وَلَوْ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَآبَّةٍۢ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ ۔۔ : ” يُؤَاخِذُ “ یہاں ” یَأْخُذُ “ کے معنی میں ہے، باب مفاعلہ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس میں پوچھ گچھ کا مفہوم بھی واضح ہوتا ہے۔ ظلم سے مراد کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھنا ہے، سب سے بڑا ظلم شرک ہے، پھر اللہ کی کسی حد سے تجاوز کرنا اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنا ظلم کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہی بات سورة فاطر کی آخری آیت میں بیان فرمائی ہے۔ - ” النَّاسَ “ سے مراد یا تو کافر و مشرک ہیں، یا سارے ہی انسان مراد ہیں، خواہ کتنے نیک ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اور اس کے احکام کی پوری ادائیگی کوئی بھی نہ کرسکا ہے نہ کرسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭكَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ) [ عبس : ٢٣ ] ” ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔ “ یہ اللہ کا کرم ہے کہ دنیا میں نیک و بد سب کو ایک وقت تک مہلت ملی ہوئی ہے۔ لیکن اگر کبھی دنیا میں اللہ کی گرفت آجائے تو سب نیک و بد، حتیٰ کہ چرند پرند وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے، پھر قیامت کے دن ہر ایک سے اس کے اپنے ایمان اور نیت و عمل کے مطابق معاملہ ہوگا۔ اس مفہوم کی حدیث کے لیے دیکھیے صحیح بخاری کی ” کِتَابُ الْبُیُوْعِ ، بَابُ مَا ذُکِرَ فِی الْأَسْوَاقِ (٢١١٨) “ میں اس لشکر کا ذکر جو کعبہ پر حملہ کے لیے آئے گا۔