز کی ؟ کیونکہ وہ کئی چیزیں ہیں۔ - وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ : ” عَتَبَ یَعْتُبُ عَتْبًا “ (ن، ض) ناراض ہونا۔ ” أَعْتَبَ یُعْتِبُ “ ناراضگی دور کرنا۔ ” اَلْعُتْبٰی “ راضی کرنا، منانا۔ ” اِسْتَعْتَبَ فُلَانٌ فُلَانًا “ یعنی فلاں نے دوسرے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی، تاکہ وہ اس کی ناراضگی دور کرسکے، یا معافی مانگ سکے۔ ” وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ “ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سامنے اس لیے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا جائے گا کہ وہ معافی کی درخواست کرکے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دور کرسکیں، یعنی انھیں اللہ کو راضی کرنے کی درخواست کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا۔

85

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی

وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ ۔۔ : ” وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا “ سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ موحدین تو اپنے گناہوں کی سزا پا کر، یا شفاعت سے، یا محض اللہ کی رحمت سے عذاب سے نکل آئیں گے، فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ) [ النساء : ١١٦ ] ” بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔ “ جب کہ ان ظالموں کے عذاب دیکھ لینے کے بعد نہ اس میں کمی کی جائے گی، نہ ایک لمحے کی مہلت دی جائے گی، بلکہ اسی وقت عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ ” الذین ظلموا “ سے مراد کفار کے ہر طبقے کے لیے خاص عذاب مراد ہے۔ - 3 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی، جب کہ ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، جب آپ کے پاس آپ کے چچا کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا : ( لَعَلَّہُ تَنْفَعُہُ شَفَاعَتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُجْعَلُ فِيْ ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ یَغْلِيْ مِنْہُ دِمَاغُہُ ) [ بخاری، مناقب الأنصار، باب قصۃ أبي طالب : ٣٨٨٥۔ مسلم : ٢١٠ ] ” امید ہے کہ قیامت کے دن اسے میری شفاعت پہنچے گی تو اسے ہلکی آگ میں ڈالا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی، اس سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ “ صحیح بخاری ہی میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( وَلَوْلَا أَنَا لَکَانَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) ” اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے درک اسفل میں ہوتا۔ “ [ بخاری، مناقب الأنصار، باب قصۃ أبي طالب : ٣٨٨٣ ] ان دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ کفار کے حق میں کوئی سفارش آگ سے نکلنے کے لیے قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی سفارش ان کے والد کے حق میں قبول نہیں ہوگی اور سورة شعراء (١٠٠) اور سورة مدثر (٤٨) میں کفار کے متعلق سفارش نہ ہونے کا ذکر ہے۔ ہاں صحیح بخاری کی اس حدیث سے بظاہر کفار کے حق میں سفارش سے عذاب کی تخفیف ثابت ہوتی ہے۔ - واضح رہے کہ جنت کے طبقات کی طرح جہنم کے بھی درکات ہیں۔ جنت کا سب سے اعلیٰ طبقہ فردوس ہے اور جہنم کا سب سے سخت حصہ درک اسفل ہے۔ یہ فیصلہ ہونے کے بعد کہ کس کافر کو کون سا عذاب ہوگا جب انھیں جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا تو جہنم کے سات دروازوں میں سے ہر ایک کے لیے جو دروازہ اور جو عذاب مقرر ہے وہ وہاں پہنچیں گے، اسے دیکھنے کے بعد پھر انھیں کوئی تخفیف یا مہلت نہیں ملے گی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خیر خواہی، خدمت اور سفارش کی وجہ سے ابوطالب کا فیصلہ پہلے ہی سب سے ہلکے عذاب کا ہوچکا ہوگا، اب وہاں جانے کے بعد اسے مزید تخفیف یا جہنم سے خلاصی حاصل نہیں ہو سکے گی۔

86

وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ شُرَكَآءَهُمْ قَالُوا۟ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوا۟ مِن دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا۟ إِلَيْهِمُ ٱلْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَٰذِبُونَ

اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۔۔ : کفار جب اپنے ان شریکوں کو دیکھیں گے جنھیں وہ مدد کے لیے پکارتے رہے اور اللہ کا شریک بناتے رہے، یا جن کے بتوں یا قبروں کو پوجتے اور سجدہ و طواف کرتے رہے، جیسا کہ صحیح بخاری (٤٢٨٨) میں ذکر ہے کہ مشرکین مکہ نے کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بت بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ قیامت کے دن مشرکین ان بزرگوں کو دیکھیں گے تو اپنے جرم کو ہلکا کرنے اور اپنے بنائے ہوئے داتاؤں و دستگیروں کو اس جرم میں ساتھی بنانے کے لیے کہیں گے، پروردگار یہ لوگ ہیں جنھیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ وہ سب کے سب فوراً سختی سے کہیں گے، بلاشک و شبہ یقیناً تم جھوٹے ہو۔ فوراً کا مفہوم ” فَاَلْقَوْا “ کی فاء سے ظاہر ہو رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرک انھیں پکارتے تو رہے ہیں، پھر وہ انھیں جھوٹا کیوں کہیں گے ؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے سوا کسی کو پکارتا ہے اسے یعنی اس کے بنائے ہوئے داتا و دستگیر کو معلوم ہی نہیں کہ کوئی اسے پکار رہا ہے، نہ انھیں ان کا پکارنا سنائی دیتا ہے، تو وہ انھیں جھوٹا نہ کہیں تو کیا کہیں ؟ دیکھیے سورة فاطر (١٣، ١٤) اور سورة احقاف (٥، ٦) دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شریک کہیں موجود ہی نہیں، ہر مشرک خواہ بت پرست ہو یا قبر پرست، ولی پرست ہو یا نبی پرست، وہ محض اپنے خیالی بنائے ہوئے حاجت رواؤں، مشکل کشاؤں کو پکارتا ہے، حقیقت میں ان کا کہیں کوئی وجود نہیں، اس لیے وہ انبیاء و اولیاء اور ان کے بنائے ہوئے داتا و دستگیر انھیں صاف جھوٹا کہیں گے کہ تم ہمیں نہیں بلکہ اپنے وہم و گمان اور خیال کو پکارتے اور پوجتے رہے ہو۔ دیکھیے سورة یونس (٦٦) اور سورة نجم (٢٣) رہا شیطان تو اس نے واقعی انھیں شرک کی دعوت دی تھی، مگر وہ نہایت بےحیائی کے ساتھ ان سے صاف بےتعلق ہوجائے گا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (٢٢) ۔

87

وَأَلْقَوْا۟ إِلَى ٱللَّهِ يَوْمَئِذٍ ٱلسَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا

وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ ۔۔ : ” السَّلَمَ “ کا معنی مطیع ہونا، فرماں بردار ہونا ہے۔ یعنی پہلے تو قسمیں کھا کر اپنے مشرک ہونے کا انکار کرتے رہیں گے، جیسا کہ سورة انعام (٢٢، ٢٣) اور سورة مجادلہ (١٨) میں ہے، پھر اپنے بنائے ہوئے شرکاء کو دیکھ کر انھیں اپنے ساتھ پھنسانے کی کوشش کریں گے، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا۔ جب وہ بھی انھیں صاف جھوٹا کہیں گے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہ جائے گا، تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ کھڑے کرکے ہر طرح فرماں بردار اور سرتا پا عجز و انکسار بن جائیں گے اور وہ تمام حاجت روا، مشکل کشا، داتا اور دستگیر جو انھوں نے بنا رکھے تھے اور جن کی مشکل کشائیوں کی جھوٹی کہانیاں انھوں نے گھڑ رکھی تھیں، سب ان سے گم ہوجائیں گے، کوئی نظر نہیں آئے گا۔ بعض لوگوں کو یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقام کی طرح قرآن کی بہت سی آیات میں مشرکین کا بولنا، عذر کرنا، قسمیں اٹھانا مذکور ہے اور کئی آیات میں ان کے مونہوں پر مہر لگنا یا انھیں بولنے کی اجازت نہ ملنا مذکور ہے۔ ترجمان القرآن ابن عباس (رض) نے تطبیق یہ دی ہے کہ یہ سب الگ الگ مواقع کا بیان ہے، کیونکہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا، کبھی ان کا حال کچھ ہوگا کبھی کچھ۔ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب إثم مانع الزکوٰۃ : ٩٨٧ ]

88

ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدْنَٰهُمْ عَذَابًۭا فَوْقَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يُفْسِدُونَ

