Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 71–80 of 128

71

وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فِى ٱلرِّزْقِ ۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُوا۟ بِرَآدِّى رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَآءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں

یہاں ایک سادہ سی مثال کے ذریعہ اس عقیدہ کو غلط ثابت کیاگیا ہے کہ خدا کے کچھ شریک ہیں۔ اور اس نے اپنے اختیارات کا ایک حصہ اپنے ان شریکوں کو دے دیا ہے۔ وہ مثال یہ کہ دنیا میں روزی کی تقسیم یکساں نہیں۔ عام طورپر دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی کے پاس بہت زیادہ ہوتا ہے اور کسی کے پاس اتنا کم ہوتاہے کہ وہ زیادہ والے کے یہاں نوکر اور غلام بننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اب کوئی بھی زیادہ والا ایسا نہیں کرتا کہ اپنی دولت اپنے نوکروں میں بانٹ دے اور اس طرح اپنا اور نوکروں کا فرق مٹا کر یکساں ہوجائے۔ پھر خدا کے بارے میں یہ ماننا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنے اختیارات دوسروں کو تقسیم کردیے ہیں۔

کوئی شخص اپنی بڑائی کا آپ انکار نہیں کرتا۔ پھر جو بات ایک انسان بھی پسند نہیں کرتا، حالانکہ اس کے پاس کوئی ذاتی اثاثہ نہیں، اس بات کو خدا کیوں پسند کرے گا جس کے پاس جو کچھ ہے اس کا اپنا ذاتی ہے۔ کسی دوسرے کا دیا ہوا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام عقیدے خدا کی ہستی کی نفی کررہے ہیں۔ وہ خدا کوغیر خدا کی سطح پر پہنچا رہے ہیں جو کسی حال میں ممکن نہیں۔

72

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةًۭ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ ۚ أَفَبِٱلْبَٰطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ ٱللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی بے شمار ضرورتیں ہیں۔ ان تمام ضرورتوں کا انتظام نہایت کامل صورت میں دنیا کے اندر موجود ہے۔آدمی کو بھوک پیاس لگتی ہے تو یہاں کھانے پینے کی بہترین چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔ آدمی کو شخصی سکون کے لیے بیوی درکار ہے تو یہاں عین اس کے تقاضوں کے مطابق مسلسل عورتیں پیدا کی جارہی ہیں۔ آدمی کے سامنے اپنی نسل کی بقا کا مسئلہ ہے تو یہاں اس کے لیے بیٹے اور پوتے کی پیدائش کا نظام بھی موجود ہے۔

یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے۔ مگر ہر زمانے میں انسان نے یہ غلطی کی کہ خدا کی ان نعمتوں کو غیر خدا کی طرف منسوب کردیا۔ مشرک لوگ ان کو خدا کے سوا دیوی دیوتاؤں یا زندہ مُردہ ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں، او رجو ملحد ہیں وہ اس کو قوانین فطرت کے اندھے عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ نعمتوں کا یہ نظام اس لیے تھا کہ اس کو دیکھ کر آدمی کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ امنڈے۔ مگر خود ساختہ تخیلات کی بنا پر یہ نظام اس کے لیے صرف کفر ِ خداوندی کی غذا دینے کا ذریعہ بن گیا۔

اکثر اعتقادی گمراہیاں مثالوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً انسان کے بیٹے بیٹیاں ہیں تو اسی پر قیاس کرکے سمجھ لیا گیا کہ خدا کے بھی بیٹے بیٹیاں ہیں۔ دنیا میں بڑے لوگوں کے یہاں کچھ افراد ہوتے ہیں جو مقرب اور سفارشی ہوتے ہیں۔ اس کو مثال بنا کر فرض کرلیا گیا کہ خدا کے دربار میں بھی کچھ قربت والے ہیں اور خدا کے یہاں ان کی سفارشیں چلتی ہیں۔

