Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 61–70 of 128

61

وَلَوْ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَآبَّةٍۢ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ ۔۔ : ” يُؤَاخِذُ “ یہاں ” یَأْخُذُ “ کے معنی میں ہے، باب مفاعلہ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس میں پوچھ گچھ کا مفہوم بھی واضح ہوتا ہے۔ ظلم سے مراد کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھنا ہے، سب سے بڑا ظلم شرک ہے، پھر اللہ کی کسی حد سے تجاوز کرنا اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنا ظلم کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہی بات سورة فاطر کی آخری آیت میں بیان فرمائی ہے۔ - ” النَّاسَ “ سے مراد یا تو کافر و مشرک ہیں، یا سارے ہی انسان مراد ہیں، خواہ کتنے نیک ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اور اس کے احکام کی پوری ادائیگی کوئی بھی نہ کرسکا ہے نہ کرسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭكَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ) [ عبس : ٢٣ ] ” ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔ “ یہ اللہ کا کرم ہے کہ دنیا میں نیک و بد سب کو ایک وقت تک مہلت ملی ہوئی ہے۔ لیکن اگر کبھی دنیا میں اللہ کی گرفت آجائے تو سب نیک و بد، حتیٰ کہ چرند پرند وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے، پھر قیامت کے دن ہر ایک سے اس کے اپنے ایمان اور نیت و عمل کے مطابق معاملہ ہوگا۔ اس مفہوم کی حدیث کے لیے دیکھیے صحیح بخاری کی ” کِتَابُ الْبُیُوْعِ ، بَابُ مَا ذُکِرَ فِی الْأَسْوَاقِ (٢١١٨) “ میں اس لشکر کا ذکر جو کعبہ پر حملہ کے لیے آئے گا۔

62

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ ٱلْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلْحُسْنَىٰ ۖ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفْرَطُونَ

اور یہ خدا کے لیے ایسی چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے

وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ : مثلاً یہ مشرک اپنے لیے پسند نہیں کرتے کہ ان کی ملکیت کا کوئی دوسرا بھی مالک بنے، مگر اللہ کی ملکیت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ (دیکھیے روم : ٢٨) اپنے قاصد کی تکریم چاہتے ہیں مگر اللہ کا پیغام لانے والوں سے ٹھٹھا کرتے ہیں، اپنے لیے گالی برداشت نہیں کرتے مگر اللہ کو گالی دیتے ہیں، مثلاً یہ کہنا کہ اللہ کی اولاد ہے، اس کے لیے گالی ہے اور کئی بدبخت ایسے ہیں کہ اللہ نے انھیں سب کچھ دیا اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کو صاف گالیاں دیتے ہیں، پھر اپنے لیے بیٹے اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ غرض جو کچھ وہ اپنے غلاموں کی طرف سے اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اللہ کے غلام بلکہ مخلوق ہو کر وہ ساری بدتمیزیاں اس کے ساتھ کرتے ہیں، وہ پھر بھی صبر کرتا ہے اور مہلت دیتا ہے۔ (سبحان اللہ) - وَتَصِفُ اَلْسِـنَتُهُمُ الْكَذِبَ : کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں چین اور خوش حالی ملی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کا ہم پر خوش ہونا ثابت ہوتا ہے، اس لیے اگر آخرت واقعی ہوئی تو وہاں ہمیں یہ سب کچھ ملے گا۔ دیکھیے سورة مریم (٧٧ تا ٨٠) ، سورة حٰمٓ السجدہ (٥٠) اور سورة کہف (٣٦) ۔- وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ :” مُّفْرَطُوْنَ “ باب افعال سے اسم مفعول ہے۔ ” فَرَطٌ“ اسے کہتے ہیں جسے کوئی قوم اپنے سے پہلے بھیج دے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ ) [ بخاری، الرقاق، باب في الحوض : ٦٥٧٥، عن ابن مسعود (رض) ] ” میں حوض پر تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے ضروریات کا بندوبست کرنے والا ہوں۔ “ یعنی کوئی شک نہیں کہ انھی کے لیے آگ ہے اور یہ مشرک دوسرے گناہ گاروں سے پہلے وہاں پہنچائے جانے والے ہیں۔ ” مُّفْرَطُوْنَ “ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ وہ دوزخ میں جھونک دیے جانے کے بعد وہیں چھوڑ دیے جائیں گے اور انھیں قطعی فراموش کردیا جائے گا، وہیں پڑے سڑتے رہیں گے، فرمایا : (وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا ) [ الجاثیۃ : ٣٤ ] ” اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلا دیا۔ “ عرب کہتے ہیں : ” مَا أَفْرَطْتُ وَرَاءِيْ أَحَدًا “ ” میں نے اپنے پیچھے کسی کو نہیں چھوڑا۔ “ مفسرین نے دونوں معانی بیان کیے ہیں اور دونوں باتیں ایک ہی وقت میں ہوسکتی ہیں۔

