Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 71–80 of 128

71

وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فِى ٱلرِّزْقِ ۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُوا۟ بِرَآدِّى رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَآءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں

آقا اور اموال غلام کے بارے میں - قول باری ہے (واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق فما الذین فضلوا برادی رزقھم علی ما کانکت ایمانھم۔ اور دیکھو، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں) حضرت ابن عباس (رض) اور مجاہد سے مروی ہے کہ یہ لوگ اپنے غلاموں کو اپنے اموال میں شریک نہیں کرتے تاکہ دونوں ان اموال میں برابر کے حصہ دار بن جائیں، اپنی ذات کے لئے تو وہ لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے لیکن وہ لوگ میرے بندوں کو میری حکومت اور میرے ملک میں میرا شریک ٹھہراتے ہیں، ایک قول کے مطابق آقا اور غلام سب کے سب اس لحاظ سے یکساں ہیں کہ میں نے ان سب کو رزق دیا ہے نیز یہ کہ کسی آقا کے لئے اپنے غلام کو رزق دینا ممکن ہی نہیں ہے مگر صرف اس بنا پر کہ میں نے اسے رزق عطا کیا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت آقا اور غلام کے درمیان ملکیت کے لحاظ سے مساوات کے انتفاء پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں دو وجوہ سے یہ دلیل موجود ہے کہ غلام کو کسی چیز کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔ اول تو یہ کہ اگر غلام کے لئے اس چیز کی ملکیت جائز ہوتی جسے اس کا آقا اس کی ملکیت میں دے دیتا تو اس صورت میں آقا کے لئے اپنا مال اس کی ملکیت میں دے دینا جائز ہوتا اور اس طرح غلام اس مال کا مالک بن کر آقا کے ساتھ برابر کا حصہ دار بن جاتا۔ اس صورت میں غلاموں کی ملکیت آقا کی ملکیت کی طرح ہوجاتی بلکہ یہ بات جائز ہوتی کہ ملکیت کے لحاظ سے غلام اپنے آقا سے افضل ہوتا اور اس کی ملکیت کا دائرہ زیادہ وسیع ہوتا۔ اس بیان میں یہ دلیل موجود ہے کہ غلام کو کسی چیز کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی خواہ آقا کوئی چیز اس کی ملکیت میں کیوں نہ دے۔ اس لئے کہ آیت ان دونوں کے درمیان ملکیت میں مساوات کی نفی کی مقتضیٰ ہے۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھئے، اللہ تعالیٰ نے آقا اور غلام کی اس صورت حال کو مشرکین کی بت پرستی کے لئے بطور مثال بیان فرمایا اور یہ بات سب کو معلوم تھی کہ بت کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلام بھی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا اس لئے کہ مثال میں غلام اور آزاد کے درمیان شراکت کی نفی کردی گئی ہے جس طرح اللہ اور بتوں کے درمیان اس چیز کی نفی کردی گئی ہے۔

72

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةًۭ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ ۚ أَفَبِٱلْبَٰطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ ٱللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں

حفدۃ کی تشریح - قول باری ہے (وجعل لکم من ازواجکم نبی ن وحفدۃ۔ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حفدہ نوکروں اور مددگاروں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے۔ ” من اعانک فقد حفدک “ (جس شخص نے تمہاری اعانت کی وہ تمہارا حفید یعنی مددگار بن گیا) مجاہد، قتادہ اور طائوس کا قول ہے کہ حفدہ نوکروں اور خدمت گاروں کو کہتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) ، ابو الضحی، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ دو بہنوں کو حفدہ کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق حفد کے اصل معنی اسراع فی العمل (کام میں تیزی دکھانے) کے ہیں، اسی سے دعائے قنوت میں یہ فقرہ ہے۔ والیک نسعی و تحفد، یعنی ہم تیری طرف دوڑے آتے اور اس میں تیزی دکھاتے ہیں۔ ’ عفدۃ حافد ‘ کی جمع ہے جس طرح کملۃ کامل کی جمع ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب سلف نے حفدہ کے دو معنی بیان کئے ہیں ایک نوکر چاکر اور مددگار اور دوسرے دو بہنیں۔ تو اب ضروری ہے کہ اس لفظ کو انہیں دو معنوں پر محمول کیا جائے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ باپ اپنے بیٹے سے خدمت اور مدد لینے کا حق رکھتا ہے اس لئے کہ قول باری ہے (وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ) اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ باپ اگر بیٹے کو اپنی خدمت کے لئے اجرت پر رکھ لے تو بیٹا خدمت کی صورت میں اجرت کا مستحق نہیں ہوگا اس لئے کہ باپ کو اجارے کے بغیر بھی بیٹے سے یہ خدمت لینے کا حق حاصل ہے۔