اسی قسم کی تمثیلات سے شرک اور گمراہی کی اکثر قسمیں پیدا ہوتی ہیں۔ مگر یہ خالق کو مخلوق کے اوپر قیاس کرنا ہے جو سراسر جہالت ہے۔ خالق ہر اعتبار سے مخلوق سے مختلف ہے۔ مخلوق کی کوئی مثال خالق پر چسپاں نہیں ہوتی۔ مثال کے ذریعہ بات کو سمجھانا بجائے خود غلط نہیں۔ مگر مثال اسی وقت کار آمد ہے جب کہ آدمی کو اصل اور تشبیہہ دونوں کا علم ہو۔ انسان جب خدا کی حقیقت کو نہیں جانتا تو کیسے وہ اس کے مطابق کوئی مثال لا سکتا ہے۔

73

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًۭا مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ شَيْـًۭٔا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی بے شمار ضرورتیں ہیں۔ ان تمام ضرورتوں کا انتظام نہایت کامل صورت میں دنیا کے اندر موجود ہے۔آدمی کو بھوک پیاس لگتی ہے تو یہاں کھانے پینے کی بہترین چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔ آدمی کو شخصی سکون کے لیے بیوی درکار ہے تو یہاں عین اس کے تقاضوں کے مطابق مسلسل عورتیں پیدا کی جارہی ہیں۔ آدمی کے سامنے اپنی نسل کی بقا کا مسئلہ ہے تو یہاں اس کے لیے بیٹے اور پوتے کی پیدائش کا نظام بھی موجود ہے۔

یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے۔ مگر ہر زمانے میں انسان نے یہ غلطی کی کہ خدا کی ان نعمتوں کو غیر خدا کی طرف منسوب کردیا۔ مشرک لوگ ان کو خدا کے سوا دیوی دیوتاؤں یا زندہ مُردہ ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں، او رجو ملحد ہیں وہ اس کو قوانین فطرت کے اندھے عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ نعمتوں کا یہ نظام اس لیے تھا کہ اس کو دیکھ کر آدمی کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ امنڈے۔ مگر خود ساختہ تخیلات کی بنا پر یہ نظام اس کے لیے صرف کفر ِ خداوندی کی غذا دینے کا ذریعہ بن گیا۔

اکثر اعتقادی گمراہیاں مثالوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً انسان کے بیٹے بیٹیاں ہیں تو اسی پر قیاس کرکے سمجھ لیا گیا کہ خدا کے بھی بیٹے بیٹیاں ہیں۔ دنیا میں بڑے لوگوں کے یہاں کچھ افراد ہوتے ہیں جو مقرب اور سفارشی ہوتے ہیں۔ اس کو مثال بنا کر فرض کرلیا گیا کہ خدا کے دربار میں بھی کچھ قربت والے ہیں اور خدا کے یہاں ان کی سفارشیں چلتی ہیں۔

اسی قسم کی تمثیلات سے شرک اور گمراہی کی اکثر قسمیں پیدا ہوتی ہیں۔ مگر یہ خالق کو مخلوق کے اوپر قیاس کرنا ہے جو سراسر جہالت ہے۔ خالق ہر اعتبار سے مخلوق سے مختلف ہے۔ مخلوق کی کوئی مثال خالق پر چسپاں نہیں ہوتی۔ مثال کے ذریعہ بات کو سمجھانا بجائے خود غلط نہیں۔ مگر مثال اسی وقت کار آمد ہے جب کہ آدمی کو اصل اور تشبیہہ دونوں کا علم ہو۔ انسان جب خدا کی حقیقت کو نہیں جانتا تو کیسے وہ اس کے مطابق کوئی مثال لا سکتا ہے۔

74

فَلَا تَضْرِبُوا۟ لِلَّهِ ٱلْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی بے شمار ضرورتیں ہیں۔ ان تمام ضرورتوں کا انتظام نہایت کامل صورت میں دنیا کے اندر موجود ہے۔آدمی کو بھوک پیاس لگتی ہے تو یہاں کھانے پینے کی بہترین چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔ آدمی کو شخصی سکون کے لیے بیوی درکار ہے تو یہاں عین اس کے تقاضوں کے مطابق مسلسل عورتیں پیدا کی جارہی ہیں۔ آدمی کے سامنے اپنی نسل کی بقا کا مسئلہ ہے تو یہاں اس کے لیے بیٹے اور پوتے کی پیدائش کا نظام بھی موجود ہے۔

یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے۔ مگر ہر زمانے میں انسان نے یہ غلطی کی کہ خدا کی ان نعمتوں کو غیر خدا کی طرف منسوب کردیا۔ مشرک لوگ ان کو خدا کے سوا دیوی دیوتاؤں یا زندہ مُردہ ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہیں، او رجو ملحد ہیں وہ اس کو قوانین فطرت کے اندھے عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ نعمتوں کا یہ نظام اس لیے تھا کہ اس کو دیکھ کر آدمی کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ امنڈے۔ مگر خود ساختہ تخیلات کی بنا پر یہ نظام اس کے لیے صرف کفر ِ خداوندی کی غذا دینے کا ذریعہ بن گیا۔

اکثر اعتقادی گمراہیاں مثالوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً انسان کے بیٹے بیٹیاں ہیں تو اسی پر قیاس کرکے سمجھ لیا گیا کہ خدا کے بھی بیٹے بیٹیاں ہیں۔ دنیا میں بڑے لوگوں کے یہاں کچھ افراد ہوتے ہیں جو مقرب اور سفارشی ہوتے ہیں۔ اس کو مثال بنا کر فرض کرلیا گیا کہ خدا کے دربار میں بھی کچھ قربت والے ہیں اور خدا کے یہاں ان کی سفارشیں چلتی ہیں۔

اسی قسم کی تمثیلات سے شرک اور گمراہی کی اکثر قسمیں پیدا ہوتی ہیں۔ مگر یہ خالق کو مخلوق کے اوپر قیاس کرنا ہے جو سراسر جہالت ہے۔ خالق ہر اعتبار سے مخلوق سے مختلف ہے۔ مخلوق کی کوئی مثال خالق پر چسپاں نہیں ہوتی۔ مثال کے ذریعہ بات کو سمجھانا بجائے خود غلط نہیں۔ مگر مثال اسی وقت کار آمد ہے جب کہ آدمی کو اصل اور تشبیہہ دونوں کا علم ہو۔ انسان جب خدا کی حقیقت کو نہیں جانتا تو کیسے وہ اس کے مطابق کوئی مثال لا سکتا ہے۔

75

۞ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبْدًۭا مَّمْلُوكًۭا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَمَن رَّزَقْنَٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًۭا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّۭا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُۥنَ ۚ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے

مشرکانہ تمثیلات کی غلطی واضح کرنے کے لیے یہاں ایک سادہ اور عام مثال دی گئی ہے۔ ایک شخص ہے جس کے پاس ہر قسم کے اسباب ہیں اور وہ ان کا ذاتی مالک ہے۔ وہیں دوسرا شخص ہے جوکسی بھی چیز کا ذاتی مالک نہیں۔ یہ دونوں آدمی ایک دوسرے سے نوعی طورپر مختلف ہیں۔ اس لیے ایک کی مثال دوسرے پر کبھی چسپاں نہیں ہوگی۔ پھر خدا اور بندے میں یہ نوعی فرق تو اپنے کمال پر پہنچا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ انسان کے واقعات سے خدا پر مثال قائم کی جائے۔اس کائنات میں خدا اور دوسری چیزوں کے درمیان جو تقسیم ہے وہ خالق اور مخلوق کی تقسیم ہے، نہ کہ خدا اور شریکِ خدا کی ۔ خدا کی ہستی وہ ہستی ہے جو ہر قسم کے کمالات کا ذاتی سرچشمہ ہے۔ جو ہر قسم کی نعمتوں کا تنہا بخشنے والا ہے۔ اس کائنات میں سب سے زیادہ خلافِ واقعہ بات یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور کے لیےوہ چیزیں فرض کی جائیں جن میں کوئی اس کا شریک نہیں۔

76

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَآ أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَىٰهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟

اوپر آیت نمبر 75 میں خدا کے مقابلے میں شرکاء کا بے حقیقت ہونا بتایاگیا تھا۔ اب آیت 76 میں رسول کے مقابلہ میں ان ہستیوں کا بے حقیقت ہونا واضح کیا جارہا ہے جن کے بل پر آدمی رسول کی ہدایت کو نظر انداز کرتاہے۔