63

تَٱللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے عذاب الیم ہے

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا اور اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا کہ ” ہم “ نے رسول بھیجے، ورنہ اللہ تعالیٰ تو ایک ہے۔ - فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ : تو شیطان جو ازلی دشمن تھا، اس نے ان کے وہی برے اعمال جو وہ کرتے تھے، مثلاً کفر و شرک اور دوسری کمینگیاں، وہ ان کے لیے ایسے خوش نما اور خوبصورت بنا دیے کہ انھوں نے سمجھا ہم بہت اچھے کام کر رہے ہیں، چناچہ اسی دھوکے میں انھوں نے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ - فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ ۔۔ : تو وہی جو ہمیشہ کا دشمن تھا آج ان کا دوست بن گیا اور ظاہر ہے کہ جہاں ان کا دوست جائے گا اس کے ساتھ ہی وہ بھی عذاب الیم میں جائیں گے۔ ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ شیطان جو پہلی کافر قوموں کا دوست بنا تھا آج ان کفار عرب کا بھی وہی دوست ہے اور ان کا نتیجہ بھی وہی ہے جو ان کا ہوا۔ مقصد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کفار کی حرکتوں سے رنجیدہ اور کبیدہ خاطر نہ ہوں، پہلے بھی ایسے ہوتا رہا ہے۔

64

وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِى ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۙ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لیے جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تم اس کا فیصلہ کردو۔ اور (یہ) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ ۔۔ : پہلی امتوں کی طرح اس وقت بھی جو لوگ شیطان کے خوش نما پھندوں میں گرفتار ہیں، ان کے لیے ہر اختلاف کا فیصلہ کرکے اصل حقیقت کھول کر بیان کرنے ہی کے لیے ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ان تمام چیزوں کی تبیین و وضاحت بھی ہے جس میں لوگ خود فیصلہ نہیں کرسکتے، اس لیے قرآن کی ہر بات کی تفصیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قول و عمل اور تقریر سے فرمائی، ورنہ اللہ کی عبادت نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ غرض سب کچھ اختلاف کی نذر ہوجاتا، لوگ ایک طریقے پر متفق ہی نہ ہوسکتے، نہ کتاب اللہ پر عمل ہوسکتا۔ منکرین حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وضاحت کو ماننے کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ اس ہدایت اور رحمت سے بھی محروم ہیں جو اس کتاب سے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبیین و وضاحت سے اہل ایمان ” لِقَوْمٍ یُّوْمِنُوْنَ “ کو حاصل ہوتی ہے اور درحقیقت وہ قرآن کو بھی نہیں مانتے، ورنہ قرآن کی متعدد آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر جھگڑے اور اختلاف میں فیصل ماننے، ان کا اتباع کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم موجود ہے۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی آیت (٨٩) ۔

65

وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَسْمَعُونَ

اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بےشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانی ہے

وَاللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۔۔ : ” السَّمَاۗءِ “ ” سِمْوٌ“ سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی ہے، اس لیے ہر اونچی چیز کو ” سَمَاءٌ“ کہہ لیتے ہیں۔ یہاں مراد بلندی سے اتارنا بھی ہوسکتا ہے اور بادل سے بھی۔ یہاں پانی کی نعمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو زندگی کا اصل ہے، فرمایا : ( ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ) [ الأنبیاء : ٣٠ ] ” اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی۔ “ یعنی زمین مردے کی طرح خشک پڑی تھی، نہ اس میں زندگی کے کوئی آثار تھے، نہ گھاس پھونس، نہ پھول پتیاں اور نہ کیڑے مکوڑے، اتنے میں بارش ہوئی اور وہ دیکھتے دیکھتے چند دنوں میں ہری بھری اور تروتازہ ہوگئی اور اس میں ہر قسم کی سرسبزی اور شادابی آگئی اور جگہ جگہ پانی کے چشمے پھوٹنے لگے، گویا مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی نصیب ہوئی۔ یہ مضمون سورة حج کی آیت (٥، ٦) میں تفصیل سے بیان ہوا ہے، وہاں اس کی تین حکمتیں بیان ہوئی ہیں اور دیکھیے سورة روم (٥٠) اور سورة یٰسٓ (٣٣، ٣٤) ۔- اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ : اس سے وہ بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ جو مالک زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندگی عطا فرما سکتا ہے، وہ انسانوں کو بھی ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرسکتا ہے، اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں۔ سننے سے مراد انصاف اور غور سے سننا ہے، کیونکہ جو دل سے نہ سنے سمجھو بہرا ہے، جسے سنائی نہیں دیتا، فرمایا : (لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ) [ الأعراف : ١٧٩ ] ” ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں، بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ “

66

وَإِنَّ لَكُمْ فِى ٱلْأَنْعَٰمِ لَعِبْرَةًۭ ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِى بُطُونِهِۦ مِنۢ بَيْنِ فَرْثٍۢ وَدَمٍۢ لَّبَنًا خَالِصًۭا سَآئِغًۭا لِّلشَّٰرِبِينَ

اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے

وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۔۔ :” الْاَنْعَامِ “ لفظاً مفرد ہے، افعال کا وزن یہاں جمع کے لیے نہیں بلکہ یہ اسم جمع ہے، جیسے ” رَھْطٌ“ ، ” قَوْمٌ“ اور ” بَقْرٌ“ وغیرہ۔ یہاں لفظ کی رعایت سے اس کے لیے واحد مذکر کی ضمیر ” بُطُوْنِهٖ “ لائی گئی ہے، سورة مومنون (٢١) میں ” نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا “ جمع کے معنی کی رعایت سے مؤنث کی ضمیر لائی گئی ہے۔ ” الْاَنْعَامِ “ اصل میں اونٹوں کو کہتے ہیں، کیوں وہ بہت بڑی نعمت ہیں، اس کے ساتھ گائے اور بھیڑ بکری کو بھی ” الْاَنْعَامِ “ کہہ لیتے ہیں۔ سورة انعام (١٤٣، ١٤٤) ، میں ان کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ ” لَعِبْرَةً “ میں تنوین تعظیم کی ہے، بہت بڑی عبرت، معنی ہے عبور کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا، ایک چیز سے ایسی نصیحت حاصل کرنا جو دوسری جگہ کام دے۔ ” نُسْقِيْكُمْ “ قرآن میں ” سَقٰی “ اور ” أَسْقٰی “ دونوں لفظ آئے ہیں، اکثر لوگ ان کا ایک ہی معنی کردیتے ہیں، جبکہ ان میں فرق ہے، ” سَقٰی یَسْقِیْ “ پلانا اور ” أَسْقٰی یُسْقِیْ “ پلانے کے لیے دینا، یعنی ہم تمہیں پلانے کے لیے دیتے ہیں، خود پی لو یا کسی کو پلا دو ۔ ” فَرْثٍ “ چوپاؤں کی ہضم شدہ خوراک جب تک اوجھڑی میں رہے، جب باہر نکلے تو اسے ” رَوْثٌ“ کہتے ہیں۔ ” لَّبَنًا خَالِصًا “ گوبر کی بو اور رنگ اور خون کی سرخی دونوں سے خالص، سفید اور لذیذ دودھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کتنی عظیم نشانی ہے، کوئی ہے جو گوبر اور خون میں سے خالص دودھ کشید کرسکے ؟ ” سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ “ ” سَاغَ یَسُوْغُ “ جو آسانی سے حلق میں اتر جائے۔ دودھ ایک مکمل غذا ہے، اس لیے بچے کی مکمل پرورش کے لیے دودھ ہی کافی ہوتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر میرے پاس شراب کا ایک برتن اور دودھ کا ایک برتن اور شہد کا ایک برتن لایا گیا تو میں نے دودھ کو پسند کیا تو جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا، یہ فطرت ہے، آپ بھی اس پر ہیں اور آپ کی امت بھی۔ [ بخاری، الأشربۃ، باب شرب اللبن۔۔ : ٥٦١٠، عن أنس بن مالک (رض) ] رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ الْوَسَاءِدُ وَالدُّھْنُ وَاللَّبَنُ ) [ ترمذی الأدب، باب ما جاء في کراھیۃ رد الطیب : ٢٧٩٠، عن ابن عمر۔۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ٢؍١١٨، ح : ٦١٩ ] ” تین چیزیں رد نہیں کی جاتیں، گاؤ تکیے، تیل (خوشبو) اور دودھ۔ “ - 3 اللہ تعالیٰ نے اپنے اکیلے معبود ہونے اور مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے لیے چوپاؤں میں سے ایک چیز کا ذکر فرمایا۔ دیکھیے وہ گھاس اور چارا جو حیوان کھاتے ہیں، وہ پانی اور مٹی سے پیدا ہوتا ہے۔ مٹی اور پانی کو گھاس اور چارے میں بدلنا، پھر جانور کے پیٹ میں اسے خون سے بدلنا، پھر اسے دودھ میں بدلنا کس قدر باعث عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری طرح قادر ہے کہ تمام چیزوں کو ایک حالت سے دوسری جس حالت میں چاہے بدل دے۔

