Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 61–70 of 128

61

وَلَوْ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَآبَّةٍۢ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں

ظلم پر گرفت کی ایک شکل یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص ظلم کرے فوراً اس کو پکڑ کر سخت سزا دی جائے۔ مگر خدا کا یہ طریقہ نہیں۔ اگر خدا ایسا کرے تو زمین پر کوئی چلنے والا باقی نہ رہے۔ خدا نے ہر شخص اور ہر قوم کو ایک مقرر مہلت دی ہے۔ اس مدت تک وہ ہر ایک کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز سے یا خارجی تنبیہات سے چوکنا ہو اور اپنی اصلاح کرلے۔ اصلاح کرتے ہی لوگوں کے پچھلے تمام جرائم معاف کردیے جاتے ہیں۔ وہ ایسے ہو جاتے ہیں کہ جیسے انھوں نے ابھی نئی زندگی شروع کی ہو۔

دورانِ مہلت نہ پکڑنا جس طرح خدا نے اپنے اوپر لازم کیا ہے اسی طرح اس نے یہ بھی اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ ختم مہلت کے بعد وہ لوگوں کو ضرور پکڑے۔ مہلت ختم ہونے کے بعد کسی کو مزید موقع نہیں دیا جاتا، نہ فرد کو نہ قوم کو۔

62

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ ٱلْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلْحُسْنَىٰ ۖ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفْرَطُونَ

اور یہ خدا کے لیے ایسی چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے

انسانی گمراہیوں کی بہت بڑی وجہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرنا ہے۔ اکثر غلط عقائد اسی لیے بنے کہ خدا کو اس سے کم سمجھ لیاگیا جیسا کہ وہ حقیقۃً ہے۔ حتی کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جو چیزیں کمتر سمجھ کر وہ خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے (مثلاً بیٹیاں یااپنی مِلک میں کسی اجنبی کی شرکت)، اس کو بھی وہ خداکے لیے ثابت کرنے لگتے ہیں۔

خدا کے اسی کمتر اندازہ کا نتیجہ ہے کہ لوگ خدا پر عقیدہ رکھتے ہوئے خدا سے بے خوف رہتے ہیں۔ وہ نہایت معمولی معمولی چیزوں کے بارے میں یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ وہ ان کو خدا کی قربت دے دیں گی۔ اور آخرت کی تمام نعمتیں ان کے حصے میں لکھ دی جائیں گی۔ جو چیز ایک عام انسان کو بھی خوش نہیں کرسکتی اس کے متعلق یہ عقیدہ بنالیا جاتا ہے کہ وہ خداکو خوش کردے گی۔ اس قسم کی کوئی حرکت غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے جس کو خدا کبھی معاف نہیں کرسکتا۔

63

تَٱللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے عذاب الیم ہے

رسول کی دعوت جب اٹھتی ہے تو سننے والے محسوس کرتے ہیں کہ یہ ان کے رواجی مذہب سے ٹکرا رہی ہے۔ اب چونکہ وہ اس رواجی مذہب سے مانوس ہوتے ہیں اور اس سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس سے لپٹے رہیں۔ اس وقت شیطان انھیں ایسے خوب صورت الفاظ سجھا دیتا ہے جس سے وہ پیغمبر کے دین کوچھوڑنے اور رواجی دین پر قائم رہنے کو درست ثابت کرسکیں۔

آدمی اگر رسول کی بات کو سیدھی طرح مان لے تو یہ خدا کو اپنا ساتھی بنانا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ خوب صورت تاویلات کا سہارا لے تو یہ شیطان کو اپنا ساتھی بنانا ہوگا۔

پیغمبر آخر الزمان کو بھیج کر خدا نے یہ انتظام کیا تھا کہ لوگ مذہبی اختلافات کے جنگل کے درمیان خدا کے سچے راستے کو معلوم کرسکیں۔ یہی صورت حال آج بھی باقی ہے۔ ایک شخص خدا کے راستے کی تلاش میں ہو اور وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کرے تو وہ یقیناً ذہنی انتشار میں پڑ جائے گا۔ کیوں کہ مذاہب کی جو تعلیمات آج موجود ہیں ان میں باہم سخت اختلافات ہیں۔ چنانچہ حق کے متلاشی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس چیز کو صحیح سمجھے اور کس چیز کو غلط۔