73

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًۭا مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ شَيْـًۭٔا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں

Explained together with ayah 72

74

فَلَا تَضْرِبُوا۟ لِلَّهِ ٱلْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

Explained together with ayah 72

75

۞ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبْدًۭا مَّمْلُوكًۭا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَمَن رَّزَقْنَٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًۭا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّۭا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُۥنَ ۚ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے

قول باری ہے (ضرب اللہ مثلا عبدا مملوکا لا یقدر علی شی۔ اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام جو دوسرے کا مملوک ہے، اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا) حضرت ابن عباس (رض) اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ مثال اس کافر کی بیان کی گئی ہے جس کی ذات میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور اس مومن کی جو بھلائیاں اور نیکیاں کماتا ہے۔ حسن اور مجاہد کے قول کے مطابق یہ مثال مشرکین کی بت پرستی کے سلسلے میں بیان کی گئی ہے۔ مشرکین ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور اس ذات کی پرستش سے منہ موڑتے ہیں جو ہر چیز کی مالک ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت کئی طرح سے اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ ایک تو یہ قول باری ہے (عبدا مملوکا) اس میں صفت اور موصوف دونوں نکرہ کی صورت میں ہیں اس لئے یہ غلاموں کی جنس کے لئے عام ہے۔ جس طرح کوئی یہ کہے (لا تکلم عبدا) (کسی غلام سے گفتگو نہ کرو) یا ” اعط ھذا عبدا “ (یہ چیز کسی غلام کو دے دو ) اس صورت میں اس حکم کے اندر ہر وہ شخص آ جائے گا جو غلام کے نام سے موسوم ہوگا۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (بتیما ذا مقربۃ او مسکینا ذا متربۃ کسی یتیم کو جو قرابت دار ہو یا مسکین کو جو خاک نشین ہو) اس میں چونکہ لفظ نکرہ ہے اس لئے آیت کے حکم کے تحت ہر وہ شخص آ جائے گا جو اس لفظ کے دارئے میں آتا ہو۔ اسی طرح قول باری (عبد مملوکا) تمام غلاموں کو اپنے دائرے میں لے لیتا ہے۔ پھر ارشاد ہوا (لا بقدر علی شی) اس میں یا تو نفی قدرت مراد ہے یا نفی ملک یا دونوں کی نفی۔ اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ نفی قدرت مراد نہیں ہے اس لئے کہ غلام اور آزاد جس طرح غلامی اور آزادی میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اس طرح قدرت کے اندر مختلف نہیں ہوتے اس لئے کہ غلام بعض دفعہ آزاد سے بڑھ کر قدرت رکھنے والا ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ نفی قدرت مراد نہیں ہے۔ اس لئے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہاں ملکیت کی نفی مراد ہے۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ ایک اور پہلو سے دیکھئے۔ اللہ تعالیٰ نے بتوں کے لئے بطور مثال یہ بات فرمائی ہے اور اس میں بتوں کو ملکیت کی نفی کے اندر ان غلاموں کے مشابہ قرار دیا ہے جو دوسروں کے مملوک ہوتے ہیں۔ اب یہ بات واضح ہے کہ اصنام کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے اس سے یہ بات ضروری ہوگئی کہ جن لوگوں یعنی غلاموں کی صورت میں یہ مثال بیان ہوئی ہے وہ بھی کسی چیز کے مالک نہ قرار دیئے جائیں ورنہ ان کے ذریعے مثال بیان کرنے کا فائدہ ختم ہوجائے گا اور پھر اس صورت میں غلام اور آزاد کے ذریعے اس مثال کو بیان کرنے کا حکم یکساں ہوجائے گا۔ نیز اگر یہاں کا کوئی خاص غلام مراد ہوتا جو کسی چیز کا مالک نہیں اور اس بات کا جواز ہوتا کہ غلاموں میں سے ایسے بھی ہوسکتے ہیں جنہیں ملکیت حاصل ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہوتا ” ضرب اللہ مثلا رجلا لا یقدر علی شی “ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ عبد یعنی غلام کا ذکر فرمایا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ غلام کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے۔- اگر یہ کہا جائے کہ ابراہیم نے عکرمہ سے، انہوں نے یعلیٰ بن منیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ آیت کا نزول قریش کے ایک شخص اور اس کے غلام کے بارے میں ہوا تھا پھر یہ دونوں مسلمان ہوگئے تھے پھر دوسری آیت ایسے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جن میں سے ایک گونگا تھا اور اسے کسی چیز پر قدرت نہیں تھی۔ آیت کا اختتام قول باری (صراط مستقیم) پر ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ حضرت عثمان (رض) کا ایک غلام تھا جس کی وہ کفالت کرتے اور اس کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ اس طرح حضرت عثمان (رض) وہ شخص تھے جو آیت میں مذکورہ الفاظ (ومن یامر بالعدل وھو علی صراط مستقیم۔ دوسرا شخص ایسا …