67

وَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلْأَعْنَٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًۭا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ ۔۔ : ” النَّخِيْلِ “ اور ” اَلنَّخْلُ “ اسم جنس ہیں، کھجور کا درخت۔ اگر ایک درخت واضح کرنا ہو تو ” تاء “ لگا دیتے ہیں، ” نَخِیْلَۃٌ“ اور ” نَخْلَۃٌ“۔ ” نَخَلَ یَنْخُلُ “ کا معنی ہے چھان کر عمدہ حصہ الگ کرنا، چھاننا۔ اس لیے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ چونکہ کھجور پھلوں میں منتخب ترین پھل ہے، اس لیے اسے ” نَخِیْلٌ“ کہتے ہیں۔ اس کے پھل کے مختلف وقتوں کے لحاظ سے الگ الگ نام ہیں، ” اَلْبَلَحُ “ پھر ” اَلْبُسْرُ “ پھر ” اَلرُّطَبُ “ پھر ” اَلتَّمْرُ “۔ اس لیے اس کے درخت کا نام لیا اور انگور کے پھل کا نام جمع کے ساتھ ” وَالْاَعْنَابِ “ لیا، کیونکہ انگور کی بیشمار قسمیں ہیں، البتہ اس کی بیل کو عربی میں ” اَلْکَرْمُ “ کہتے ہیں۔ ” سَكَرًا “ نشہ آور چیز، یہ ” سَکَرٌ“ اور ” سُکْرٌ“ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے، جیسے ” رَشَدٌ“ اور ” رُشْدٌ“- دودھ والے جانوروں کے بعد پھلوں کی نعمت ذکر فرمائی۔ عرب میں یہ دو پھل زیادہ تھے، پھر یہ تازہ بھی کھائے جاتے ہیں اور ذخیرہ بھی ہوسکتے ہیں۔ ان سے بیشمار مصنوعات بھی بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بنائی ہوئی چیزوں کو دو قسمیں قرار دیا، ایک نشہ آور اور ایک رزق حسن۔ اس سے اشارہ فرمایا کہ نشہ بھی اگرچہ فائدے سے خالی نہیں مگر وہ اچھا رزق نہیں۔ یہ آئندہ شراب کی حرمت کی تمہید ہے اور بطور نعمت اس لیے ذکر کیا کہ مکہ میں شراب حلال تھی اور یہ سورت مکی ہے۔- لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ : رزق حسن میں لذت و قوت تو ہے، مگر سکر کی طرح عقل سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا نقصان نہیں، یہ بات عقل والے ہی سمجھتے ہیں۔

