Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 51–60 of 128

51

۞ وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ إِلَٰهَيْنِ ٱثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ فَإِيَّٰىَ فَٱرْهَبُونِ

اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے۔ تو مجھ ہی سے ڈرتے رہو

[٥٠] دو خداؤں کا عقیدہ رکھنے والے مجوسی مذہب کا تعارف :۔ عہد نبوی میں ایران میں مجوسی مذہب رائج تھا یہ لوگ سورج پرست اور آتش پرست تھے۔ اپنے آپ کو سیدنا نوح کا پیرو کار بتاتے اور باقی سب نبیوں کے دشمن تھے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق خدا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک خیر اور نور کا خدا جسے وہ یزدان کہتے تھے، دوسرا بدی اور تاریکی کا خدا جسے وہ اہرمن کہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی الہامی کتابوں کا نام زند اور اوستا بتاتے تھے اور اہل عرب ان سے متعارف تھے۔ انھیں لوگوں کے عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دو الٰہ بنانا چھوڑ دو کیونکہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے اور دو خدا آپس میں برابر کی چوٹ ہوتے تو یقیناً ان میں کائنات میں تصرف کے سلسلہ میں جھگڑا ہوجاتا۔ پھر ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ اس طرح یہ نظام کائنات کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ جب تمہیں تجربہ سے معلوم ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ نہ ہی کسی مملکت کے دو حکمران ہوسکتے ہیں۔ پھر اس کائنات میں دو خداؤں کی خدائی کا تصور کیسے درست سمجھا جاسکتا ہے۔

52

وَلَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو

Explained together with ayah 51

53

وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَٔرُونَ

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو

[٥١] صرف اللہ تعالیٰ کے حاجت روا اور مشکل کشا ہونے کی یہ صریح شہادت تمہارے اپنے اندر موجود ہے۔ سخت مصیبت کے وقت جب ہر قسم کے سہارے ٹوٹتے نظر آتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے تمہاری اصل فطرت ابھر آتی ہے تو تم خالصتاً اللہ ہی کو پکارتے اور اسی کے سامنے فریاد کرنے لگتے ہو۔ کیونکہ انسان کی اصل فطرت اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو مالک ذی اختیار نہیں جانتی۔

54

ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ

پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں

Explained together with ayah 53

55

لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَٰهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا۟ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو۔ عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا

[٥٢] یعنی مصیبت کے وقت مدد تو اللہ نے کی، تکلیف اسی نے دور کی۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے۔ اسی کی عبادت کرتے۔ اسی کے سامنے اپنی فریادیں پیش کرتے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ مصیبت کا وقت دور ہوجانے کے بعد پھر انھیں اپنے دوسرے معبود یاد آنے لگتے ہیں اور اللہ کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر نمک حرامی کیا ہوسکتی ہے۔ تاہم انھیں دنیا میں فوری سزا نہیں دی جاتی مگر مرتے ہی انھیں سب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔

56

وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًۭا مِّمَّا رَزَقْنَٰهُمْ ۗ تَٱللَّهِ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ

اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کافرو) خدا کی قسم کہ جو تم افتراء کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی

[٥٣] یعنی یہ مشرک اپنے صدقات و خیرات میں اللہ کا شریک اور حصہ دار ان چیزوں کو بناتے ہیں جو بےجان بت ہیں یا قبروں میں پڑے ہوئے ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ انھیں یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ کوئی انھیں پکار رہا ہے اور نہ ہی وہ اپنی جگہ سے حرکت کرسکتے ہیں اور اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کے متعلق کسی مستند ذریعہ علم سے یہ تحقیق نہیں ہوا ہے کہ اللہ میاں نے واقعی ان معبودوں کو اپنا شریک بنا رکھا ہے اور نظام کائنات کے کچھ کام یا اپنی سلطنت کے کچھ علاقے انھیں سونپ رکھے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ انھیں معبود بنائے رکھنے پر مصر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات میں تصرف کرسکتے اور دوسروں کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پھر چونکہ اپنے ان عقائد کو مذہبی عقیدہ سمجھتے ہوئے ان خرافات کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں لہذا اللہ ان سے ٹھیک طرح نمٹ لے گا اور ان کے اس جرم کی قرار واقعی سزا دے گا۔