76

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَآ أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَىٰهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟

گونگے غلام کا حکم - اگر یہ کہا جائے کہ ارشاد باری ہے (وضرب اللہ مثلا رجلین احمدھما بکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ۔ اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے کوئی کام نہیں کرسکتا اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے) لیکن آیت کی اس امر پر دلالت نہیں ہو رہی ہے کہ گونگا کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا آیت میں گونگے سے گونگا غلام مراد ہے آپ اس قول باری کو دیکھئے (وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لا یات بخیر۔ اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے نہ بن آئے) آقا کا ذکر نیز آقا کی طرف سے اسے بھیجنے کا بیان اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد غلام ہے گویا اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں ملکیت کی نفی کے لئے بت کے مقابلہ میں ایک ایسے غلام کی مثال بیان کی جو گونگا نہیں تھا پھر دوسری آیت میں اس کمی میں اور اضافہ کرتے ہوئے فرمایا (ابکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لایات بخیر) یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتوں کا نقص اور ان میں خیر کی کمی کو مبالغہ کے طور پر بیان کرنے کے لئے آیت میں گونگا غلام مراد لیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ غلام کسی اور کا مملوک ہے جو اس میں تصرف کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔- اگر یہ کہا جائے کہ قول باری (وھو کل علی مولاہ) میں چچا زاد بھائی مراد ہے اس لئے کہ چچا زاد بھائی کو بھی مولیٰ کہا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات غلط ہے اس لئے کہ ایک شخص پر اس کے چچا زاد بھائی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ نہ ہی وہ اس پر بوجھ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ شخص اسے اپنے کاموں کی خاطر ادھر ادھر بھیج سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آیت میں ابکم یعنی گونگے کے سلسلے میں دو باتوں کا ذکر کیا تو اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ اس سے کوئی آزاد شخص مراد نہیں ہے جس کا کوئی چچا زاد بھی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایک گونگا غلام مراد لیا ہے جو کسی کا مملوک ہو علاوہ ازیں یہاں چچا زاد کے ذکر کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ چچا زاد بھائی کی بہ نسبت باپ بھائی اور چچا ایک شخص کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور اس کے لئے ان رشتہ داروں کی حیثیت اولیٰ ہوتی ہے اس بنا پر آیت میں وارد لفظ مولیٰ کو چچا زاد بھائی پر محمول کرنے سے اس کا فائدہ زائل ہوجائے گا۔ نیز جب علی الاطلاق مولیٰ کا ذکر کیا جائے تو اس سے مراد یا تو مولائے رق (غلام) ہوتا ہے یا مولائے نعمت (آقا) ہوتا ہے اور چچا زاد پر اسے کسی دلالت کی بنا پر محمول کیا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اصنام مراد لینا درست نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (عبدا مملوکا) ایسی بات اصنام کے متعلق نہیں کہی جاسکتی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ معترض کی نظروں سے دلالت کا مقام پوشیدہ رہ گیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے صرف ایسے غلام کا ذکر کیا ہے جو ہمارا مملوک ہو اور پھر اسے ان بتوں کے لئے مثال کے طور پر بیان کیا جنہیں لوگ پوجتے تھے اور یہ بتادیا کہ ان بتوں کی حیثیت ان غلاموں جیسی ہے جو کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے اور جس طرح ایک بت کسی حال میں بھی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا اسی طرح ایک غلام بھی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے بتوں کو عباد (بندے) کہا ہے چناچہ ارشاد ہے (ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم۔ تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کی پوجا کرتے ہو وہ بھی تمہاری طرح بندے ہیں)- غلام کی ملکیت کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب اور امام شافعی کا قول ہے کہ غلام نہ تو کسی چیز کا مالک ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہمبستری کی خاطر کوئی لونڈی خرید سکتا ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ غلام مالک بھی ہوسکتا ہے اور ہمبستری کی خاطر لونڈی بھی خرید سکتا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے روایت بیان کی ہے، انہیں اسماعیل بن امیہ المکی نے سعید بن ابی سعید المقبری سے اور …

77

وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَآ أَمْرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ ٱلْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

Explained together with ayah 76

78

وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْـًۭٔا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو

Explained together with ayah 76

79

أَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلطَّيْرِ مُسَخَّرَٰتٍۢ فِى جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

Explained together with ayah 76

80

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۢ بُيُوتِكُمْ سَكَنًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ ٱلْأَنْعَٰمِ بُيُوتًۭا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَٰثًۭا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٍۢ

اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں - قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.