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے

اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا ۔۔ : ان لوگوں کو ہم عذاب پر عذاب زیادہ کرتے جائیں گے، کیونکہ وہ دوہرے مجرم ہوں گے۔ ایک عذاب ان کے کفر کی وجہ سے اور ایک دوسروں کو اللہ کی راہ، یعنی اسلام سے روکنے کی وجہ سے۔ ان کے گمراہ کردہ لوگوں کو جتنا عذاب ہوگا، ان کے اپنے عذاب کے ساتھ وہ بھی شامل ہوجائے گا، بلکہ قیامت تک ان کے گمراہ کردہ لوگوں کی جد و جہد کے نتیجے میں جب بھی کوئی گمراہ ہوگا، تو اس کو دیے جانے والے عذاب جتنا عذاب ان سب لوگوں کے عذاب میں بھی بڑھا دیا جائے گا جو اس کی گمراہی کا باعث بنے۔ یہ آیت بھی دلیل ہے کہ اہل جہنم کے عذاب کے لحاظ سے کئی درجے ہوں گے۔ - اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا : اس فساد کی وجہ سے جو وہ پھیلاتے رہے اور اپنے ساتھ کئی دوسروں کو بھی لے ڈوبے، جیسے ناحق قتل کی رسم کی ابتدا کرنے والا آدم (علیہ السلام) کا بیٹا تھا۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (٣٢) ، سورة اعراف (٣٨) اور سورة عنکبوت ( ١٢، ١٣) ۔

89

وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ تِبْيَٰنًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے

وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (١٤٣) اور سورة نساء کی آیت (٤١) ” مِّنْ اَنْفُسِهِمْ “ سے مراد خود ان کے چمڑوں اور دوسرے اعضاء کی شہادت بھی ہوسکتی ہے۔ دیکھیے سورة حٰمٓ السجدہ (٢٠، ٢١) ۔

ۭوَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا ۔۔ : ” تِبْيَانًا “ مصدر ہے، بیان میں مبالغہ ہے، بہت اچھی طرح بیان کرنا، یعنی حلال و حرام اور ہر اس چیز کا واضح بیان ہے جس پر دنیا و آخرت میں انسان کی ہدایت و گمراہی اور کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے، پھر جن احکام کو قرآن نے مختصر طور پر بیان کیا ہے، یا ان کا بیان چھوڑ دیا ہے ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و اتباع فرض قرار دے کر سنت و حدیث کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے۔ - لِّكُلِّ شَيْءٍ : قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے ایک دفعہ فرمایا : ( لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوْتَشِمَاتِ ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ ، الْمُغَیِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰہِ ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِيْ أَسَدٍ یُقَالُ لَھَا أُمُّ یَعْقُوْبَ ، فَجَاءَ تْ فَقَالَتْ إِنَّہُ بَلَغَنِيْ أَنَّکَ لَعَنْتَ کَیْتَ وَکَیْتَ ، فَقَالَ وَمَا لِيْ لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ ھُوَ فِيْ کِتَاب اللّٰہِ ؟ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَیْنَ اللَّوْحَیْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ ، فَقَالَ لَءِنْ کُنْتِ قَرَأْتِیْہِ لَقَدْ وَجَدْتِیْہِ ، أَمَا قَرَأْتِ : ( ۭ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ) قَالَتْ : بَلٰی، قَالَ فَإِنَّہُ قَدْ نَھَی عَنْہُ ) [ بخاری، التفسیر، سورة الحشر، باب : ( وما ٰاتاکم الرسول فخذوہ۔۔ ) : ٤٨٨٦ ]” اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو جلد میں سوئی کے ذریعے سے نیل کے ساتھ نقش و نگار بناتی ہیں اور جو بنواتی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھڑواتی ہیں اور جو دانتوں کے درمیان فاصلہ کرواتی ہیں، اللہ کی پیدا کردہ چیز کو بدلتی ہیں۔ “ بنو اسد کی ایک خاتون ام یعقوب نامی کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی : ” مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے ؟ “ انھوں نے فرمایا : ” میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں بھی ہے۔ “ اس نے کہا : ” میں نے دونوں تختیوں کے درمیان (پورا قرآن) پڑھا ہے، اس میں تو تمہاری یہ بات مجھے نہیں ملی۔ “ فرمایا : ” اگر تو نے اسے پڑھا ہوتا تو تجھے مل جاتا، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا : ( ۭ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ) [ الحشر : ٧ ] ” اور رسول تمہیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمہیں روک دے تو رک جاؤ۔ “ اس نے کہا : ” کیوں نہیں ؟ “ فرمایا : ” پھر بات یہ ہے کہ ان کاموں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہے۔ “ - اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے اپنے الفاظ کے مطابق اس میں ہر چیز کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ دین کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتائے ہوئے ہر حکم پر عمل کرنا اور ہر نہی سے باز رہنا بھی قرآن ہی کا حصہ ہے۔ مفسر شعراوی نے یہاں شیخ محمد عبدہ مصری کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں پیرس میں تھا، ایک مستشرق (غیر مسلم عربی عالم) نے مجھ سے کہا کہ قرآن میں ہے : (مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ) [ الأنعام : ٣٨ ] ” ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔ “ میں نے کہا، ہاں ٹھیک ہے۔ اس نے کہا، اچھا یہ بتاؤ کہ ایک اردب (تقریباً ٤٨ کلو) آٹے کی کتنی روٹیاں بنتی ہیں ؟ میں …