پیغمبر کو خدا اپنی خصوصی توجہ کے ذریعہ اس شاہراہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جوحق کی شاہراہ ہے اور جو براہِ راست خدا تک پہنچانے والی ہے۔ پیغمبر اور اس کے ساتھی اس شاہراہ پر خود چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف رہنمائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو پیغمبر کے راستے کے سوا دوسرے راستوں کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کی مثال اندھے بہرے کی ہے۔ ان کے پاس کان نہیں کہ وہ خدا کی آوازوں کو سنیں، ان کے پاس آنکھ نہیں کہ ا س کے ذریعہ خدا کے جلوؤں کو دیکھیں۔ ان کے اندر وہ قلب ودماغ نہیں کہ وہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں کو پالیں۔

سمع وبصر وفواد اس لیے دئے گئے تھے کہ ان کے ذریعہ آدمی مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دیکھے۔ مگر انسان نے ان کا استعمال یہ کیا کہ وہ خود مخلوقات میں اٹک کر رہ گیا۔

77

وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَآ أَمْرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ ٱلْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

عالم ظاہر کے پیچھے ایک غیبی نظام ہے۔ یہ غیبی نظام خدا کا قائم کیا ہوا ہے۔ اپنی محدودیت کی وجہ سے اگر چہ ہم اس غیبی نظام کو نہیں دیکھتے مگر خود اس غیبی نظام پر ہماری ہر چیز بالکل کھلی ہوئی ہے۔ خدا غیب میں رہ کر ہر آن اپنی دنیا کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو دیکھ رہا ہے۔ اس کو ہر بات کا صحیح ترین اندازہ ہے۔ خدا جب فیصلہ کرے گا کہ اب انسان کے امتحان کی مدت تمام ہوچکی ہے، عین اس وقت وہ اشارہ کرے گا اور اس کے بعد پلک جھپکتے میں موجودہ نظام یک لخت ٹوٹ جائے گا اور نیا نظام بالکل مختلف بنیادوں پر قائم ہوگاتاکہ ہر ایک کو اس اصل مقام پر پہنچا دیا جائے جہاں وہ باعتبار واقعہ تھا، نہ کہ اس مقام پر جہاں وہ مصنوعی طورپر اپنے آپ کو بٹھائے ہوئے تھا۔

78

وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْـًۭٔا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ بالکل عاجز اور بے سمجھ بچہ ہوتاہے۔ مگر بڑا ہو کر وہ ان حیرت انگیز قوتوں کا مالک بن جاتا ہے جن کو کان اور آنکھ اور عقل کہتے ہیں۔ یہ بھی ممکن تھا کہ آدمی جس روز پیدا ہو اسی روز اس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں موجود ہوں جو بڑی عمر کو پہنچ کر اس کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔

مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ صرف اس لیے کہ انسان کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو۔ اوّلاً وہ اپنی ابتدائی بے بسی کی حالت کو دیکھے اور پھر یہ دیکھے کہ بعد کوکس طرح وہ ایک ترقی یافتہ حالت کو پہنچ گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ خدا کی ملی ہوئی نعمت کا احساس کرے اور خدا کی احسان مندی کے جذبہ سے سرشار ہوجائے۔

کسی آدمی کے اندر یہ کیفیت صرف اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب کہ وہ خدا کی دی ہوئی قوتوں کو صحیح طورپر استعمال کرے۔ اس کے کان اور آنکھ اور دل بس ظاہری دنیامیں اٹک کر نہ رہ جائیں بلکہ وہ اس کے لیے ایسے روشن دان بن جائیں جن کے ذریعہ جھانک کر کوئی شخص غیب کی جھلکیوںکو دیکھ لیتا ہے۔

79

أَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلطَّيْرِ مُسَخَّرَٰتٍۢ فِى جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

پرندوں کا فضا میں اڑنا قدرت کی ایک عظیم منصوبہ بندی کے تحت ممکن ہوتاہے۔ پرواز کے مقصد کے لیے پرندوں کی نہایت موزوں بناوٹ، جس کی مشینی نقل ہوائی جہاز کی صورت میں کی گئی ہے۔ زمین کے اوپر ہوا جو پرندوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے کشتی کے لیے سمندر۔ زمینی کشش کی وجہ سے ہوا کا مسلسل زمین کے اوپر قائم رہنا وغیرہ۔ یہ اعلیٰ انتظامات اگر نہ ہوں تو فضا میں پرندوں کا اڑنا ممکن نہ ہوسکے۔