68

وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى ٱلنَّحْلِ أَنِ ٱتَّخِذِى مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًۭا وَمِنَ ٱلشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا

وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ : وحی کا اصل معنی تو اشارۂ سریعہ ہے، یعنی خفیہ طریقے سے بات سمجھا دینا، جو دوسرا نہ سمجھے۔ یہاں مراد الہام ہے، یعنی دل میں ڈال دینا۔ شہد کی مکھی اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ ہے، اس لیے عرب زبان میں اس کا نام ہی ” النَّحْلِ “ رکھا گیا، جو ” نَحَلَ یَنْحَلُ “ (ف) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، اس کا معنی عطیہ ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭوَاٰتُوا النِّسَاۗءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ ۭ ) [ النساء : ٤ ] ” اور عورتوں کو ان کے مہر بطور عطیہ (خوش دلی سے) دو ۔ “ اللہ تعالیٰ نے انسان بلکہ ہر مخلوق کی طبیعت اور فطرت میں اس کے فائدے اور نقصان کی پہچان رکھ دی ہے ۔- یہی وہ فطری رہنمائی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة شمس میں فرمایا : (وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا ۝۽فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا) [ الشمس : ٧، ٨ ] ” اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ٹھیک بنایا پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری (کی پہچان) اس کے دل میں ڈال دی۔ “ البتہ انسان اور دوسری مخلوق کا فرق یہ ہے کہ دوسرے سب فطری ہدایت کے پابند رہتے ہیں، مثلاً جانوروں کو دیکھ لیں، جب ان کا پیٹ بھر جائے تو مجال نہیں کہ ایک لقمہ بھی کھائیں۔ گدھا جسے سب سے کند ذہن سمجھا جاتا ہے، اللہ کی فطری ہدایت کے تحت بچے کو بھی سوار کرلیتا ہے اور پانی کا نالہ آنے پر ٹھہر کر اندازہ کرتا ہے، اگر پار کرسکتا ہو تو چھلانگ لگائے گا ورنہ نہیں۔ یہ انسان ہی ہے جو فطرت کی ہدایت کو جب چاہتا ہے عمل میں لاتا ہے، نہیں چاہتا تو عمل میں نہیں لاتا، کئی دفعہ اتنا کھا جاتا ہے کہ بدہضمی یا ہیضے کا شکار ہوجاتا ہے۔- اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا ۔۔ : ” يَعْرِشُوْنَ “ چھپر بنانے سے مراد گھروں کے باہر یا کھیتوں میں بیٹھنے کے لیے سائے والے چھپر بھی ہیں اور بانسوں اور سرکنڈوں وغیرہ کے وہ کھلے چھپر بھی جو انگوروں کی بیلیں چڑھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ” مِنْ “ تینوں جگہ تبعیض کے لیے ہے، یعنی ہر پہاڑ، درخت اور چھپر گھر بنانے کے قابل نہیں، ان میں سے مناسب جگہوں کا انتخاب کرو۔ اس کے بعد کھانے پر کوئی پابندی نہیں، ہر پھل میں سے کھاؤ، یعنی

69

ثُمَّ كُلِى مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسْلُكِى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًۭا ۚ يَخْرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٌۭ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٌۭ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے

” ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ “ یہ امر اباحت کے لیے ہے، وجوب کے لیے نہیں کہ ضرور ہی ہر پھل میں سے کھاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ جو چاہو کھاؤ، جیسے کہتے ہیں حرام چھوڑ کر ہر چیز کھاؤ، یعنی تمہیں اجازت ہے۔ اس حکم کی تعمیل مشاہدے میں بھی آئی ہے کہ مکھیاں پہلے اپنا چھتا بناتی ہیں، پھر خوراک کے لیے نکلتی ہیں۔ - اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی فطرت میں اس کے نفع نقصان کی سمجھ رکھ دی ہے، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى) [ طٰہٰ : ٥٠ ] ” ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔ “ مگر شہد کی مکھی کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا : (وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ ) ” اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی۔ “ اس لیے اہل علم نے اس کے گھر بنانے، اس کے نظام زندگی اور شہد بنانے کے عمل پر بہت تحقیق کرکے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ یہ چھوٹا سا جانور باقاعدہ ایک منظم حکومت کے تحت رہتا ہے۔ پورے چھتے کی ایک ہی ملکہ ہوتی ہے، جس کے حکم اور تقسیم کار کے مطابق تمام مکھیاں عمل کرتی ہیں۔ یہ ملکہ دوسری مکھیوں سے قدو قامت اور وضع قطع میں ممتاز ہوتی ہے۔ مکھیاں اس کے لیے خاص غذا مہیا کرتی ہیں، جسے ” غذاء الملکہ “ کہتے ہیں، جو نہایت مقوی ہوتی ہے۔ یہ ملکہ تین ہفتوں میں چھ ہزار سے بارہ ہزار تک انڈے دیتی ہے۔ اس کے حکم اور فرائض کی تقسیم کے مطابق تمام مکھیاں الگ الگ کام سرانجام دیتی ہیں۔ کچھ دربان ہوتی ہیں جو کسی اجنبی کو اندر نہیں آنے دیتیں، کچھ انڈوں کی حفاظت کرتی ہیں، کچھ نئے نکلنے والے بچوں کی تربیت کرتی ہیں، کچھ موم کے ساتھ چھتا بنانے کے لیے معماری کا کام کرتی ہیں، کچھ وہ ہیں جو انھیں موم پہنچاتی ہیں۔ بعض سپاہی ہوتی ہیں، جن کا کام چھتے کی حفاظت اور دشمن کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے، کچھ پھولوں اور پھلوں سے رس چوستی ہیں جو ان کے پیٹوں کے کارخانے میں شہد بنتا ہے، وہ مکھیوں اور ان کے بچوں کے لیے خوراک اور انسان کے لیے غذا و دوا بنتا ہے، جب کہ موم انسان کی متعدد ضروریات، مثلاً روشنی، علاج وغیرہ کے کام آتا ہے۔ ان کا چھتا بھی قدرت کی کاریگری کا عجیب نمونہ ہے، ہر خانہ مسدس (چھ ضلعوں والا) ہوتا ہے جو مکھی کے جسم کے عین مطابق (گول اور لمبا) ہوتا ہے اور ہر ضلع ایسا برابر کہ پرکار اور مسطر سے بھی کوئی فرق نہیں نکلے گا۔ مسدس بنانے میں یہ حکمت ہے کہ گول یا مربع یا کسی بھی اور شکل کا ہوتا تو یا گھر کے اندر مکھی کے جسم سے زائد جگہ بچ جاتی یا گھروں کے باہر درمیان میں جگہ بچ جاتی۔ یہ مکھیاں صفائی کا نہایت اہتمام رکھتی ہیں، اپنے فضلے کے لیے الگ جگہ مقرر رکھتی ہیں۔ چھتے سے فضلہ ساتھ ہی ساتھ باہر نکالتی رہتی ہیں۔ ہمیشہ صاف پانی پیتی ہیں۔ کوئی گندگی سے آلودہ مکھی آجائے تو دربان اندر نہیں جانے دیتے، بلکہ انھیں مار دیا جاتا ہے۔ بےکار مکھیوں کو بھی قتل کردیا جاتا ہے، اگر کوئی مکھی مرجائے تو فوراً اسے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ گرمی کی شدت سے شہد گرنے کا خطرہ ہو تو پروں سے ہوا دے کر اسے ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ ملکہ مکھی کے علاوہ کوئی اور ملکہ ظاہر ہو تو اسے قتل کردیا جاتا ہے، تاکہ نظام میں خرابی پیدا نہ ہو۔ جیسا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے دعوے دار کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ [ دیکھیے مسلم، الأمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین۔۔ : ٦٠؍١٨٥٢ ] غرض ایک عجیب منظم سلطنت ہے جو انسان کے فائدے کی خاطر مصروف عمل ہے۔ - فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا : ” ذُلُلًا “ ” ذَلُوْلٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی مطیع اور مسخر ہے اور یہ ” اسلکی “ سے حال ہے، یعنی گھر بنانے کے بعد شہد بنانے والی مکھیاں دن کو نکلتی ہیں اور بعض اوقات پھولوں اور پھلوں کی تلاش میں بہت دور نکل جاتی ہیں، پھر پیٹ میں پھلوں کا رس اور پاؤں میں موم کا مادہ لے کر دن …

