Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 71–80 of 128

71

وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فِى ٱلرِّزْقِ ۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُوا۟ بِرَآدِّى رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَآءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں

وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۔۔ : یعنی جب تم اپنے غلاموں کو اپنے رزق اور اختیار کا کوئی حصہ دے کر اپنے برابر کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ انسان ہونے میں وہ بالکل تمہاری طرح ہیں، پھر اللہ کے عبید (غلاموں) کو اس کے شریک کیوں بناتے ہو ؟ مکہ کے مشرکوں کی عقل کا ماتم کیجیے جو حج و عمرہ پر لبیک کہتے ہوئے یہ اقرار کرنے کے بعد کہ تیرا کوئی شریک نہیں، پھر کہتے سوائے ایک شریک کے، جس کا مالک بھی تو ہے، وہ مالک نہیں۔ [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ و صفتہا۔۔ : ١١٨٥ ] جب وہ مملوک ہے تو شریک کیسے بن گیا ؟ تم اپنے لیے جو بات پسند نہیں کرتے وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کیوں تسلیم کرتے ہو۔ - 3 اس آیت سے کمیونسٹوں (اشتراکیوں) کے قول کی بھی واضح تردید ہوتی ہے کہ تمام لوگوں کے پاس ایک جیسا رزق ہونا چاہیے، جس کے پاس زائد ہو وہ چھین لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یہ ممکن ہی نہیں، نہ کائنات کا نظام اس سے چل سکتا ہے نہ کبھی ایسا ہوا ہے، حتیٰ کہ کمیونسٹ حکام اور عوام کے معیار زندگی میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ مزید کئی آیات سے اس کی تائید ہوتی ہے، دیکھیے سورة روم (٢٨) اور سورة زخرف (٣٢) ۔

72

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةًۭ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ ۚ أَفَبِٱلْبَٰطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ ٱللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ۔۔ :” وَحَفَدَةً “ ” حَفَدَ یَحْفِدُ “ (ض) سے ” حَافِدٌ“ کی جمع ہے، خدمت اور اطاعت میں جلدی کرنے والا، جیسا کہ قنوت کی ایک دعا میں ہے : ( وَإِلَیْکَ نَسْعٰی وَ نَحْفِدُ ) [ ابن خزیمۃ : ٢؍١٥٥، ح : ١١٠٠ ] ” حَفِیْدٌ“ کی جمع ” حُفَدَاءُ “ آتی ہے۔ ” حَافِدٌ“ اور ” حَفِیْدٌ“ بیٹوں کو اور اولاد کی اولاد کو کہتے ہیں، خادم کو بھی کہہ لیتے ہیں۔ (قاموس) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی احسان ذکر فرمائے ہیں، ایک تو تنہائی اور وحشت دور کرنے کے لیے ساتھی دیا، مرد کے لیے عورت، عورت کے لیے مرد۔ دوسرا یہ کہ وہ ساتھی اس کی جنس انسان سے دیا، کیونکہ دوسری جنس سے نہ انس حاصل ہوسکتا تھا، نہ سکون اور نہ موافقت۔ (دیکھیے روم : ٢١) ہمارے والد ماجد آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رہنے کے باوجود سکون تبھی حاصل ہوا جب انھیں اپنی جنس سے بیوی ملی۔ (دیکھیے نساء : ١) اس سے اہل علم نے یہ بات بھی اخذ کی ہے کہ جن و انس کے درمیان نکاح کی اور ان سے اولاد ہونے کی تمام باتیں محض افسانہ ہیں۔ تیسرا یہ کہ میاں بیوی سے اولاد اور اولاد کی اولاد (بیٹے اور پوتے و نواسے) عطا فرمائے، جو بڑھاپے میں خوشی کا باعث اور سہارا بنتے ہیں اور خوش دلی سے بابا کی خدمت کرتے اور اس کے نام اور نسل کی بقا کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چوتھا یہ کہ پھر ان سب کی زندگی کی ہر ضرورت کے لیے پاکیزہ رزق عطا فرمایا۔ - اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ : یعنی کیا اپنے بنائے ہوئے خداؤں، حاجت رواؤں، مشکل کشاؤں اور داتاؤں کا احسان مانتے ہیں کہ انھوں نے ہی بیماری سے شفا دی، بیٹا دیا، یا روزی بخشی، حالانکہ وہ سب باطل ہیں اور وہم و خیال کے سوا ان کی کچھ حقیقت ہی نہیں۔ دیکھیے سورة یونس (٦٦) ۔- وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ جو سچا معبود ہے اور تمام احسانات اسی کے ہیں، اس کی نعمتوں کی ناشکری اور انکار کرتے ہیں، اس کے بجائے بتوں اور بزرگوں کے احسان مانتے ہیں کہ تندرستی، بیٹے اور روزی یہ دیتے ہیں، حالانکہ یہ سب باطل (جھوٹ) ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہے جس کے مشرک شکر گزار نہیں ہوتے۔

