Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 51–60 of 128

51

۞ وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ إِلَٰهَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ فَإِيَّٰىَ فَٱرْهَبُونِ

اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے۔ تو مجھ ہی سے ڈرتے رہو

پیغمبروں کے ذریعہ خدا نے انسان کو اس سے ڈرایا ہے کہ وہ ایک معبود کے سوا دوسرے معبود اپنے لیے بنائے۔ اس کائنات کا معبود صرف ایک ہے۔ اسی سے آدمی کو ڈرنا چاہیے۔ اس کو صرف اسی کی تابع داری کرنا چاہیے۔

اگر آدمی کو اس بات کا صحیح ادراک ہوجائے کہ خدا ہی انسان کا اور تمام موجودات کا خالق ومالک ہے۔ اسی پر اس کی زندگی کا سارا دارومدار ہے تو اس ادراک کے لازمی نتیجہ کے طورپر جو کیفیت آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے اسی کا نام تقویٰ ہے۔

زمین وآسمان میں خدا ہی کی دائمی اطاعت ہے۔ یہاں ہر چیز مکمل طورپر قانونِ خداوندی میں جکڑی ہوئی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں کسی اور کی عبادت کرنا یا کسی اور سے امید قائم کرنا بالکل بے بنیاد ہے۔ موجودہ کائنات ایسے شرک کو قبول کرنے سے سراسر انکار کرتی ہے۔

52

وَلَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو

پیغمبروں کے ذریعہ خدا نے انسان کو اس سے ڈرایا ہے کہ وہ ایک معبود کے سوا دوسرے معبود اپنے لیے بنائے۔ اس کائنات کا معبود صرف ایک ہے۔ اسی سے آدمی کو ڈرنا چاہیے۔ اس کو صرف اسی کی تابع داری کرنا چاہیے۔

اگر آدمی کو اس بات کا صحیح ادراک ہوجائے کہ خدا ہی انسان کا اور تمام موجودات کا خالق ومالک ہے۔ اسی پر اس کی زندگی کا سارا دارومدار ہے تو اس ادراک کے لازمی نتیجہ کے طورپر جو کیفیت آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے اسی کا نام تقویٰ ہے۔

زمین وآسمان میں خدا ہی کی دائمی اطاعت ہے۔ یہاں ہر چیز مکمل طورپر قانونِ خداوندی میں جکڑی ہوئی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں کسی اور کی عبادت کرنا یا کسی اور سے امید قائم کرنا بالکل بے بنیاد ہے۔ موجودہ کائنات ایسے شرک کو قبول کرنے سے سراسر انکار کرتی ہے۔

53

وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَٔرُونَ

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو

پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ آدمی جب کسی ایسی مصیبت میں پڑتا ہے جہاں وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے تو اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ منکر اور مشرک دونوں ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ خدا کا تصور انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ جب تمام دوسرے علائق کٹ جاتے ہیں تو آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ صرف خدا ہے۔

مگر یہ انسان کی عجیب غفلت ہے کہ جب وہ مصیبت سے نجات پاتاہے تو دوبارہ اپنے فرضی خداؤں کی یاد میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ ملی ہوئی نعمت کو خدا کے بجائے دوسری دوسری چیزوں کی طرف منسوب کردیتاہے۔ اس کو وہ عظیم سبق یاد نہیں رہتا جو خود اس کی فطرت نے چند لمحہ پہلے اس کو دیا تھا۔

شیطان نے فرضی معبودوں كي معبودیت کے عقیدے کو پختہ کرنے کے لیے طرح طرح کی جھوٹی رسمیں عوام میں رائج کررکھی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے— اپنی آمدنی میں فرضی معبودوں کا حصہ نکالنا۔ اس قسم کی رسمیں خدا کی دنیا میں ایک بہتان کی حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز کے لیے غیر خدا کا شکر ادا کرنے کے ہم معنی ہیں۔

54

ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ

پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں

پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ آدمی جب کسی ایسی مصیبت میں پڑتا ہے جہاں وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے تو اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ منکر اور مشرک دونوں ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ خدا کا تصور انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ جب تمام دوسرے علائق کٹ جاتے ہیں تو آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ صرف خدا ہے۔

مگر یہ انسان کی عجیب غفلت ہے کہ جب وہ مصیبت سے نجات پاتاہے تو دوبارہ اپنے فرضی خداؤں کی یاد میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ ملی ہوئی نعمت کو خدا کے بجائے دوسری دوسری چیزوں کی طرف منسوب کردیتاہے۔ اس کو وہ عظیم سبق یاد نہیں رہتا جو خود اس کی فطرت نے چند لمحہ پہلے اس کو دیا تھا۔