57

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ ٱلْبَنَٰتِ سُبْحَٰنَهُۥ ۙ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ

اور یہ لوگ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ (اور) وہ ان سے پاک ہے اور اپنے لیے (بیٹے) جو مرغوب ودلپسند ہیں

[٥٤] اہل عرب کی دیویاں ان کے مقام اور ان کے پرستار :۔ ہندی، یونانی اور مصری تہذیبوں کی طرح مشرکین عرب کے بھی دیوتا کماوردیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان کی تین مشہور دیویاں، لات، عزیٰ اور منات تھیں۔ لات الٰہ کی مونث ہے۔ عزیٰ عزیز کی اور منات، منان کی۔ لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پرستار تھے۔ عزیٰ قریش مکہ کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں مقام حراص پر واقع تھا۔ چناچہ ابو سفیان سپہ سالار قریش نے احد کے میدان میں جنگ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے اس دیوی کا نعرہ لگایا اور کہا تھا لَنَا عُزّٰی وَلَاعُزّٰی لَکُم اور منات کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحراحمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس دیوی کے پرستار تھے۔ نیز اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتا تھا۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہوجاتے تو وہیں سے منات کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہونے لگتیں اور جو لوگ اس دوسرے حج کی نیت کرلیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے۔ گویا مشرکین عرب دوہرا ظلم ڈھاتے تھے۔ ایک تو ان کو اللہ کا شریک بنانے کا دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں وہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔- [ ٥٥] یعنی ان کے اللہ کے بارے میں یہ مشرکانہ عقائد اس قدر گھٹیا اور گستاخانہ قسم کے تھے کہ خود تو اپنے لیے بیٹیوں کا وجود بھی باعث ننگ و عار سمجھتے تھے۔ محض اس وجہ سے کہ کوئی ان کا داماد بنے گا اور یہ خود اس کے سسر ہوں گے لیکن اللہ کے معاملہ میں دوہرا ظلم ڈھاتے۔ ایک تو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے اور دوسرے اولاد بھی بیٹیاں۔ گویا اچھی چیز تو اپنے لیے پسند کرتے تھے اور ناقص اللہ کے لیے۔

58

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُۥ مُسْوَدًّۭا وَهُوَ كَظِيمٌۭ

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے

Explained together with ayah 57

59

يَتَوَٰرَىٰ مِنَ ٱلْقَوْمِ مِن سُوٓءِ مَا بُشِّرَ بِهِۦٓ ۚ أَيُمْسِكُهُۥ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُۥ فِى ٱلتُّرَابِ ۗ أَلَا سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ

اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے

[٥٦] لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا :۔ اسی وجہ سے مشرکین عرب میں یہ رواج عام چل نکلا تھا کہ وہ لڑکیوں کے پیدا ہوتے ہی انھیں زندہ درگور کردیتے تھے۔ اَیُمْسِکُہُ عَلٰی ھُوْنٍ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود لوگوں کی نظروں میں ذلیل بنا رہے اور لڑکی کو زندہ رہنے دے اور دوسرا یہ کہ اگر لڑکی کو زندہ رہنے دے تو اسے ایسا ذلیل اور مجبور بنا کر رکھے گویا وہ اس کی اولاد ہی نہیں بلکہ آدمی بھی نہیں۔ بالآخر اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور زندہ درگور کرنے کو قتل ناحق قرار دیا اور معاشرہ میں عورت کو اس کا جائز مقام دلایا۔

60

لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے

[٥٧] یعنی ایسی گھٹیا صفات تو ان ظالموں کی ہی ہوسکتی ہیں جن کا روز آخرت پر ایمان ہی نہ ہو۔ نہ انھیں یہ معلوم ہے کہ ان کی ایسی ذلیل حرکتوں کی انھیں عبرتناک سزا ملنے والی ہے۔ رہی اللہ کی ذات تو وہ اولاد ہی سے بےنیاز ہے۔ اللہ کی ذات ان کے تصور سے بھی بلند تر اور ماورا ہے اور اس کے لیے ایسی مثالیں اور صفات ثابت کی جاسکتی ہیں جو اعلیٰ سے اعلیٰ اور ہر بلند چیز سے بلند تر ہوں۔

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.