73

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًۭا مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ شَيْـًۭٔا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۔۔ : ” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ میں ہر بت، تھان، آستانہ، زندہ و مردہ بزرگ، غرض ہر چیز آگئی جسے وہ پوجتے اور پکارتے ہیں اور ان سب کے لیے ” مَا “ کا لفظ استعمال فرمایا جو عام طور پر ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں۔ ” رِزْقًا “ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے کہ جو کسی معمولی سے معمولی رزق کے مالک بھی نہیں۔ اسی طرح ” شَـيْـــًٔـا “ نکرہ ہے کہ کسی بھی رزق کی ملکیت میں ان کا کچھ بھی حصہ نہیں، یعنی ان مشرکوں کی جہالت دیکھو کہ ان معبودوں کو پوجتے اور پکارتے ہیں جو نہ تو آسمان و زمین میں سے کسی بھی طرح کے رزق کی کچھ بھی ملکیت رکھتے ہیں، نہ آسمان سے بارش برسانے کے مالک، نہ زمین سے کچھ اگانے کے قابل، نہ کوئی چیز پیدا کرنے کے قابل، نہ جو چیز اگے اسے باقی رکھنے کے قابل، پھر وہ معبود کیسے بن گئے ؟- وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : یہ اس غلط گمان کی تردید ہے کہ مالک تو واقعی اللہ تعالیٰ ہے، مگر ہمارے یہ دستگیر اس سے دلوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ سے جو چاہیں منوا سکتے ہیں، جیسا کہ ایک صاحب نے کہا ؂ - اولیاء راہست قدرت از الہ - تیر جستہ باز آرندش زراہ - ” اولیاء کو اللہ کی طرف سے یہ طاقت ملی ہوئی ہے کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو راستے سے واپس لے آتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے پاس کسی طرح بھی کوئی طاقت نہیں، نہ خود کچھ دینے کی، نہ اللہ تعالیٰ کو اپنی محبت یا طاقت اور دھونس کے ساتھ مجبور کرکے دلوانے کی، بلکہ انھیں معلوم ہی نہیں کہ کوئی ہمیں پکار بھی رہا ہے۔ (دیکھیے احقاف : ٥، ٦) ان کے اس عقیدے کی تردید سورة یونس (١٨) اور سورة زمر (٣) میں بھی واضح الفاظ میں کی گئی ہے۔ ” وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ “ میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ ایسا اختیار حاصل کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مجبور محض ہیں۔

74

فَلَا تَضْرِبُوا۟ لِلَّهِ ٱلْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ : مشرک کہتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کے وزیر اور درباری اس کی سلطنت میں دخیل ہوتے ہیں اور بادشاہ کو ان کی سننا پڑتی ہے، اسی طرح ہمارے یہ معبود، اوتار اور ٹھاکر بھی اللہ کی سرکار میں صاحب اختیار ہیں، اس واسطے ہم ان کو پوجتے ہیں، سو یہ مثال غلط ہے۔ بادشاہ تو سب کام خود نہیں کرسکتے مگر اللہ ہر چیز آپ کرتا ہے اور اس پر کسی کا رتی برابر بھی دباؤ نہیں ہے۔ - وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : یعنی یہ تمہاری بےعلمی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اللہ ان کی سفارش رد نہیں کرسکتا، کبھی چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت کی طرح اپنے داتاؤں کو سیڑھی قرار دیتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہی نہیں، وہ بالکل قریب ہے اور کسی کا محتاج نہیں کہ اس کی سفارش رد نہ کرسکتا ہو۔ یہ سب تمہاری بےعقلی اور بےسمجھی ہے، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کے لیے اس قسم کی مثالیں بیان نہ کرو۔ اب آگے دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں، ان پر غور کرو۔