ایسی حالت میں پیغمبر آخر الزماں کا لایا ہوا دین خدا کے بندوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ دوسرے ادیان کے برعکس، آپ کا دین ایک محفوظ دین ہے۔ وہ تاریخی اعتبار سے پوری طرح مستند ہے۔ اس بنا پر پورا اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے جو دین چھوڑا وہی وہ حقیقی دین ہے جو خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔

64

وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِى ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۙ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لیے جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تم اس کا فیصلہ کردو۔ اور (یہ) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

رسول کی دعوت جب اٹھتی ہے تو سننے والے محسوس کرتے ہیں کہ یہ ان کے رواجی مذہب سے ٹکرا رہی ہے۔ اب چونکہ وہ اس رواجی مذہب سے مانوس ہوتے ہیں اور اس سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس سے لپٹے رہیں۔ اس وقت شیطان انھیں ایسے خوب صورت الفاظ سجھا دیتا ہے جس سے وہ پیغمبر کے دین کوچھوڑنے اور رواجی دین پر قائم رہنے کو درست ثابت کرسکیں۔

آدمی اگر رسول کی بات کو سیدھی طرح مان لے تو یہ خدا کو اپنا ساتھی بنانا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ خوب صورت تاویلات کا سہارا لے تو یہ شیطان کو اپنا ساتھی بنانا ہوگا۔

پیغمبر آخر الزمان کو بھیج کر خدا نے یہ انتظام کیا تھا کہ لوگ مذہبی اختلافات کے جنگل کے درمیان خدا کے سچے راستے کو معلوم کرسکیں۔ یہی صورت حال آج بھی باقی ہے۔ ایک شخص خدا کے راستے کی تلاش میں ہو اور وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کرے تو وہ یقیناً ذہنی انتشار میں پڑ جائے گا۔ کیوں کہ مذاہب کی جو تعلیمات آج موجود ہیں ان میں باہم سخت اختلافات ہیں۔ چنانچہ حق کے متلاشی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس چیز کو صحیح سمجھے اور کس چیز کو غلط۔

ایسی حالت میں پیغمبر آخر الزماں کا لایا ہوا دین خدا کے بندوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ دوسرے ادیان کے برعکس، آپ کا دین ایک محفوظ دین ہے۔ وہ تاریخی اعتبار سے پوری طرح مستند ہے۔ اس بنا پر پورا اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے جو دین چھوڑا وہی وہ حقیقی دین ہے جو خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔

65

وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَسْمَعُونَ

اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بےشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانی ہے

بارش اور نباتات کا نظام اپنے اندر بہت بڑا سبق رکھتا ہے۔ مختلف عوامل کی متحدہ کارفرمائی سے پانی کے قطرے فضا میں جاکر دوبارہ زمین پر بارش کی صورت میں برستے ہیں۔ پھر یہ بارش حیرت انگیز طورپر زمین پر سبزہ اگانے کا سبب بنتی ہے۔

اس واقعہ میں ایک طرف یہ سبق ہے کہ اس کائنات میں چاروں طرف ایک خدا کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی خداؤں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کی مختلف طاقتیں اس طرح ہم آہنگ ہو کر مشترکہ عمل نہیں کرسکتی تھیں۔ کائنات کے نظام کی وحدانیت واضح طورپر اس کاثبوت ہے کہ اس کا خالق و مالک صرف ایک ہے، نہ کہ ایک سے زیادہ۔دوسرا سبق یہ ہے کہ خدا کی قدرت اتنی عظیم ہے کہ وہ مردہ جسم میں زندگی پیدا کرسکتی ہے۔ وہ سوکھی ہوئی چیزوں میں ہریالی، رنگ، خوشبو اور مزہ کا باغ اگا سکتی ہے۔

