Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 71–80 of 128

71

وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فِى ٱلرِّزْقِ ۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُوا۟ بِرَآدِّى رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَآءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں

اور اللہ نے فضیلت دی تمھارے بعض کو اوپر بعض کے رزق میں ، پس نہیں ہیں وہ لوگ جو فضیلت دیے گئے (رزق میں ) لوٹانے والے اپنا رزق اوپر ان (غلاموں ) کے کہ مالک ہیں (جن کے) دائیں ہاتھ ان کے، کہ ہو جائیں وہ اس (رزق میں ) میں (ایک دوسرے کے) برابر، کیا پس اللہ کی نعمت کا وہ انکار کرتے ہیں ؟(71)

[71] یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل اور شرک کی قباحت پر برہان ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سب اس بات میں مشترک ہو کہ تم مخلوق اور مرزوق ہو ﴿ فَضَّلَ بَعۡضَكُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ فِي الرِّزۡقِ﴾ ’’ (البتہ اللہ تعالیٰ نے) رزق کے معاملے میں تمھیں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے‘‘ تم میں سے بعض کو آزاد بنایا، ان کو مال و دولت اور ثروت سے نوازا اور تم میں بعض کو ان کا غلام بنا دیا، وہ دنیا میں کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور جس طرح ان غلاموں کے وہ آقا جن کو اللہ تعالیٰ نے رزق میں فضیلت عطا کی ہے۔ ﴿ بِرَآدِّيۡ رِزۡقِهِمۡ عَلٰى مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَهُمۡ فِيۡهِ سَوَؔآءٌ ﴾ ’’وہ روزی پہنچانے والے نہیں ان کو جن کے ان کے دائیں ہاتھ مالک ہوئے کہ وہ سب اس میں برابر ہو جائیں ‘‘ اور وہ اس امر کو محال سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح وہ ہستیاں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے غلام ہیں وہ کسی ذرہ بھر چیز کے مالک نہیں ہیں … پھر تم ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک کیسے ٹھہراتے ہو؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار نہیں ؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَفَبِنِعۡمَةِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ؟‘‘ اگر انھوں نے ان نعمتوں کا اقرار کیا ہوتا اور ان کو اس ہستی کی طرف منسوب کیا ہوتا جو اس کی مستحق ہے تو یہ کبھی شرک نہ کرتے۔

72

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةًۭ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ ۚ أَفَبِٱلْبَٰطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ ٱللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں

اور اللہ نے بنائیں واسطے تمھارے تم ہی میں سے بیویاں اور اسی نے بنائے واسطے تمھارے تمھاری بیویوں سے بیٹے اور پوتےاور اسی نے رزق دیا تمھیں پاکیزہ (نفیس) چیزوں سے، کیا ، پھر بھی باطل پر تو وہ ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی وہ ناشکری کرتے ہیں ؟ (72)

[72] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ان کی بیویاں بنائیں تاکہ وہ ان بیویوں کے پاس سکون حاصل کریں اور ان بیویوں سے ان کو اولاد عطا کی تاکہ ان سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ، یہ اولاد ان کی خدمت کرے اور ان کی مختلف حوائج پوری کرے اور وہ متعدد پہلوؤوں سے اپنی اولاد سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو پاک مطعومات و مشروبات سے نوازا اور دیگر ظاہری نعمتیں عطا کیں جن کو شمار کرنا بندوں کے بس میں نہیں ۔ ﴿اَفَبِالۡبَاطِلِ۠ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ باطل کو مانتے ہیں ؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ باطل پر ایمان رکھتے ہیں جو کوئی قابل ذکر چیز تھا ہی نہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وجود عطا کیا اور اس کا وجود عدم کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پس یہ باطل معبود تخلیق، رزق اور تدبیر کسی چیز پر بھی قادر نہیں اور یہ بات ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیونکہ وہ باطل ہے۔ تب مشرکین اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو معبود کیسے بنا لیتے ہیں ؟ ﴿ وَبِنِعۡمَتِ اللّٰهِ هُمۡ يَكۡفُرُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور کفر میں اس کو استعمال کرتے ہیں ۔ کیا یہ سب سے بڑا ظلم، سب سے بڑا گناہ اور سب سے بڑی حماقت نہیں ؟