75

۞ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبْدًۭا مَّمْلُوكًۭا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَمَن رَّزَقْنَٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًۭا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّۭا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُۥنَ ۚ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا ۔۔ : ” عَبْدًا “ کا معنی ہی غلام ہے، پھر بھی ” مَّمْلُوْكًا “ کی تصریح اس لیے فرمائی کہ ایک لحاظ سے آسمان و زمین کا ہر شخص ہی ” عَبْدًا “ ہے، فرمایا : (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) [ مریم : ٩٣ ] ” آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس عبد (غلام) بن کر آنے والا ہے۔ “ سو یہاں مراد وہ عبد ہے جو کسی آدمی کی ملکیت میں ہے۔- وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا ۔۔ : یہاں ” مَّمْلُوْكًا “ کے مقابلے میں ” مَالِکًا “ کہنے کے بجائے ” وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا “ اس لیے فرمایا کہ انسان مالک بھی ہو تو اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ ہمارا عطا کردہ ہے، ساتھ اسے یہ بھی یاد دلا دیا کہ ہمارا عطا کردہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے رہو، اپنا سمجھ کر چھپا کر نہ بیٹھ جاؤ۔ - هَلْ يَسْتَوٗنَ : یعنی کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے میں ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایک عاجز مملوک غلام کو، جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ایک کوڑی خرچ نہیں کرسکتا، ایک آزاد شخص کے برابر کر دے جو اپنے مال کا مالک ہے اور جہاں چاہے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتا رہتا ہے۔ تو کیا یہ بےبس غلام اور وہ آزاد مالک کبھی برابر ہوسکتے ہیں ؟ حالانکہ یہ دونوں انسان ہوتے ہیں، ذہنی اور جسمانی ساخت اور قوتوں میں تقریباً ایک جیسے ہیں، پھر بھی یہ ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ تو جب یہ برابر نہیں ہوسکتے تو کوئی بھی بت یا بزرگ، نبی یا فرشتہ، زندہ یا مردہ، جو سب اللہ کی مخلوق و مملوک ہیں، وہ ساری کائنات کے خالق اور ہر چیز کے مالک کے برابر ہوسکتے ہیں ؟ (قاسمی) - اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ : اوپر اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کہ ” کیا یہ برابر ہوسکتے ہیں “ ذکر کرنے کے بعد خود کوئی جواب نہیں دیا، کیونکہ اس کا جواب سوال کے اندر ہی موجود ہے اور ہر سننے والا یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ” ہرگز نہیں۔ “ اس پر اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تعریف فرمائی کہ ایسی عمدگی سے تمہیں کوئی نہیں سمجھائے گا۔ - بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : معلوم ہوا کہ اہل کتاب اور مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ توحید کی حقیقت کو پہچانتے تھے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے تثلیث اور مردہ پرستی پر ڈٹے ہوئے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو کسی موقع پر ایمان لانے کا ارادہ رکھتے تھے، البتہ ان کے اکثر شرک کی قباحت جانتے ہی نہ تھے، بلکہ اپنے آبا و اجداد کی تقلید میں شرک کی راہ پر چلے جاتے تھے، اکثریت کا حال یہی رہا ہے۔