پہلے واقعہ میں توحید کا ثبوت ہے، اور دوسرا واقعہ تمثیل کے روپ میں بتا رہا ہے کہ اسی طرح انسانی روحوں کے لیے بھی ایک خدائی بارش ہے، اور وہ وحی ہے۔ جو شخص اپنی مردہ اور سوکھی ہوئی روح کو نئی زندگی دینا چاهے، اسے اپنے آپ کو وحی خداوندی کی بارش میں نہلانا چاہیے۔

66

وَإِنَّ لَكُمْ فِى ٱلْأَنْعَٰمِ لَعِبْرَةًۭ ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِى بُطُونِهِۦ مِنۢ بَيْنِ فَرْثٍۢ وَدَمٍۢ لَّبَنًا خَالِصًۭا سَآئِغًۭا لِّلشَّٰرِبِينَ

اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے

دودھ دینے والے جانوروں میں یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں وہ ایک طرف ان کے اندر گوبر اور خون بناتا ہے، دوسری طرف اسی کے درمیان سے دودھ جیسا قیمتی سیال بھی بن کر نکلتاہے جو انسان کے لیے بے حد قیمتی غذا ہے۔ یہی حال درختوں کا ہے۔ ان کے اندر مٹی اور پانی جیسی چیزیں داخل ہوتی ہیں اور پھر ان کے اندرونی نظام کے تحت وہ رس دار پھل کی صورت میں شاخوں میں لٹک پڑتی ہیں۔

یہ واقعات اس لیے ہیں کہ وہ لوگوں کو خدا کی یاد دلائیں۔ آدمی اس میں خدا کی قدرت کی جھلکیاں دیکھنے لگے، حتی کہ اس کا یہ احساس اتنا بڑھے کہ وہ پکار اٹھے کہ خدایا تو جو گوبر اور خون کے درمیان سے دودھ جیسی چیز نکالتا ہے، میرے ناموافق حالات کے اندر سے موافق نتائج ظاہر کردے۔ تو جو مٹی اور پانی کو پھل میں تبدیل کردیتاہے، میری بے قیمت زندگی کو باقیمت زندگی بنا دے۔

’’تم ان سے نشہ کی چیز بھی بناتے ہو اور رزقِ حسن بھی‘‘۔ ا س میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں خدا نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کا صحیح استعمال بھی ہے اور ان کا غلط استعمال بھی۔ کھجور اور انگور کو ا س کی قدرتی صورت میں کھایا جائے تو وہ صحت بخش غذا ہے جس سے جسم اور عقل کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر انسانی عمل سے اس کو نشہ میں تبدیل کردیا جائے تو وہ جسم کو بھی نقصان پہنچاتی ہے اور عقل کو بھی بگاڑدینے والی ہے۔

67

وَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلْأَعْنَٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًۭا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

دودھ دینے والے جانوروں میں یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں وہ ایک طرف ان کے اندر گوبر اور خون بناتا ہے، دوسری طرف اسی کے درمیان سے دودھ جیسا قیمتی سیال بھی بن کر نکلتاہے جو انسان کے لیے بے حد قیمتی غذا ہے۔ یہی حال درختوں کا ہے۔ ان کے اندر مٹی اور پانی جیسی چیزیں داخل ہوتی ہیں اور پھر ان کے اندرونی نظام کے تحت وہ رس دار پھل کی صورت میں شاخوں میں لٹک پڑتی ہیں۔

یہ واقعات اس لیے ہیں کہ وہ لوگوں کو خدا کی یاد دلائیں۔ آدمی اس میں خدا کی قدرت کی جھلکیاں دیکھنے لگے، حتی کہ اس کا یہ احساس اتنا بڑھے کہ وہ پکار اٹھے کہ خدایا تو جو گوبر اور خون کے درمیان سے دودھ جیسی چیز نکالتا ہے، میرے ناموافق حالات کے اندر سے موافق نتائج ظاہر کردے۔ تو جو مٹی اور پانی کو پھل میں تبدیل کردیتاہے، میری بے قیمت زندگی کو باقیمت زندگی بنا دے۔