اس واقعہ کو گہری نظر سے دیکھا جائے تو آدمی کو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہ خدا کو اپنی کائنات میں عمل کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ وہ تخلیقی نظام کے اندر اس کے خالق کو پا جائے گا۔ وہ مصنوعات کے درمیان صانع کا جلوہ دیکھ لے گا۔

یہی معاملہ خود انسان کا ہے۔ گھر آدمی کے لیے سکون کا مقام ہے۔ لیکن گھر کیسے بنتا ہے۔ خدا کے بہت سے انتظامات ہیں جن کی وجہ سے زمین پر ایک گھر کا قیام ممکن ہوتاہے۔ وہ تمام تعمیری اجزاء جن کے ذریعے ایک مکان بنتا ہے، پیشگی طورپر ہماری دنیامیں رکھ دئے گئے ہیں۔ زمین میں نہایت مناسب مقدار میں قوت کشش ہے جس کی وجہ سے مکانات زمین کی سطح پر جمے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسا نہ ہوتو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہوئی زمین کے اوپر مکانات اڑ جائیں۔اسی طرح وہ چیزیں جن سے آدمی ہلکے پھلکے خیمے بناتا ہے اور وہ چیزیں جن میں یہ صلاحیت ہے کہ انسان کے لباس کی صورت میں ڈھل جائیں اور اس کی زینت کا اور موسموں میںاس کی جسمانی حفاظت کا کام دیں۔

اس طرح کی تمام چیزیں اس لیے ہیں کہ آدمی کے اندر اپنے رب کی نعمتوں پر شکر کا جذبہ بیدار ہو، وہ اس کی عظمت وقدرت کے احساس سے اس کے آگے گر پڑے۔

80

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۢ بُيُوتِكُمْ سَكَنًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ ٱلْأَنْعَٰمِ بُيُوتًۭا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَٰثًۭا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٍۢ

اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

پرندوں کا فضا میں اڑنا قدرت کی ایک عظیم منصوبہ بندی کے تحت ممکن ہوتاہے۔ پرواز کے مقصد کے لیے پرندوں کی نہایت موزوں بناوٹ، جس کی مشینی نقل ہوائی جہاز کی صورت میں کی گئی ہے۔ زمین کے اوپر ہوا جو پرندوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے کشتی کے لیے سمندر۔ زمینی کشش کی وجہ سے ہوا کا مسلسل زمین کے اوپر قائم رہنا وغیرہ۔ یہ اعلیٰ انتظامات اگر نہ ہوں تو فضا میں پرندوں کا اڑنا ممکن نہ ہوسکے۔

اس واقعہ کو گہری نظر سے دیکھا جائے تو آدمی کو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہ خدا کو اپنی کائنات میں عمل کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ وہ تخلیقی نظام کے اندر اس کے خالق کو پا جائے گا۔ وہ مصنوعات کے درمیان صانع کا جلوہ دیکھ لے گا۔

یہی معاملہ خود انسان کا ہے۔ گھر آدمی کے لیے سکون کا مقام ہے۔ لیکن گھر کیسے بنتا ہے۔ خدا کے بہت سے انتظامات ہیں جن کی وجہ سے زمین پر ایک گھر کا قیام ممکن ہوتاہے۔ وہ تمام تعمیری اجزاء جن کے ذریعے ایک مکان بنتا ہے، پیشگی طورپر ہماری دنیامیں رکھ دئے گئے ہیں۔ زمین میں نہایت مناسب مقدار میں قوت کشش ہے جس کی وجہ سے مکانات زمین کی سطح پر جمے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسا نہ ہوتو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہوئی زمین کے اوپر مکانات اڑ جائیں۔اسی طرح وہ چیزیں جن سے آدمی ہلکے پھلکے خیمے بناتا ہے اور وہ چیزیں جن میں یہ صلاحیت ہے کہ انسان کے لباس کی صورت میں ڈھل جائیں اور اس کی زینت کا اور موسموں میںاس کی جسمانی حفاظت کا کام دیں۔

اس طرح کی تمام چیزیں اس لیے ہیں کہ آدمی کے اندر اپنے رب کی نعمتوں پر شکر کا جذبہ بیدار ہو، وہ اس کی عظمت وقدرت کے احساس سے اس کے آگے گر پڑے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.