76

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَآ أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَىٰهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ ۔۔ : ” اَبْكَمُ “ گونگا، اس کے ساتھ اس کا بہرا ہونا بھی لازم ہوتا ہے، کیونکہ آدمی سن کر ہی بولنا سیکھتا ہے۔ یہ مثال پہلی مثال سے بھی واضح ہے۔ دو آدمی ہیں، ایک میں چار خامیاں ہیں : 1 وہ ” اَبْكَمُ “ ہے کہ نہ سنتا ہے نہ بولتا ہے۔ 2 ” لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ “ یعنی وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا، چلو بول نہیں سکتا تو کسی ہنر ہی کا مالک ہو، ہاتھ پاؤں ہلا کر یا سر پر بوجھ اٹھا کر ہی کچھ کما سکے، نہیں، کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ 3 وہ آزاد نہیں بلکہ غلام ہے اور غلام بھی ایسا بےکار کہ مالک ہی کو اس کا سارا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ 4 مالک اسے جہاں بھی بھیجے اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بےچارہ راستہ ہی معلوم نہیں کرسکتا، نہ پوچھ سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص میں چار خامیوں کے بجائے دو خوبیاں ہیں : 1 وہ لوگوں کو عدل کا حکم دیتا ہے۔ معلوم ہوا وہ سنتا، بولتا اور سمجھتا ہے، وہ نہ ” اَبْکَمُ “ ہے اور نہ ” لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ “ ہے۔ 2 ” هُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ “ یعنی وہ صحیح ترین راستے پر قائم ہے، جو سب سے مختصر اور منزل پر پہنچا دینے والا ہے، یعنی وہ نہ کسی پر بوجھ ہے، نہ راستے سے سراسر ناواقف۔ تو کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں اسی طرح بندوں کے خود ساختہ معبود بت ہوں یا قبریں یا کچھ اور، وہ نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں، نہ کچھ کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے ہیں۔ اپنے مالک پر بوجھ ہیں، یعنی بجائے اس کے کہ یہ اپنے پجاریوں کے کسی کام آئیں خود ان کے پجاری مصیبت اٹھا کر پتھر، اینٹیں، سیمنٹ اور مستری لا کر انھیں بنواتے ہیں۔ پھر ان کی حفاظت اور مرمت کرتے، پہرا دیتے اور صفائی کرتے ہیں۔ یہ دونوں کیسے برابر ہوگئے ؟ جب وہ دونوں آدمی برابر نہیں، حالانکہ مخلوق ہونے میں اور آدمی ہونے میں دونوں برابر ہیں، تو مشرکین کے بنائے ہوئے بت اور آستانے جو بےجان ہیں اور ان کے محتاج ہیں، اللہ تعالیٰ کے برابر کیسے ہوگئے اور اس کے شریک کس طرح بن گئے ؟- 3 بعض اہل علم نے دونوں آیتوں میں مذکور دو ، دو آدمیوں کو مومن و کافر کی مثال قرار دیا ہے۔ بری صفات والے غلام سے مراد کافر اور اچھی صفات والے سے مراد آزاد مومن ہے، مگر اوپر بیان کردہ تفسیر زیادہ صحیح ہے۔

77

وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَآ أَمْرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ ٱلْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ : ” غَيْبُ “ جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو سکے، نہ عقل سے، مخلوق سے پوشیدہ ہو۔ ” لِلّٰهِ “ خبر ہے ” غَيْبُ السَّمٰوٰتِ “ کی۔ بعد میں آنے کے بجائے پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، اس لیے ترجمہ ” اللہ ہی کے پاس ہے “ کیا گیا۔ صرف اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کے دلائل میں سے یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ ساتھ ہی ایک ایسے غیب کا ذکر فرما دیا جو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، کیونکہ وہ غیب کا علم کسی کو بتایا ہی نہیں گیا اور وہ قیامت ہے اور اس کا علم ہونا سچا معبود ہونے کی دلیل اور علم نہ ہونا باطل ہونے کی دلیل ہے۔ دیکھیے سورة نحل (٢١) ۔- وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ ۔۔ : ” السَّاعَةِ “ زمانے کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ، مراد قیامت ہے، کیونکہ وہ اچانک اتنے کم وقت میں قائم ہوجائے گی۔ ” اَوْ هُوَ اَقْرَبُ “ میں ” اَوْ “ بمعنی ” بَلْ “ ہے، جیسا کہ یونس (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ ) [ الصافات : ١٤٧ ] ” اور ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔ “ دوسری جگہ اپنے امر (کُنْ ) کے متعلق فرمایا : (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ ) [ القمر : ٥٠ ] ” اور ہمارا حکم تو صرف ایک بار ہوتا ہے، جیسے آنکھ کی ایک جھپک۔ “ اور یہاں ” اَوْ “ فرمایا، کیونکہ آنکھ جھپکنا بھی کچھ وقت چاہتا ہے، قیامت اس سے بھی کم وقت میں قائم ہوجائے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہیں، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ - بعض علماء نے اس کا معنی یہ بھی بیان کیا ہے کہ تم قیامت کو بہت دور سمجھ رہے ہو، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آنکھ جھپکنے سے بھی زیادہ قریب ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا ۝ ۙوَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا) [ المعارج : ٦، ٧ ] ” بیشک وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ “

78

وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْـًۭٔا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو

وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ ۔۔ : اس سورت کی آیت (٦٥) (وَاللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ) سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر اور اس کے اکیلے معبود ہونے کے جو دلائل شروع ہوئے تھے وہی سلسلۂ کلام جاری ہے۔ اس آیت میں پہلا انعام ماؤں کے پیٹوں سے نکالنا ہے۔ اس سے پہلے بہت سے مراحل خود بخود اس میں آجاتے ہیں۔ نو ماہ تک پیٹ میں مکمل بچہ بنانے کے بعد اسے نکلنے کا راستہ مہیا کرنا اور ماں اور بچے دونوں کی خیریت کے ساتھ بچے کو باہر لے آنا کیا معمولی بات ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے اتنے بڑے احسان کے باوجود انسان کے ناشکری اور شرک اختیار کرنے پر اس کے لیے بہت سخت الفاظ استعمال فرمائے، فرمایا : (ۭقُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٗ 17؀ۭ مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ 18؀ۭ مِنْ نُّطْفَةٍ ۭ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ 19؀ۙثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ )[ عبس : ١٧ تا ٢٠ ] ” مارا جائے انسان وہ کس قدر ناشکرا ہے، اس نے اسے کس چیز سے پیدا کیا۔ ایک قطرے سے، اس نے اسے پیدا کیا، پس اس کا اندازہ مقرر کیا، پھر اس کے لیے (ماں کے شکم سے نکلنے کا) راستہ آسان کردیا۔ “- لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا : انسان ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے تو اسے کچھ علم نہیں ہوتا، پھر کچھ چیزیں اللہ تعالیٰ اسے فطری طور پر سکھا دیتا ہے، مثلاً ماں کا دودھ تلاش کرلینا، اسے چوسنا، جو چیز ملے منہ میں ڈالنا وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ کھانے پینے اور زندگی قائم رکھنے کی دوسری ضروریات کے حصول کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے علاوہ ہر چیز کی فطرت میں رکھ دیا ہے، ورنہ کوئی چیز زندہ نہ رہتی۔ - وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۔۔ : کان، آنکھیں اور دل اگرچہ ہر جاندار کو عطا ہوئے ہیں، مگر دوسرے تمام جاندار ان سے اتنا ہی فائدہ اٹھاتے ہیں جتنا ان کی فطرت میں ہے۔ بطخ آج سے لاکھوں سال پہلے جس طرح تیرتی تھی اب بھی اس میں کوئی تبدیلی یا ترقی نہیں ہوئی، یہی حال پرندوں کا اور چوپاؤں اور سمندری جانوروں کا ہے، درندے اور کیڑے مکوڑے بھی ایک ہی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں، جب کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیار سے بھی نوازا ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی میں سے کسی بھی چیز کو اختیار کرسکتا ہے، پھر اس کو عطا کردہ کان، آنکھیں اور دل پچھلی نسلوں کے تجربے قلم سے محفوظ رکھتے ہیں، انھیں بعد والوں تک پہنچاتے اور نئی سے نئی ایجاد میں لگے رہتے ہیں، حتیٰ کہ انسان ان کی بدولت اتنی دنیاوی ترقی کرچکا ہے کہ رہائش، سفر، کھانے پینے، غرض ہر چیز میں پہلے انسان اور آج کے انسان کی آسائشوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ اسی طرح توانائی کے حصول میں وہ ایٹم تک پہنچ گیا ہے، جس سے وہ بربادی کا بےحساب سامان بھی تیار کرچکا ہے اور انسانی فوائد کا بھی۔ غرض اگر انسان اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں پر غور کرے تو کبھی نہ اس کے وجود کا انکار کرے، نہ اس کا کوئی شریک بنائے، نہ اس کے علاوہ کسی کو حاجت روا، مشکل کشا، داتا یا غریب نواز قرار دے کر پکارے، کیونکہ کسی نعمت میں کسی اور کا کوئی حصہ ہی نہیں اور نہ اس کی بندگی اور فرماں برداری میں کوتاہی کرے، بلکہ ہر دم اپنے دل، زبان اور ہر عضو کے ساتھ قولاً و عملاً اس کا شکر ادا کرے۔- لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ : اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ اس لیے بنایا کہ تم شکر کرو۔ یہاں اگرچہ ذکر نہیں فرمایا کہ انسان نے شکر ادا کیا یا نہیں، مگر دوسرے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اکثر لوگ شکر نہیں کرتے، جیسے فرمایا : (وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْن) [ المؤمن : ٦١ ] ” اور لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ “ اور فرمایا : (وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْر) [ سبا : ١٣ ] ” اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکر کرنے والے ہیں۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی پہچان کے لیے نہ اپنے ان کانوں سے کام لیتے ہیں، …