70

وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّىٰكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرْذَلِ ٱلْعُمُرِ لِكَىْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍۢ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۭ قَدِيرٌۭ

اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ ۔۔ : بارش اور اس کے اثرات، چوپاؤں اور ان سے حاصل ہونے والے دودھ، کھجور اور انگور اور ان سے حاصل ہونے والی اشیاء اور شہد کی مکھی کی عجیب و غریب کارکردگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب خود انسان کے اندر پائے جانے والے دلائل میں سے چند کا بیان فرمایا۔ اس آیت میں انسان کی زندگی کے چار پانچ دور مذکور ہیں۔ سب سے پہلے پیدائش، اس کے ساتھ فوت کرنے کا ذکر فرمایا، باقی ادوار کا بعد میں ذکر فرمایا، کیونکہ پیدائش کے بعد ہر شخص پر ان تمام ادوار کا گزرنا ضروری نہیں۔ وفات کبھی پیٹ ہی میں ہوجاتی ہے، کبھی زندگی کے کسی اور مرحلے میں۔ کچھ لوگ سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، جس میں انسان پھر بالکل بچپن والی حالت کی طرح کمزور ہوجاتا ہے۔ اس کی بےبسی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس کے ہوش و حواس سلب ہوجاتے ہیں اور جو کچھ سیکھا پڑھا تھا، یا زندگی میں گزرا تھا سب بھول جاتا ہے۔ ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔ بچپن اور ارذل العمر کے درمیان کے مرحلے ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ وہ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ بچپن، لڑکپن جوانی، کمال قوت کو پہنچنا، ادھیڑ عمر، بڑھاپا اور آخر میں ارذل العمر۔ اگر اللہ چاہے تو ان میں سے کسی مرحلے کو بھی ارذل العمر میں بدل دے۔ اس آیت کی مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورة روم (٥٤) اور سورة یٰس (٦٨) ۔- ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ : یہاں پیدائش کے بعد وفات کو بھی بطور آیت و نعمت ذکر فرمایا۔ آیت (نشانی) تو مومن و کافر ہر ایک کے لیے ہے، البتہ نعمت صرف مومن کے لیے ہے، خواہ وہ زندگی کے کسی مرحلے میں فوت ہو، کیونکہ نکمی عمر سے اس کے بغیر نجات کی کوئی صورت نہیں اور زندگی کے جس دور میں بھی فوت ہو قید خانے سے نکلنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ ) [ مسلم، الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر : ٢٩٥٦، عن أبي ہریرہ (رض) ] ” دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔ “ پھر موت کے نعمت ہونے میں کیا شک ہے۔- 3 سعد بن ابی وقاص (رض) نے فرمایا : ” ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگا کرو جن کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پناہ مانگا کرتے تھے : ( اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ) [ بخاری، الدعوات، باب الاستعاذۃ من أرذل العمر۔۔ : ٦٣٧٤ ] ” اے اللہ میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ مجھے ارذل العمر (سب سے نکمّی عمر) کی طرف لوٹایا جائے اور میں دنیا کی آزمائشوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “

ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : زندگی کے یہ تمام ادوار اور موت کمال علم و قدرت کے بغیر کوئی پیدا نہیں کرسکتا اور وہ ہستی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ۔- 3 بعض اہل علم نے فرمایا کہ باعمل علماء ارذل العمر سے محفوظ رہتے ہیں، اگر ان کی عمر زیادہ ہو تب بھی ان کی عقل اور حافظہ قائم رہتے ہیں۔ اس کا اشارہ اس آیت کی بعض تفسیروں سے نکلتا ہے : (ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ ۝ ۙاِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) [ التین : ٥، ٦ ] ” پھر ہم نے اسے لوٹا کر نیچوں میں سے سب سے نیچا کردیا، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ “ شنقیطی (رض) اور بہت سے محدثین کا سو سے زیادہ عمر کے باوجود عقل و حافظہ محفوظ رہا۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.