73

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًۭا مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ شَيْـًۭٔا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں

اور عبادت کرتے ہیں وہ سوائے اللہ کے ان کی کہ نہیں اختیار رکھتے وہ ان کے لیے رزق کا آسمانوں سے اور زمین سے کچھ بھی اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (73)پس مت بیان کروتم اللہ کے لیے مثالیں ، بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(74) بیان کی اللہ نے ایک مثال، ایک غلام مملوک کی، نہیں قدرت رکھتا وہ اوپر کسی چیزکےاور(دوسرا) وہ شخص کہ دیا ہم نے اسے اپنی طرف سے رزق اچھا، پس وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر اور ظاہر (بھی)، کیا وہ دونوں برابر ہیں ؟ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(75) اور بیان کی اللہ نے ایک (اور) مثال دو مردوں کی، ایک ان میں سے گونگا ہے، نہیں قدرت رکھتا روہ اوپر کسی چیز کےاور وہ (نرا) بوجھ ہے اوپر اپنے مالک کے، جہاں کہیں وہ بھیجتا ہے اسے نہیں لاتا کوئی بھلائی، کیا برابر ہے وہ اور (دوسرا) وہ شخص جو حکم درتا ہے ساتھ انصاف کےاور ہے وہ اوپر راہ راست کے؟ (76)

[74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لیے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ، وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر، جو نفع دے سکتی ہو، قدرت اور اختیار رکھتا ہے… مگر یہ خود ساختہ معبود کسی چیز کے مالک ہیں نہ قدرت اور اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ ہیں ان کے خود ساختہ معبودوں کے اوصاف، کیسے انھوں نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا، مالک ارض و سماء کے ساتھ تشبیہ دے دی جو تمام تر اقدار کا مالک، ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے اور تمام قوت اسی کے پاس ہے؟ اسی لیے فرمایا:﴿فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰهِ الۡاَمۡثَالَ﴾ ’’اللہ کے لیے مثالیں بیان مت کرو‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان مساوات کو متضمن ہیں ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘ پس ہم پر واجب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلا علم کوئی بات نہ کہیں اور ان مثالوں کو غور سے سنیں جن کو اللہ علیم و خبیر نے بیان کیا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے دو مثالیں بیان کی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ۔

[75] پہلی مثال ایک غلام کی ہے جو کسی دوسرے کی غلامی میں ہے جو مال کا مالک ہے نہ دنیا کی کسی چیز کا جبکہ دوسرا ایک آزاد اور دولت مند شخص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مال کی تمام اصناف میں سے بہترین رزق سے نوازا ہے وہ سخی اور بھلائی کو پسند کرنے والا شخص ہے۔ وہ اس مال میں سے کھلے چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ مرد آزاد اور وہ غلام برابر ہو سکتے ہیں ؟ حالانکہ یہ دونوں مخلوق ہیں اور ان کے درمیان مساوات محال نہیں ہے۔ پس جب یہ دونوں مخلوق ہوتے ہوئے برابر نہیں ہو سکتے تو ایک مخلوق اور غلام ہستی، جو کسی چیز کی مالک ہے نہ کوئی قدرت اور اختیار رکھتی ہے بلکہ وہ ہر لحاظ سے محتاج ہے، رب تعالیٰ کے برابر کیسے ہو سکتی ہے جو تمام سلطنتوں کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے؟بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی اور حمد و ستائش کی تمام انواع سے اپنے آپ کو متصف کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ﴾ ’’تمام تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ گویا کہ یوں کہا گیا کہ جب معاملہ یہ ہے تو مشرکین نے اپنے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر کیوں ٹھہرا دیا؟ اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ …

74

فَلَا تَضْرِبُوا۟ لِلَّهِ ٱلْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

اور عبادت کرتے ہیں وہ سوائے اللہ کے ان کی کہ نہیں اختیار رکھتے وہ ان کے لیے رزق کا آسمانوں سے اور زمین سے کچھ بھی اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (73)پس مت بیان کروتم اللہ کے لیے مثالیں ، بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(74) بیان کی اللہ نے ایک مثال، ایک غلام مملوک کی، نہیں قدرت رکھتا وہ اوپر کسی چیزکےاور(دوسرا) وہ شخص کہ دیا ہم نے اسے اپنی طرف سے رزق اچھا، پس وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر اور ظاہر (بھی)، کیا وہ دونوں برابر ہیں ؟ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(75) اور بیان کی اللہ نے ایک (اور) مثال دو مردوں کی، ایک ان میں سے گونگا ہے، نہیں قدرت رکھتا روہ اوپر کسی چیز کےاور وہ (نرا) بوجھ ہے اوپر اپنے مالک کے، جہاں کہیں وہ بھیجتا ہے اسے نہیں لاتا کوئی بھلائی، کیا برابر ہے وہ اور (دوسرا) وہ شخص جو حکم درتا ہے ساتھ انصاف کےاور ہے وہ اوپر راہ راست کے؟ (76)

[74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لیے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ، وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر، جو نفع دے سکتی ہو، قدرت اور اختیار رکھتا ہے… مگر یہ خود ساختہ معبود کسی چیز کے مالک ہیں نہ قدرت اور اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ ہیں ان کے خود ساختہ معبودوں کے اوصاف، کیسے انھوں نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا، مالک ارض و سماء کے ساتھ تشبیہ دے دی جو تمام تر اقدار کا مالک، ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے اور تمام قوت اسی کے پاس ہے؟ اسی لیے فرمایا:﴿فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰهِ الۡاَمۡثَالَ﴾ ’’اللہ کے لیے مثالیں بیان مت کرو‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان مساوات کو متضمن ہیں ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘ پس ہم پر واجب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلا علم کوئی بات نہ کہیں اور ان مثالوں کو غور سے سنیں جن کو اللہ علیم و خبیر نے بیان کیا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے دو مثالیں بیان کی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ۔

[75] پہلی مثال ایک غلام کی ہے جو کسی دوسرے کی غلامی میں ہے جو مال کا مالک ہے نہ دنیا کی کسی چیز کا جبکہ دوسرا ایک آزاد اور دولت مند شخص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مال کی تمام اصناف میں سے بہترین رزق سے نوازا ہے وہ سخی اور بھلائی کو پسند کرنے والا شخص ہے۔ وہ اس مال میں سے کھلے چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ مرد آزاد اور وہ غلام برابر ہو سکتے ہیں ؟ حالانکہ یہ دونوں مخلوق ہیں اور ان کے درمیان مساوات محال نہیں ہے۔ پس جب یہ دونوں مخلوق ہوتے ہوئے برابر نہیں ہو سکتے تو ایک مخلوق اور غلام ہستی، جو کسی چیز کی مالک ہے نہ کوئی قدرت اور اختیار رکھتی ہے بلکہ وہ ہر لحاظ سے محتاج ہے، رب تعالیٰ کے برابر کیسے ہو سکتی ہے جو تمام سلطنتوں کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے؟بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی اور حمد و ستائش کی تمام انواع سے اپنے آپ کو متصف کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ﴾ ’’تمام تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ گویا کہ یوں کہا گیا کہ جب معاملہ یہ ہے تو مشرکین نے اپنے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر کیوں ٹھہرا دیا؟ اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ …

75

۞ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبْدًۭا مَّمْلُوكًۭا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَمَن رَّزَقْنَٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًۭا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّۭا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُۥنَ ۚ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے

اور عبادت کرتے ہیں وہ سوائے اللہ کے ان کی کہ نہیں اختیار رکھتے وہ ان کے لیے رزق کا آسمانوں سے اور زمین سے کچھ بھی اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (73)پس مت بیان کروتم اللہ کے لیے مثالیں ، بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(74) بیان کی اللہ نے ایک مثال، ایک غلام مملوک کی، نہیں قدرت رکھتا وہ اوپر کسی چیزکےاور(دوسرا) وہ شخص کہ دیا ہم نے اسے اپنی طرف سے رزق اچھا، پس وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر اور ظاہر (بھی)، کیا وہ دونوں برابر ہیں ؟ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(75) اور بیان کی اللہ نے ایک (اور) مثال دو مردوں کی، ایک ان میں سے گونگا ہے، نہیں قدرت رکھتا روہ اوپر کسی چیز کےاور وہ (نرا) بوجھ ہے اوپر اپنے مالک کے، جہاں کہیں وہ بھیجتا ہے اسے نہیں لاتا کوئی بھلائی، کیا برابر ہے وہ اور (دوسرا) وہ شخص جو حکم درتا ہے ساتھ انصاف کےاور ہے وہ اوپر راہ راست کے؟ (76)

[74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لیے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ، وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر، جو نفع دے سکتی ہو، قدرت اور اختیار رکھتا ہے… مگر یہ خود ساختہ معبود کسی چیز کے مالک ہیں نہ قدرت اور اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ ہیں ان کے خود ساختہ معبودوں کے اوصاف، کیسے انھوں نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا، مالک ارض و سماء کے ساتھ تشبیہ دے دی جو تمام تر اقدار کا مالک، ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے اور تمام قوت اسی کے پاس ہے؟ اسی لیے فرمایا:﴿فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰهِ الۡاَمۡثَالَ﴾ ’’اللہ کے لیے مثالیں بیان مت کرو‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان مساوات کو متضمن ہیں ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘ پس ہم پر واجب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلا علم کوئی بات نہ کہیں اور ان مثالوں کو غور سے سنیں جن کو اللہ علیم و خبیر نے بیان کیا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے دو مثالیں بیان کی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ۔

[75] پہلی مثال ایک غلام کی ہے جو کسی دوسرے کی غلامی میں ہے جو مال کا مالک ہے نہ دنیا کی کسی چیز کا جبکہ دوسرا ایک آزاد اور دولت مند شخص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مال کی تمام اصناف میں سے بہترین رزق سے نوازا ہے وہ سخی اور بھلائی کو پسند کرنے والا شخص ہے۔ وہ اس مال میں سے کھلے چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ مرد آزاد اور وہ غلام برابر ہو سکتے ہیں ؟ حالانکہ یہ دونوں مخلوق ہیں اور ان کے درمیان مساوات محال نہیں ہے۔ پس جب یہ دونوں مخلوق ہوتے ہوئے برابر نہیں ہو سکتے تو ایک مخلوق اور غلام ہستی، جو کسی چیز کی مالک ہے نہ کوئی قدرت اور اختیار رکھتی ہے بلکہ وہ ہر لحاظ سے محتاج ہے، رب تعالیٰ کے برابر کیسے ہو سکتی ہے جو تمام سلطنتوں کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے؟بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی اور حمد و ستائش کی تمام انواع سے اپنے آپ کو متصف کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ﴾ ’’تمام تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ گویا کہ یوں کہا گیا کہ جب معاملہ یہ ہے تو مشرکین نے اپنے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر کیوں ٹھہرا دیا؟ اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ …

76

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَآ أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَىٰهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟

اور عبادت کرتے ہیں وہ سوائے اللہ کے ان کی کہ نہیں اختیار رکھتے وہ ان کے لیے رزق کا آسمانوں سے اور زمین سے کچھ بھی اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (73)پس مت بیان کروتم اللہ کے لیے مثالیں ، بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(74) بیان کی اللہ نے ایک مثال، ایک غلام مملوک کی، نہیں قدرت رکھتا وہ اوپر کسی چیزکےاور(دوسرا) وہ شخص کہ دیا ہم نے اسے اپنی طرف سے رزق اچھا، پس وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر اور ظاہر (بھی)، کیا وہ دونوں برابر ہیں ؟ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے(75) اور بیان کی اللہ نے ایک (اور) مثال دو مردوں کی، ایک ان میں سے گونگا ہے، نہیں قدرت رکھتا روہ اوپر کسی چیز کےاور وہ (نرا) بوجھ ہے اوپر اپنے مالک کے، جہاں کہیں وہ بھیجتا ہے اسے نہیں لاتا کوئی بھلائی، کیا برابر ہے وہ اور (دوسرا) وہ شخص جو حکم درتا ہے ساتھ انصاف کےاور ہے وہ اوپر راہ راست کے؟ (76)

[74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کے ظلم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیا ہے اور ان باطل معبودوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان کے لیے زمین و آسمان میں رزق کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ ہی زمین میں نباتات اگا سکتے ہیں ، وہ زمین و آسمان میں کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں بلکہ اگر وہ چاہیں بھی تو کسی چیز کے مالک نہیں بن سکتے کیونکہ بسا اوقات کسی چیز کا غیر مالک بھی اس چیز پر، جو نفع دے سکتی ہو، قدرت اور اختیار رکھتا ہے… مگر یہ خود ساختہ معبود کسی چیز کے مالک ہیں نہ قدرت اور اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ ہیں ان کے خود ساختہ معبودوں کے اوصاف، کیسے انھوں نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا، مالک ارض و سماء کے ساتھ تشبیہ دے دی جو تمام تر اقدار کا مالک، ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے اور تمام قوت اسی کے پاس ہے؟ اسی لیے فرمایا:﴿فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰهِ الۡاَمۡثَالَ﴾ ’’اللہ کے لیے مثالیں بیان مت کرو‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان مساوات کو متضمن ہیں ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘ پس ہم پر واجب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلا علم کوئی بات نہ کہیں اور ان مثالوں کو غور سے سنیں جن کو اللہ علیم و خبیر نے بیان کیا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے دو مثالیں بیان کی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ۔

[75] پہلی مثال ایک غلام کی ہے جو کسی دوسرے کی غلامی میں ہے جو مال کا مالک ہے نہ دنیا کی کسی چیز کا جبکہ دوسرا ایک آزاد اور دولت مند شخص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مال کی تمام اصناف میں سے بہترین رزق سے نوازا ہے وہ سخی اور بھلائی کو پسند کرنے والا شخص ہے۔ وہ اس مال میں سے کھلے چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ مرد آزاد اور وہ غلام برابر ہو سکتے ہیں ؟ حالانکہ یہ دونوں مخلوق ہیں اور ان کے درمیان مساوات محال نہیں ہے۔ پس جب یہ دونوں مخلوق ہوتے ہوئے برابر نہیں ہو سکتے تو ایک مخلوق اور غلام ہستی، جو کسی چیز کی مالک ہے نہ کوئی قدرت اور اختیار رکھتی ہے بلکہ وہ ہر لحاظ سے محتاج ہے، رب تعالیٰ کے برابر کیسے ہو سکتی ہے جو تمام سلطنتوں کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے؟بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی اور حمد و ستائش کی تمام انواع سے اپنے آپ کو متصف کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ﴾ ’’تمام تعریف اللہ کے لیے ہے‘‘ گویا کہ یوں کہا گیا کہ جب معاملہ یہ ہے تو مشرکین نے اپنے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر کیوں ٹھہرا دیا؟ اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ …

77

وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَآ أَمْرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ ٱلْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

اور اللہ ہی کے لیے غیب آسمانوں اور زمین کااور نہیں ہے معاملہ قیامت کا مگر مانند جھپکنے آنکھ کے یا (بلکہ) وہ اس سے بھی قریب تر ہے، بے شک اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے (77)