شیطان نے فرضی معبودوں كي معبودیت کے عقیدے کو پختہ کرنے کے لیے طرح طرح کی جھوٹی رسمیں عوام میں رائج کررکھی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے— اپنی آمدنی میں فرضی معبودوں کا حصہ نکالنا۔ اس قسم کی رسمیں خدا کی دنیا میں ایک بہتان کی حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز کے لیے غیر خدا کا شکر ادا کرنے کے ہم معنی ہیں۔

55

لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَٰهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا۟ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو۔ عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا

پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ آدمی جب کسی ایسی مصیبت میں پڑتا ہے جہاں وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے تو اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ منکر اور مشرک دونوں ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ خدا کا تصور انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ جب تمام دوسرے علائق کٹ جاتے ہیں تو آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ صرف خدا ہے۔

مگر یہ انسان کی عجیب غفلت ہے کہ جب وہ مصیبت سے نجات پاتاہے تو دوبارہ اپنے فرضی خداؤں کی یاد میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ ملی ہوئی نعمت کو خدا کے بجائے دوسری دوسری چیزوں کی طرف منسوب کردیتاہے۔ اس کو وہ عظیم سبق یاد نہیں رہتا جو خود اس کی فطرت نے چند لمحہ پہلے اس کو دیا تھا۔

شیطان نے فرضی معبودوں كي معبودیت کے عقیدے کو پختہ کرنے کے لیے طرح طرح کی جھوٹی رسمیں عوام میں رائج کررکھی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے— اپنی آمدنی میں فرضی معبودوں کا حصہ نکالنا۔ اس قسم کی رسمیں خدا کی دنیا میں ایک بہتان کی حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز کے لیے غیر خدا کا شکر ادا کرنے کے ہم معنی ہیں۔

56

وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًۭا مِّمَّا رَزَقْنَٰهُمْ ۗ تَٱللَّهِ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ

اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کافرو) خدا کی قسم کہ جو تم افتراء کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی

پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ آدمی جب کسی ایسی مصیبت میں پڑتا ہے جہاں وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے تو اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ منکر اور مشرک دونوں ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ خدا کا تصور انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ جب تمام دوسرے علائق کٹ جاتے ہیں تو آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ صرف خدا ہے۔

مگر یہ انسان کی عجیب غفلت ہے کہ جب وہ مصیبت سے نجات پاتاہے تو دوبارہ اپنے فرضی خداؤں کی یاد میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ ملی ہوئی نعمت کو خدا کے بجائے دوسری دوسری چیزوں کی طرف منسوب کردیتاہے۔ اس کو وہ عظیم سبق یاد نہیں رہتا جو خود اس کی فطرت نے چند لمحہ پہلے اس کو دیا تھا۔

شیطان نے فرضی معبودوں كي معبودیت کے عقیدے کو پختہ کرنے کے لیے طرح طرح کی جھوٹی رسمیں عوام میں رائج کررکھی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے— اپنی آمدنی میں فرضی معبودوں کا حصہ نکالنا۔ اس قسم کی رسمیں خدا کی دنیا میں ایک بہتان کی حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز کے لیے غیر خدا کا شکر ادا کرنے کے ہم معنی ہیں۔

57

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ ٱلْبَنَٰتِ سُبْحَٰنَهُۥ ۙ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ

اور یہ لوگ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ (اور) وہ ان سے پاک ہے اور اپنے لیے (بیٹے) جو مرغوب ودلپسند ہیں

ایک خداکے سوا انسان نے دوسرے جو معبود بنائے ہیں ان میں دیوتا بھی ہیں اور دیویاں بھی۔ یہاں دیویوں کے عقیدے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے ایک عام مثال دی گئی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت چونکہ کمزور ہوتی ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں وہ اثاثہ سے زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے عام طورپر لوگ لڑکے کی پیدائش پر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔اور لڑکی کی پیدائش پر کم۔ اب جب کہ لڑکے اور لڑکی میں یہ فرق ہے تو خدا اگر اپنے لیے اولاد پیدا کرتا تو وہ لڑکیاں کیوں پیدا کرتا۔

انسان کس لیے اولاد چاہتا ہے۔ اس لیے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی کمی کو پورا کرسکے۔مگر خدا اس طرح کی کمیوں سے بلند ہے۔ خدا کی عظمت وقدرت جو اس کی کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ خدا اس سے بلند وبرتر ہے کہ اس کے اندر ایسی کوئی کمی ہو جس کی تلافی کے لیے وہ اپنے یہاں لڑکا اور لڑکی پیدا کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اگر کمیوں والا ہوتاتو وہ خدا ہی نہ ہوتا۔ خدا اسی لیے خدا ہے کہ وہ ہر قسم کی تمام کمیوں سے پاک ہے۔