’’تم ان سے نشہ کی چیز بھی بناتے ہو اور رزقِ حسن بھی‘‘۔ ا س میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں خدا نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کا صحیح استعمال بھی ہے اور ان کا غلط استعمال بھی۔ کھجور اور انگور کو ا س کی قدرتی صورت میں کھایا جائے تو وہ صحت بخش غذا ہے جس سے جسم اور عقل کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر انسانی عمل سے اس کو نشہ میں تبدیل کردیا جائے تو وہ جسم کو بھی نقصان پہنچاتی ہے اور عقل کو بھی بگاڑدینے والی ہے۔

68

وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى ٱلنَّحْلِ أَنِ ٱتَّخِذِى مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًۭا وَمِنَ ٱلشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا

یہاں ایک مادی مثال کی صورت میں معنوی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔شہد کی مکھی خدا کی قدرت کا ایک حیرت ناک شاہکار ہے۔ وہ ریاضیاتی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے انتہائی معیاری قسم کا چھتہ (honeycomb) بناتی ہے۔ پھر خاص منصوبہ بند انداز میں پھولوں کا رس (nectar)چوس کر لاتی ہے۔ اس کو ایک کامل ترین نظام کے تحت چھتوں میں اکٹھا کرتی ہے۔ پھر عین قوانین صحت کے مطابق شہد جیسی قیمتی چیز تیار کرتی ہے، جو انسان کے لیے غذا بھی ہے اور علاج بھی۔یہ سب کچھ اتنے عجیب اور اتنے منظم انداز میں ہوتا ہے کہ اس پر موٹی موٹی کتابیں لکھی گئی ہیں، پھر بھی اس کا بیان مکمل نہیں ہوا۔شہد کی یہ خدائی فیکٹری تمام انسانی کارخانوں سے زیادہ پیچیدہ اور زیادہ کامیاب ہے۔ تاہم بظاہر وہ ایسی مکھیوں کے ذریعہ چلایا جارہا ہے جنھوں نے کہیں اس فن کی تعلیم نہیں پائی۔ حتیٰ کہ ان کو اپنے اعمال کا ذاتی شعور بھی حاصل نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کروانے والا ہے جو اپنی مخفی ہدایات کے ذریعہ مکھیوں سے یہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اگر کوئی دیکھنے والا دیکھے تو وہ ان کی حیران کن حد تک بامعنی سرگرمیوں میں خدا کی کارفرمائی کا زندہ مشاہدہ کرنے لگے گا۔شہد کی مکھی کی مثال دینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس پراسس میں شہد کی مکھی دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کرکے پھولوں کے پاس پہنچ کر صرف اس کا نکٹر لیتی ہے، کسی اور چیز میں ڈسٹریکٹ نہیں ہوتی۔ یہی تدبر ہے۔ یہ دنیا ایک جنگل کی مانند ہے، مگر اس میں ہر جگہ حکمت و معرفت کے نِکٹر چھپے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ انسان کو عقل و تدبر کی صلاحیت ملی ہوئی ہے، جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔انسان کو چاہیے کہ وہ کائنات میں غور وفکر کے ذریعہ حکمت و معرفت کا نکٹر حاصل کرے ۔ جو طریقہ شہد کی مکھی کے لیے ’’رس‘‘ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، وہی انسان کی سطح پر پہنچ کر ’’معرفت‘‘ کا ذریعہ بن جاتا ہے، جس میں انسان کی روح کی غذا بھی ہے اور اس کی اخلاقی بیماریوں کا علاج بھی ۔

69

ثُمَّ كُلِى مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسْلُكِى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًۭا ۚ يَخْرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٌۭ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٌۭ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ

اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے

یہاں ایک مادی مثال کی صورت میں معنوی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔شہد کی مکھی خدا کی قدرت کا ایک حیرت ناک شاہکار ہے۔ وہ ریاضیاتی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے انتہائی معیاری قسم کا چھتہ (honeycomb) بناتی ہے۔ پھر خاص منصوبہ بند انداز میں پھولوں کا رس (nectar)چوس کر لاتی ہے۔ اس کو ایک کامل ترین نظام کے تحت چھتوں میں اکٹھا کرتی ہے۔ پھر عین قوانین صحت کے مطابق شہد جیسی قیمتی چیز تیار کرتی ہے، جو انسان کے لیے غذا بھی ہے اور علاج بھی۔یہ سب کچھ اتنے عجیب اور اتنے منظم انداز میں ہوتا ہے کہ اس پر موٹی موٹی کتابیں لکھی گئی ہیں، پھر بھی اس کا بیان مکمل نہیں ہوا۔شہد کی یہ خدائی فیکٹری تمام انسانی کارخانوں سے زیادہ پیچیدہ اور زیادہ کامیاب ہے۔ تاہم بظاہر وہ ایسی مکھیوں کے ذریعہ چلایا جارہا ہے جنھوں نے کہیں اس فن کی تعلیم نہیں پائی۔ حتیٰ کہ ان کو اپنے اعمال کا ذاتی شعور بھی حاصل نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کروانے والا ہے جو اپنی مخفی ہدایات کے ذریعہ مکھیوں سے یہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اگر کوئی دیکھنے والا دیکھے تو وہ ان کی حیران کن حد تک بامعنی سرگرمیوں میں خدا کی کارفرمائی کا زندہ مشاہدہ کرنے لگے گا۔شہد کی مکھی کی مثال دینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس پراسس میں شہد کی مکھی دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کرکے پھولوں کے پاس پہنچ کر صرف اس کا نکٹر لیتی ہے، کسی اور چیز میں ڈسٹریکٹ نہیں ہوتی۔ یہی تدبر ہے۔ یہ دنیا ایک جنگل کی مانند ہے، مگر اس میں ہر جگہ حکمت و معرفت کے نِکٹر چھپے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ انسان کو عقل و تدبر کی صلاحیت ملی ہوئی ہے، جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔انسان کو چاہیے کہ وہ کائنات میں غور وفکر کے ذریعہ حکمت و معرفت کا نکٹر حاصل کرے ۔ جو طریقہ شہد کی مکھی کے لیے ’’رس‘‘ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، وہی انسان کی سطح پر پہنچ کر ’’معرفت‘‘ کا ذریعہ بن جاتا ہے، جس میں انسان کی روح کی غذا بھی ہے اور اس کی اخلاقی بیماریوں کا علاج بھی ۔

70

وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّىٰكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرْذَلِ ٱلْعُمُرِ لِكَىْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍۢ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۭ قَدِيرٌۭ

اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

زندگی کا مظہر جو زمین پر ہے اس کے کئی پہلو انسان کے سامنے آتے ہیں— ایک شخص نہیں تھا اس کے بعد وہ دنیا میں موجود ہوگیا،پھر ہر ایک مرتا ہے مگر سب کا ایک وقت نہیں۔ کوئی بچپن میں مرتا ہے، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں۔ پھر یہ منظر بھی عجیب ہے کہ عمر کی آخری حد پر پہنچ کر عقل اور علم اور طاقت آدمی سے بالکل رخصت ہوجاتے ہیں۔ انسان موجودہ زمین پر بظاہر آزاد ہے مگر اس کو اپنی کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں۔

یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ تاکہ انسان کو بتایا جائے کہ علم اور قدرت دونوں صرف خدا کا حصہ ہیں۔ انسانی زندگی میں مذکورہ قسم کے جو واقعات پیش آتے ہیں ان میں انسان کا اپنا کوئی دخل نہیں۔ وہ ان میں کوئی تبدیلی کرنے پر قادر نہیں۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ جو کچھ ہور ہا ہے وہ کسی اور کرنے والے کے ذریعے ہورہا ہے۔ بچپن سے موت تک انسان کی زندگی یہ گواہی دیتی ہے کہ یہاں سارا علم بھی صرف خدا کے لیے ہے اور ساری قدرت بھی صرف خدا کے لیے— انسان کی مجبوری قادر مطلق خدا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.