90

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ : عدل کا معنی اپنے عقیدے اور عمل میں زیادتی یا کمی سے بچ کر اعتدال اور درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہے۔ انصاف بھی یہی ہے اور قسط بھی۔ ” وَالْاِحْسَانِ “ کا لفظ دو طرح آتا ہے، ایک ”إِلٰی “ یا کسی اور حرف کے واسطے کے بغیر، اس کا معنی کام کو بہت اچھی طرح اور پختگی و مضبوطی سے کرنا ہوتا ہے، مثلاً ” أَحْسَنْتُہٗ “ کہ میں نے یہ کام بہت اچھی طرح کیا، اور ایک ” إِلٰی “ وغیرہ کے واسطے کے ساتھ، جیسے ” أَحْسَنْتُ اِلَیْہِ “ کہ میں نے اس سے اچھا سلوک کیا، یعنی اس ” اِحْسَانٌ“ کا معنی اللہ کی مخلوق کو نفع پہنچانا ہے۔ - اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق کو پیدا کرنے اور ہر نعمت عطا فرمانے کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اس کے حق میں تفریط (کمی) کی جائے نہ افراط (زیادتی) ۔ کمی یہ ہے کہ اس کی ذات کا انکار کیا جائے، یا اس کی صفات (جس طرح اس نے بیان فرمائی ہیں) میں سے کسی صفت کا انکار کیا جائے، اسے تعطیل کہتے ہیں، یا اسے مخلوق کے مشابہ کہا جائے، اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ یا اس کا مطلب ایسا نکالا جائے جس سے اس صفت کا انکار لازم آتا ہو، اسے باطل تاویل یا تحریف کہتے ہیں۔ یا کہا جائے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی صفات مثلاً سمیع یا بصیر وغیرہ کا مطلب کیا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے، یہ بھی انکار ہی کی ایک صورت ہے، اسے تفویض کہتے ہیں۔ یہ سب اس رحمن کے حق میں تفریط (کمی) ہے اور عدل و قسط کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں افراط (زیادتی) یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اس کی ذات یا کسی صفت میں اس کا شریک مانا جائے، یہ اس اکیلے خالق ومالک کے ساتھ سخت ناانصافی اور ظلم عظیم ہے۔ اس لیے ابن عباس (رض) نے اس آیت میں مذکور عدل کا معنی ” لا الٰہ الا اللہ “ کی شہادت قرار دیا ہے۔ (طبری بسند حسن : ٢١٩٩٥)- مخلوق کے بارے میں عدل یہ ہے کہ کسی کو اس کے حق سے نہ کم دیا جائے نہ زیادہ، بلکہ ہر ایک کو اس کا حق پورا پورا دیا جائے، خواہ اپنی ذات پر بوجھ آتا ہو، یا جن کے درمیان آپ فیصلہ کر رہے ہیں ان میں سے کسی ایک سے آپ کی دشمنی یا دوستی ہو، تو کسی کا حق پورا دینے میں وہ دشمنی یا دوستی حائل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے، چناچہ فرمایا : (وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بالْعَدْلِ ) [ النساء : ٥٨ ] ” اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔ “ اور فرمایا : (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰى ) [ المائدۃ : ٨ ] ” اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ “ اور فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا) [ النساء : ١٣٥ ] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جاؤ، خواہ تمہاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔ “ - ” الْاِحْسَانِ “ کا مطلب اگر کام کو اچھی طرح کرنا ہو تو اس کی وضاحت حدیث جبریل (علیہ السلام) میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل (علیہ السلام) کے سوال کہ احسان کیا ہے ؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا : ( أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تََرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِِنَّہُ یَرَاکَ ) [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عن الإیمان و الإسلام۔۔ : ٥٠۔ مسلم : ٨ ] ” احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم …

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.