[77] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھنے میں منفرد اور یکتا ہے، پس چھپی ہوئی باطن کی باتیں اور اسرارنہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، قیامت کی گھڑی کا علم بھی اسی زمرے میں آتا ہے، چنانچہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔ جب قیامت کی گھڑی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گی تو یہ ﴿ اِلَّا كَلَمۡحِ الۡبَصَرِ اَوۡ هُوَ اَقۡرَبُ﴾ ’’آنکھ جھپکنے یا اس سے بھی کم وقت میں آ جائے گی۔‘‘ پس لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور محشر کی طرف دوڑیں گے اور جو لوگ مہلت چاہیں گے ان کے لیے مہلت کا وقت ختم ہو جائے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے، جو ہر چیز کو شامل ہے، مردوں کو زندہ کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ۔

78

وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْـًۭٔا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو

اور اللہ نے نکالا تمھیں پیٹوں سے تمھاری ماؤں کے، نہیں جانتے تھے تم کچھ بھی، اور اسی نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم شکر کرو (78)

[78] یعنی اللہ تعالیٰ یہ نعمتیں عطا کرنے میں متفرد اور یکتا ہے۔ ﴿ اَخۡرَجَكُمۡ مِّنۢۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰؔتِكُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’اس نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، تم کچھ نہیں جانتے تھے‘‘ اور نہ کسی چیز پر قدرت رکھتے تھے۔ اور اس نے ﴿ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ﴾ ’’تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں اعضاء کا ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے، نیز اس خصوصیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ تینوں اعضاء ہر علم کی کلید ہیں ۔ صرف یہی تین دروازے ہیں جن کے ذریعے سے علم انسان تک پہنچتا ہے ورنہ تمام اعضاء اور تمام ظاہری اور باطنی قوی اللہ تعالیٰ ہی نے عطا کیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو نشوونما دیتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں جو انسان کے لائق ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس لیے عطا کیا ہے کہ وہ ان جوارح کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔ پس جو کوئی ان جوارح کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے علاوہ کہیں اور استعمال کرتا ہے تو یہ جوارح اس کے خلاف حجت ہوں گے کیونکہ وہ اللہ کی نعمت کا بدترین رویے سے مقابلہ کرتا ہے۔

79

أَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلطَّيْرِ مُسَخَّرَٰتٍۢ فِى جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

کیا نہیں دیکھا انھوں نے طرف پرندوں کی کہ تابع فرمان ہیں فضائے آسمان میں ، نہیں روکتا ان کو(فضاء میں ) مگر اللہ ہی، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (79)

[79] کیونکہ اہل ایمان آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے ہیں ۔ رہے کفار تو وہ آیات الٰہی کو لہو و لعب اور غفلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہیئت میں پیدا کیا ہے جو ان کے اڑنے کے لیے درست ہے، پھر ان کے لیے اس لطیف ہوا کو مسخر کر دیا، پھر ان پرندوں میں حرکت کرنے کی قوت اور وہ چیز ودیعت کی جن کے ذریعے سے وہ اڑنے پر قادر ہوتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت، لامحدود علم، تمام مخلوق پر اس کی عنایت ربانی اور اس کے اقتدار کامل کی دلیل ہے۔ نہایت بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

80

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۢ بُيُوتِكُمْ سَكَنًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ ٱلْأَنْعَٰمِ بُيُوتًۭا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَٰثًۭا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٍۢ

اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

اور اللہ نے بنائے تمھارے لیے تمھارے گھر جائے سکونت اور اسی نے بنائے تمھارے لیے چمڑوں سے چوپایوں کے ایک قسم کے گھر (خیمے) کہ تم ہلکا سمجھتے ہو ان کو اپنے کوچ کے دن اور اپنی اقامت کے دن اور(بنایا) ان (بھیڑوں ) کی اون سےاور ان (اونٹوں ) کی پشم سےاور ان (بکریوں ) کے بالوں سے، گھر کا سامان اور کئی فائدے (کی چیزیں )، ایک وقت تک (80) اور اللہ ہی نے بنائے تمھارے لیے، ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کیں ، سائے اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں (غاریں) اور اسی نے بنائیں تمھارے لیے قمیصیں ، وہ بچاتی ہیں تمھیں گرمی (اور سردی) سےاور قمیصیں (زر ہیں )، وہ بچاتی ہیں تمھیں تمھاری لڑائی میں ، اسی طرح اللہ پوری کرتا ہے نعمت اپنی تم پرتاکہ تم مطیع ہو جاؤ (81) پھر اگر وہ منہ پھیریں (اسلام سے) تو یقینا آپ تو صرف پہنچا دینا ہے صریح طور پر (82) وہ پہچانتے ہیں اللہ کی نعمت کو ، پھر وہ انکار کرتے ہیں اس کااور اکثر ان کے کافر ہیں (83)

[80] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۢۡ بُيُوۡتِكُمۡ سَكَنًا ﴾ ’’اور اللہ ہی نے تمھارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے گھر اور بڑے بڑے محل بنائے جو تمھیں گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں ، تمھیں ، تمھاری اولاد اور تمھارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرتے ہیں ۔ تم ان گھروں میں ، اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لیے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمھارے مال و متاع اور تمھاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ جُلُوۡدِ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے چو پاؤں کی کھالوں سے‘‘ یعنی یا تو خود ان چوپایوں کی کھال سے یا اس کھال پر اگنے والے بالوں اور اون سے ﴿ بُيُوۡتًا تَسۡتَخِفُّوۡنَهَا ﴾ ’’ڈیرے، جو ہلکے رہتے ہیں تم پر‘‘ یعنی جن کے بوجھ کو اٹھانا تمھارے لیے بہت آسان ہوتا ہے ﴿ يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ اِقَامَتِكُمۡ﴾’’سفر اور حضر میں ۔‘‘ یعنی وہ سفر اور ان منزلوں میں تمھارے ساتھ ہوتے ہیں جہاں گھر بنانا تمھارا مقصد نہیں ہوتا۔ پس یہ خیمے تمھیں گرمی، سردی اور بارش سے بچاتے ہیں اور تمھارے مال و متاع کو بھی بارشوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے بنائے ﴿ مِنۡ اَصۡوَافِهَا ﴾ ’’ان کی اون سے۔‘‘ یعنی ان چوپایوں کی پشم سے ﴿ وَاَوۡبَارِهَا وَاَشۡعَارِهَاۤ اَثَاثًا ﴾ ’’اور اونٹوں کی پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب‘‘ (اثاث) کا لفظ برتنوں ، خرجیوں ، بچھونوں ، لباس اور اوپر اوڑھنے والے کپڑوں وغیرہ سب کو شامل ہے ﴿ وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی ان چیزوں کو اس دنیا میں استعمال کرتے ہو اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ پس یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی صنعت و حرفت کے لیے اللہ نے بندوں کو مقرر کر دیا ہے۔

[81]﴿وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمۡ مِّمَّا خَلَقَ ﴾ ’’اور بنا دیے اللہ نے تمھارے واسطے ان میں سے جن کو پیدا کیا‘‘ یعنی جن میں تمھارے لیے کوئی صنعت نہیں ہے۔ ﴿ظِلٰلًا﴾ ’’سائے‘‘ ، مثلاً: درختوں پہاڑوں اور ٹیلوں کے سائے۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡجِبَالِ اَكۡنَانًا ﴾ ’’اور بنا دیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ‘‘ یعنی غار اور کھوہ بنائے جہاں تم گرمی، سردی، بارش اور اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے پناہ لیتے ہو ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے کرتے‘‘ یعنی لباس اور کپڑے ﴿ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ ﴾ ’’وہ تمھیں گرمی سے بچاتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سردی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی ابتداء …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.