79

أَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلطَّيْرِ مُسَخَّرَٰتٍۢ فِى جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ ۔۔ : ” الطَّيْرِ “ ” طَاءِرٌ“ کی جمع ہے، اڑنے والا، اگرچہ بعض لوگ ” فَاعِلٌ“ کی جمع ” فَعْلٌ“ کا انکار کرتے ہیں، مگر شنقیطی (رض) نے اس کی کئی مثالیں ذکر فرمائی ہیں، جیسا کہ ” صَاحِبٌ“ کی جمع ” صَحْبٌ۔ “ امرء القیس نے کہا ؂- وُقُوْفًا بِھَا صَحْبِيْ عَلَيَّ مَطِیَّھُمْ- یَقُوْلُوْنَ لَا تَھْلِکْ أَسًی وَ تَجَمَّلِ- ” رَاکِبٌ“ کی جمع ” رَکْبٌ“ ، ” شَارِبٌ“ کی ” شَرْبٌ“ اور ” سَافِرٌ“ کی ” سَفْرٌ“ وغیرہ۔ کیا ان مشرکوں نے آسمان و زمین کے درمیان اڑتے ہوئے پرندوں پر غور نہیں کیا، وہ کون سی ہستی ہے جس نے ان کے پروں، بازوؤں اور دموں کی ساخت اڑنے کے قابل بنائی اور زمین و آسمان کے درمیان اڑتے ہوئے انھیں گرنے سے تھامے رکھا، کوئی دعوے دار ہی سامنے لائیں، پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ شریک بنا رہے ہیں، سچ ہے کہ ان نشانیوں سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو بات سمجھ جائیں تو مان لیں، جو ماننے پر آمادہ ہی نہ ہوں ان کے لیے ہر نشانی بےفائدہ ہے۔ مزید دیکھیے سورة ملک (١٩) ۔

80

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۢ بُيُوتِكُمْ سَكَنًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ ٱلْأَنْعَٰمِ بُيُوتًۭا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَٰثًۭا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٍۢ

اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا : ” بُیُوْتٌ“ ” بَیْتٌ“ کی جمع ہے۔ قرطبی (رض) نے فرمایا، جو تمہارے اوپر ہو، سایہ کر رہی ہو اسے سقف، چھت اور سماء کہتے ہیں، جو نیچے ہو اسے ارض کہتے ہیں اور جو چاروں طرف سے تمہارے لیے پردہ کر رہی ہو اسے جدار (دیوار) کہتے ہیں اور جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ ترتیب کے ساتھ منظم ہوجائیں تو وہ بیت (گھر) ہے۔ ” سَكَنًا “ مصدر ہے، اس کا معنی کسی جگہ میں رہنا بھی ہے، جیسے فرمایا : (اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ ) [ الطلاق : ٦ ] ” انھیں (یعنی مطلقہ بیویوں کو) وہاں سے رہائش دو جہاں تم رہتے ہو، اپنی طاقت کے مطابق۔ “ اس کا معنی سکون اور راحت بھی ہے، جیسے فرمایا : ( وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ) [ الأعراف : ١٨٩ ] ” اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جا کر) سکون حاصل کرے۔ “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رہائش کے متعلق اپنی کئی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھر میں رہنے کی قدر اور اس میں آ کر ملنے والی راحت، عافیت اور سکون کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کے پاس گھر نہ ہو۔ اس آیت سے مکان کی قدر و قیمت اور اس نعمت کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ گھر جسمانی اور نفسیاتی سکون کی جگہ ہے۔ اسلام گھر کو سکون کی جگہ دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ باہمی جھگڑے اور اختلاف کی، کیونکہ یہ ” گھر “ کی حکمت اور مقصد کے خلاف ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے گھر کی حرمت رکھی۔ فرمایا کہ بلا اجازت کوئی دوسرے کے گھر میں داخل نہ ہو، حتیٰ کہ جھانکنے سے بھی منع فرمایا اور تجسس سے بھی۔ گھر کی حرمت سورة نور (٢٧ تا ٢٩ اور ٥٨، ٥٩) میں دیکھیں۔ علاوہ ازیں سورة احزاب کی آیت (٥٣) بھی ملاحظہ فرما لیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلسَّفَرُ قِطْعَۃٌ مِّنَ الْعَذَابِ ، یَمْنَعُ أَحَدَکُْمْ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ وَنَوْمَہٗ ، فَإِذَا قَضَی نَھْمَتَہُ فَلْیُعَجِّلْْ إِلٰی أَہْلِہِ ) [ بخاری، العمرۃ، باب السفر قطعۃ من العذاب : ١٨٠٤، عن أبي ہریرہ (رض) ]” سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تمہارے ایک کو اس کے کھانے اور پینے اور اس کی نیند سے روک لیتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی شخص اپنی حاجت پوری کرلے تو جلدی اپنے گھر آجائے۔ “ - وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا : اگرچہ گھر کوئی بھی ہو بڑی نعمت ہے، مگر اینٹوں، پتھروں کا گھر بنانے میں نعمت ہونے کے باوجود مشقت، بوجھ اور خرچ زیادہ ہے، سب سے پہلے زمین حاصل کرنا، اینٹیں، پتھر، مصالحہ، مٹی، لکڑی، لوہا، غرض سب کچھ مہیا کرنا، پھر مستریوں کے ناز اٹھانا، سارے مراحل مشکل ہیں، پھر وہ مکان کہیں منتقل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا انعام دیکھیے کہ اس نے ہماری آسانی کے لیے جانوروں کے چمڑوں سے خیمے بنا دیے، چند لکڑیاں اور رسیاں اور بنا بنایا مکمل گھر، جہاں چاہا میخیں ٹھونک کر رسیاں باندھ کر خیمہ بنا لیا، اسی چمڑے کی قناتیں کھڑی کرکے چار دیواری بنا لی۔ پھر جب چاہا اکھاڑ کر تہ کرکے ساتھ رکھ لیا اور اگلی منزل پر روانہ ہوگئے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی ہلکے پلاسٹک اور المونیم کے خیمے عطا فرما دیے۔- تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ اِقَامَتِكُمْ ۔۔ : ” تَسْتَخِفُّوْنَهَا “ ” خَفَّ یَخِفُّ “ سے باب استفعال جمع مذکر حاضر ہے۔ ” يَوْمَ ظَعْنِكُمْ “ یہاں ” يَوْمَ “ سے مراد وقت ہے۔ ” أَصْوَافٌ“ ” صُوْفٌ“ کی جمع ہے، بھیڑ کی اون۔ ” أَوْبَارٌ“ ” وَبَرٌ“ کی جمع، اونٹ کی پشم۔ ” أَشْعَارٌ“ ” شَعْرٌ“ کی جمع ہے، بکریوں کے بال۔ ” اَثَاثًا “ گھر کا سازو سامان جو بہت ہو۔ ” أَثَّ یَؤُثُّ “ (ن) جب کوئی چیز بہت اور گھنی ہو۔ امرء القیس نے بالوں کی چوٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے ؂- وَ فَرْعٍ یَزِیْنُ الْمَتْنَ أَسْوَدَ فَاحِمٍ- أَثِیْثٍ کَقِنْوِ النَّخْلَۃِ …

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.