58

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُۥ مُسْوَدًّۭا وَهُوَ كَظِيمٌۭ

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے

ایک خداکے سوا انسان نے دوسرے جو معبود بنائے ہیں ان میں دیوتا بھی ہیں اور دیویاں بھی۔ یہاں دیویوں کے عقیدے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے ایک عام مثال دی گئی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت چونکہ کمزور ہوتی ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں وہ اثاثہ سے زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے عام طورپر لوگ لڑکے کی پیدائش پر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔اور لڑکی کی پیدائش پر کم۔ اب جب کہ لڑکے اور لڑکی میں یہ فرق ہے تو خدا اگر اپنے لیے اولاد پیدا کرتا تو وہ لڑکیاں کیوں پیدا کرتا۔

انسان کس لیے اولاد چاہتا ہے۔ اس لیے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی کمی کو پورا کرسکے۔مگر خدا اس طرح کی کمیوں سے بلند ہے۔ خدا کی عظمت وقدرت جو اس کی کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ خدا اس سے بلند وبرتر ہے کہ اس کے اندر ایسی کوئی کمی ہو جس کی تلافی کے لیے وہ اپنے یہاں لڑکا اور لڑکی پیدا کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اگر کمیوں والا ہوتاتو وہ خدا ہی نہ ہوتا۔ خدا اسی لیے خدا ہے کہ وہ ہر قسم کی تمام کمیوں سے پاک ہے۔

59

يَتَوَٰرَىٰ مِنَ ٱلْقَوْمِ مِن سُوٓءِ مَا بُشِّرَ بِهِۦٓ ۚ أَيُمْسِكُهُۥ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُۥ فِى ٱلتُّرَابِ ۗ أَلَا سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ

اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے

ایک خداکے سوا انسان نے دوسرے جو معبود بنائے ہیں ان میں دیوتا بھی ہیں اور دیویاں بھی۔ یہاں دیویوں کے عقیدے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے ایک عام مثال دی گئی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت چونکہ کمزور ہوتی ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں وہ اثاثہ سے زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے عام طورپر لوگ لڑکے کی پیدائش پر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔اور لڑکی کی پیدائش پر کم۔ اب جب کہ لڑکے اور لڑکی میں یہ فرق ہے تو خدا اگر اپنے لیے اولاد پیدا کرتا تو وہ لڑکیاں کیوں پیدا کرتا۔

انسان کس لیے اولاد چاہتا ہے۔ اس لیے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی کمی کو پورا کرسکے۔مگر خدا اس طرح کی کمیوں سے بلند ہے۔ خدا کی عظمت وقدرت جو اس کی کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ خدا اس سے بلند وبرتر ہے کہ اس کے اندر ایسی کوئی کمی ہو جس کی تلافی کے لیے وہ اپنے یہاں لڑکا اور لڑکی پیدا کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اگر کمیوں والا ہوتاتو وہ خدا ہی نہ ہوتا۔ خدا اسی لیے خدا ہے کہ وہ ہر قسم کی تمام کمیوں سے پاک ہے۔

60

لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے

ایک خداکے سوا انسان نے دوسرے جو معبود بنائے ہیں ان میں دیوتا بھی ہیں اور دیویاں بھی۔ یہاں دیویوں کے عقیدے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے ایک عام مثال دی گئی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت چونکہ کمزور ہوتی ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں وہ اثاثہ سے زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے عام طورپر لوگ لڑکے کی پیدائش پر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔اور لڑکی کی پیدائش پر کم۔ اب جب کہ لڑکے اور لڑکی میں یہ فرق ہے تو خدا اگر اپنے لیے اولاد پیدا کرتا تو وہ لڑکیاں کیوں پیدا کرتا۔

انسان کس لیے اولاد چاہتا ہے۔ اس لیے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی کمی کو پورا کرسکے۔مگر خدا اس طرح کی کمیوں سے بلند ہے۔ خدا کی عظمت وقدرت جو اس کی کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ خدا اس سے بلند وبرتر ہے کہ اس کے اندر ایسی کوئی کمی ہو جس کی تلافی کے لیے وہ اپنے یہاں لڑکا اور لڑکی پیدا کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اگر کمیوں والا ہوتاتو وہ خدا ہی نہ ہوتا۔ خدا اسی لیے خدا ہے کہ وہ ہر قسم کی تمام کمیوں سے پاک ہے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.